17 جولائی 2018
تازہ ترین
کاروبار
سپلائی میں اضافے کی امید پر خام تیل کی عالمی قیمتیں منہ کے بل آگریں ، نیویارک کی مرکنٹائل ایکس چینج میں امریکی آئل ڈبلیوٹی آئی کے ستمبر میں فراہمی کے لیے نرخ 2.27فیصد کی کمی سے 68.35 ڈالر فی بیرل ہوگئے جب کہ لندن کی انٹرکانٹینیٹل ایکس چینج میں یورپی آئل برینٹ کے مستقبل کے سودے 1.94 ڈالر گھٹ کر 73.39 ڈالرفی بیرل میں طے پائے، لیبیا، ناروے اور عراق سمیت دیگر ملکوں کی سپلائی میں بحالی اور روس و سعودی عرب سمیت دیگر پروڈیوسرز کی پیداوار میں اضافے کو تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے مگر ساتھ ہی مارکیٹ سپلائی ٹھوس طلب کے پیش نظر محدود رہنے کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

پاکستانی  روپے کی بے قدری اور شرح سود میں اضافے کے منفی اثرات سٹاک مارکیٹ پر دیکھے گئے،کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس 600 پوائنٹس گرگیا ،سرمایہ کاروں کے 125 ارب روپے ڈوب گئے۔ وہ بھی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر مندی کے سائے برقرار رہے، ڈالر مہنگا ہوا، روپیہ گرا اور شرح سود ایک فیصد بڑھ گئی، سرمایہ کار سٹپٹا گئے۔ دھڑا دھڑ شیئرز کی فروخت شروع کردی جس سے مارکیٹ میں سیلنگ پریشر آیا اور انڈیکس 800 پوائنٹس تک گرگیا، تاہم سیشن کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 695پوائنٹس کمی کے بعد 39 ہزار 665 پوائنٹس پر بند ہوا، 330 کمپنیوں کے 14کروڑ 24لاکھ شیئرز میں کاروبار کیا گیا۔ مارکیٹ کی کیپٹلائزیشن 125 ارب روپے کمی کے بعد 81 کھرب 91 ارب روپے رہ گئی۔ کاروبار کے اعتبار سے بینک آف پنجاب، فوجی سیمنٹ اور بینک اسلامی پاکستان مارکیٹ لیڈر رہے۔
image

ملک میں کاروں کی پیداوار اور فروخت میں گزشتہ مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آل پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادو شمار کے مطابق جولائی 2017 سے جون 2018 تک ملک میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 17 ہزار 774 کاروں کی پیداوار اور 2 لاکھ 16 ہزار 786 کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو جولائی 2016 سے جون 2017 تک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ مالی سال 2016-17 کے دوران ملک میں 1لاکھ 86 ہزار 935 کاروں کی پیداوار اور 1لاکھ 85 ہزار 781 کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی،1300 سی سی اور اس سے زیادہ کٹیگری میں گزشتہ مالی سال کے دوران 98 ہزار 348 کاریں تیار اور 99 ہزار 132 فروخت کی گئیں، مالی سال 2016-17 میں اس کٹیگری میں 93 ہزار 781 کاریں تیار اور 93 ہزار 925 یونٹس فروخت کیے گئے تھے۔ان میں ہنڈا سوک ، سٹی ، سوزوکی سویپ اور ٹیوٹا کرولا شامل ہیں، 1ہزار سی سی کی کٹیگری میں ملک میں 49 ہزار 948 کاریں تیار اور 49 ہزار 689 کاریں فروخت کی گئی، سال 2016-17 میں اسی کٹیگری میں 35 ہزار 315 یونٹ تیار اور 34 ہزار 678 فروخت ہوئے تھے، ان میں سوزوکی کلٹس، سوزوکی ویگن آر، ہونڈائی سینٹرو شامل ہے۔ ایک ہزار سے نیچے اور 800 سی سی کی کٹیگری میں ملک میں 69 ہزار 78 کاروں کی پیداوار اور 67 ہزار 969 یونٹ فروخت کیے گئے، سال 2016-17 میں اسی کٹیگری میں ملک میں 57 ہزار 842 یونٹ تیار اور 57 ہزار 178 بیچے گئے تھے، ان میں سوزوکی مہران ، سوزوکی بولان ماڈل کی کاریں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال کاروں کی قیمتوں میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
image

