کاروبار
لاہور کے صرافہ بازاروں اور مارکیٹوں میں سو نا 275 روپے تولہ مہنگا ہو گیا۔ خالص 24 قیراط تولہ سونا 53 ہزار 125 روپے اور خالص 22 قیراط تولہ سونا 48 ہزار 697 روپے کا ہو گیا ۔ 

نجی ایئر لائن نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 12 کروڑ روپے جمع کرا دیئے ۔ ایف بی آر نے سول ایوی ایشن سے نجی ایئر لائن کا فلائٹ آپریشن بند کرنے کی درخواست واپس لے لی ہے ۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق نجی ایئر لائن نے 2 ماہ سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 70 کروڑ روپے ادا نہیں کئے تھے،  نوٹسز کے باوجود جواب نہ ملنے پر ایف بی آر نے سول ایوی ایشن کو نجی ایئر لائن کے فلائٹ آپریشن بند کرنے کا خط لکھا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی ایئر لائن نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے 70 کروڑ روپے میں سے 12 کروڑ روپے کی ادائیگی کردی ہے   اور بقیہ رقم کی ادائیگی کے لئے ایک ماہ کا وقت مانگ لیا ہے ۔  
image

  چین نے یمن کے 100 کروڑ ڈالر کے قرضے معاف کر دئیے ۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن میں تعینات چینی سفیر ٹیان فائی ، یمنی ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عبدالملک الکیلففی کی باہمی ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چین یمن کے 100کروڑ ڈالر کے قرضے معاف کر دے گا۔ اس قرض کی معافی کے لئے باقاعدہ طور پر ایک اجلاس میں باہمی معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔دوسری جانب یمن کے وزیر اعظم نے چین کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن اور چین مابین دیرینہ دوستانہ مضبوط باہمی تعلقات ہیں۔ یمن چین کے ہر مسئلہ پر ساتھ کھڑاہے اور بلاتفریق چین کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
image

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرضہ جات جو بعد ازاں چاروں صوبوں کو گزشتہ مالی سال2016-17میں فراہم کئے گئے پر شرح سود کم کر دی ہے ، یہ شرح سود مالی سال 2015-16 میں 7.37فیصد تھی جیسے مالی سال 2016-17کیلئے 6.54 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے ، اس طرح صوبوں کو قرضوں پر سود کی ادائیگی میں اس سال کیلئے 0.83فیصد کا فائدہ دیدیا گیا ہے ۔ وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے چاروں صوبوں کو بھجوائے گئے فیصلے کے مطابق وفاق نے مالی سال 2016-17کے دوران پنجاب کو29 ارب 27 کروڑ روپے کے قرضے جاری کئے جن پر مستقبل میں 6.54فیصد شرح سود لاگو ہوگی ، سندھ کو اس مالی سال میں9ارب46کروڑ روپے کے قرضے فراہم کئے گئے اور مستقبل میں ان پر 6.54فیصد شرح سود واجب الادا ہوگا ، خیبر پختونخوا نے مالی سال 2016-17 کے دوران وفاق سے کوئی قرض لینے کے بجائے اسے 3 ارب84کروڑ روپے قرض یا سود ادا کر دیا جبکہ بلوچستان نے بھی اس مالی سال میں وفاق کو 3 ارب 67کروڑ روپے قرض واپس کیا   ۔ صوبوں سے اس شرح سود کی وصولی انہیں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت فراہم کی جانے والی ماہانہ رقم کی ادائیگی کے وقت ایٹ سورس کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے حکومت کمرشل بینکوں اور قومی بچت اسکیموں سے بھاری شرح سود پر قرضے لیتی رہی ہے جس کے سبب قرضوں کا بوجھ اس وقت1960ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے ۔
image

