16 نومبر 2018

اخلاقیات سنوارنے کی مہلت نہیں ملتی اخلاقیات سنوارنے کی مہلت نہیں ملتی

حال ہی میں پاکستان کی عنان اقتدار سنبھالنے والے وزیراعظم عمران خان نے 31 اگست کو کہنہ مشق صحافیوں اور ٹی وی اینکر پرسنز سے ایک ملاقات میں میڈیا سے تین ماہ کا وقت دینے کا تقاضا کیا ہے، جس دوران ( ان پر، ان کے ساتھیوں کے اعمال پر اور ان کی حکومت کی سرگرمیوں پر) تنقید نہ کی جائے کیونکہ تین ماہ کے بعد ’’آپ دیکھیں گے ہماری کارکردگی‘‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا اور کہا کہ اس کے بعد چاہیں تو تنقید کیا کریں۔
غالباً نئی حکومت کی کارکردگی پر عموماً یہ کہہ کر تنقید نہیں کی جاتی کہ حکومت کو اقتدار سنبھالے جمعہ جمعہ آٹھ روز ہوئے ہیں۔ حکومت کو کچھ وقت دیا جانا چاہیے بلکہ بارہا کہا گیا کہ حکومت پورے پانچ برس لے اپنی کارکردگی دکھانے کو، تین ماہ یا چھ ماہ ہی کیوں؟شروع میں خان صاحب کی بوکھلائی ہوئی حرکتوں پر اعتراض کیا گیا تھا جیسے قومی اسمبلی میں رجسٹریشن کرائے جانے کی غرض سے تصویر کھنچوانے کی خاطر اپنی واسکٹ پہن کے نہ آنا، وزیراعظم کے انتخاب میں رائے دہی کے لیے اپنا شناختی کارڈ بھول آنا، حلف لیتے ہوئے لفظ قیامت کو قیادت بول دینا، صفت رسولؐ ’’خاتم النبیین‘‘ ادا نہ کر سکنا۔ وزیراعظم منتخب ہو جانے کے بعد عجیب و غریب تقریر کرنا اور ساتھ میں کھڑے چوہدری فواد کا جوش میں بلبلانا، گارڈ آف آنر کے دوران پہلو میں ہاتھ ساکت رکھے چلنے کے بجائے بار بار اہلیہ کا تحفہ روحانی انگوٹھی کو مسلنا، دزدیدہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنا وغیرہ۔ مگر یہ سب غلطیاں مختلف جائز و ناجائز جواز دے کر معاف کی گئیں۔
میڈیا کی تنقید اخلاقیات کے حوالے سے شروع ہوئی تھی کیونکہ پہلے کراچی میں پی ٹی آئی کے نومنتخب ایم پی اے ڈاکٹر عمران شاہ نے سر عام ایک معمر سرکاری اہلکار کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی تھی۔ پھر پنجاب میں وزارت ثقافت و اطلاعات کے وزیر فیاض 
الحسن چوہان نے وڈیو میں جہاں ایک طرف میڈیا اہلکاروں کو بہن کی غلیظ گالی دی، وہاں ایک تقریب میں دو فنکار خواتین کا نام لے کر اپنے پیچھے کھڑی ایک خاتون کی موجودگی میں سوقیانہ زبان استعمال کی۔ پھر پاکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کو پنجاب میں عمران خان کے مقرر کردہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کے دفتر میں بلا کر وہاں موجود ایک غیر منتخب اور کسی سرکاری عہدے کا حامل نہ ہوتے ہوئے احسن اقبال گجر نام کے ایک شخص نے ان کے ساتھ سخت زبان استعمال کی، ان کو پیغام دیے گئے کہ خاور مانیکا، جو خاتون اول کے پہلے شوہر بھی ہیں، کے ڈیرے پر جا کے معاملات درست کرو۔ جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو ڈی پی او کا راتوں رات تبادلہ کیا گیا۔
یہ سارے غیر اخلاقی اعمال ہیں جن کا میڈیا نے نوٹس لیا اور بجا لیا۔ دیکھیے جناب اخلاقیات سدھارنے کے لیے مہلت طلب نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی دی جا سکتی ہے۔ اخلاقیات کا یا تو وجود ہوتا ہے یا کچھ لوگ اخلاقیات کا پاس کرنے سے عاری ہوتے ہیں۔ اخلاقیات سنوارنے اور بگاڑنے میں عمر، عہدے، حیثیت وغیرہ میں بڑوں کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ اوئے اوئے کہہ کر بلانا، اپنے ہاتھ 
سے خود پھانسی دینے کی باتیں کرنا، سیاستدانوں کو چور ڈاکو کہہ کر مخاطب کرنا، پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنا، یہ سب نے سنا اور دیکھا تھا۔ کوئی بھی نہیں بھولا۔ جن کا اخلاق بگاڑ دیا گیا تھا ان کو سنبھلنے میں بھی وقت لگے گا، یہ شاید آپ کا خیال ہو مگر پوتڑوں کے بگڑے سدھرا نہیں کرتے۔ یہاں پر ہمیں البتہ برخوردار چوہدری فواد کو داد دینا پڑے گی کہ انہوں نے وزیر اطلاعات بنتے ہی اپنی تند تنقیدی روش ترک کر دی ہے۔جناب وزیراعظم یقین جانیے کہ میڈیا شاید اب آپ کی اور آپ کی حکومت سے متعلق تین ماہ خاموش رہے مگر کسی بھی وقت کوئی بھی غیر اخلاقی یا ناجائز حرکت آپ کے کسی بھی ساتھی سے سرزد ہوئی تو میڈیا چپ نہیں رہ پائے گا۔ پنجابی کا ایک معروف محاورہ ہے ’’رکھ پت، رکھا پت‘‘ یوں جو دوسروں کی تعظیم کرتا ہے وہ اپنی بھی تعظیم کراتا ہے وگرنہ معاملہ الٹ ہوتا ہے۔
آپ کی پارٹی میں قائم کئی آئی ٹی سیل اخلاقیات سے عاری ہونے کی سند کے حامل ہیں۔ کوئی اور نہیں بلکہ آپ کا ہی چنیدہ اور رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین چپ نہ رہ سکا۔ سلیم صافی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اور اب تک کیا جا رہا ہے۔ رؤف کلاسرا کی تو اہلیہ نے انہیں مشورہ دے دیا ہے کہ گالیاں کھانے کے بجائے بہتر ہے صحافت ہی چھوڑ دو۔آپ کے لوگ آپ کو ماؤزے تنگ اور کم ال سنگ کی طرح دیوتا بنانے کی کوشش میں ہیں۔ آپ پر جائز تنقید بھی کی جائے تو وہ ایسا کرنے والے پر پل پڑتے ہیں۔ دیکھیے جب بت بنتے ہیں تو وہ ٹوٹا بھی کرتے ہیں۔ بت ساز کے مقابلے میں بت شکن بھی ہوتے ہیں۔ مگر لگتا ہے کہ آپ ان کو نہ روک پائیں گے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ آپ کو اپنی تحسین پسند ہے۔
آپ کل لاہور آئے تو مین مال روڈ پر ٹریفک روک دی گئی۔ اب پروٹوکول اور سکیورٹی میں فرق کیا جانے لگا ہے۔ درست ہے کہ آپ کو خطرات لاحق ہونگے، آپ اب بذات خود ’’ریاست کا حصہ ہیں اور ریاست ہیں‘‘ چنانچہ آپ کو سکیورٹی درکار ہے۔ آپ ضرور استفادہ کیجیے مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ لوگوں کو اس سے، چاہے اسے پروٹوکول نہ کہیں سکیورٹی کہہ لیں، تکلیف لامحالہ اٹھانا پڑتی ہے اور وہ بلبلاتے بھی ہیں۔ میڈیا خاموش رہ سکتا ہے مگر سوشل میڈیا سب کو بے نقاب کرنے میں یقیناً پیش پیش رہے گا۔
بقیہ: وسعت نظر