کاروبار
پاکستان میں ایف بی آر کے پاس رجسٹرڈ 3 ہزار 333 کمپنیوں میں سے 2 ہزار 8 کمپنیاں یعنی کل رجسٹرڈ کمپنیوں کا 60.1 فی صد کمپنیاں کوئی ٹیکس ادا ہی نہیں کرتیں۔ دستیاب ایف بی آر دستاویزات کے مطابق 3 ہزار 333 کمپنیوں نے کل 170 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا۔ ان کل رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے ایک لاکھ تک ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیاں 7.6 فیصد ہیں، جن کا ادا کردہ ٹیکس 82 لاکھ 87 ہزار روپے ہے، اسی طرح ایک سے 5 لاکھ کے دوران 6.2 کمپنیوں نے 5 کروڑ ساڑھے 74 لاکھ روپے ٹیکس دیا۔ 5 سے 10 لاکھ کے درمیان ٹیکس دینے والی کمپنیاں 3.5 فی صد ہیں اور ان کمپنیوں نے 8کروڑ 42 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔10 سے 50 لاکھ کے درمیان ٹیکس ادا کرنے والی کمپنیاں کل کمپنیوں کا 6.7 فیصد ہیں اور انہوں نے 55کروڑ 61 لاکھ روپے ٹیکس دیا۔50 لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ٹیکس دینے والی کمپنیاں صرف 2.4 فیصد ہیں اور ان کے ٹیکس کی رقم 55کروڑ47 لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ ایک کروڑ سے 5کروڑ کے درمیان ٹیکس دینے والی کمپنیوں کی شرح 6.3 فیصد ہے اور ان کمپنیوں کی طرف سے جمع شدہ ٹیکس کی رقم 5 ارب 17کروڑ روپے بنتی ہے۔5 سے 10کروڑ کے درمیان ٹیکس دینے والی کمپنیوں کی شرح صرف 2.10 فیصد ہے اور انہوں نے 4 ارب 89 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا۔ دستاویز کے مطابق 10کروڑ سے زیادہ ٹیکس دینے والی کمپنیاں تقریباً 5 فیصد ہیں اور ان کمپنیوں نے 158 ارب 45 کروڑ 28 لاکھ روپے ٹیکس جمع کروایا۔

وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگراموں میں مختلف وزارتوں اور ڈویږنوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر اب تک 3 کھرب 6 ارب 42 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کر دیئے ۔  پلاننگ کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے پرائم منسٹر یوتھ اور ہنر مند پروگرام کیلئے 9ارب 19کروڑ، عارضی طورپر بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کیلئے 36ارب77کروڑ، ایرا کیلئے ایک ارب 80کروڑ، پائیدار ترقیاتی اہداف کیلئے30ارب، سیفران فاٹا کیلئے10ارب50 کروڑ، گلگت بلتستان بلاک کیلئے 7 ارب44کروڑ، اے جے کے بلاک کیلئے 8ارب56 کروڑ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیلئے ایک کھرب 11 ارب66 کروڑ، واپڈا پاور سیکٹر 18 ارب 53 کروڑ، پانی و بجلی ڈویږن کیلئے 10ارب 40کروڑ، سپارکو کیلئے ایک ارب، سائنس ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویږن کیلئے 30کروڑ45 لاکھ، شماریات ڈویږن کیلئے 6 کروڑ، ریونیو ڈویږن کیلئے 23کروڑ، ریلویز ڈویږن کیلئے 9ارب 38 کروڑ، پورٹس اینڈ شپنگ ڈویږن کیلئے88 کروڑ77 لاکھ، منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات ڈویږن کیلئے ایک ارب 73 کروڑ، پٹرولیم و قدرتی وسائل کیلئے3 ارب61 کروڑ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کیلئے 3 ارب 8کروڑ، ملک میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کیلئے 2 ارب 73کروڑ، نیشنل فوڈ سکیورٹی ریسرچ ڈویږن کیلئے 32 کروڑ27 لاکھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے11ارب 62کروڑ، داخلہ ڈویږن کیلئے4 ارب73کروڑ، فنانس ڈویږن کیلئے6ارب48کروڑ22 لاکھ، ایوی ایشن ڈویږن کیلئے62کروڑ31 لاکھ، کیڈ ڈویږن کیلےی1 ارب 93کروڑ، کامرس ڈویږن کیلئے 24کروڑ، موسمیاتی تبدیلی ڈویږن کیلئے 32کروڑ 60 لاکھ، ہائوسنگ اینڈ ورکس ڈویږن کیلئے 2ارب 35 کروڑ روپے سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔
image