پاکستانی روپے کے مقابل ڈالر کی قدر میں اضافے کو جواز بنا کر سونے کی قیمتیں تیزی سے بڑھا دی گئیں حالانکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں قیمت صرف 2 ڈالر بڑھی جس سے فی اونس سونا1244ڈالرکا ہوگیا۔ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ اور فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 850 اور729روپے کا ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ۔ جس سے کراچی حیدرآباد سکھر ملتان فیصل آباد لاہور اسلام آباد راولپنڈی پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 59 ہزار 650 اور دس گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 51 ہزار 140روپے ہوگئی تاہم اس کے برعکس چاندی کی تولہ قیمت 780 اور دس گرام 668روپے72 پیسے پر برقرار رہی۔
image

وفاقی حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت آزادکشمیر اور وفاق کے صنعتی زون کو حتمی شکل دینے کے لیے اگست تک کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی پیک منصوبے کے تحت متعلقہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے اب تک وفاق کو صوبوں کے 7اکنامک زون کی فزیبلٹی سٹڈیز موصول ہو چکی ہیں جن میں رشکئی اکنامک زون نوشہرہ، بوستان انڈسٹریل زون، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی ، چائنا اسپیشل اکنامک زون دھابیجی، مہمند ماربل سٹی فاٹا اور گلگت بلتستان میں مکپنداس سپیشل اکنامک زون کی فزیبلٹی سٹڈیز تیار کر کے وفاق کو بھیجی جا چکی ہیں تاہم اس وقت تک وفاق کے 2 اکنامک زون جس میں اسلام آباد میں آئی سی ٹی اکنامک زون اور پورٹ قاسم کے قریب وفاق کا دوسرا انڈسٹریل زون جبکہ آزاد کشمیر کے انڈسٹریل زون کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہی نہیں کی جا سکی۔ دوسری جانب اسلام آباد کے خصوصی اقتصادی زون کے لیے وفاق نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب زمین کی نشاندہی کررہا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سی پیک کے مذکورہ 3 اکنامک زونز کی فزیبلٹی اسٹڈیز کو مکمل کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر اگست کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی ہے تاکہ نئی حکومت کے دور میں اقتصادی زون کے قیام پر باضابطہ طور پر کام شروع کیا جا سکے۔
image

 گزشتہ مالی سال کے 11ماہ کے دوران ملک سے ہینڈی کرافٹس کی برآمدات میں  40.23فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادارہ شماریات پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق  جولائی سے لیکر مئی  2018تک پاکستان نے  ہینڈی کرافٹس کی برآمدات سے  4.5ملین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا تھا۔  جومالی سال 2016-17 کے اسی عرصہ کے مقابلے میں  40.23فیصد زیادہ ہے۔ مالی مالی سال 2016-17ئ کے 11ماہ میں پاکستان نے ہینڈی کرافٹس کی برآمدات سے  2.858ملین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا تھا۔
image

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل و  سپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں اضافے کی نسبت پھٹی کی رسد محدود ہونے کی وجہ سے روئی کے بھاؤ میں نمایاں تیزی واقع ہوئی۔ روئی کے بھاؤ میں فی من 500 روپے کا اضافہ ہوکر بھائو فی من 8800 روپے ہوگیا۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ روئی کی طلب کی نسبت رسد میں کمی کے سبب بھائو میں اضافے کا رجحان ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان ہے۔ امریکا میں یو ایس ڈی اے کی رپورٹ کے مطابق کپاس کی پیداوار گزشتہ تخمینے سے کم ہونے کی رپورٹ کی وجہ سے تیزی رہی۔ چین اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ کی وجہ سے چین بھارت سے روئی کی درآمد کر رہا ہے جس کے باعث بھارت میں روئی کے بھاؤ میں اضافے کا تسلسل ہے جبکہ چین میں بھی روئی کا بھائو بڑھ رہا ہے۔  
image

مانیٹرنگ ڈیسک وفاقی حکومت نے سے روئی کی درآمد پر 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی نافذ کرنے کے بعد 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا  ۔  چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے   بتایا کہ ایف بی آر نے تقریباً ایک ہفتے قبل روئی کی درآمد پر 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی تھی جس سے پہلے ہی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں تشویش کی لہر دیکھی جارہی تھی کہ اب ہفتے بعد ہی ایف بی آر نے 15 جولائی سے روئی کی درآمد پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے حالانکہ ایف بی آر کا یہ فیصلہ نگراں وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کے اس بیان سے متصادم ہے جس میں انہوں واضح طور پر کہا تھا کہ نگراں حکومت کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے تازہ ترین اقدام کے باعث آلودگی سے پاک اور لمبے ریشے والی روئی کی درآمدات محدود ہوجائیں گی جس سے ملک میں تیار ہونے والی کاٹن کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات میں بھی کمی کے خدشات پیدا ہوجائیں گے اور روپے کی قدر میں حالیہ کمی کے ملکی برآمدات پر مثبت ثمرات کا حصول بھی ناممکن ہوجائے گا  لہٰذا اس موقع پر روئی کی درآمد پر درآمدی ڈیوٹیز کا بظاہر کوئی جواز نہیں تھا  ۔
image