وزارت توانائی کے پاور ڈویږن نے گزشتہ چار ماہ کے دوران بجلی بلوں کی عدم ادائیگی پر 5 لاکھ 37 ہزار صارفین  کے کنکشن منقطع کر دیئے۔  سیکرٹری وزارت توانائی وسیم کھوکھر کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں پیش کر دہ رپورٹ کے مطابق ملک میں عدم ادائیگیوں کے باعث لاکھوں صارفین  کے کنکشن کاٹ دیئے گئے ہیں ، پاکستان میں 2 کروڑ 23 لاکھ بجلی صارفین کی تعداد موجود ہے ، سب سے زیادہ کنکشن گھریلو صارفین کے کاٹے گئے ،  جن کی تعداد 3 لاکھ 53 ہزار ہے ، عدم ادائیگی پر ایک لاکھ 42 ہزار سے زائد کمرشل صارفین کے کنکشن منقطع کئے گئے ہیں جبکہ مل مالکان کے 22 ہزار 500 صارفین کے کنکشن  کاٹے گئے ہیں ۔ ملک میں  3 لاکھ 34 ہزار صارفین کمرشل شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں  18 ہزار 350 زرعی ٹیوب ویلوں کے کنکشن بل ادا نہ کرنے پر منقطع کئے گئے ہیں ، جس سے ملک میں زرعی پیداوار میں کمی آئی ہے اس کے علاوہ  ایک ہزار کے قریب متفرق صارفین کے کنکشن کاٹے گئے ہیں ۔ وزارت کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ  پاکستان میں صارفین کی کل تعداد 25375777 ہے ان میں ہر سال کمی واقع ہو رہی ہے اور ہر سال اوسط ساڑھے پانچ لاکھ صارفین  کے کنکشن کاٹے جا رہے ہیں ۔ 
image

 ڈی ایٹ کا 9 واں سربراہ اجلاس جمعہ کو ترکی کے شہر استنبول میں شروع ہوگیا جس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں،  پاکستان ڈی ایٹ کا موجودہ چیئرمین ہے اور اس موقع پر تنظیم کی صدارت ترکی کے حوالے کرے گا۔ قبل ازیں ڈی ایٹ سربراہ اجلاس کے مقام پر آمد پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کانفرنس میں شریک سربراہان مملکت و حکومت کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر ڈی ایٹ رہنمائوں نے گروپ فوٹو بھی بنوایا۔ ترکی، مصر، انڈونیشیا، ملائشیا، ایران، نائجیریا، بنگلہ دیش اور پاکستان تنظیم کے رکن ممالک ہیں جبکہ ڈی ایٹ کے نویں اجلاس میں آذربائیجان اور گنی خصوصی شرکت کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔ اجلاس میں ڈی ایٹ تنظیم کے سیکرٹری جنرل سمٹ رپورٹ پیش کریں گے۔ ڈی ایٹ کے آٹھوں رکن ممالک کی مجموعی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے جبکہ مشترکہ شرح نمو 37 کھرب ڈالر  سے زائد  ہے۔ تنظیم کے مقاصد میں رکن ممالک کے درمیان معاشی تعاون میں اضافہ اور عوامی زندگیوں میں بہتری بھی شامل ہے۔ تنظیم کے چارٹر کے تحت زراعت، فوڈ سکیورٹی، توانائی، معدنیات، صنعتی تعاون، صحت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کا فروغ شامل ہے ، نویں ڈی ایٹ  اجلاس میں سربراہان مملکت و حکومت مستقبل کے لائحہ عمل  پر گفتگو کریں گے۔ ڈی ایٹ سمٹ کے موقع پر شاہد خاقان عباسی ترکی کی قیادت اور دیگر عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ 
image

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 56فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،جولائی تا ستمبر 2017کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 23کروڑ 85لاکھ ڈالر زائد رہی،جولائی تا ستمبر 2017کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 66کروڑ 19لاکھ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 42کروڑ 34لاکھ ڈالرکی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پہلی سہ ماہی میں مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری 1.4فیصد کمی سے 53کروڑ 41لاکھ ڈالر رہی،غیرملکی نجی سرمایہ کاری 29.5فیصد اضافے سے 58کروڑ 37لاکھ ڈالر جبکہ پورٹ فولیوسرمایہ کاری 384فیصد کمی کے ساتھ منفی 7کروڑ 82لاکھ ڈالر رہی، اس عرصے کے دوران غیرملکی پبلک انوسٹمنٹ بھی 154فیصد کمی سے منفی 4کروڑ 96لاکھ ڈالر رہی، ستمبر 2017کے دوران 23کروڑ 23لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ،غیرملکی نجی سرمایہ کاری 17کروڑ 84لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 23کروڑ 23لاکھ ڈالر رہی جس میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 19کروڑ 18لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 20کروڑ 48لاکھ ڈالر رہی، ستمبر 2017کے دوران پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں 2کروڑ 75لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا،غیرملکی پبلک انوسٹمنٹ میں ایک ڈالر کا بھی اضافہ نہ ہوسکا ۔
image

ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے اثرات نمایاں ہونے لگےہیں ۔ سٹیٹ بینک کے مطابق دو سال کے دوران روپے کی گردش میں اوسط 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بینک ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ کا نفاذ کیا ہوا عوام نے بینکوں سے لین دین کم کردیا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق عوام نے بینک کھاتوں میں رقوم رکھنے سے گریز شروع کردیا۔ گذشتہ دو سال کے دوران روپے کی گردش میں اوسط 25 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس سے قبل گذشتہ گیارہ برسوں میں روپے کی گردش اوسط 14 فیصد تھی۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ جون 2017 تک 4200 ارب روپے گردش کر رہے تھے ، حکومت نے سب سے پہلے 25 ہزار کی کیش بینکنگ ٹرانزیکشن پر اعشاریہ 6 فیصد ٹیکس عائد کیا تھا ، پھر اسے 50 ہزار کی ٹرانزیکشن پر اعشاریہ 3 فیصد کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے اس کے بعد فائلر کو فائدہ پہنچانے کی خاطر اس کی شرح کو نان فائلر کے لئے بڑٰھا کر اعشاریہ 4 فیصد کردیا تھا جبکہ فائلرز اب بھی اعشاریہ 3 فیصد ہی ادا کریں گے۔
image

تین پڑوسی عرب ملکوں اور مصر کے ساتھ جاری سفارتی اور اقتصادی بحران کے باعث خلیجی ریاست قطر کو بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معاشی خسارہ پورا کرنے کے لیے قطری حکومت بیرون ملک کی گئی سرمایہ کاری ختم کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق قطر نے بیرون ملک کی گئی سرمایہ کاری میں سے 20 ارب ڈالر کی رقم ان منصوبوں سے نکال لی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ رقم قطری فنڈ کی ملکیت ہے جسے بیرون ملک سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں پر لگایا گیا تھا۔برطانوی جریدہ  فائننشل  ٹائمز کے مطابق قطری انویسٹمنٹ سسٹم نے دوحہ کے عرب بائیکاٹ کے نتیجے میں ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لئے بیس ارب ڈالر کی رقم واپس بنکوں میں منتقل کردی ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بیرون ملک سے رقوم کی وطن واپسی فطری ہے۔
image

ایک سال کے دوران بینکوں کی جانب سے جاری کردہ پے منٹ کارڈز کی تعداد میں 8.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور جون 2017 کے اختتام پر ملک میں جاری کئے گئے پے منٹ کارڈز کی تعداد 36.6 ملین تک بڑھ گئی جبکہ جون 2016 کے اختتام پر یہ تعداد 33.6 ملین ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس طرح جولائی 2016 تا جون 2017ئ کے دوران صارفین کو بینکاری کی سہولتوں میں آسانی کیلئے 3 ملین نئے کارڈ جاری کئے گئے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بینکوں نے صارفین کو 17.9 ملین ڈیبٹ کارڈ جاری کئے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر جاری کئے گئے پے منٹ کارڈز میں ڈیبٹ کارڈز کا حصہ 48.7 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اے ٹی ایم کارڈز کی تعداد 8.05 ملین اور ان کا تناسب 22 فیصد ہے جبکہ کریڈٹ کارڈز کا تناسب 3.5 فیصد اور ان کی تعداد 1.3 ملین ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں جاری کئے گئے سوشل ویلفیئر کارڈز کی تعداد 9.11 ملین اور ان کا تناسب 24.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پے منٹ کارڈز کی تعداد میں اضافہ سے صارفین کو بینکاری کی سہولیات تک آسان رسائی کی فراہمی کے حوالے سے ملک میں کام کرنے والے مالیاتی ادارے اور بینک جامع پالیسی کے تحت اقدامات کر رہے ہیں۔  
image

