13 نومبر 2018

اتنی جلدی کیا ہے یارو!!! اتنی جلدی کیا ہے یارو!!!

اس بات سے سب آشنا ہیں کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد خاتون اول صوم و صلوٰۃ کی پابند ہی نہیں، کرامات والی ہیں لیکن یہ حقیقت بھی سب جانتے ہیں کہ ان کے پاس ’’الٰہ دین‘‘ کا چراغ نہیں کہ انتخابی مہم میں عمران خان کی جانب سے کیے گئے وعدے یا تحریک انصاف کے منشور پر چراغ رگڑ کر عمل در آمد کر لیا جائے۔ انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں۔ آر۔ ٹی۔ ایس سسٹم کی سست روی نے کس قدر بد اعتمادی پیدا کی۔ شکست خوردہ سیاسی پہلوان سراپا احتجاج ہیں، یقیناً ان تمام معاملات کی تحقیقات ہونی چاہیے تا کہ مستقبل میں نا صرف ایسے حالات پیدا نہ ہوں بلکہ بد اعتمادی کی فضا کو بھی ختم کیا جا سکے۔ ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے میں وزیراعظم عمران خان جہاں بلدیاتی نظام کی تبدیلیوں کیلئے سنجیدہ ہیں، وہاں انہیں ’’الیکشن کمیشن‘‘ کو ایک آزاد مستحکم ادارہ بنانے کے اقدامات بھی کرنا ہونگے۔ یقیناً الیکشن 2018ء میں کامیابی کے بعد ہر کوئی معاملات کی بہتری چاہتا ہے۔ نئی حکومت سے ایسی امیدیں ہمیشہ رکھی جاتی ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ منتخب حکومت کو ’’آئینی و قانونی‘‘ ذمہ داری پوری کرنے کے مواقع بھی ضرور ملنے چاہئیں۔ اس لیے تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اسے کام کرنے نہیں دیا گیا۔ ہم ہر حال میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے حامی ہیں اور زندگی بھر رہیں گے، 
کیونکہ آمریت کو کسی بھی صورت پسند نہیں کرتے۔ ماضی کی دو جمہوری حکومتوں کی طرح پہلے ہی روز سے ’’عمرانی حکومت‘‘ کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ ان کی پانچ سالہ مدت بھی بمشکل پوری ہو گی۔ مستقبل کی خبر دینے والے یہ سیاسی پنڈت جو مرضی کے اندازے لگائیں، عام آدمی اپنی حب الوطنی میں صرف یہی چاہتا ہے کہ جلد از جلد گزشتہ حکمرانوں کی لوٹ مار اور نا انصافیوں کا ازالہ ہو اور اسے نظر آئے کہ نو منتخب حکومت مثبت انداز میں درست سمت میں چل رہی ہے۔ ان تمام خواہشات کی تکمیل کیلئے وقت درکار ہے جبکہ ہماری عادت ہے کہ ہم وقت دینے کے بجائے جلد ہی اپنے منتخب کردہ حکمرانوں سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کچھ سیاست دان پانچ کے بجائے آئینی مدت چار سال کرنے کا نعرہ بھی لگاتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ پانچ سال کا اقتدار کے باوجود ہر حکمران وقت کی کمی کا رونا روتا ہے، ایسے میں بھلا چار سال میں کیا ہو گا؟ لیکن دنیا میں چار سالہ مدت میں ہی بہت کچھ ہوتا ہے اور حکمرانوں کو اپنے منصوبے مکمل کرنے اور مثبت اقدامات کی تکمیل کیلئے آئندہ چار سال کیلئے بھی منتخب کیا جاتا ہے، لیکن ہم عادتاً ہمیشہ جلدی میں ہوتے ہیں۔ ہر کام وقت سے پہلے مکمل کرانا چاہتے ہیں۔ ماضی میں خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے عوامی عادت کے مطابق ہر منصوبہ وقت سے پہلے کرنے کی روایت ڈالی، ورکرز، مزدوروں اور ٹھیکیداروں کو شاباش دے کر انعامات بھی دیے اور اپنے اس کارنامے پر ’’پنجاب سپیڈ‘‘ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کرا کر بڑا نام کمایا۔ ملکی اور غیر ملکی شہرت بھی ملی، لیکن آج ابتدائی تحقیقات میں نیب اور دیگر عدالتیں یہ راز اُگل رہی ہیں کہ یہ سب ڈرامہ محض عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے رچایا گیا۔ اصل حقائق کچھ اور ہیں۔ کیونکہ گزشتہ 71برس پاکستانی تاریخ میں اس بات کے گواہ ہے کہ ہمارے ساتھ ہمیشہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کا ہی عملی مظاہرہ کیا گیا۔ اس بد اعتمادی کی فضا میں لوگ جلدی میں ساری تبدیلی چاہتے ہیں۔ حقیقی وقت دینے میں بھی اکتاتے ہیں اور ایسے میں ایسا کوئی نہیں، جو اپنے عمل اور کردار سے یہ نعرہ لگا سکے کہ۔۔۔ اتنی جلدی کیا ہے یارو؟ جب جینا ہے برسوں۔۔۔ ہم اور آپ Long Live Pakistan کے صدق دل سے حامی ہیں،
