16 نومبر 2018

اخباری چورن اخباری چورن

ابلاغیات کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس حقیقت کا علم ہے کہ ذرائع ابلاغ کے بنیادی اور کلیدی مقاصد، تعلیم، خبر اور تفریح کی فراہمی ہے۔ اس معیار پر وطن عزیز کے ذرائع ابلاغ کس حد تک پورا اترتے ہیں، میں اس بارے اپنی رائے کا اظہار کرکے اپنے احباب کو گلا اور شکوہ کرنے کا موقع فراہم کرنے سے گریز کر رہا ہوں۔ اس کے باوجود یہ نشاندہی کیے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں کہ آج کل عام طور پر خبرنامہ تفریح کا سامان فراہم کرتا ہے اور تفریحی مواد سے گاہے خبریں کشید کی جا سکتی ہیں۔ یہ کالم تحریر کرنے کا ارادہ کیا تو غیر علانیہ لوڈشیڈنگ نے آن لیا۔ ایسے میں یہی ممکن تھا کہ زیر مطالعہ اخبار کو پنکھے کے طور پر بھی استعمال کیا جائے۔ اخبار سے بیک وقت ہوا اور خبر لینے کا یہ تجربہ یوں خوشگوار اور سودمند ثابت ہوا کہ بیشتر خبروں کو یکے بعد دیگرے دیکھا اور پڑھا گیا تو یہ کالم اشاعت کے لیے تیار پایا۔
٭ شاہ جمال میراں پور کے لکھ پتی بھکاری شوکت بھابھہ کے بارے میں دلچسپ معلومات ملی ہیں، جن کے مطابق وہ 250 ایکڑ رقبہ کا مالک اور ضلعی چیئرمین عابد محمود بھابھہ کا کزن ہے۔ بھیک مانگنا اس کا پیشہ نہیں تھا بلکہ ہوا یوں کہ ایک مرتبہ مہرپور کے نزدیک اس کے موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہو گیا تو اس نے ایک راہگیر کو روک کر اس سے پٹرول مانگا، راہگیر نے پٹرول دینے کے بجائے اس کو 150 روپے دیے جن میں سے اس نے 50 روپے کا پٹرول ڈلوایا اور 100 روپے بچ گئے۔ تب اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ بھیک مانگنے کا پیشہ اپنایا جائے، آغاز میں دشواری ہوئی لیکن بعد میں جدت لاتے ہوئے انگریزی میں بھیک مانگنا شروع کر دی، اس طرح نا صرف 100 سے 500 روپے تک مل جاتے بلکہ دو وقت کا کھانا بھی مفت میں مل جاتا ہے۔ شوکت بھابھہ نے بتایا کہ اس نے سٹیٹ لائف انشورنس میں 2 پالیسیاں لے رکھی ہیں اور اب میں اپنے بجائے دیامر بھاشاڈیم کے لیے بھیک مانگوں گا۔
٭اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے یہ سنسنی خیز انکشاف کر دیا کہ اسلام آباد میں سور، کتوں اور گدھوں کا گوشت فروخت ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے سخت سے سخت سزائیں تجویز کی جائیں، کمیٹی نے وفاق میں فوڈ اتھارٹی ایکٹ بنانے کے حوالے سے وزارت قانون و انصاف سے 3 ہفتوں میں قانونی رائے طلب کر لی۔
٭اگرچہ موسم گرما اپنے اختتام کی جانب رواں دواں ہے لیکن ایسے مرحلے پر بھی بدترین بجلی بحران نے شہر اقتدار کے مکینوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ شارٹ فال پانچ ہزار 560 میگاواٹ ہونے کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب اور پیداوار میں پانچ ہزار 560 میگاواٹ کے فرق نے بحران سنگین کر دیا ہے۔ لاہور سمیت بڑے شہروں میں ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے جینا دو بھر ہو گیا، چھوٹے شہروں اور دیہات میں صورتحال اس سے بھی خراب ہے۔ فیصل آباد میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث فیکٹریاں بند ہونے سے مزدور بے روزگار ہونے لگے، معمولات زندگی بھی ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ ملتان، ساہیوال، اوکاڑہ، گوجرانوالہ اور جھنگ سمیت دیگر شہروں میں بھی عوام عذاب سے دوچار ہیں۔
٭پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے تازہ ترین ’’کارنامہ‘‘ یہ انجام دیا کہ پیر کے روز پی آئی اے کی حج فلائٹ نمبر 714، 168 مسافروں کو لے کر مدینہ سے اسلام آباد پہنچی لیکن حیرت انگیز طور پر مسافروں کا سامان نہیں لایا گیا اور تقریباً 2 گھنٹے بعد حاجیوں کو آگاہ کیا گیا کہ ان کا سامان مدینہ میں ہی رہ گیا ہے۔ ادھر کراچی میں پی آئی اے کے منیجر فوڈ سروسز نے پی آئی اے انتظامیہ اور جنرل منیجر فوڈ سروسز کے نام ای میل بھیجی ہے جس کے مطابق پی آئی اے کی بین الاقوامی پرواز پی کے 701 پر شعبہ فوڈ سروسز کے سپروائزر طارق محمود نے ایک پائلٹ احمر ملک کو کھانا فراہم کیا جس کے جواب میں اس کی طرف سے انتہائی نازیبا کلمات استعمال کرتے ہوئے کہا گیا کہ کس کتے کے بچے نے یہ مینو بنایا ہے، میں چاول کے ساتھ بہاری بوٹی کیسے کھا سکتا ہوں۔
