24 اپریل 2019
تازہ ترین

آئینہ کیوں نہ دوں؟ آئینہ کیوں نہ دوں؟

عمران خان کے بارے میں تو بہت کچھ لکھ دیا۔ بس یہ سوچ لیجیے کہ میں کتابِ دل میں اپنا حالِ غم لکھتا رہا، ہر ورق ایک باب تاریخِ جہان بنتا گیا۔ سوچا تو یہی تھا کہ اسے کالم کے آخر میں لکھوں گا، لیکن سوچ ہے بہک جاتی ہے۔ عمران خان کے خلاف ایسا لگتا ہے کہ پورا پاکستان ہی اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اپوزیشن تو خیر اپوزیشن ہے، اُس کا کام ہی حکومتِ وقت کو نیچا دِکھانا ہوتا ہے، جس کو دیکھو تحریک انصاف اور اُس کے قائد کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑ گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن تو پہلے دن سے ہی شکوہ کناں تھے۔ ظاہر ہے، عمران اُنہیں اُن کے اپنے گھر میں شکست دے کر خوش تو نہیں کر سکتے تھے، لیکن بڑی سوچ بچار کے بعد بالآخر قلم اُٹھانا ہی پڑا کہ بات اب حد سے آگے ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ وقت تو تبدیل ہوتا ہی رہتا ہے، مگر اخلاقیات اگر گراوٹ کا شکار ہو جائے تو اسے صرف بدنصیبی ہی کہا جا سکتا ہے۔ ٹھیک ہے، زمانہ بدل گیا، اقدار بدل گئیں، لیکن مروت، احساس، انسانیت تو تنزل پذیر نہ ہو۔ وہ بھی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے، جہاں کفِ افسوس مَلنے پر بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔
بہت سوچا کہ تہذیب کے دائرے میں رہ کر ہی تنقید کی جائے، لیکن پانی جب سر سے اونچا ہو جائے تو پھر تنقید کے انداز خودبخود بدل جاتے ہیں۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ عمران بہ حیثیت وزیراعظم، حکومتی کاموں کی ترجیحات مقرر کرنے اور اپنے کچھ نادان وزرا کی موشگافیوں کی وجہ سے منجدھار میں پھنسے نظر آتے ہیں۔ مخالفین تنقید کرتے ہیں، ضرور کریں، اُن کا حق ہے، لیکن زبان درازی، تمیز و تہذیب کو ایک کونے میں رکھ کر، لٹھ برداری شروع کر دی جائے تو پھر آئینہ دِکھانا ہی پڑتا ہے۔ اسی لیے مجھے آج خود اپنے آپ کو بھلا کر، آبا و اجداد کی سِکھائی ہوئی تہذیب و تمدن، ادب، اخلاقیات کو بھلا کر اُسی گری ہوئی سطح پر آنا پڑ رہا ہے تا کہ جو زبان استعمال کی جا رہی ہے، اُسی میں جواب دیا جائے، شاید کچھ اثر ہو، شاید تنقید نگاروں کو بھی احساس ہو جائے اور کلام میں کچھ پختگی محسوس ہونے لگے۔ غالب کا اندازِ بیاں ہی نرالا ہے، جو آئندہ کئی برس تک دُنیا میں آنے والے لوگوں کو سبق سِکھاتا رہے گا۔
مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت کو گرانے کی کوششوں میں شدّت پیدا ہو گئی ہے، نواز شریف سے ملے، کچھ زیادہ کامیابی نہ ہونے کے باعث شاید مضمحل ہوئے ہوں، لیکن آصف زرداری جنہوں نے خود بھی عمران کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کا اعلان کر دیا ہے اور بلاول بھٹو بھی زہر میں ڈوبے ہوئے تیر چلانے لگے ہیں۔ ’’سنو کٹھ پتلی، تم سے ملک سنبھالا نہیں جا رہا، عمران جھوٹے، بدنیت، دھوکے باز ہیں۔‘‘ یہ اندازِ تخاطب تو کسی حد تک بھٹو مرحوم کا ضرور تھا، لیکن بے نظیر تنقید، تہذیب کے دائرے میں رہ کر کرتی تھیں، شاید بلاول اپنی والدہ کی تربیت بھول گئے ہیں۔ جملوں کی تندی و تیزی اور بات ہے، الفاظ کا چناؤ تو صحیح ہونا چاہیے۔ اگر عمران جھوٹے اور دھوکے باز ہیں تو نوجوان سیاست داں اپنے والد کے بارے میں ہی بتا دیں کہ اتنی ساری جائیداد، ملک میں اور فرانس، لندن، امریکا، دبئی، لاہور، کراچی، اسلام آباد میں کیسے بن گئی۔ کون سا الٰہ دین کا چراغ ہاتھ آ گیا تھا؟ جس نے اُن کی دُنیا ہی بدل دی۔ آج اُن کا شمار دُنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ محلات، ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر، دولت کی ریل پیل، سب کا جواب تو قوم بھی مانگ رہی ہے۔
