27 مئی 2018
تازہ ترین
کاروبار
آئندہ 10 سال کے دوران ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں مزید 6 فیصد کا اضافہ ہو گا ۔ وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے ریونیو ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت کی دانشمندانہ اقتصادی پالیسیوں کے باعث گزشتہ 5 سال کے دوران ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں 3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2013  میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 10 فیصد تھی جو گزشتہ 5 کے دوران بڑھ کر 13 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ اقتصادی پالیسیوں کے تسلسل سے آئندہ 10 سالوں کے دوران اس میں مزید 6 فیصد کا اضافہ ہو گا۔

چین پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کیلئے 2ارب ڈالر فوری قرض فراہم کرے گا۔ ذرائع کے مطابق چین سے ایک تا 2ارب ڈالر کے فوری قرضے حاصل کئے جا رہے ہیں ، تاکہ حکومتی اخراجات اور ادائیگیوں کا چیلنج حل کیا جا سکے، یہ چین پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے انحصار کا ایک اشارہ بھی ہے، چین ایسے موقع پر قرض دے رہا ہے،  جب امریکا تعلقات میں کشیدگی کے تناظر میں امداد میں مسلسل کٹوتی کر رہا ہے، چینی قرضوں کی مدد سے پاکستانی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کی کوشش کی جائےگی۔
image

اوپیک اور روس کی جانب سے خام تیل کی پیداوار بڑھانے کی خبروں پر برینٹ خام تیل 3فیصد کم ہوکر 76ڈالر 44 سینٹس فی بیرل پر آگیا ، جبکہ عالمی مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے سونا 12 ڈالر مہنگا ہوگیا۔عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور سونے کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ہفتے کے اختتام پر اوپیک اور روس کی جانب سے خام تیل کی پیداوار بڑھنے کی خبروں پر قیمتوں میں گراوٹ دیکھی گئی۔اوپیک کے جون میں ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلہ ہوگا۔ اس خبر پر ہفتے کے اختتام پر گزشتہ ہفتے کے مقابلے برینٹ خام تیل 2.63 فیصد سستا ہوگیا جس سے بریٹ خام تیل 2 ڈالر 7 سینٹس سستاہوکر 76 ڈالر 44 سینٹس فی بیرل پر آگیا۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کے بہتر نرخ ہونے پر خریداری کے سبب گزشتہ ہفتے کے مقابلے12 ڈالر مہنگا ہوکر 1303ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔  
image

غذائی افراط زر سے80 فیصد پاکستانی متاثرہوتے ہیں کیونکہ پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر سے بھی کم ہے۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق معاشرہ کے امیر ترین طبقات اپنی آمدنی کا10تا 15فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں جبکہ متوسط طبقہ اس حوالے سے30 تا40 فیصد اخراجات کرتا ہے لیکن معاشرے کے غریب طبقات اپنی مجموعی آمدنی کے70 تا 80 فیصد کے مساوی غذا اور خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم آمدنی والے غریب طبقات غذائی اجناس اور خوراک کی قیمت کے بڑھنے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ80 فیصدکے قریب پاکستانیوں کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر سے بھی کم ہے، اس لیے انھیں اپنی غذائی ضروریات کی تکمیل کیلیے اپنی تمام تر آمدنی خرچ کرنا پڑتی ہے۔  رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران کھانے پینے کی اشیا اور پھلوں و سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے نتیجے میں غریب افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور انھیں اپنی مذہبی اور پیشہ ورانہ ذمے داریوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
image

 سوئٹزرلینڈ کی گھریلو ضرورت کی اشیا سپلائی کرنے والی کمپنی  اکیا  نے سلادا بائی سائیکلز کی ڈرائیور بیلٹ میں خرابی کے باعث اپنی 6 ہزار سائیکلز واپس منگوانے کا اعلان کر دیا۔ کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وہ 2016 میں سلادا سائیکل کی تیاری  سے اب تک دنیا کے 26 ممالک میں  6  ہزار سے زائد سائیکلیں بھجوائی جا چکی ہے جن کی قیمت 500  یورو   فی سائیکل کے حساب سے وصول کی گئی، تاہم  اس کی ڈرائیور بیلٹ میں خرابی اور اس کے باعث مختلف مقامات پر ہونے والے حادثات کی اطلاع پر ان سائیکلوں کو واپس منگوانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ بیان میں صارفین سے کہا گیا ہے کہ وہ سائیکل کو مزید استعمال کے بجائے اسے کمپنی کو واپس بھجوا دیں جس کی انہیں پوری قیمت واپس کی جائے گی۔
image

 اپریل 2018  کے دوران مچھلی اور اس کی مصنوعات کی ملکی برآمدات میں 37.6  فیصد کا اضافہ ہوا ۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان  کے اعدادوشمار کے مطابق اپریل 2018 کے دوران مچھلی اور اس کی مصنوعات کی برآمد کا حجم 56 ملین ڈالر تک بڑھ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں اپریل 2017  کے دوران برآمدات کا حجم 40.7 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح اپریل 2017 کے مقابلہ میں اپریل 2018 کے دوران مچھلی اور اس کی مصنوعات کی برآمدات میں 15.3 ملین ڈالر یقینی 37 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ہوا۔
image

ملکی زر مبادلہ ذخائر میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ذخائر 17 ارب ڈالر سے بھی کم ہوکر16 ارب65کروڑ 20لاکھ ڈالر ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق زر مبادلہ ذخائر میں کمی کا سلسلہ نہ رک سکا، 17 مئی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں ملکی زر مبادلہ ذخائر میں 47کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی اور زر مبادلہ ذخائر کا حجم 16 ارب 65 کروڑ 20لاکھ ڈالر ہوگیا ہے، مرکزی بینک کے مطابق کمی صرف  سٹیٹ بینک کے ذخائر میں ہوئی ہے، مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر کا حجم 10 ارب 32کروڑ ڈالر ہوگیا، مئی کے مہینے میں  سٹیٹ بینک نے 1 ارب 19کروڑ ڈالر کی غیر ملکی ادائیگیاں کی ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کی جانب سے ذخائر میں کمی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ معاشی ماہرین کے مطابق زر مبادلہ ذخائر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ملکی معیشت کی بیرونی کمزوریوں کی عکاس ہے، غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کے باعث زر مبادلہ ذخائر پر مزید دبائو بڑھے گا اور روپے کی قدر میں بھی مزید گراوٹ متوقع ہے۔  
image

پاکستان سٹاک ایکس چینج میں مندی کا تسلسل کاروباری ہفتے کے پانچویں اور آخری روز جمعہ کو بھی جاری رہا اور  کے ایس100انڈیکس42500،42400،42300،42200 اور42100کی نفسیاتی حدوں سے گرگیا، سرمایہ کاری مالیت میں مزید96ارب61کروڑ روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکومتی مالیاتی اداروں اور مقامی بروکریج ہائوسز سمیت دیگر انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے توانائی، بینکنگ، فوڈز، سیمنٹ اور دیگر منافع بخش سیکٹر میں خریداری کے باعث کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا  ، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100انڈیکس کی42567پوائنٹس کی سطح پر بھی ریکارڈ کیا گیا تاہم  حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہ ہونے اور سیاسی افق پر چھائی بے یقینی کی کیفیت کے باعث مقامی سرمایہ کار گروپ تذبذب کا شکار نظر آئے اور انہوں نے سائیڈ لائن رہنے کو ترجیح دی ، جس کے نتیجے میں تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور کے ایس ای 100انڈیکس41998پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا تاہم ایک بار پھر غیرملکی سرمایہ کاروں مین جانب سے مارکیٹ میں خریداری کی گئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ریکوری آئی اور کے ایس ای100انڈیکس ایک بار پھر42000کی حد عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا تاہم اتار چڑھائو کا سلسلہ سارا دن جاری رہا۔ مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس462.07پوائنٹس کمی سے42074.09پوائنٹس پر بند ہوا ، مجموعی طور پر313کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے78کمپنیوں کے حصص کے بھائو میں اضافہ،214کمپنیوں کے حصص کے بھائو میں کمی جبکہ21کمپنیوں کے حصص کے بھائو میں استحکام رہا۔ سرمایہ کاری مالیت میں مزید96ارب61کروڑ32ہزار514روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر87کھرب31ارب44کروڑ54لاکھ75ہزار711روپے ہوگئی۔  
image

عالمی منڈی میں خام تیل اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا ،  جس کے بعد یکم جون سے ملک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ سے چھ روپے فی لٹر اضافے کا امکان ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ڈیزل کی قیمت6 روپے فی لٹر تک بڑھ سکتی ہے جبکہ ہائی اوکٹین کی قیمت میں8 روپے فی لٹر اضافے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافے کا اثر اگلے ماہ کی قیمت پر آئے گا۔
image

شہر میں  پرچون سطح پر برائلر گوشت کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ۔برائلر گوشت کی قیمت مزید 3روپے کمی سے 241سے کم ہو کر 238روپے فی کلو کی سطح پر رہی ۔ فارمی انڈوں کی قیمت بھی 4روپے کمی سے 84روپے فی درجن ہو گی ۔
image

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 1 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ، تاہم  فی تولہ سونا150روپے مہنگا ہوگیا۔ گزشتہ روز بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 1ڈالر کی کمی سے 1296ڈالر ہوگئی،  جبکہ ملکی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ اور فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب150 اور 125روپے کا اضافہ ہوگیا ، جس سے تولہ قیمت57ہزار 650 اور دس گرام 49 ہزار 425 روپے ہو گئی جبکہ چاندی کی تولہ قیمت میں 5 اور 10گرام چاندی کی قیمت 4.44 روپے بڑھ کر بالترتیب 765اور 655.86روپے ہوگئی۔
image

پاکستان اور چین نے مقامی کرنسیوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے دستیاب کرنسیوں کی مالیت دگنی کر دی ۔ پاکستان اور چین نے مقامی کرنسیوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے 1.5 ارب ڈالر کی کرنسیوں کا تبادلہ کیا ، تاہم بیجنگ میں طے پانے والے اس حالیہ معاہدے  میں یہ مالیت 3 ارب ڈالر تک بڑھا دی گئی ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پاک چین مقامی کرنسیوں کے تبادلے کے معاہدے میں3 سال کی توسیع کردی گئی، پاکستان اور چین کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے مقامی کرنسیوں کے تبادلے کی سہولت کیلئے کرنسی سواپ ایگری منٹ کی مدت میں مزید 3 سال کے اضافے پر اتفاق کر لیا ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق دونوں ملکوں کے مرکزی بینکوں نے کرنسی سواپ ایگری منٹ کے تحت زیر استعمال کرنسیوں کی مالیت میں بھی اضافہ کر دیا ، کرنسی سواپ کیلئے چینی کرنسی کی مالیت 10 ارب یوآن سے بڑھاکر 20 ارب یوآن کردی گئی۔ پاکستانی کرنسی کی مالیت 165 ارب روپے سے بڑھا کر 351 ارب روپے کردی گئی ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ کرنسی سواپ کیلئے سرمائے میں اضافہ مقامی کرنسیوں میں باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے فروغ کیلئے مرکزی بینکوں کے عزم کی ترجمانی کرتا ہے۔ معاشی ماہرین نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان کیلئے اپنی درآمدات اور بیرونی تجارت کیلئے ڈالر پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی،  جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتا ہوا دبائو بھی کم ہوگا اور جاری کھاتے کے ریکارڈ خسارے کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
image

شہر میں پرچون سطح پر برائلر گوشت کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری ہے ۔ برائلر گوشت کی قیمت مزید 3روپے کمی سے 244روپے سے 241روپے فی کلو کی سطح پر رہی ۔ فارمی انڈے گزشتہ روز بھی 88روپے فی درجن پر فروخت ہوئے۔
image