لیکن یہ بھی جانتے ہیں کہ کل کس نے دیکھی؟ کیونکہ حقیقت ہے کہ ’’سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں‘‘۔ وجہ سیدھی سادھی ہے کہ سو برس جینے والے تو گنتی کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ اس لیے ’’تبدیلی‘‘ کا کرشمہ کپتان کی یقین دہانی کے مطابق ’’سو روز‘‘ میں دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔
جمہور کے اقتدار میں ہم بہت سے ادوار دیکھ چکے ہیں۔ اگر مالک نے زندگی دی تو آئندہ بھی حکمرانوں کو صبرو تحمل کے ساتھ برداشت کریں گے، کیونکہ ہماری سوچیں ہرگز سیاسی نہیں، ہمارے ہاتھوں میں قلم ہے۔ اس لیے حالات و واقعات کے تجزیے اور موازنے میں اچھائی بُرائی کو اجاگر کرنا ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ہم اداروں کی مضبوطی کے قائل ہیں۔ ہماری تمنا ہے کہ ریاست کے استحکام کے ستائے عوام بھی اتنے طاقتور ہو جائیں کہ جنہیں ووٹ دیں ان سے حساب کتاب بھی کر سکیں اور ایسا صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب الیکشن کمیشن آزاد، انتخابات صاف و شفاف، عدلیہ اور انصاف کے ادارے مستحکم ہونگے۔ یہ سارے کام پارلیمانی نظام کی مدد سے مشترکہ کوششیں کر کے سنوارے جا سکتے ہیں، لیکن ایسا جب ہی ہو گا کہ اہل سیاست ’’میرا تیرا‘‘ چھوڑ کر قومی اور اجتماعی سوچ پر ریاست اور عوام کیلئے ایک ہو جائیں۔ یقیناً یہ کام اس قدر آسان نہیں، جتنی آسانی سے میں نے مشورہ اور آپ نے خواہش کر رکھی ہے، لیکن ناممکن ہرگز نہیں۔ فیض احمد فیض ’’ہم دیکھیں گے، جب راج کرے گی خلق خدا‘‘ کا آفاقی نعرہ دے کر مالک حقیقی جانب لوٹ گئے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ اسی طرح ’’حبیب جالب‘‘ امن، ریاست اور عوامی حقوق کے گیت گاتے اور داد تحسین لیتے لیتے زندگی کھو بیٹھے۔ پھر بھی ہم مایوس اس لیے نہیں کہ ہمارا ایمان ہے، مایوسی گناہ ہے۔ قدرت کا نظام اور انتقام اپنی جگہ ہے جب وہ فیصلہ کرے تو ’’ابابیل‘‘ کی یلغار سے لشکر تباہ اور چڑیا کے ہاتھ سے بھی باز مارے جاتے ہیں۔ اس لیے ہم عمران کے حامی نہ بھی ہوں تو مملکت خدا داد پاکستان کی بقا اور استحکام کے حامی ہیں۔ انہیں حکومت مل گئی، کیسے ملی؟؟؟ یہ ہماری بحث ہرگز نہیں، انہیں اور لوگوں کو پتا ہے۔ اس لیے اس موقع سے بھرپور انداز میں قومی مفاد میں فائدہ اٹھائیں تا کہ چور لٹیرے ہمیشہ کیلئے اقتدار اور ایوان اقتدار سے دور ہو جائیں۔ ملائیشیا کے مہا تر محمد کی تاریخی مثال موجود ہے۔ اقتدار سے دستبرداری کے باوجود انہیں عوامی طاقت نے بڑھاپے میں مسند اقتدار پر لا کر بٹھا دیا۔ موجودہ دور کا تقاضا ہے کہ صرف قوم ہی نہیں حکمران بھی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں۔ مسلمان ممالک کے خلاف امریکا، سی۔ آئی۔ اے، پینٹاگون اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کی سازشیں اَب کسی سے پوشیدہ نہیں، پھر بھی نو منتخب حکومت امریکا سے دوری کو محسوس کرتے ہوئے ’’راہ و رسم‘‘ میں بہتری کی بات کر رہی ہے۔ ’’امریکا بہادر‘‘ کا دباؤ برداشت کرنا انتہائی مشکل ہے جس میں روز بروز اضافہ ہی ہو گا۔ اس لیے کہ اسے ’’سی پیک‘‘ کے ذریعے پاکستان کے مضبوط ترین بننے کی منصوبہ بندی ذرہ بھر پسند نہیں۔ اس منصوبہ بندی میں چین، روس، روسی ریاستیں اور دنیا کے دیگر ممالک پاکستان کے پیار کے اسیر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا مسئلہ صرف اور صرف ’’مستحکم پاکستان‘‘ ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لہٰذا ہمیں سوچ لینا چاہیے کہ جب جینا ہے برسوں تو اتنی جلدی کیا ہے یارو۔۔۔
بقیہ: جمع تفریق