پاکستان  سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان دیکھا جارہاہے۔ انٹر بینک میں پیسے کی قدر میں کمی اور ملکی تاریخ میں ڈالر کی بلند ترین سطح کے بعد سرمایہ کار بھی بے یقینی کی کیفیت میں نظر آتے ہیں۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان ہے اور کاروباری ہفتے کے پہلے روز ڈالر کی بلند ترین سطح کے باعث 100 انڈیکس میں 800 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ مارکیٹ میں شدید مندی اور پوائنٹس کی کمی سے ہنڈرڈ انڈیکس پہلے سیشن میں 39 ہزار 500 کی سطح سے بھی نیچے آگیا۔
image

 گزشتہ مالی سال کے دوران برآمدات میں 13.74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارہ شماریات پاکستان  کے مطابق جولائی 2017 سے لے کر جون2018تک پاکستان نے برآمدات سے 23.228 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 13.74 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2016-17 میں پاکستان نے برآمدات سے 20.422 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا تھا۔ اس عرصے کے دوران درآمدات میں 15.10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2017-18 کے دوران پاکستان نے درآمدات پر 60.898 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کیا جبکہ مالی سال 2016-17 میں درآمدات پر 52.910 ارب ڈالر زرمبادلہ خرچ کیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تجارتی خسارے کا حجم 37.670 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جبکہ مالی سال 2016 میں تجارتی خسارے کا حجم 32.488 ارب ڈالر تھا۔
image