بلاول ہوں، مُراد علی شاہ، پیپلز پارٹی کے دوسرے اکابرین، سندھ کے مشیر اطلاعات کا کہنا کہ زرداری پر آج تک کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا تو سوئس بینک کے 60 ملین ڈالر کہاں گئے؟ سوئٹزر لینڈ کی عدالتوں نے جب حساب کتاب مانگا تو نیویارک کے ہسپتال سے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھجوا دیا، کیوں عدالتوں کا سامنا نہیں کیا؟ صحیح ہے کہ اُنہوں نے 11 سال جیل میں گزارے۔ اب نیب اور اعلیٰ عدالتوں نے حساب مانگ لیا ہے تو حکومت کو گرانے کا منصوبہ تیار ہونے لگا ہے۔ بلاول خود بھی بتا دیں کہ اُن کے اپنے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہیں اور کہاں سے آئے؟طلال چودھری، محمد زبیر، دانیال عزیز تو خیر عدالتِ عظمیٰ کی ڈانٹ کے بعد خاموش ہو گئے، ہوش ٹھکانے آ گئے اُن کے، مریم اورنگزیب لگی ہوئی ہیں شریف خاندان کی نگہبانی میں، ذرا یہ تو بتا دیں کہ ایک نرس راتوں رات کئی ایک قطعہ اراضی کی مالکن کیسے بن گئی۔ میں خاندانی معاملات پر کچھ کہنے سے اجتناب کرتا ہوں، مگر مریم صاحبہ جواب دے دیں تو اچھا ہو گا۔
حمزہ شہباز کیا بتائیں گے کہ اپنے والد کے پچھلے دورِ حکومت میں اُن کی پولٹری پر گرفت اتنی مضبوط کیوں تھی؟ کیوں دوسرے کاروباری افراد کو پولٹری کے نرخ مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ نواز شریف پر 1988 میں الزام لگا کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اُنہوں نے سٹیل کے جہاز کا صحیح ڈیکلیئریشن کسٹم کو نہیں بتایا، انوائس میں کچھ اور ہی کیوں لکھا گیا۔ اُن کے پُرانے دوست نے قطر سے آ کر BMW سے بھرے ہوئے جہاز کی کسٹم ڈیوٹی کتنی ادا کی؟ آج سب بڑھ چڑھ کر دما دم مست قلندر ہونے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، اپنے اعمال پر نظر نہیں ڈالتے۔ ڈر لگتا ہے شاید؟ لیکن سچ تو کبھی نہ کبھی آشکار ہو ہی جاتا ہے، کہتے ہیں نا کہ عشق اور مُشک چھپائے نہیں چھپتے۔ جھوٹ کیسے لمبے عرصے چھپ سکے گا؟ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ آج سب نیب کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، اس لیے کہ اُن سے حساب مانگ لیا گیا ہے، تو حساب دے دیں۔ محض یہ کہہ دینا کہ مالی معاملات چھوٹے بھائی سلمان شہباز دیکھتے ہیں، میں صرف سیاسی معاملات دیکھتا ہوں سے کام نہیں چلے گا۔ بہت سارے سوالات ہیں جن کا جواب نیب ہی نہیں، قوم بھی مانگ رہی ہے۔
ایک نجی ٹی وی کے مطابق نیب کے کئی ایک افسران سیاست دانوں سے رابطے میں ہیں، اُنہیں اُن کے خلاف ثبوت خاموشی سے بتا دیتے ہیں۔ یہ شکایت تو عدالتِ عالیہ اور عدالتِ عظمیٰ کو بھی ہے؟ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کو کچھ لوگوں کی سرزنش ہی نہیں بلکہ اُنہیں عہدوں سے ہٹانا بھی پڑے گا ورنہ خود اُن کا مقصد فوت ہونے کا خدشہ ہے؟ چلتے چلتے علامہ اقبال کا شعر کہتا چلوں کہ عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں۔۔۔ کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے۔ تو مخالفین کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ:
سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا
کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا