22 ستمبر 2018

آخری سانس آخری سانس

 ایک بار پھر لندن دہشت گردی کا شکار ہے۔ بدنام زمانہ تحریک داعش کے زہر آلود پراپیگنڈے کا شکار نوجوان اپنی جانیں دینے کو تیار ہیں۔ یورپ اور اس کا آزاد معاشرہ اپنی آزادی کی قیمت ادا کررہا ہے مگر پتا نہیں مجھے یقین ہے کہ داعش اپنی زندگی کے آخری عشرے میں سانسیں لے رہی ہے۔ ظلم کبھی بھی نہیں جیت سکتا اور نہ ان حالات میں ظلم کے جیتنے کا امکان ہے۔ داعش کو شکست یقینی ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسباب تلاش کیے جائیں کہ آئندہ اس قسم کی تحریکیں جنم نہ لے سکیں۔ طالبان، القاعدہ، حزب أ کے جواز سمجھ نہیں آتے ہیں۔ جب مغربی ممالک کو سوویت یونین سے جنگ کرنا تھی تو امریکا اور انہوں نے القاعدہ اور طالبان کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا اور بعد میں مغرب اپنے جن کو بوتل میں بند کرنے میں ناکام ہوا۔ اور یہی جن اب مسلمانوں کو بدنام کرنے میں نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔ ہر دور میں کسی بھی تحریک کے پیچھے ایک خاص مقصد رہا ہے مگر جب داعش کا قیام عمل میں آیا تو مقصد صرف یہ تھا کہ کسی طرح شام میں حکومت کا تختہ اُلٹ کر اُس کو ایران اور روس کے کنٹرول سے باہر کیا جائے۔ امریکا اور سعودی عرب نے یہ کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ جنونیوں کے ہاتھوں میں ہتھیار دینے سے داعش جیسی سفّاک تنظیم جنم لے سکتی ہے۔ جب طالبان اور القاعدہ کے ہاتھوں میں ہتھیار دیے گئے تو انہوں نے اپنا پہلا مقصد یعنی سوویت یونین کی فوجوں کو ہلاک کرکے پورا کیا اور افغانستان سے سوویت یونین کو باہر نکالا۔ بعد میں طالبان اور القاعدہ نے کیا رُخ اختیار کیا، وہ کہانی ہم سب کو اچھی طرح ازبر ہے مگر داعش کے معاملے میں انہوں نے شام کی حکومت کو ختم کرنے کے بجائے خلافت کی تشکیل کا راستہ اختیار کیا اور وہ بھی سفّاکی اور ظلم کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے۔ مغرب اور عرب ممالک کو بہت جلد علم ہوگیا کہ انہوں نے غلط ہاتھوں میں اسلحہ دے دیا ہے۔ اوباما انتظامیہ نے فوراً کنارہ کشی اختیار کرلی اور شام کے صدر بشارالاسد کو پوری آزادی مل گئی کہ وہ سنّی اکثریت کو بھون ڈالے اور ہجرت پر مجبور کردے، رہی سہی کسر ایران اور روس کی حمایت نے پوری کردی۔ شام اور لیبیا کے بارے میں صدر اوباما کی پالیسیاں اتنی کمزور تھیں کہ عوام سمجھ نہ پائے کہ ہم ان دونوں ملکوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد امریکی حکومت اپنی افواج کو حکومتیں بدلنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لہٰذا امریکی اسلحہ داعش نے اپنوں پر ہی استعمال کیا، نہتے و کمزوروں کو نشانہ بنایا اور دُنیا یہ سمجھتی رہی کہ ہم شام کی حکومت کو ختم کرنے چلے ہیں۔ کچھ ابہام آج بھی واشنگٹن کے خفیہ حلقے بیان کرتے ہیں کہ صدر اوباما اور پینٹاگون میں وہ مطابقت نہ تھی جو اکثر صدارتی مدت میں ہوتی ہیں۔ پینٹاگون کے کرتا دھرتا چاہتے تھے کہ عراق اور افغانستان سے فوجیں واپس نہ بلائی جائیں اور اگر بلائی جائیں تو ان کی بڑی تعداد وہاں متعین رہے، تاکہ طاقت کا توازن خراب نہ ہوجائے اور پھر وہی ہوا۔ طالبان نے افغانستان میں زور پکڑا اور ادھر عراق کی حکومت نے سنّی آبادی پر ظلم ڈھانے کی پالیسی اپنائی، وہ تو بعد میں پتا چلا کہ داعش امریکا کے خلاف یوں ہوئی کہ عراق میں ان کے بھائی مارے جارہے تھے اور شام میں ان کو محدود اختیار کا حکم تھا۔ لہٰذا انہوں نے سعودی عرب اور امریکا یعنی اپنے محسنوں سے غداری کی اور اب ان کو اس غداری کی سزا ملنے میں بہت تھوڑا عرصہ رہ گیا ہے۔ داعش کو تباہ ہونا ہے اور وہ جلد ہوں گے، مگر جس طرح یورپ کے نوجوانوں کے ذہن میں مغربی معاشرے کے خلاف زہر بھرا گیا ہے، وہ یورپ میں گزشتہ دو سال کے دوران خودکُش حملوں کی صورت میں ہم سب کے لیے باعث تکلیف ہے مگر جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ چراغ بُجھنے سے پہلے اچانک پھڑپھڑانا شروع کردیتا ہے اور پھر بجھ جاتا ہے۔ یہی کچھ مثال داعش کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ یہ حملے، ظلم اور سفّاکی اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔ داعش کو ختم ہونا ہے اور اس کی ابتدا دو سال پہلے ہوچکی ہے اور اب بس آخری سانسیں ہیں۔ ہم سب داعش کے خاتمے کے لیے دعاگو ہیں۔ ہمیں ان تمام اسباب پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔ عراقی حکومت کی جانب سے سنیوں کی نسل کشی کو امریکا اور مغرب نے بالکل نظرانداز کیا، جہاں ایران نے شام اور عراق سے مل کر شیعہ ملیشیا کو مضبوط کیا اور عراقی اور شامی سنّی آبادی پر ظلم ڈھانے کی اجازت دی اور جس کی وجہ سے اُردن، سعودی عرب نے سنّی آبادی کو اسلحہ فراہم کیا جو بعد میں ISIS کی صورت اختیار کر گئے۔عراق اور افغانستان کی جنگ کے بہت سے ایسے پہلو ہیں، جن کو بغور دیکھا جائے تو مسلمانوں میں فرقہ وارانہ تصادم کو جاری رکھنے کے لیے مغرب کو کچھ زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی۔ عربی و عجمی اور شیعہ و سنی نہ ایک دوسرے کو ختم کرسکتے ہیں اور نہ مغلوب ہو کر رہ سکتے ہیں۔ صدیوں سے یہ ساتھ رہے ہیں اور ساتھ رہیں گے، مگر چند جنونیوں نے کچھ اندرونی اور بیرونی سازشوں کا ساتھ دے کر بھائی کے ہاتھوں بھائی کو مروایا ہے۔ ادھر مغرب اور اسرائیل سکون سے بیٹھے دیکھ رہے ہیں کہ عربوں کو جتنا مصروف جنگ رکھا جائے، یہی ان کے لیے اچھا ہے۔ اسرائیل اور مغرب کی دیرینہ پلاننگ یہ ہے کہ کسی طرح اسرائیل کی سرحدوں کو اتنا وسیع کیا جائے کہ عراق و شام کا وجود ختم ہوجائے اور اسرائیل کی سرحدیں سعودی عرب اور ایران سے جاملیں اور شاید اس طرح عربی و عجمی اور شیعہ و سنّی کے مابین نفرت کی جنگ کم ہوجائے۔ دوسری طرف اسرائیل مشرق وسطیٰ کا سپرپاور بن جائے۔ دوستو، سیاسی قلابیں ملانا آسان کام ہے مگر جو کچھ گزشتہ سال سے پیرس اور لندن میں ہورہا ہے اور جو کچھ گزشتہ 25 برسوں سے مشرق وسطیٰ میں ہورہا ہے، اس کو ایک دن ختم ہونا ہے اور چھوٹی چھوٹی جنگیں ہی عظیم جنگوں میں بدلتی ہیں۔ اس وقت دُنیا خود کو تیسری جنگ عظیم کے لیے تیار کررہی ہے اور جنگ عظیم میں ملکوں اور معاشروں کی سرحدوں کا تعین ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سرحدوں کا تعین ہونا باقی ہے اور جس طرح مسلمان ممالک آپس میں برسرپیکار ہیں، ان ہی حالات کو دیکھ کر خدشہ ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کی سرحدیں متعین کرے گا۔