 ٹیکس ایمنسٹی کی دونوں سکیموں پر عوامی ردعمل انتہائی مثبت رہا ہے،اب تک 55 ہزار 225 ڈکلیریشن دائر کی گئی ہیں جس میں غیرملکی اثاثہ جات کا حجم 577 ارب روپے جبکہ داخلی اثاثوں کا حجم 1192 ارب روپے ہے۔ اثاثے ظاہر کرنے والوں نے تقریباً 97 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے جن میں سے 36 ارب روپے غیرملکی اثاثہ جات اور 61 ارب روپے داخلی اثاثہ جات کی مد میں حاصل کئے گئے۔ اس کے علاوہ 40 ملین ڈالر کی رقوم کی واپسی ہوئی۔  وزارت خزانہ   کے مطابق حکومت پاکستان نے غیرملکی اثاثہ جات  آرڈیننس 2018 اور داخلی اثاثوں کی رضاکارانہ ڈکلیریشن آرڈیننس 2018 کا اعلان کیا اور آئین کے تحت دونوں آرڈیننس پارلیمنٹ کے سامنے پیش کئے گئے۔پارلیمان کی منظوری کے بعد فنانس ایکٹ 2018 کے تحت دونوں آرڈیننس اندرونی اثاثوں کے رضاکارانہ اعلان ایکٹ 2018 کے تحت اور غیرملکی اثاثوں کیلئے غیرملکی اثاثہ جات  ایکٹ 2018 بن گئے۔ 30 جون 2018 کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دونوں ایکٹ میں مزید ترامیم کی گئیں۔  ایمنسٹی سکیم کے تحت اثاثوں کی ڈکلیریشن کیلئے آخری  تاریخ 30 جون 2018 مقرر کی گئی تاہم تجارتی تنظیموں اور اداروں، پیشہ وارانہ ایسوسی ایشن اور عام عوام کی نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اثاثوں کی ڈکلیریشن کی تاریخ 31 جولائی 2018 تک بڑھا دی گئی۔ 30 جون 2018 کو جاری صدارتی آرڈیننس میں ایمنسٹی ایکٹس میں ترامیم کی گئیں تاکہ تاریخ میں توسیع کی جا سکے اور اس میں ایکسچینج ریٹ سمیت دیگر شبہات کی وضاحت شامل کی جا سکے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق دونوں سکیموں پر عوامی ردعمل انتہائی مثبت رہا، اب تک اس کے تحت 55 ہزار 225 ڈکلیریشن دائر کی گئی ہیں جس میں غیرملکی اثاثہ جات کا حجم 577 ارب روپے ہے جبکہ داخلی اثاثوں کا حجم 1192 ارب روپے ہے۔ اثاثے ظاہر کرنے والوں نے تقریباً 97 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے جن میں سے 36 ارب روپے غیرملکی اثاثہ جات اور 61 ارب روپے داخلی اثاثہ جات کی مد میں حاصل کئے گئے۔ اس کے علاوہ 40 ملین ڈالر کی رقوم کی واپسی ہوئی۔ ایمنسٹی سکیموں کیلئے اس طرح کے ردعمل کی مثال نہیں ملتی۔   غیر ملکی اثاثوں کیلئے ایمنسٹی سکیم سیال  اور غیر منقولہ اثاثوں جیسے بینک اکائونٹس، حصص اور مارگیج پراپرٹیز پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کے لئے شرح 2 سے لیکر 5 فیصد تک ہے اور اس کا انحصار اثاثوں کی نوعیت پر ہے۔ پاکستان واپس آنے والے سیال اثاثوں پر خصوصی ٹیکس کی شرح 2 فیصد ہے۔ ملکی اثاثوں کیلئے ایمنسٹی سکیم کا دائرہ کار آمدنی اور ہر قسم کے اثاثہ جات تک پھیلا ہوا ہے جہاں ٹیکس کی شرح 2 سے لیکر 5 فیصد ہے۔ اثاثے ظاہر کرنے والے شہریوں کے تحفظ اور انہیں ہراساں ہونے سے بچانے کیلئے دونوں ایکٹ میں اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ ایسے افراد کے بارے میں معلومات صیغہ راز میں رہے۔ علاوہ ازیں یہ معلومات اثاثے ظاہر کرنے والے افراد کے خلاف کسی بھی کیس میں استعمال میں نہں لائے جاسکتے۔  وزیر خزانہ دونوں ایمنسٹی سکیموں سے متعلق آپریشن کا خود جائزہ لے رہی ہے  اور مسلسل ایف بی آر اور سٹیٹ بنک آف پاکستان کو ہدایات جاری کئے جارہے ہیں   تاکہ ادائیگیوں کا طریقہ کار بہتر بنایا جاسکے اور اثاثے ظاہر کرنے والے افراد کو موثر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ وزیر خزانہ کی ہدایت پر ایف بی آر نے ہیلپ لائن قائم کی  ہے جو 24 گھنٹے قابل استعمال ہے۔ اس مقصد کے لئے ٹیلی فون لائن اور ای میل بنائی گئی ہے تاکہ سوالات کا بروقت جواب دیا جاسکے۔ سوالات ٴ آن لائن یوزر گائیڈ اور متعلقہ دستاویزات ایف بی آر کی ویب سائٹ www.fbr.gov.pkپر دی گئی ہےں۔ اکائونٹنگ ماہرین اور ٹیکس پٹیشنرز کے اداروں سمیت نجی شعبے سے رابطہ کاری بڑھائی گئی ہےٴ اسی طرح کے انتظامات سٹیٹ بنک آف پاکستان میں بھی کئے گئے ہیں۔ آن لائن یوزر گائیڈ کے ذریعے رجسٹریشن کے لئے مرحلہ وار معلومات فراہم کی گئی ہیں جس میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے بارے میں معلوماتٴ طریقہ کار ٴ ٹیکس کی ادائیگی اور اثاثوں کی ڈیکلیریشن کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی سکیم سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے لئے شعبے کے ماہر افسران کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی کی ایک مکمل فعال ٹیم بھی موجود ہے جو آن لائن آئی ٹی نظام کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہے۔ غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکس کی ادائیگی  بارے  سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے جہاں وائر ٹرانسفر کے ذریعے امریکی ڈالروں میں ٹیکس جمع کا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے گورنمنٹ آف پاکستان یو ایس ڈالر ڈومینیٹڈ ایمنسٹی رولز 2018 جاری کیا ہے جس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بانڈز کے اجرائ کی اجازت دی گئی ہے جس کی میچورٹی کی مدت پانچ برس ہوگیٴ اس پر سالانہ تین فیصد منافع دیا جائے گا۔ قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کے شہری ڈیکلیئر ترسیلات زر کے علاوہ ایسے بانڈ یا پاکستان میں فارن کرنسی اکائونٹ میں کیش کے ذریعے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ بیان کے مطابق دو سے پانچ فیصد کی شرح کی حامل ایمنسٹی سکیم غیر ظاہر شدہ اثاثوں اور آمدنی کے لئے پرکشش ترغیب ہے۔ پاکستان او ای ایس ڈی کے کثیر الجہتی کنونشن کا دستخط کنندہ ہے۔ اس کنونشن کے تحت ستمبر 2018 سے آف شور مالیاتی اکائونس رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے بارے میں دستخط کرنے والے ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ ہو سکے گا۔ بیان کے مطابق اقتصادی اصلاحات کے تحفظ ایکٹ 1992ئ میں بھی ضروری ترامیم کی گئی ہیں تاکہ فارن ایکسچینج کی نقل و حمل کو باضابطہ بنایا جاسکے اور اسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2011کے مطابق بنایا جاسکے۔ علاوہ ازیں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں بھی ضروری ترامیم کی گئی ہیں جس کے تحت ایف بی آر دس ملین سے زیادہ غیر ملکی ترسیلات کے ذرائع کے بارے میں پانچ برسوں تک معلومات  حاصل  کر سکے گا۔
image

ملک بھرکی کاروباری برادری نے دہشتگردی کے خلاف یک زبان ہو کر سیکیورٹی فورسز کو قیام امن کیلئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے۔  تفصیلات کے مطابق کراچی،لاہور اور اسلام آبادچیمبرز کے عہدیداروں نے خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران امیدواروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے دہشتگردی کے خاتمے اور انسانیت کے دشمنوں کوکچلنے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سخت سے سخت حکمت عملی اپنانا کا مطالبہ کردیا ہے۔بزنس مین گروپ کے رہنمائوں اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشتگردی کے 2 واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔بی ایم جی کے رہنمائوں اور کے سی سی آئی کے عہدیداران نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ ملک کے ہر کونے میں خاص طور پر انتخابی سرگرمیوں والے علاقے جنہیں با آسانی ہدف بنایا جارہاہے ان علاقوں میں سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور ملک بھر میں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے سخت ترین حکمت عملی اختیار کی جائے۔چیئرمین بی ایم جی سراج قاسم تیلی، طاہر خالق، زبیر موتی والا، ہارون فاروقی، انجم نثار، کراچی چیمبر کے صدر مفسر عطا ملک، سینئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرزاق، نائب صدر ریحان حنیف نے زور دیاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت سے سخت حکمت عملی اپنانا چاہیے تاکہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشتگردی کا مزید کوئی واقعہ رونما نہ ہو کیونکہ 2013 سے اب تک کئی قربانیوں کے بعد ملک بھر میں امن بحال ہوسکا ہے جس  میں پاکستان کا امیج بہتر ہوا۔ بی ایم جی کے رہنمائوں اور کے سی سی آئی کے عہدیدران نے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور سمیت درجنوں معصوم افراد کی شہادت پر گہرے رنج  و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہدا کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے شہدا کے بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مستونگ اور بنوں میں بدترین دہشتگردی کی شدید مذمت اور سیکڑوں افراد کی شہادتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور سیکیورٹی فورسز سے اپیل کی ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ انسانیت کے دشمن ان عناصر کو سختی سے کچل دیں۔لاہور چیمبر کے عہدیداران نے مستونگ، بنوں کے سانحات کو پاکستان کیلئے ایک اور بلیک ڈے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے شیطانی اقدامات پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، سیاستدانوں اور لوگوں کا قتل عام ملک میں انتشار پھیلانے کی گھناؤنی سازش ہے لہٰذا حکومت اور سیکیورٹی فورسز ان عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں۔ کاروباری برادری اچھی طرح سمجھتی ہے کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے بڑے اداروں نے دہشتگردی کا قلع قمع کیا اور بڑی قربانیاں دی ہیں مگر دہشتگردی کی یہ نئی لہر مزید سخت اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ کاروباری برادری ملکی مفاد کی خاطر حکومت اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، یہ محض بلوچستان اور خیبر پختون خوا کا نہیں بلکہ ساری قوم کا سانحہ ہے اور ہر شخص اس پر خون کے آنسو روتے ہوئے اپنے بھائیوں کی قیمتی جانوں کے نقصان پر سوگوار ہے۔
image

سٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 6.5 فیصد سے بڑھا کر ساڑھے 7 فیصد کر دیا ہے۔ مرکزی بینک ایک سال میں چھ بار مانیٹری پالیسی وضع کرتا ہے اور ہر پالیسی دو مہینوں کے لئے نافذ کی جاتی ہے۔عموما ًپالیسی کا اعلان مہینے کے آخری دنوں میں ہوتا ہے لیکن الیکشن کی وجہ سے نئی پالیسی کا اعلان تقریباً دس روز پہلے کیا گیا ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے اور زرمبادلہ ذخائر پر درآمدات کی وجہ سے دباؤ ہے۔ ہماری نمو ہمارے بجٹ اور بیرونی خسارے کو بڑھا رہی ہے اور درآمدات کی ادائیگی کے لئے ملکی خزانے میں ڈالر کم ہیں۔ اب تک ادھار لے کر معاملات چلاتے آرہے ہیں لیکن اسے جاری رکھنا مشکل ہے اس لئے شرح سود بڑھا کر طلب کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی بڑھے گی جب کہ بجٹ خسارہ 6 اعشاریہ 8 فیصد رہنے کااندازہ ہے۔دوسری جانب ماہرین رواں مالی سال شرح سود میں دو سے ڈھائی فیصد اضافے کے اندازے لگارہے ہیں۔
image

نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ نگران حکومت نے پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے نکالنے کے لئے کئی پالیسی اقدامات کئے ہیں جس کے مثبت نتائج آئے ہیں اور ایف اے ٹی ایف کے ممبران کو پاکستان کا موقف سمجھنے میں مدد ملی ہے۔  ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان کے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2008  سے 2012  کے دوران بھی پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں رہا ہے۔ حال ہی میں عالمی سیاست کے تناظر میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ نے پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی مختلف وجوہات ہیں تاہم موجودہ نگران حکومت نے ان مسائل کے حل کے لئے جامع حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے پاکستان کا نام نکالنے کے لئے 49 پالیسی اقدامات کئے ہیں جبکہ 27 پر کام کیا جا رہا ہے۔ ہم نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ٟایف اے ٹی ایفٞ کے ممبران سے مختلف سطحوں پر مذاکرات کئے ہیں اور مختلف اقدامات پر عمل درآمد کے لئے اوقات کار میں رعایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
image

 دیامیربھاشا اورمہمند ڈیم کی تعمیر کے بارے میں عملدرآمد کمیٹی نے دونوں ڈیموں کیلیے 5مختلف ذیلی کمیٹیوں کے قیام کی منظوری دے دی ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے 2 بڑے ڈیمزکی تعمیر کے حوالے سے فیصلے کے تناظر میں دیامر بھاشا ،مہمند ڈیم عملدرآمدکمیٹی کاپہلا اجلاس کمیٹی کے سیکریٹریٹ میںہوا۔اجلاس کی صدارت چیئرمین واپڈا /دیامربھاشا مہمند ڈیم عملدرآمد کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین رٹائرڈ نے کی ۔ اجلاس میں چارجولائی کے فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے مقررکیے گئے ارکان بشمول ایڈیشنل سیکریٹری بجٹ  فنانس ڈویعن،جوائنٹ سیکرٹری  واٹر وزارت ِ آبی وسائل ، جوائنٹ سیکریٹری وزیر اعظم آفس،سینیئر چیف  واٹر  پلاننگ ڈویعن ، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ، سینئر ممبربورڈ آف ریونیو خیبر پختونخوا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری  ڈیولپمنٹ خیبر پختونخواشریک ہوئے۔ اجلاس میں سابق چیئرمین واپڈاشمس الملک اورسابق چیئرمین واپڈا ظفرمحمودسمیت عملدرآمد کمیٹی کی جانب سے18دیگرمنتخب ارکان (Co-opted) نے بھی شرکت کی ۔عملدرآمد کمیٹی کے سیکریٹری سید مہر علی شاہ نے اجلاس کوکمیٹی کے فریم ورک اور ڈرافٹ ٹرمز آف ریفرنس کے بارے میں بریف کیا۔ دیامربھاشامہمند ڈیم عملدرآمد کمیٹی مذمل حسین نے کہا کہ مذکورہ دونوں ڈیمز کی تعمیر سے مجموعی طورپر 9اعشاریہ 3ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہو گااور5ہزار 3سو میگاواٹ سستی اور ماحول دوست پن بجلی حاصل ہوگی۔ اجلاس کے بعد میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈمزمل حسین نے کہاکہ ابھی تک ڈیموں کی تعمیرکیلیے فنڈزکا کوئی مسئلہ نہیںہے،اگلے سال کے وسط میں دیامیر بھاشا اورمہمند ڈیم کی تعمیرکا کام شروع کردیاجائیگا۔ چیئرمین واپڈا نے بتایاکہ ڈیموں کی تعمیرکیلیے فنڈز دینے کے حوالے چیف جسٹس کااحسن اقدام ہے اورتما م ادارے اس میں حصہ ڈال رہے ہیں اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ لوگ ڈیموںکی تعمیرمیں مدددیناچاہتے ہیں ۔  
image

