22 ستمبر 2018
تازہ ترین

احتساب سب کا…! احتساب سب کا…!

ایک تعلق وہ ہے جو عوام کا حکمرانوں سے جڑا ہے اور ایک تعلق وہ ہے جو ہردور کے حکمرانوں کا رعایا سے رہا ہے، عوام نے اپنے انہی مقامی یا پسندیدہ سیاستدانوں کو ہر دور میں چنا، جنہوں نے انہیں برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڈی جب کہ جو تعلق عوام کا حکمرانوں کے ساتھ ہے، وہ یہ ہے کہ ان تمام بربادیوں کے باوجود بھی بھوکے عوام ان جابر حکمرانوں کی کرسیاں اٹھانے اور نعرے لگانے میں مصروف رہے، لاکھ ان کی کرپشن ثابت ہوتی رہے مگر لوگ ہیں کہ انہی لوگوں پر مٹتے رہے ہیں۔ مثلاً اب سارے ثبوت شریف خاندان کے سامنے آچکے ہیں کہ انہوں نے کس کس طرح سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا، اس کے باوجود اگر پنجاب کے عوا م کو یہ حق دیا جائے کہ وہ انتخابات میں اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں تو یقیناً اُن کی بھاری اکثریت شریف خاندان کے ساتھ ہی جائے گی۔ یہی حال سندھ اور اس ملک کے دیگر مقامات کا ہے، جن کے باعث پاکستان میں پھیلے چند مٹھی بھر خاندان باریوں کے حساب سے ہردور میں اپنے ووٹرز کا خون چوستے رہے، یقیناً یہ عوام کا حق ہے کہ وہ رابطے اور رشتے خود بناسکیں اورکوئی کسی کو روک بھی نہیں سکتا۔ اس ملک کے لیڈر عوام چنتے ہیں، یقیناً اپنے مخالفین بھی خود ہی پیدا کرتے ہیں۔ 
پاکستان میں چند خاندان موروثی سیاست کے طفیل اقتدار بناتے رہے ہیں اور عوام بھوک اور بیماریوں سے مر بھی جائیں تو ان کی نسلیں ان موروثی سیاستدانوں کی خدمت کرتی رہتی ہیں، لوگ بہت خوشی خوشی اپنے انہی پرانے لوگوں کو ووٹوں کے ذریعے پھر سے اس طرح چنتے ہیں جیسے پہلی مرتبہ انہیں منتخب کرنے کا ارادہ ہو، یہ سب جانتے ہوئے کہ ان پر گزشتہ حکومت میں کیا کیا ستم ڈھائے گئے تھے، بلاشبہ عوام کو طویل عرصے سے کوئی خیر کی خبر نظر نہیں آئی ہے، حکمرانوں کے تلخ رویوں نے خود کو ہی نہیں بلکہ معاشرے کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے، جنہوں نے ہر دور میں عوام کی خدمت کم اور مال جمع کرنے اور اسے گننے میں وقت زیادہ لگایا۔
بہت ہوگیا، اب یہ ملک اور قوم مزید آزمائشوں سے نہیں گزر سکتے، جہاں ہمیں موجودہ روایتی سیاست دانوں کے بدلے پڑھے لکھے اور محب وطن لوگوں کی ضرورت ہے، وہیں اس قدر آسانی سے ان لوگوں کو جانے بھی نہیں دینا چاہیے، یقیناً احتساب تو بنتا ہے! مگر صرف شریف خاندان کا نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کا جو ہر دور میں باریوں کے حساب سے ملک لوٹتے رہے، اس میں حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدان بھی برابر کے شریک ہیں۔ میں کبھی یہ نہیں کہتا کہ نوازشریف کو ہٹاکر کسی دوسرے کو اس ملک کی تقدیر سونپ دی جائے، بلکہ مجھ سمیت بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ اس ملک کو ایمان دار اور محب وطن قیادت نصیب ہو، جہاں تک احتساب کی بات کی جائے تو یہ بھی درست کہ جس قدر فوکس شریف خاندان پر رکھا جارہا ہے، اس میں شکوک تو خودبخود ہی پیدا ہوں گے، کیونکہ کون نہیں جانتا کہ زرداری اور ان کے حواریوں نے کس کس انداز میں ملک کو لوٹا اور کتنی بیدردی سے مسلسل عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ عمران خان کے پاس کھڑے ان لوگوں کو جو سب وہ ہی لوگ ہیں جو گزشتہ سے پیوستہ ہیں، جو سابقہ حکومتوں میں تھے، جنہیں جب بھی اور جہاں بھی موقع ملا، انہوں نے لوٹ مار مچائی، ان میں سے بہت سے ایسے سیاستدان بھی ہیں، جنہوں نے اقتدار کی لالچ میں اپنوں کو ہی مرواڈالا، کیوںکہ ان لوگوں کا ڈر، خوف تو عوام کو بے موت مارتے مارتے کھل ہی گیا ہے، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت حکومت تو ہے ہی، اس پر اپوزیشن کے وہ تمام لوگ بھی کرپٹ ہیں، جو صرف اور صرف اقتدار کی لالچ میں عوام کو سینے سے لگارہے ہیں، جن کا مقصد عوام کی خدمت ہرگز نہیں، ان تمام باتوں کے باوجود احتساب کا دائرہ شریف فیملی پر ہی لگادینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ 
میں اگر یہ کہتا ہوں کہ عدالت نے شریف خاندان سے صحیح انصاف لیا تو یہ منصفوں کے لیے خوشی کا باعت ہوگا، لیکن اگر میں یہ کہوں کہ زرداری اور عمران خان کے اردگرد کے لوگوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے تو یہ غلط کس طرح ہوسکتا ہے۔ یقیناً ہر کوئی جانتا ہے کہ شریف خاندان کے ساتھ پیپلزپارٹی کے لوگ بھی ماضی میں خوب مال بناتے رہے ہیں مگر جس انداز میں باقی لوگوں کو چھوڑ کر شریف خاندان کو احتساب کے شکنجے میں لیا جارہا ہے وہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ میں نے اکثر مسلم لیگ نواز کی بیڈ گورننس اور کرپشن کے متعلق لکھا ہے، اس تحریر میں بھی عوام کے خون پسینے کی کمائی کو لوٹنے والوں کا احتساب چاہتا ہوں مگر صرف شریف خاندان کا ہی نہیں بلکہ ماضی کے ان تمام لٹیروں کو پکڑنا ہوگا جو اس ملک کے عوام کے قاتل ہیں۔
لندن میں بیٹھے ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کا ایک اشارہ ہوتے ہی کراچی کی سڑکوں پر خون بہنا شروع ہوجاتا تھا، مجھے بتایا جائے کہ اس شخص کو کب واپس وطن لایا جارہا ہے؟ اس پر کب شریف خاندان کی طرح مسلسل کیسز بنیں گے؟ عوام کو بتایا جائے کہ سندھ میں اربوں روپے کا سالانہ بجٹ کہاں چلا جاتا ہے؟ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں سہولتیں تو دُور ایک پیناڈول کی گولی بھی مریض کو باہر میڈیکل سٹور سے ہی خریدنی پڑتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں گدھے اور گھوڑوں کو باندھ رکھا ہے اور سب سے بڑھ سندھ کے عوام اسی گھاٹ کا پانی پیتے ہیں، جس میں مال مویشی اپنا شکم سیر کرتے ہیں اور بھی بے شمار محکموں کا یہی حال ہے۔ خدارا مجھے بتایا جائے، ان تمام محکموں کا سالانہ بجٹ جو اربوں روپے ہوتا ہے وہ کہاں جاتا ہے؟ آخر ان لوگوں کو کب پکڑا جائے گا؟ انہیں ڈھیل کیوں ملی ہوئی ہے۔ یقیناً اس ڈھیل کا نقصان ہوسکتا ہے کہ کہیں خدانخواستہ باقی تمام لٹیرے اس ملک سے بھاگنے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