ورلڈ بینک حکام نے کہا ہے کہ میکرو اکنامک  سطح پر پاکستان کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ ورلڈ بینک نے معاشی اصلاحات میں پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے چار سال میں میکرو اکنامک سطح پر پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے  ۔ عالمی بینک کی جانب سے پاکستانی وفد سے مذاکرات کے بعد ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دس سال کی سب سے زیادہ 5.3 فیصد سے ترقی کی ہے ، ترقی کی راہ میں حالیہ خطروں کیخلاف پاکستان کا ساتھ دیں گے ،  بیرونی ادائیگیوں کا حصہ جی ڈی پی کے 6 فیصد تک پہنچ گیا ہے،  بیرونی ادائیگیاں جی ڈی پی کے 9 فیصد ہونے کی بات ڈیٹا کی صحیح تشریح نہیں تھی۔  
image

پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ نندی پور پاور پلانٹس سے  کم بجلی پیدا ہونے سے 9ارب 12کروڑ کا نقصان ہوا، جولائی2015سے جون2016کے دوران 1ارب 32کروڑ 16لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی گئی جبکہ پیداواری صلاحیت2ارب23کروڑ38لاکھ یونٹ تھی۔ اکیانوے کروڑ اکیس لاکھ یونٹ کم بجلی پیدا ہونے سے 9ارب 12کروڑ کا نقصان ہوا، جس سے حکومت پنجاب کے شاہکار نندی پور پاور پلانٹ منصوبے کی حقیقت عوام پر آشکار ا ہوگئی ہے حالانکہ اس پر قومی خزانہ سے51ارب سے زائد رقم خرچ کی گئی ۔
image

زرعی ماہرین نے قرار دیا ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود وطن عزیز کو خوردنی تیل کی شدید قلت کا سامنا ہے ، اس لیے کہ کل ملکی ضروریات کا دو تھائی حصہ درآمد کیا جاتاہے، جس پر تقریباً ڈیڑھ کھرب روپیہ کا کثیر زر مبادلہ خرچ ہو رہا ہے، زرعی ماہرین نے کہا کہ تیل دار اجناس کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت  وقت کی ضرورت ہے ، اس سلسلہ میں کینولہ کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے ، کاشتکار محکمہ زراعت کی کینولہ پر سبسڈی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں  ،  اس سے زمیندار 26000  سے  تیس ہزار روپے فی ایکڑ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں  ، یہ اپنی گہری جڑوں کی وجہ سے پانی کی کمی کو کافی حد تک برداشت کر لیتی ہے اور 40 من تک پیداواری صلاحیت رکھتی ہے، سائنسدانوں نے دیسی سرسوں میں سے دو اجزا  اروسک ایسڈو گلو کو سینو لیٹ نکال کر اسے ڈبل زیرو بنا دیا ہے یعنی بو اور کڑواہٹ سے پاک کینولہ  کا تیل صحت کے لئے بہت مفید ہے ، خاص طور بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں تو یہ اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔
image

برائلر گوشت کی قیمت میں دو روز میں 16روپ کلو اضافہ ہو گیا ۔ گزشتہ روز برائلر گوشت کی قیمت مزید 4روپے اضافے سے 160روپے سے بڑھ کر 164روپے کلو کی سطح پر پہنچ گئی ۔ منگل کے روز قیمت میں 12روپے فی کلو اضافہ ہوا تھا۔
image

عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں 2ڈالر کا اضافہ ہوا اور فی اونس سونے کی قیمت 1305ڈالر ہوگئی، بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ، آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق ملکی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 150روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد کراچی ، حیدرآباد، لاہور، ملتان ، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت 53200 روپے ہوگئی ۔ اسی طرح129روپے کے اضافے سے دس گرام سونے کی قیمت 45 ہزار 600 روپے ریکارڈ کی گئی جبکہ جبکہ چاندی کی فی تولہ قیمت 780 روپے پر مستحکم رہی ۔
image

 انٹرنیشنل کموڈٹی ایکسچینج میں کینیڈین کینولا کے نرخوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سویابین آئل کے نرخوں میں اضافہ ہے۔ ایکسچینج میں کینیڈین کینولا کے نومبر کیلئے سودے 3.30 ڈالر اضافے کے ساتھ 499 ڈالر فی ٹن طے پائے۔کینیڈین کینولا کے جنوری کیلئے سودے 3.40 ڈالر اضافے کے ساتھ 505.90 ڈالر فی ٹن طے پائے۔
image