 واپڈا نے مختلف آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں۔ جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 178500 کیوسک اور اخراج  150000 کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 45100  کیوسک اور اخراج 45100  کیوسک، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 45000 کیوسک اور اخراج 45000 کیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پرپانی کی آمد 69200 کیوسک اور اخراج 36200 کیوسک ہے ۔ تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1386 فٹ ہے، جبکہ ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1397.40 فٹ ہے۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550 فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 0.119 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے، جبکہ ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1119.75 فٹ ہے۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242 فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 0.779 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ ، جبکہ بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 641.00 فٹ ہے۔ بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 0.040 ملین ایکڑ فٹ ہے۔
image

  پانی کے بدترین بحران سے نمٹنے کے لئے گیس اینڈ آئل پاکستان نے 12 ملین روپے دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے عطیہ دے دیا جس میں ادارے کی جانب سے 10ملین روپے اور ملازمین کی جانب سے 3 دن کی تنخواہ شامل ہے۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ پانی کے وسائل ملکی بقا کے لئے اہم ہیں ، اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے عوام سے بشمول بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ڈیم کی تعمیر میں تعاون کے لئے عطیہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔
image

 فی اونس سونے کی قیمت 3 ڈالرکے اضافے سے 1251ڈالرکی سطح پرپہنچ گئی۔  بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت3 ڈالرکے اضافے سے 1251ڈالرکی سطح پرپہنچنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی  فی تولہ اور فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب100اور86روپے کا اضافہ ہوگیا ہے جس سے کراچی حیدرآباد سکھر ملتان فیصل آباد لاہور اسلام آباد راولپنڈی پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت 59 ہزار 200 اور دس گرام 50 ہزار754روپے ہوگئی۔ اس کے برعکس چاندی کی تولہ قیمت 780اور دس گرام چاندی کی قیمت 668 روپے 72 پیسے پربرقراررہی۔
image

ملکی و غیر ملکی اثاثہ جات ایمنسٹی سکیم کے تحت پاکستان میں فارن کرنسی اکائونٹس سے اور زرمبادلہ پاکستان واپس لانے والوں کو ایک ہزار ڈالر مالیت کے ایمنسٹی بانڈز ان کے نام پر رجسٹریشن کے بعد جاری کئے جائیں گے۔اس طرح یہ رجسٹرڈ بانڈز ہوں گے ملک میں ایمنسٹی بانڈز کے اجرائ  کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں ایمنسٹی بانڈز میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں کی جائے گی، یہ ایمنسٹی بانڈز 5سال مکمل ہونے پر واجب الادا ہوں گے وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے ان بانڈز کے اجرا  کی منظوری دے دی گئی ہے۔اس ضمن میں وزارت نے ان بانڈز کے اجرا کیلئے ایمنسٹی بانڈز رولز 2018 میں تمام شرائط طے کر دی ہیں، حکام نے بتایا ہے کہ ایمنسٹی سکیم کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع ہونے کے بعد اور ایف بی آر کی جانب سے ملک کے 23شہروں کیلئے فوکل پرسن تعینات کئے جانے کے بعد فارن کرنسی اکائونٹ ہولڈرز اور بیرون ملک سے زرمبادلہ پاکستان منتقل کرنے کے خواہشمند افراد کی جانب سے ایف بی آر سے رابطوں میں اضافہ ہوا ہے اور امکان ہے کہ پاکستان کے اندر اور بیرون ملک زرمبادلہ رکھنے والے ان ایمنسٹی بانڈز میں بھاری سرمایہ کاری کریں گے ،جس کے سبب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوگا اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالا مل سکے گا۔
image

 پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی  کاروبار حصص میںتیزی کا رجحان رہا ،ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100انڈیکس 40ہزار پوائنٹس کو چھوگیا تاہم کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 133پوائنٹس کے اضافے سے 39500پوائنتس کی سطح پر بند ہوا ،تیزی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں5ارب سے زائد روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 82کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو کاروبار کا آغاز تیزی کیساتھ ہوا اور سرمایہ کاروں نے فوڈز ،بینکنگ ،سیمنٹ اور توانائی سیکٹر میں خریداری کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس 40059پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تھا تاہم منافع خوری کی خاطر بعض اسٹاکس میں فروخت کے دبائو کے سبب انڈیکس اس سطح کو برقرار نہ رکھ سکا اور39500پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا ۔پاکستا ن اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو کاروبار کے اختتا م پر کے ایس ای100انڈیکس میں133.95پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاجس سے انڈیکس39452.81پوائنٹس سے بڑھ کر 39586.76پوائٹس ہو گیا اسی طرح75.79پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای 30انڈیکس 19493.51پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 28946.66پوائنٹس سے بڑھ کر28966.85پوائنٹس پر جا پہنچا ۔
image

