19 جنوری 2019
تازہ ترین

احتجاج کی سیاست احتجاج کی سیاست

دھرنوں کی اصطلاح نئی ہے، اس سے پہلے گھیراؤ کی اصطلاح اس طرح کے احتجاج کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اٹھارھویں صدی میں جب مغل سلطنت کا زوال ہوا اور افراتفری پھیلی تو اس زمانے میں مہاراجہ، سردار فوجی جنرل اپنے فوجیوں کو ماہانہ کی بنیاد پر تنخواہ نہیں دیتے تھے، جب تنخواہوں کی مد میں ان کے بقایا جات بڑھ جاتے تو یہ فوجی اپنے جنرل، سردار یا مہاراجہ کے گھر کا گھیراؤ کر لیتے اور کھانے پینے کی اشیا سمیت کوئی بھی چیز اندر نہیں جانے دیتے تھے، تاہم اس گھیراؤ کی ایک خاص بات یہ ہوتی تھی کہ گھیراؤ کے دوران یہ خود بھی کچھ نہیں کھایا کرتے تھے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک مہاراجہ، سردار یا فوجی جنرل ان کی تنخواہیں ادا کرنے پر مجبور نہ ہو جاتے۔ بقایا جات کی ادائیگی کے بعد گھیراؤ ختم کر دیا جاتا۔ دوسری طرف جب ان کا سردار یا مہاراجہ فوت ہو جاتا تو پھر بھی یہ اس کے گھر کا گھیراؤ کر لیتے تھے اور اس وقت تک تدفین نہیں ہونے دیتے تھے جب تک اس کے ورثا ان کو بقایا جات کی ادائیگی کی یقین دہانی نہیں کرا دیتے تھے، تاہم یہ معاملہ فوجیوں اور فوجی سربراہوں کے درمیان ہی رہتا تھا۔ راجستھان کی ریاست ٹونک، جس سے میرا بھی تعلق ہے، کے امیر خان پہلے نواب تھے۔ انگریزوں نے یہ سلطنت انہیں دی تھی۔ وہاں پر جب فوجیوں کو تنخواہ نہ ملتی تو ان کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ جب امیر خان محل سے باہر نکلتے تو ان کو پکڑ لیا جاتا، پھر وہ توپ چلاتے تاکہ وہ گرم ہو جائے جس کے بعد نواب کو اس پر بٹھا دیا جاتا اور تنخواہوں کی ادائیگی کا وعدہ کرنے پر ہی گرم توپ سے اتارا جاتا۔ یہ وہ طریقے تھے جن کو تنخواہ نہ ملنے پر فوجی بروئے کار لاتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد مشرقی پاکستان میں مولانا بھاشانی اور دوسرے رہنماؤں نے بھی گھیرائو کا طریقہ استعمال کیا جس سے اس کا سیاسی استعمال شروع ہوا۔ انتظامیہ اور ان سیاستدانوں کا گھیراؤ کا طریقہ استعمال کیا، جس سے اس کا 
سیاسی استعمال شروع ہوا۔ انتظامیہ اور ان سیاستدانوں کا گھیراؤ ہونے لگا جن کو ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ گھیراؤ کا طریقہ مغربی پاکستان میں بھی استعمال ہوا، لیکن اس کا عام آدمی سے تعلق نہیں ہوتا تھا۔ یعنی عام آدمی کو اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ برطانوی دور میں بھی ہڑتالیں ہوتی تھیں، دکانیں بند ہوتیں، ٹریڈ یونینز ہڑتالیں کرتیں، برطانوی مال کا بائیکاٹ کیا جاتا اور اس طرح حکومت وقت پر دباؤ ڈالا جاتا، لیکن اس میں انہیں عوام کی حمایت حاصل ہوتی تھی، کیونکہ عوام کو کسی بھی طرح سے تنگ نہیں کیا جاتا تھا۔
پاکستان میں جو دھرنے شروع ہوئے ان کی نوعیت گھیراؤ سے مختلف ہے، کیونکہ یہاں وہ ریاست سے مطالبات کرتے ہیں اور عوام کو اپنے ساتھ ملانے کے بجائے راستے بند کر کے ان کو تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اس طرح وہ براہ راست ریاست پر دباؤ ڈالیں گے اور اپنے مطالبات منوا لیں گے۔ یہ طریقہ ابھی تک بھارت میں شروع نہیں ہوا۔ وہاں لوگ دھرنے تو دیتے ہیں، مگر ایسی جگہ پر جہاں عوام کو آمدورفت میں تکلیف نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں بھی اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر آپ کو عوام کے مطالبات ریاست کے سامنے پیش کرنے ہیں تو پھر آپ کو عوام کی حمایت بھی حاصل کرنی چاہیے اور انہیں تکلیف نہیں دینی چاہیے، اگر آپ انہیں تکلیف دیں گے تو عوام کو آپ اور آپ کی سیاست سے نفرت ہو جائے گی اور وہ آپ کی تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے۔