عالمی بینک نے معاشی اصلاحات میں پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے چار سال میں میکرو اکنامک سطح پر پاکستان کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے پاکستانی وفد سے مذاکرات کے بعد ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دس سال کی سب سے زیادہ 5.3 فیصد سے ترقی کی ہے ۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان کا مالیاتی خسارہ اور جاری کھاتوں کا خسارہ میکرو  اکنامی  کیلیے خطرہ ہوسکتا ہے، عالمی بینک اعلامیے کے مطابق ترقی کی راہ میں حالیہ خطروں کے خلاف پاکستان کا ساتھ دیں گے۔ اعلامیے میں باور کرایا گیا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کا حصہ جی ڈی پی کے 6 فیصد تک پہنچ گیا ہے، بیان کے مطابق بیرونی ادائیگیاں جی ڈی پی کے 9 فیصد ہونے کی بات ڈیٹا کی صحیح تشریح نہیں تھی۔
image

 رواں مالی سال 2017-18کے دوران نجی شعبہ کو قرضوں کی فراہمی ایک ہزار ارب روپے تک بڑھنے کی توقع ہے جس سے ملک میں تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کو بڑھانے اور نجی شعبہ کے مالی مسائل کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2015-16کے دوران مختلف مالیاتی اداروں کی جانب سے نجی شعبہ کو 446.4 ارب روپے کے قرضے فراہم کئے گئے تھے جبکہ گزشتہ مالی سال 2016-17 کے اختتام پر نجی شعبہ کو جاری کردہ قرضوں کا حجم 748 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ جاری مالی سال کے دوران شعبہ کو فراہم کردہ قرضوں کا حجم ایک ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ صنعتی و تجارتی شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کم شرح سود اور افراط زر میں کمی کے نتیجہ میں نجی شعبہ اپنی مالی مشکلات کے خاتمہ کیلئے بینکوں اول مالیاتی اداروں سے قرضوں کے حصول کوترجیح دے رہا ہے جس سے ملک میں جاری صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔  
image

چین کو کی جانے والی مجموعی قومی برآمدات میں 61 فیصد حصہ روئی کی برآمدات پر مشتمل ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداوشمار کے مطابق چین کو کی جانے والی برآمدات میں چاولوں کی قومی برآمدات کا حصہ 14 فیصد ہے جبکہ زرعی شعبہ کی دیگر متفرق برآمدات کا تناسب صرف 8 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق دیگر مختلف برآمدات کا تناسب 17 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے قومی برآمدات کے خاطر خواہ فروض سے زرمبادلہ کے حصول کو بڑھایا جا سکتا ہے جس سے ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے اور تجارتی خسارے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ رپورٹ کے مطابق سال 2016 کے دوران پاکستان نے چین سے 24 فیصد آلات، 21 فیصد مشینری، 8 فیصد آئرن اور سٹیل، 5 فیصد آرگینک کیمیکلز، 4 فیصد دستکاریاں اور 4 فیصد لوہے کی مصنوعات جبکہ 34 فیصد دیگر متفرق مصنوعات درآمد کی ہیں۔  
image

 مالی سال 2016-17کے دوران قرضوں پر سود اور اصل زر کی واپسی میں 37فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔وفاقی حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران17 ارب 80کروڑ ڈالر قرض لے کر 10 ارب 49 کروڑڈالر کا سود اور اصل زر واپس کیا جبکہ مشرف دور میں جاری ہونے والے یورو بانڈز کا منافع بھی گزشتہ مالی سال میں ادا کیا۔رپورٹ  کے مطابق ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ مجموعی طور پر 83 ارب ڈالر ہو چکا ہے جس میں ریاست کے ذ مہ آئی ایم ایف سمیت دیگر اداروں کے قرض کی رقوم 62.5ارب ڈالر ہیں جبکہ نیم سرکاری اور نجی شعبے کے ذ مہ بھی تقریبا20.5ارب ڈالر کے قرض ہیں ۔ مالی سال 2015 اور 2016 میں آٹھ ارب 70کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ لیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال 2016 سال 2017 میں نو ارب 10کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا اور اس کے مقابلے میں ان ہی برسوں میں بالترتیب4 ارب 42 کروڑ ڈالر اور 6ارب 7کروڑ ڈالر مختلف اداروں اور ممالک کو واپس کیے گئے ،گزشتہ مالی برس میں یورو بانڈز کی مدت معیاد پوری ہونے اور سکوک بانڈز کے منافع کی مد میں ایک ارب 11 کروڑ 60لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی جبکہ سال 2015اور 2016میں یہ ادائیگی 85 کروڑ 40لاکھ ڈالر رہی تھی ۔ 75 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز مشرف دور میں سال 2007 میں ملکی معاشی صورتحال کو سنبھالا دینے کے لئے دس سال کی مدت کے لئے عالمی مارکیٹ میں جاری کئے گئے تھے جن پر منافع کی مد میں ہر سال ادائیگی ہوتی رہی اور تاہم اب مدت پوری ہونے پر مکمل ادائیگی گزشتہ مالی سال میں کی گئی ہے جبکہ چین کے مختلف قرضوں پر سود اور اصل زر کی مد میں بھی سب سے زیادہ 51 کروڑ ڈالر کی ادائیگی بھی گزشتہ مالی سال میں کی گئی ،نجی شعبے نے دو برس میں 3 ارب 40کروڑ ڈالر کے لئے قرض لئے جبکہ نجی شعبے کے مجموعی قرضوں کا حجم 6 ارب 40کروڑ ڈالر ہو چکا ہے اور یہ قرضے زیادہ تر توانائی اور تیل و گیس کے منصوبوں کیلئے لیے گئے ہیں ۔
image