عالمی مارکیٹ میں گزشتہ روز سونے کی فی اونس قیمت میں3ڈالرزکا اضافہ ہوا اور سونے کی فی اونس قیمت 1251ڈالرز کی سطح پر رہی۔عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ رہا ا ور فی تولہ سونے کی قیمت100روپے کمی سے 59200،دس گرام سونے کی قیمت 86روپے اضافے سے 50745روپے رہی  جبکہ چاندی کی فی تولہ قیمت 780روپے کی سطح پر مستحکم ریکارڈ کی گئی ۔  
image

 ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی فوکل پرسن عائشہ عمران بٹ نے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم 80فیصد سے زیادہ کامیاب رہی ، 31جولائی کے بعد سکیم میں مزید توسیع کا امکان نہیں ۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سکیم کے تحت بیرون ملک رکھاکالادھن بھی 5فیصدٹیکس ادا کرکے سفید کیاجاسکے گااور اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کومکمل قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔فوکل پرسن نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم سے سیاستدان،سرکاری افسران،انکے بیوی بچے فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 80 فیصد سے زیادہ کامیاب رہی اور 31جولائی کے بعد اسکیم میں مزید توسیع کا امکان نہیں۔  
image

فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر2 پیسے مہنگا ہو کر 121.55 روپے کا ہو گیا۔ڈالر کی اڑان جاری ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر2 پیسے مہنگا ہوکر 121.55 روپےکا ہو گیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 29جون کو124 روپے50 پیسے تک پہنچ گیا تھا۔ادھر ایشیائی مارکیٹ میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل 47 سینٹس مہنگا ہوکر 74.31 ڈالرفی بیرل پرٹریڈ ہو رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 50 سینٹس اضافے سے 1259 ڈالرفی اونس پر  آگیا۔
image

 اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ پانی آج کا نہیں آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے اور ڈیم کے لیے فنڈز کی معاونت میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے۔ کراچی میں اسٹیٹ بینک حکام نے دیامیر بھاشا ڈیم کے حوالے سے پریس کانفرنس  میں تمام ملازمین کی 2 دن کی تنخواہیں ڈیم فنڈ میں دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آبی ذخائر کسی بھی ملک کیلیے اہم ہیں، پانی آج کا نہیں آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے، آبی ذخائر کے لیے فنڈز 16 ہزاربینکوں میں جمع ہو سکتے ہیں جب کہ فنڈزکی معاونت میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے۔ دوسری جانب ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک شمس الحسن نے کانفرنس میں اعلان کیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک اورتمام ملازمین کی 2 روز کی تنخواہیں فنڈ میں دی جائیں گی جب کہ حبیب بینک کے سربراہ نے ڈیم کی تعمیر کیلئے 10 کروڑ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حکم جاری ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے دو ڈیمز دیامیربھاشا اور مہمند کی تعمیر کے لیے فنڈز قائم کیے ہیں جس میں کیش، چیک، پرائزبانڈ سمیت سونے چاندی کی شکل میں بھی عطیات بھی جمع کرائے جاسکتے ہیں۔
image

کاٹن مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے دن قیمتوں میں اضافے کا تسلسل جاری رہا۔ پھٹی کی محدود دستیابی اورٹیکسٹائل ملز کی جانب سے روئی کی بڑھتی ہوئی خریداری سرگرمیوں کی وجہ سے روئی کی قیمت 8400 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جو گزشتہ 9 سال کی بلندترین سطح ہے،مارکیٹ میں فی40 کلوگرام پھٹی کی قیمت بڑھ کر 4200 تا 4400 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔منگل کو چیئرمین کراچی کاٹن بروکرز فورم نسیم عثمان نے بتایا کہ پانی کی شدید قلت اور بے تحاشا گرمی کے باعث روئی کی بوائی کم ہونے کیوجہ سے پھٹی اور روئی کے بھائو میں مسلسل اضافہ کا رجحان ہے جس کے باعث پھٹی کے بیوپاری، جنرز اور ملز مالکان میں اضطراب پھیل گیا ہے، جنرز کو نقصان ہونے کیوجہ سے انہوں نے پھٹی کی خریداری جزوی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے، اس اقدام سے کاشت کاروں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثنائ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر جیسو مل نے جنرز کو مشورہ دیا کہ نقصان کرنے کے بجائے پورا خرچ لے کر جننگ کی جائے۔ 
image

عوامی سروے

سوال: الیکشن 2018 کیلئے کونسی جماعت آپکی فیورٹ؟