عالمی بینک  نے پنجاب  میں زرعی شعبے کی ترقی اور اصلاحات کے لیے 30 کروڑ ڈالرز جاری کر دیئے۔ اسٹرینتھننگ مارکیٹس فار ایگریکلچر اینڈ رورل ٹرانسفورمیشن  یعنی سمارٹ کا مقصد پنجاب کے کسانوں کی اجرت میں اضافہ کرنا اور گاہکوں کو کم قیمت میں معیاری مصنوعات فراہم کرنا ہے۔ عالمی بینک کے اعلامیہ کے مطابق  یہ پروگرام کسانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرے گا جبکہ اس سے آب پاشی کا نظام بھی بہتر ہوجائے گا، پنجاب حکومت زراعت کے شعبے میں بہتری کے لیے کوشاں ہے، حال ہی میں صوبے میں زراعت کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے جو زرعی شعبے میں انقلاب کا سبب بنے گا۔ 
image

انٹرنیشنل کموڈٹی مارکیٹ میں روئی کے نرخوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ طلب میں اضافہ ہے ۔ نیویارک میں مارچ کے لیے روئی کے سودے 0.59 سینٹ  سے بڑھ کر 75.92 سینٹ فی پونڈ رہے۔ ایکسچینج میں روئی کی کل 45460 گانٹھوں کا کاروبار ہوا جو گزشتہ روز کی نسبت 12005 گانٹھیں زیادہ ہیں۔
image

رواں مالی سال  کے ابتدائی پانچ ماہ جولائی تا نومبر کے دوران کاروں، جیپوں، ہلکی کمرشل گاڑیوں اور ٹریکٹروں کی فروخت میں مجموعی طور پر 33 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کاروں، جیپوں، ہلکی کمرشل گاڑیوں اور ٹریکٹروں کی فروخت کا حجم ایک لاکھ 36 ہزار 94 یونٹس تک بڑھ گیا جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران فروخت کا حجم ایک لاکھ 2 ہزار 457 یونٹس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران فروخت میں 33 فیصد کا اضافہ ہوا ۔ پاما کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ کا بنیادی سبب قرضوں کے اجرا میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی خریداری کیلئے مالیاتی اداروں کی جانب سے قرضوں کی آسان فراہمی سے اس میں 29 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی فروخت بڑھی ہے۔
image

اکتوبر 2017کے دوران چاول کی  برآمدات میں  42فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان  کے مطابق اکتوبر 2017 کے دوران چاولوں کی برآمدات کا حجم 137.4 ملین ڈالر تک بڑھ گیا جبکہ ستمبر 2017 کے دوران چاولوں کی برآمدات سے 96.3 ملین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا تھا۔ پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق ستمبر کے مقابلہ میں اکتوبر 2017کے دوران چاولوں کی ملکی برآمدات میں 42.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔
image

سیاسی عدم استحکام کے باعث کاروباری ہفتے کے اختتام پر پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 19 ماہ کی کم ترین سطح 38 ہزار 645 پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروباری ہفتے کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس گراوٹ کا شکار رہا جس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام رہی جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے حدبیہ پیپر ملز کا فیصلہ حکومت کے حق میں آنے سے سرمایا کاروں نے سٹاک مارکیٹ میں ایک بار پھر اپنا سرمایا لگانا شروع کردیا جس کے باعث مارکیٹ کو کچھ سہرا ضرور ملا، مگر پانچ روز میں مجموعی طور پر مارکیٹ 434 پوائنٹس نیچے آگئی اور انڈیکس 39 ہزار 80 پوائنٹس سے 38 ہزار 645 کے لیول پر بند ہوا۔کاروباری ہفتے کے دوران بیرون سرمایا کاروں نے 89 لاکھ ڈالر کے شیئرز فرخت کئے جبکہ گذشتہ کاروباری ہفتے کے دوران بیرونی سرمایا کاروں کی جانب سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے حصص کی خریداری کی گئی تھی۔
image

  پاکستان میں آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر نے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی آئی ایم ایف کے دباؤ کا نتیجہ نہیں، روپے کی قدر میں مزید کمی کی گنجائش ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد ہدف کے مقابلے میں5.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، 2018 میں حکومت نے آئی ایم ایف کا قرض پروگرام لینے کی کوئی درخواست نہیں کی، آئی ایم ایف جائزہ مشن نے آرٹیکل فور کے تحت پوسٹ پروگرام مانیٹرنگ کے لیے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ مکمل کرلیا ہے۔جائزے کی تکمیل کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان میں آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی آئی ایم ایف کے دباؤ کا نتیجہ نہیں، روپے کی قدر میں مزید کمی کی گنجا ئش ہے مگر ہمارا اس سے لینا دینا نہیں، پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کا ہدف پورا نہیں ہوسکے گا تاہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
image

شہر میں برائلر گوشت کی قیمتوں اضافے کا رجحان جاری ہے اور ایک ہی روز میں قیمت میں 14روپے فی کلو اضافہ ہو گیا ۔برائلر گوشت کی قیمت اضافے سے 225روپے سے بڑھ کر 239روپے فی کلو کی بلند سطح پر پہنچ گئی ۔ ایک ماہ میں گوشت کی قیمت میںمجموعی طو رپر 64روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔
image

اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ خوردنی تیل کا درآمدی بل کرنے کے لئے حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں، تین کھرب روپے کا خوردنی تیل درآمد کرنا ملکی کی معیشت پر بوجھ ہے ، ہم یہ تیل خود پیدا کرکے نہ صرف اپنی ضرورت پوری کرسکتے ہیں بلکہ اسے برآمد بھی کرنے کے قابل ہوجائیں گے ، تیل دار اجناس کی فروغ کے لئے محکمہ زراعت کی مہم قابل ستائش ہے،  جنوری میں سورج مکھی کی کاشت کی مہم شروع کرنے سے درآمدی بل کرنے کی مہم کو تاریخی کامیابی ملے گی سورج مکھی کا شمار اہم خوردنی تیلدار اجناس میں ہوتا ہے۔ سورج مُکھی کی فصل خوردنی تیل کی ملکی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار اداکرسکتی ہے۔
image

 متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے مرکزی بنک کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل کرنسی کے اجرا  پر کام شروع کر دیا ، یہ کرنسی دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پار رقوم کی منتقلی میں قابل قبول ہوگی۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق یو اے ای کے مرکزی بنک کے گورنر مبارک راشد المنصوری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ ڈیجیٹل کرنسی بلاک چین اور رقوم کی منتقلی کے مشترکہ بہی کھاتے پر مبنی ہوگی، اس بہی کھاتے کو ایک مرکزی اتھارٹی کے بجائے کمپیوٹرز کے ایک نیٹ ورک پر تیار کیا جائے گا اور اس پر برقرار رکھا جائے گا ، ڈیجیٹل کرنسی کو صرف بنک لین دین میں استعمال کریں گے اور عام صارفین اس کو استعمال نہیں کر سکیں گے، اس سے بنکوں کے درمیان رقوم کی منتقلی کے عمل میں تیزی آئے گی۔ 
image

رواں مالی سال 2017-18  کے ابتدائی پانچ ماہ جولائی تا نومبر کے دوران کاروں، جیپوں، ہلکی کمرشل گاڑیوں اور ٹریکٹروں کی فروخت میں مجموعی طور پر 33 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا  ۔ پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  پاما  کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کاروں، جیپوں، ہلکی کمرشل گاڑیوں اور ٹریکٹروں کی فروخت کا حجم ایک لاکھ 36 ہزار 94 یونٹس تک بڑھ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران فروخت کا حجم ایک لاکھ 2 ہزار 457 یونٹس ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ کا بنیادی سبب قرضوں کے اجرا  میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔  
image

گزشتہ چار سال کے دوران گندم کی پیداوار 25 ملین ٹن سالانہ سے زائد رہی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جون 2014 کے اختتام پر ملک میں گندم کا اضافی ذخیرہ 1.2 ملین ٹن تھا جو جون 2017 کے اختتام پر 5.7 ملین ٹن تک بڑھ گیا جبکہ رواں مالی سال 2017-18 میں گندم کا اضافی سٹاک 7.05 ملین ٹن تک بڑھنے کا امکان ہے۔ضرورت سے زائد گندم کو برآمد کرکے قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ امریکا کے ادارہ برائے خوراک وزراعت کی ایک تجرباتی رپورٹ کے مطابق رواں سال گندم کی بین الاقوامی پیداوار984 ملین ٹن تک بڑھنے کا امکان ہے جبکہ گندم کی عالمی کھپت کا تخمینہ 734 ملین ٹن کے قریب ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی سطح پر گندم کی اضافی پیداوار کے نتیجہ میں گندم کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے اور عالمی منڈیوں میں گندم کی فی 40 کلوگرام قیمت تقریبا9.7 ڈالر تک ہے جبکہ پاکستان میں گندم کی امدادی قیمت 1300 روپے فی چالیس کلوگرام ہے جو تقریبا 12 ڈالر فی چالیس کلو گرام بنتی ہے۔اس لئے گندم کی برآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گندم کے مقامی اضافی ذخیرہ کو برآمد کرنے کے لئے سبسڈی وغیرہ کی فراہمی کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے گندم کے اضافی ذخیرہ کو محفوظ رکھنے کے لئے ہونے والے اخرجات میں کمی کو  روکا جا سکتا ہے۔
image

 ڈالر مہنگا ہوتے ہی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط سونے کی قیمت   828 روپے تولہ اضافے سے  53900 روپے ہو گئی ۔
image

 برائلر گوشت کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری ہے ,رواں ہفتے قیمت میں26روپے فی کلو اضافہ ہوا۔گزشتہ روز برائلر گوشت کی قیمت مزید 7روپے اضافے سے 218روپے سے بڑھ کر 225روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ گئی ۔ پیر کے روز قیمت میں10روپے جبکہ منگل کے روز 9روپے اضافہ ہوا تھا۔
image

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال2016 کے اعداد و شمار جاری کر دیئے، رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد صرف 12لاکھ 368ہے، 3لاکھ 67ہزار 520افراد نے کوئی ٹیکس ہی ادا نہیں کیا جبکہ مجموعی طورپر211ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا۔ ایف بی آر کے مطابق ایک کروڑ روپے سے زیادہ انکم ٹیکس دینے والوں کی تعداد 2445تھی جو کل رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کا صرف 0.2فیصد ہیں۔ 3471 ٹیکس دہندگان نے 100 روپے تک ٹیکس ادا کیا۔ 16  ہزار 607نے 100سے 500، 3لاکھ 75ہزار 207افراد نے 500سے 20 ہزار روپے تک انکم ٹیکس بھرا۔ 20 ہزار روپے سے لیکر ایک لاکھ روپے تک ٹیکس دینے والوں کی تعداد 2 لاکھ 33ہزار 95رہی۔ دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ سے 5لاکھ روپے تک ٹیکس دینے والے ایک لاکھ 39ہزار 781، 5لاکھ سے 10لاکھ روپے تک انکم ٹیکس ادا کرنے والے 28ہزار 841جبکہ 10لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک ٹیکس دہندگان کی تعداد 33ہزار 401تھی۔
image

ایل پی جی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگتے ہی ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمت میں10روپے فی کلو مزید اضافہ ہوگیا جس سے گھریلو سلنڈر 120 روپے، کمرشل سلنڈر 400روپے مہنگا ہو گی اجس کے بعد سکردو میں قیمت 200روپے کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔   
image

لاہور شہر میں برائلر گوشت کی قیمت میں دوز میں19روپے کلو اضافہ ہو گیا ۔ گزشتہ روز برائلر گوشت کی قیمت مزید 9روپے اضافے سے 218روپے فی کلو ہو گئی،  پیر کے روز قیمت روپے اضافے سے 199روپے سے بڑھ کر 209روپے کلو کی سطح پر تھی ۔
image

لاہور شہر میں برائلر گوشت کی قیمت میں ایک ہی روز میں 10روپے فی کلو اضافہ ہو گیا ۔برائلر گوشت کی قیمت 10روپے اضافے سے 199روپے سے بڑھ کر 209روپے کلو کی سطح پر پہنچ گئی ۔
image

ڈالر کی قیمت  تین روپے اضافہ کے بعد  107 روپے سے بڑھ کر 110 روپے پر پہنچ گئی ، کاروباری حضرات   نے   تشویش کا اظہار  کر دیا ۔ فاریکس ڈیلرز کے  مطابق ڈالر کی قیمت میں 3 روپے کا اضافہ ہو گیا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 107 روپے سے بڑھ کر 110 روپے ہو گئی ہے 
image

گذشتہ 5 سال کے دوران کیمیکلز کی پیداوار میں مجموعی طور پر 18 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2013 کے دوران ملک میں تیار کئے جانے والے کیمیکلز کی مجموعی پیداوار 6 لاکھ 54 ہزار ٹن ریکارڈ کی گئی تھی جو مالی سال 2014 کے دوران 6 لاکھ 77 ہزار ٹن جبکہ مالی سال 2015 کے دوران 7 لاکھ 9 ہزار ٹن تک بڑھ گئی۔پی بی ایس کے مطابق گذشتہ 5 سال کے دوران کیمیکلز کی سب سے زیادہ پیداوار مالی سال 2016 میں حاصل کی گئی جب پیداواری حجم 7 لاکھ 85 ہزار ٹن تک بڑھ گیا جبکہ گذشتہ مالی سال 2017 کے دوران پیداوار میں معمولی کمی سے مجموعی حجم 7 لاکھ 77 ہزار ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس طرح گذشتہ پانچ سال کے دوران ملک میں تیار کئے جانے والے مختلف کیمیکلز کی پیداوار میں مجموعی طور پر 18.80 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
image

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کا حجم 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ آئندہ دو تا چار سال کے دوران اس میں مزید 100 فیصد کے اضافہ کی توقع ہے۔ معروف بھارتی میگزین آٹ لک انڈیا نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کا آئی ٹی کا شعبہ بھارت کے مقابلہ میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی سالانہ شرح نمو 20 فیصد سے زائد ہے جبکہ بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری سالانہ 8 فیصد کی شرح نمو سے ترقی کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق صرف نومبر 2017 کے دوران امریکہ کی ایک آئی ٹی کمپنی نے بھارت سے 125 روزگار کے مواقع پاکستان منتقل کئے ہیں جس سے پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کی تیز تر ترقی کی عکاسی ہوتی ہے۔
image

حکومت نے نوکری کی غرض سے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کے لیے ملک میں بینک اکانٹ کھلوانے کو لازمی قرار دینے پر غور شروع کردیا جس میں بیرون ملک سے رقم بھجوانے پر انہیں سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔دبئی میں منعقدہ پاکستان ریمی ٹینس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید عرفان علی نے بتایا کہ بینک اکانٹ ہر اس پاکستانی شہری کو کھلوانا ہوگا جو نوکری کی غرض سے ملک سے باہر جائے گا فی الوقت یہ لازم نہیں تاہم امکان ہے کہ اگلے برس سے بینک اکانٹ کی شرط لازمی کردی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ نجی بینکوں میں یہ اکانٹ کھلوانے والے اوورسیز پاکستانیوں کو بینکوں کی جانب سے مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی، یہ اکانٹ صرف بیرون ملک سے پاکستان رقم منتقلی کے لیے استعمال ہوگا جس میں کوئی اور رقم جمع نہیں کرائے جاسکے گی۔سٹیٹ بینک حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو بینک اکانٹ کی سہولت فراہم کرکے اس طرف راغب کرنا ہے کہ وہ اپنی رقومات کسی اور ذریعے سے بھیجنے کے بجائے اس قانونی راستے سے وطن منتقل کریں۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتےسٹیٹ بینک نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو  اپنے گھر والوں کے لیے رقومات بھیجنے سے متعلق سہولت دینے کے لیے آسان ریمی ٹینس اکانٹ متعارف کرایا ہے۔
image

 ارسا نے پنجاب کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ڈی جی خان اور راجن پور کو 13دسمبر سے پانی کی فراہمی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ۔ سیکرٹری زراعت پنجاب محمد محمود کی خصوصی کاوشوں سے ڈی جی خان اور راجن پور کے کاشت کاروں کیلئے ششماہی نہروں میں13دسمبر سے اگلے 12دنوں کیلئے پانی دستیاب ہو گا ۔ واضح رہے کہ محمد پور دیوان ضلع راجن پور میں 5دسمبر کو ہونے والے سورج مکھی سیمینار کے موقع پر کاشتکاروں نے سیکرٹری زراعت سے مطالبہ کیا تھا کہ گندم کی کاشت مکمل کرنے کیلئے انہیں 15دن کیلئے ڈیرہ غازی خان کی ششماہی نہروں میں پانی فراہم کیا جائے۔  
image

 محکمہ زراعت نے سورج مکھی کی پنجاب میں کاشت کا منصوبہ جاری کر دیا ، سورج مکھی کاشت کے لئے پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پہلے حصے میں بہاول پور ، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، وہاڑی اور بہاولنگر شامل ہیں ، ان اضلاع میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت یکم جنوری سے 31جنوری تک مقرر کیا گیا ہے ، دوسرے حصہ میں مظفر گڑھ ، ڈیرہ غازی خان ، لےہ ، لودھراں، راجن پور اور بھکر شامل ہیں ، ان ضلاع میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت10جنوری سے10فروری تک مقرر کیا گیا ہے۔ میانوالی، سرگودھا، خوشباب، جھنگ ، ساہیوال ، اوکاڑہ ، فیصل آباد ، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ، لاہور ، منڈی بہائوالدین ، قصور ،شیخو پورہ، ننکانہ صاحب، نارووال، اٹک ، راولپنڈی   ، گجرات ،چکوال میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت25جنوری سے فروری کے آخر تک مقرر کیا گیا ہے ۔
image

عوامی سروے

سوال: فاٹا اصلاحات بل حکومت کو منظورکرلینا چاہیئے؟