گھیراؤ اور دھرنے کے علاوہ احتجاج کا ایک اور طریقہ بھوک ہڑتال ہے اس میں سیاسی راہنما یا کارکن مطالبات کی منظوری کے لیے بھوک ہڑتال کرتے ہیں۔ کبھی یہ بھوک ہڑتال ایک خاص مدت کے لیے ہوتی ہے اور کبھی اس اعلان کے ساتھ کہ وہ مطالبات کی منظوری تک اسے جاری رکھیں گے، اگر بھوک ہڑتالی کی حالت خراب ہونے لگے ہے تو یا تو ریاست ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کر لیتی ہے یا بھوک ہڑتالی کو زبردستی کھلایا پلایا جاتا ہے، کیونکہ اس کی موت کی صورت میں جھگڑوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ ہندوستان میں گاندھی جی نے بھوک ہڑتال کو سیاست کے لیے بہت خوبی سے استعمال کیا۔ کیونکہ وہ ایک مقبول لیڈر تھے اس لیے حکومت اور ان کے حمایتی نہیں چاہتے تھے کہ ان کی موت واقع ہو۔ اس لیے آخر میں وہ اپنی بات منوا لیتے تھے۔ مثلاً جب انہوں نے دلت ذات کے لوگوں کے الیکشن میں علیحدہ نشستوں کے خلاف مرن برت رکھا تو ڈاکٹر اَمبیدکر جو دلت کے راہنما تھے مجبور ہوئے کہ گاندھی جی سے پونا کا معاہدہ کریں۔ چرچل، جو انگلستان کا وزیراعظم تھا، گاندھی جی سے سخت نفرت کرتا اور انہیں برہنہ فقیر کہا کرتا تھا۔ جب گاندھی جی مرن برت رکھتے تو چرچل وائسرائے سے پوچھا کرتے کہ کیا گاندھی اب تک زندہ ہے یا مر گیا۔ اس کو یہ بھی شک تھا کہ اتنا لمبا برت اسی وقت رکھا جا سکتا ہے، جب کچھ خفیہ طور پر گاندھی جی کو کھلایا پلایا جائے لیکن گاندھی جی نے مرن برت کی سیاست سے کئی
 پیچیدہ مسائل کو حل کیا۔ جب کلکتہ میں خونریز ہندو مسلم فسادات ہوئے تو انہوں نے مرن برت رکھ کر ان فسادات کو ختم کرایا جب 1947ء میں ہندوستان تقسیم ہوا تو ہندوستانی حکومت نے پاکستانی حصے کی ادائیگی کے لیے بہانے کیے تو گاندھی جی نے مرت برت کا اعلان کر کے حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ رقم ادا کرے۔
بھوک ہڑتال کی اس حکمت عملی کو سیاسی قیدی بھی استعمال کرتے ہیں۔ فلسطینی جو اسرائیلی قید میں ہیں۔ وہ وقتاً فوقتاً بھوک ہڑتال کر کے اپنے مطالبات منانے کی کوشش کرتے ہیں، لہٰذا بھوک ہڑتال کا حربہ سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے سیاسی تحریک کو تقویت ملتی ہے اور کارکنوں میں جوش و جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
سیاسی احتجاج کے ذریعے مطالبات کی منظوری کے لیے سخت اقدامات اُٹھانا پڑتے ہیں۔ مثلاً ویت نام کی جنگ کے دوران بدھ مذہب کے ایک راہب نے پبلک میں خود کو جلا کر جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ حال ہی میں تیونس کے ایک عام رکشہ ڈرائیور نے پولیس کی سختیوں سے تنگ آ کر خود کو زندہ جلا دیا جس پر تمام عرب ملکوں میں احتجاجی تحریکیں شروع ہوئیں، جنہیں عرب سپرنگ کہا جاتا ہے۔
احتجاج کی یہ سیاست جمہوری نظام کا ایک اہم حصہ ہے جب عوام کے مطالبات قانون ساز اسمبلیوں میں پورے نہیں ہوتے تو وہ احتجاجی تحریکوں کے ذریعے ریاست پر دباؤ ڈالتے ہیں، اگر ریاست ان تحریکوں کا مؤثر جواب نہ دے تو ملک میں سیاسی انتشار پھیلتا ہے جس کے نتیجے میں ریاست اور احتجاجی تحریکوں میں خونریز فسادات ہوتے ہیں جو حکمران پارٹی کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ایوب خان، زیڈ اے بھٹو اور مشرف کی حکومتوں کا خاتمہ سیاسی تحریکوں کی وجہ سے ہی ہوا۔