عالمی مالیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ امریکا کے ذمے قرضوں کی مالیت 21ٹریلین ڈالر ہو چکی جو کہ وقت کی ضرورت کے بالکل مترادف ہے،امریکی بانڈز خریدنے میں یورپی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی اب پہلے کی نسبت بہت کم ہوگئی اور اس میں بتدریج اضافہ ہوتا جار رہا ہے، اس کے علاوہ ان قرضوں کی مالیت میں 25ہزار ڈالر فی سیکنڈ کی شرح سے اضافہ بھی ہو رہا ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ پریشان کن کہ امریکا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے،جنہیں اپنی آبادی کے لحاظ سے فی کس بنیادوں پر اوسطاً سب سے زیادہ عوامی قرضوں کا سامنا ہے اور یہ قرضے بہرحال کبھی نہ کبھی واپس کیے جانے ہیں۔ ان عوامی قرضوں کی مالیت میں ہر سیکنڈ بعد 25 ہزار ڈالر کا اضافہ بھی ہو رہا ہے۔امریکی ریاست کے ذمے اتنے زیادہ قرضوں کو مالیاتی ماہرین ایک ایسا انتہائی اونچا پہاڑ قرار دیتے ہیں، جس کی بلندی ہر لمحہ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ جس رفتار سے ان قرضوں کی مالیت بڑھتی جا رہی ہے،ماہرین کے نزدیک صرف 2سال بعد ان رقوم کی مجموعی مالیت میں سالانہ ایک ٹریلین یا 1000 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہونے لگے گا۔ کیا امریکا کبھی اپنے ذمے یہ قرضے واپس کرنے کے قابل بھی رہے گا؟ اصولی طور پر اس کا جواب ہے،ہاں ہے،اس لیے کہ اس کیلئے نئے ڈالر چھاپے جاتے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ امریکی حکومت کے جاری کردہ مالیاتی بانڈز خرید کر امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کریں،اس طرح سرمایہ کاروں کو کچھ فائدہ سود کی شکل میں یعنی ٹریڑری بانڈز پر منافع کے نام پر دیا جاتا ہے اور بانڈز کی فروخت سے حاصل کردہ رقوم سے قرضوں کا ایک حصہ واپس کر دیا جاتا ہے،لیکن یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ خاص طور پر ان حالات میں کہ بظاہر امریکی معیشت کی حالت تو اچھی ہے لیکن یورپی سرمایہ کار پھر بھی امریکا کے سرکاری مالیاتی بانڈز کی منڈی میں اپنا سرمایہ لگانے میں اب زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق جو سرمایہ کار کسی ملک کے ٹریڑری بانڈز خریدتے ہیں ، وہ دراصل اس ملک کے قرضوں کا کچھ حصہ اپنی سرمایہ کاری کے ذریعے خرید لیتے ہیں،اب امریکا کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے اپنے قرضوں کیلئے خریدار نہیں مل رہے اور ماہرین یہ بھی قیاس آرائیاں کرنے لگے ہیں کہ آیا اس بات پر واشنگٹن حکومت کو تشویش ہونا چاہیے؟ امریکا پر دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود عوامی قرضوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہو چکا کہ پوری دنیا کے تمام ارب پتی انسانوں کی دولت کو جمع کیا جائے اور اس دولت سے امریکا کے ذمے قرضے واپس کر دیئے جائیں تو پھر بھی ان قرضوں کا نصف بھی ادا نہیں ہو سکے گا،شماریاتی حوالے سے یہ بات بھی واشنگٹن حکومت کیلئے پریشانی کا باعث بننا چاہیے کہ اگر امریکا کو اپنے ذمے تمام قرضے ادا کرنا ہیں ،تو اس کیلئے اتنی زیادہ رقوم درکار ہوں گی کہ جیسے دنیا کے ہر انسان کو امریکا کو قریب 3000 ڈالر عطیے کے طور پر دینا ہوں گے۔امریکا کے ان مالیاتی مسائل کی وجہ ملکی بجٹ کے معاملے میں زیادہ احساس ذمے داری کا مظاہرہ درکار ہے۔2010 سے 2015 تک کے 5برسوں کے دوران پاکستان کو سب سے زیادہ ترقیاتی امداد امریکا نے دی، ترقیاتی منصوبوں کیلئے ان 5برسوں میں امریکا نے پاکستان کو 3935 ملین ڈالر فراہم کیے ۔اقتصادی اور سیاسی سطح پر امریکا کا ایک بڑا حریف ملک چین ہے،جو اب کافی برسوں سے جرمنی اور جاپان کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے امریکا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے۔خود چین تک نے اتنی زیادہ مالیت کے امریکی ٹریڑری بانڈز خرید رکھے ہیں کہ امریکا کے وفاقی بجٹ کا کافی زیادہ حصہ تو چینی سرمائے سے چلایا جا رہا ہے،چین نے امریکی ٹریڑری بانڈز کی شکل میں واشنگٹن کے ذمے جو قرضے خرید رکھے ہیں،ان کی مجموعی مالیت 1.2 ٹریلین یا 1200 ارب ڈالر بنتی ہے،اس کے علاوہ جرمن سرمایہ کار اداروں اور شخصیات نے بھی امریکا کے قریب 90 ارب ڈالر کے قرضے انہی بانڈز کی شکل میں خرید رکھے ہیں۔
image

اپریل 2018 کے دوران باستمی چاول کی قومی برآمدات میں 4.85 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ برائے شماریارت پاکستان  کے اعدادو شمار کے مطابق اپریل 2018 کے دوران باستمی چاول کی برآمدات کا حجم 57.3 ملین ڈالر تک بڑھ گیا جبکہ اپریل 2017 کے دوران باستمی چاول کی برآمدات کا حجم 54.7 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح اپریل 2017 کے مقابلہ میں اپریل 2018 کے دوران باستمی چاول کی ملکی برآمدات میں 2.6 ملین ڈالر یعنی 4.85 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
image

 فنانس بل ایکٹ بننے کے بعد 7 ہزاراشیا پرکسٹم ڈیوٹی کا اطلاق کردیا گیا۔ بل کے مطابق لیدر، ٹیکسٹائل، سٹیل مصنوعات گارمنٹس سمیت 7 ہزار سے زائد درآمدی اشیا مہنگی ہوں گی جب کہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 6 ارب 19 کروڑ پچاس لاکھ روپے کا ریلیف اورکسٹمزڈیوٹی میں ردوبدل سے ایف بی آرکو22 ارب 77 کروڑ 50 لاکھ کااضافی ریونیو ملے گا۔ دوسری جانب یکم جولائی سے لنڈے کے کپڑے، الیکڑک گاڑیاں، موبائل فون، بچوں کی کتابیں، کاپیاں، سٹیشنری کا سامان، ڈیری، آلو، ڈبے والا دودھ، کھاد، پولٹری، وٹامن بی بارہ، وٹامن ایچ ٹو، ایل ای ڈی پارٹس، ایل ای ڈی بلب، ایل ای ڈی ٹیوب، انرجی سیونگ سمیت دیگرمصنوعات یکم جولائی سے سستی ہوں گی ،انکم اورسیلزٹیکس سے متعلق ترامیم اورردوبدل کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا اوراینٹی منی لانڈرنگ اورسی ایف ٹی قواعدوضوابط میں بھی ترمیم کردی گئی۔
image

 اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عید الفطر کے موقع پر شہریوں کی سہولت کے لیے پاکستان بینک ایسوسی ایشن کے اشتراک سے ایس ایم ایس شارٹ کوڈ 8877 کے ذریعے نئے کرنسی نوٹوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے جویکم جون سے 14جون تک جاری رہے گا۔۔عید الفطر کے موقع شہریوں کو نئے کرنسی نوٹوں کا اجرا بذریعہ ایس ایم ایس کیا جا رہا ہے جس کے لیے شہری 8877 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر ایک خالی جگہ اور اپنی منتخب برانچ کا کوڈ نمبر میسج کریں جس کے جواب میں شہری کو ٹرانزیکشن نمبر اور برانچ کا پتہ موصول ہوگا۔شہری موصول ہونے والے ٹرانزیکشن نمبر کو متعلقہ بینک برانچ میں اپنے اصل شناختی کارڈ کے ساتھ پیش کرکے مطلوبہ نئے کرنسی نوٹس حاصل کر سکیں گے۔ اس نظام کے تحت ہر صارف کو دس روپے کے تین پیکٹ جبکہ پچاس روپے اور سو روپے کے نوٹ کا ایک ایک پیکٹ اسٹاک کی دستیابی کے مطابق فراہم کیا جائے گا۔ایس بی پی بینکنگ سروسز کے مطابق یہ سروس 132شہروں کی 1533کمرشل بینک برانچوں سے دستیاب ہو سکے گی۔ایس ایم ایس چارجز موبائل کمپنی کے قوائد کے مطابق لاگو ہوں گے جو 1.5 روپے پلس ٹیکس ہیں جبکہ صارفین کو ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک مرتبہ ہی نوٹ جاری کیے جائیں گے، زیادہ ایس ایم ایس کرنے پر مزید ٹرانزیکشن نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ مطلوبہ برانچ کا کوڈ اسٹیٹ بینک  آف پاکستان اور پاکستان بینک ایسوسی ایشن اور متعلقہ بینکوں کی ویب سائٹس پر دستیاب ہیں۔۔  
image

پی آئی اے انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کے باعث ادارے کو اربوں روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، ادارے کو 8 ماہ کے دوران آپریٹنگ لاس24ارب روپے سے زائد رہا۔ تفصیلات کے مطابق پہلے ہی اربوں روپے خسارے سے دو چار اور مختلف اداروں کے نادہندہ قومی ادارے پی آئی اے کو ناقص حکمت عملی کے باعث آٹھ ماہ میں مجموعی طور پر35ارب 34 کروڑ سے زائد نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ نے اگست2017 میں ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور دعوے کیے تھے کہ ادارے کو نقصان سے نکالیں گے، موجودہ انتظامیہ کی ناتجربے کاری کے باعث ادارے کے خسارے کی اڑان میں مزید اضافہ ہوا۔ اس حوالے ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کو ستمبر2017میں دو ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، اکتوبر میں نقصان کا اضافہ ہوکر چار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ۔  نومبر میں خسارہ چار ارب 51 کروڑ روپے سے زائد رہا۔ دسمبر میں خسارہ 5 ارب روپے سے زائد ہوگیا، جنوری 2018 میں خسارہ 4ارب 25 کروڑ سے زائد رہا، فروری میں 4 ارب 63 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، مارچ کا مہینہ بھی پی آئی اے کیلئے نقصان کا باعث رہا،6 ارب 16کروڑ کا نقصان ہوا، اپریل میں پی آئی اے کو 4ارب سے زائد کا نقصان ہوا۔
image

شہر میں پرچون سطح برائلر گوشت کی قیمتوں میںمسلسل کمی کا رجحان جاری ہے ۔برائلر گوشت کی قیمت ایک ہی روز میں 13روپے کمی سے 257روپے سے کم ہو کر 244روپے فی کلو کی سطح پر رہی ۔ فارمی انڈے گزشتہ روز بھی 88روپے فی درجن پر فروخت ہوئے۔
image

عالمی منڈی میں خام تیل اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد یکم جون سے ملک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ سے چھ روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ڈیزل کی قیمت6 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے جبکہ ہائی آکٹین کی قیمت میں8 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافے کا پورا اثر بھی اگلے ماہ کی قیمت پر آئےگا۔
image

سندھ ہائیکورٹ نے ملک بھر کی مارکیٹوں سے سکوں کے نہ ملنے سے متعلق وفاقی وزارت خزانہ،گورنر سٹیٹ بینک کو نوٹس جاری کردیئے۔ دو رکنی بینچ کے روبرو ملک بھر کی مارکیٹوں سے سکوں کے نہ ملنے سے متعلق سماعت ہوئی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ 5 پیسے، 10 پیسے، 25 ، 50 پیسوں کے سکے مارکیٹ سے جان بوجھ کر غائب کر دیئے، 88 ارب روپے کے سکے مارکیٹ سے غائب کیے گئے ہیں۔ سکوں کے غائب ہونے سے عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے خصوصاً پٹرول پمپ مالکان سکوں کی صورت میں اضافی رقم واپس نہیں کرتے۔ عدالت نے اقبال کاظمی کی درخواست پر وفاقی وزارت خزانہ اورگورنر سٹیٹ بینک سے 30 مئی تک جواب طلب کر لیا۔  
image

شہر میں برائلر گوشت کی قیمتوں کمی کا رجحان جاری ہے ۔ گزشتہ روز برائلر گوشت مزید 8روپے کمی سے 265روپے سے کم ہو کر 257روپے فی کلو پر فروخت ہوا ۔ فارمی انڈوں کی قیمت 88روپے فی درجن پر مستحکم ہے ۔
image

 پاکستان مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی  نے نیشنل رورل سپورٹ پروگرام  کے ساتھ 1500ملین روپے مالیت کی قرضے سہولت کی فراہمی کا معاہدہ کرلیا ہے تاہم اس سہولت سے این آر ایس پی کو پاکستان بھر سے ایک لاکھ سے زائد گھرانوں کی فنانسنگ سہولتیں پوری کرنے کا موقع ملے گا۔ این آر ایس پی کے سی ای او ڈاکٹر راشد باجوہ اورپی ایم آئی سی کے سی ای او یاسر اشفاق نے معاہدے پر دستخط کیے۔این آر ایس پی کے سی ای او ڈاکٹر راشد باجوہ نے اس موقع پراظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم پی ایم آئی سی کے ساتھ اپنے اشتراک کی قدر کرتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ پی ایم آئی سی کی جانب سے قرضوں کی یہ سہولت پاکستان بھر میں محروم طبقات کو مالیاتی شمولیت فراہم کرنے کی این آر ایس پی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم آئی سی کے سی ای او یاسر اشفاق کا کہنا تھا کہ پی ایم آئی سی پاکستان میں مالیاتی شمولیت کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، پی ایم آئی سی اور این آر ایس پی خواتین اور ملک کے دیہی علاقوں میں مقیم محروم طبقات کی مالیاتی شمولیت کا مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔  
image

 بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.3 فیصد تک پہنچ گیاٴ 9ماہ میں بجٹ خسارہ اپنے ہدف 4.1 فیصد سے بڑھ گیا۔    وزارت خزانہ کے مطابق نو ماہ میں بجٹ خسارہ اپنے ہدف 4.1 فیصد سے بڑھ گیا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.3 فیصد تک پہنچ گیا۔ بجٹ خسارہ پورا کرنے کی خاطر 524 ارب روپے کا بیرونی قرض لیا گیا۔ 956 ارب روپے کے اندرونی قرضے بھی لئے گئے۔ جولائی سے مارچ کے دوران 1172 ارب سود کی ادائیگی  پر خرچ ہوئے۔ نو ماہ  میں دفاع پر 624 ارب خرچ کئے گئے۔  گزشتہ مالی سال کے  انہی نو ماہ میں  دفاع پر 536 ارب روپے خرچ ہوئے تھے نو ماہ میں دو ہزار 796 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال اسی عرصہ میں دو ہزار 463 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہوا تھا۔  
image

صوبائی دارالحکومت لاہور کی صرافہ مارکیٹوں میں رواں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمت میں ایک سو پچاس روپے فی تولہ کمی واقع ہو گئی ہے اس کمی کے ساتھ شہر میں بائیس قیراط سونے کی قیمت 52250 روپے فی تولہ جبکہ 24 قیراط سونے کی قیمت 57000 فی تولہ مقرر کی گئی ہے۔ 
image

عوامی سروے

سوال: کیا نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے؟