 آسٹریلیا نے کہا ہے کہ   2030 تک انڈونیشیا ، پاکستان اور تھائی لینڈ آسٹریلیا سے بڑی معیشتیں بن کر ابھریں گی ۔ آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئر کانفرنس  سے خطاب میں آسٹریلوی اپوزیشن کی  خارجہ امور  کی  ترجمان پینی وانگ  نے کہا ہے کہ اگر ہم ایشیا میں صحیح مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں چین کے ساتھ  بہتر انداز میں رہنے کی ضرورت ہے،مستقبل میں بین الاقوامی معیشت میں ٹاپ ٹوئنٹی میں مقام حاصل کرنے کے لئے ہمیں چین کے ساتھ  تجارت میں اضافہ کرنا چاہئے،  ہمیں چین کے ساتھ مستقل طورپر تعاون کرنے کی ضرورت ہے اور مسائل  اور مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے،ہمیں چین کے ساتھ علاقائی فریم ورک میں یہ سمجھتے ہوئے کام کرنا چاہئے کہ یہ وہی ریجن ہے  جس میں ہم دونوں رہ رہے ہیں  اور یہاں  ضابطوں کی بنیاد پر رہنے کی اہمیت ہے تا کہ دونوں اقوام کو خوشحالی ، استحکام اور فوائد حاصل ہو سکیں ۔انہوں نے کہا کہ چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا دوطرفہ تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 100ارب امریکی ڈالر ہے۔  آسٹریلیا اس بات کو نہیں جانتا تھا کہ چین کے ساتھ کس قسم کے تعلقات رکھے جائیں ،آسٹریلوی حکومت کی کوششوں کے بعد چین کے ساتھ ہمارے تعلقات  بہت قریبی ہیں اور ہم چین کے تجویز کردہ منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ میں بھی شامل ہیں۔
image

  پاکستان اور اومان کے مابین تجارتی روابط بڑھانے اوراقتصادی کمیشن کا اجلاس آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں بلانے پر اتفاق ہو گیا ،تہمینہ جنجوعہ نے اپنے ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سمیت  ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات  بارے  بریفنگ دی  ۔ تفصیلات کے مطابق سیکرٹری  خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور اومان کے امور خارجہ کے انڈرسیکرٹری ڈاکٹر محمد بن عواد الحسن نے مسقط میں پاکستان اومان دوطرفہ سیاسی مشاورت کے چھٹے دور کے موقع پر ملاقات کی۔ملاقات میں دوطرفہ سیاسی تعلقات اورکثیرملکی فورموں پراقتصادی اورتجارتی تعاون سے متعلق امور پرتبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پر تجارتی روابط بڑھانے اور مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں بلانے پر اتفاق کیا گیا۔خارجہ سیکرٹری نے اپنے ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سمیت  ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بریفنگ دی  ۔
image

خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے معیشت پر بوجھ بن چکے ہیں، واپڈا، او جی ڈی سی ایل، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل اور دیگر سرکاری اداروں کے مجموعی قرضہ جات کی مالیت 1ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2016-17کے دوران سرکاری اداروں کے قرضوں میں 244.5ارب روپے کا مزید اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ان اداروں کے مجموعی قرضوں کی مالیت 1106.6ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جن میں 822.8ارب روپے کے مقامی جبکہ 283.8 ارب روپے کے غیرملکی قرضے شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2016-17کے اختتام پر واپڈا پر عائد قرضوں کی مالیت 81.4ارب روپے، او جی ڈی سی ایل کے قرضوں کی مالیت 3.1 ارب روپے، پی آئی اے کے ذمے قرضوں کی مالیت 122.4ارب روپے، پاکستان اسٹیل کارپوریشن پر عائد قرضوں کی مالیت 43.2 ارب روپے اور دیگر متفرق سرکاری اداروں پر عائد قرضوں کی مالیت 572.6ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، سرکاری اداروں کیلیے 127.3ارب روپے کے قرضے حکومتی ضمانت پر حاصل کیے گئے جبکہ 156.5ارب روپے کے قرضے بغیر حکومتی ضمانت کے حاصل کیے گئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی و غیر ملکی قرضوں کے حصول کیلیے حکومت کی جانب سے دی جانیوالی مالیاتی ضمانت کی مجموعی مالیت 937 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، اس میں سے 586.3ارب روپے کی ضمانتیں مالی سال 2017کے دوران جاری کی گئی ہیں جو گزشتہ 5سال کے دوران جاری کی جانے والی 143ارب روپے کی اوسط سالانہ ضمانتوں سے 4 گنازائد ہیں، ان ضمانتوں میں سے 90 فیصد مقامی قرضہ جات کے لیے جاری کی گئی ہیں
image

انٹرنیشنل کموڈٹی ایکسچینج میں روئی کے نرخوں میں 1 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا جس کی وجہ اس کی طلب میں اضافہ ہے۔ ایکسچینج میں روئی کے دسمبر کیلئے سودے 0.78 سینٹ سے بڑھ کر 68.62 سینٹ فی پونڈ طے پائے۔ایکسچینج میں روئی کی کل 15976 گانٹھوں کا کاروبار ہوا جو گزشتہ روز کی نسبت 11455 گانٹھیں کم ہیں۔
image

 رواں مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں میں اشیائے خوراک کی درآمدات میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 27.18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارہ شماریات پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی اوراگست کے مہینوں میں اشیائے خوراک گروپ کی درآمدات کا حجم 1.123 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال اس عرصہ کے دوران خوراک گروپ میں شامل اشیا کی درآمدات پر 883.156 ملین ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کیا گیا۔اعداد وشمار کے مطابق خشک میوہ جات   اورنٹس کی درآمدات پر جولائی اوراگست کے مہینوں میں 33.836 ملین ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کیا گیا، گزشتہ سال اسی عرصہ میں یہ شرح 24.142 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی، بلحاظ وزن خشک میوہ جات کا حجم 33ہزار 596 میٹرک ٹن ریکارڈ کیا گیا۔اعدادوشمار کے مطابق اس عرصہ میں 35277 میٹرک ٹن مصالحہ جات کی درآمدات ہوئیں جس پر31.912 ملین ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوا تاہم اس عرصہ میں بچوں کیلئے  ملک کریم اورخشک دودھ کی درآمدات میں22.59فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جولائی اوراگست میں  بچوں کیلئے  ملک کریم اورخشک دودھ کی درآمدات پر 41.909 ملین ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کیا گیا، گزشتہ سال اس عرصہ میں درآمدات پر  54.142  ملین ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوا تھا۔اعدادوشمار کے مطابق جولائی اوراگست میں ملک میں دالوں کی درآمدات میں 22.07 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، اس عرصہ میں دالوں کی درآمدات کا حجم ایک لاکھ 29 ہزار332 میٹرک ٹن ریکارڈ کیا گیا جس پر102.670 ملین ڈالر کازرمبادلہ خرچ ہوا، گزشتہ سال اس عرصہ میں ایک لاکھ 50 ہزار150میڑک ٹن دالوں کی برآمدات ہوئی تھیں۔
image

عوامی سروے

سوال: انتخابی اصلاحات کی منظوری ملک کیلئے فائدہ مند ہو گی یا نقصان دہ؟