٭لاہور میں ایئر پورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) حکام نے رقص کی ویڈیو اپ لوڈ کرنے والی خاتون اہلکار کی سزا کے تحت 2 سال کی سروس ضبط کر لی۔ گزشتہ دنوں اے ایس ایف کی خاتون اہلکار نے گانے پر اپنے رقص کی ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی تھی جس پر اے ایس ایف نے سخت ایکشن لیتے ہوئے اس ملازم خاتون کی 2 سال کی سروس ضبط کی گئی۔ مزید برآں اس خاتون اہلکار کو 2 سال کی انکریمنٹ اور دیگر مراعات بھی نہیں دی جائیں گی جبکہ خاتون نے اے ایس ایف حکام کو آئندہ ایسی نہ حرکت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اے ایس ایف حکام نے اہلکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
٭راولپنڈی میں پیر کو سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی۔ بعدازاں اظہار خیال کرتے ہوئے کرد صاحب نے کہا کہ نوازشریف سے میری ملاقات 10 سال کے بعد ہوئی ہے اوران کی طبیعت ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اب نوازشریف اور مریم کے حوالے سے چلے گی، نوازشریف اس سیاسی کردار سے آگاہ ہیں، جو انہیں ادا کرنا ہے۔
٭تحریک انصاف کے رہنما، سابق وزیراعلیٰ خیبر پی کے اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے موروثی سیاست کی نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ موصوف کے خاندان سے 4 افراد قومی اسمبلی کے ارکان، 2 افراد ضلع و تحصیل ناظم کے عہدوں پر براجمان جبکہ مزید 2 افراد صوبائی اسمبلی میں جانے کے لیے امیدوار ہیں۔ حالیہ عام انتخابات میں پرویز خٹک نے بذات خود نوشہرہ کی 3 نشستوں سے انتخاب لڑا۔ نوشہرہ سے قومی اسمبلی کی 
دوسری نشست این اے 26 پر پرویز خٹک کے داماد عمران خٹک تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد جب خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو پرویز خٹک ان میں بھی دو نشستیں لے اڑے۔ ان میں سے ایک نشست اپنی بھابھی نفیسہ خٹک اور دوسری اپنی بھتیجی ساجدہ بیگم کو ’’تحفہ‘‘ کر دیں، چنانچہ اس وقت پرویز خٹک کے خاندان سے 4 افراد قومی اسمبلی میں موجود ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے ان کی خالی کردہ نشستوں پر ان کے بھائی اور بیٹے میدان میں اترے ہیں۔ پرویز خٹک کی خالی کردہ پی کے 64 پر ان کے بھائی لیاقت خٹک نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ لیاقت خٹک ضلع نوشہرہ کے ناظم تھے۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات لڑنے کے لیے ضلع ناظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اب ضلع ناظم کے عہدے کے لیے لیاقت خٹک کا بیٹا، یعنی پرویز خٹک کا بھتیجا اسحاق خٹک میدان میں اترے گا۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ لیاقت خٹک کا دوسرا بیٹا احد خٹک بھی تحصیل ناظم ہے۔ پرویز خٹک کی خالی کردہ دوسری نشست پی کے 61 پر ان کے بیٹے ابراہیم خٹک نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں۔ لیاقت خٹک اور ابراہیم خٹک اگر صوبائی نشستیں جیت جاتے ہیں تو خٹک خاندان کے 4 ارکان قومی اسمبلی، 2 ارکان صوبائی اسمبلی، ایک ضلعی ناظم اور ایک تحصیل ناظم ایک ہی چھت کے نیچے رہائش پذیر ہوں گے۔
قارئین خوب اور خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ پیش کی گئی ہر خبر اپنی جگہ ’’میرٹ‘‘ پر، ایک کالم کا درجہ اور مقام رکھتی ہے۔ آپ چاہیں تو اس کاوش کو ’’اخباری چورن‘‘ کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ یوں بھی یہ نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