17 اگست 2017
تازہ ترین

عوامی سروے

سوال: آپ کے خیال میں کونسی سیاسی یا مذہبی جماعت صحیح معنوں میں نظریہ پاکستان کی محافظ اور عوامی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے؟

کاروبار
ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے  غیر جسٹرڈ  موبائل فونز بلاک کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، سمگل و چوری شدہ اور جعلی آئی ایم ای آئی والے موبائل فون پاکستان کے کسی بھی موبائل فون نیٹ ورک کیساتھ منسلک نہیں ہو سکیں گے ،پی ٹی اے کے اس اقدام سے پاکستان موبائل فون کی مینو فیکچرنگ شروع ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی،ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے انٹیلی جنس ایجنسیز اور ایف بی آر کی شکایات پر نئی ریگولیشن پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کرلی ہے اور موبائل ڈیوائسز ریگولیشنز2017 کے مطابق اکتوبر سے ملک بھر کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی اور آئی ایم ای آئی نمبرز رجسٹرڈ نہ ہونے پر موبائل فونز کمپنی کے سسٹم سے منسلک ہو سکیں گے نہ صارفین کالزا اور ایس ایم ایس کرسکیں گے،پی ٹی اے حکام کے مطابق تمام کمپنیوں اور بیرون ملک سے تحفہ کے طور پر لانے والے موبائل فونز کو کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کے بعد پی ٹی اے سے موبائل فون کی پشت پر درج آئی ایم ای آئی نمبر رجسٹرڈ کروانا ہو گا جس کے بعد ہی موبائل فون کو استعمال کیا جاسکے گا،ذرائع کے مطابق پاکستان میں بعض کمپنیاں افغانستان سے سمگلنگ کے ذریعے فونز فروخت کررہی ہیں

 مالی سال 2016-17 کے دوران تیار ملبوسات کی قومی برآمدات میں 6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور دوران سال 2.316 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئی ہیں۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران تیار مبلوسات کی برآمدات میں 58.269 ملین ڈالر یعنی 6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2015-16 کے دوران 2.195 ارب ڈالر مالیت کے تیار مبلوسات برآمد کئے گئے تھے ، مالی سال 2016 کی 32.775 ملین درجن کے مقابلہ میں گزشتہ  مالی سال 2017 کے دوران 34.785 ملین درجن تیار ملبوسات برآمد کئے گئے۔ اس طرح برآمدات میں 2.010 ملین درجن یعنی 6.13 فیصد کی زائد برآمدات کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جون 2017 کے دوران تیار مبلوسات کی برآمدات میں 20 فیصد کا نمایاں اضافہ ہونے سے برآمدات کا حجم جون 2016 کی برآمدات 203.033 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 242.951 ملین ڈالر تک بڑھ گئیں۔ اس طرح جون 2016 کے مقابلہ میں جون 2017 کے دوران 39.918 ملین ڈالر کی زائد برآمدات کی گئی ہیں۔
image

 اسلام آباد آن لائن رواں سیزن2017-18 کے دوران کپاس کی12.6ملین بیلز کی پیداوار حاصل ہونے کی توقع ہے۔ کاٹن کراپ اسیسمینٹ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق رواں سیزن کیلئے ابتدائی طور پر کپاس کا پیداواری ہدف14.04 ملین بیلز مقرر کیا گیا تھا تاہم کپاس کے زیر کاشت رقبہ میں12فیصد کی کمی کے باعث پیداواری ہدف پر نظرثانی کرتے ہوئے اس کو12.6 ملین بیلز مقرر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سیزن کے دوران پنجاب سے 8.8، سندھ سی3.7 ملین جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سی0.10 ملین بیلز کپاس کی پیداوار حاصل ہونے کی توقع ہے۔
image

سعودی  عرب اور متحدہ عرب امارات تیل کے کم نرخوں کے باعث ماہ جنوری  سے وی اے ٹی یعنی  افزودہ قیمت پر ٹیکس  پر عمل درآمد شروع کر دیں  گے۔ توقع ہے کہ خلیجی تعاون کونسل   کے دیگر رکن ممالک اس چیز پر عمل درآمد  2018 کے آخر تک    کریں  گے۔ خلیجی تعاون کونسل کے  رکن  6 عرب ملکوں  نے مالی توازن  کے تیل کے نرخوں  کے باعث  دبائوکا شکار ہونے کے بعد  ٹیکس  پالیسیوں میں  سنجیدہ سطح کی تبدیلیوں پر  مصالحت قائم کرتے ہوئے آئندہ برس سے 5 فیصد کے تناسب سے وی اے ٹی  وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ  چھ عرب ملکوں کی جانب سے قواعد و ضوابط کو از سر نو تشکیل  دیتے ہوئے ایک نئے نظام کو تشکیل دینے   میں  فنی اور انتظامی  مشکلات  کھڑی کرے  گا۔ متحدہ عرب امارات  کے محکمہ ٹیکس  کے ڈائریکٹر جنرل خالد علی الا بوستانی  نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ   دبئی  اور سعودی عرب نے جنوری 2018 سے ٹیکس کے شیڈول کو لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کی رو سے   سالانہ کم از کم ایک لاکھ  آمدنی والی  سعودی  فرموں پر ٹیکس کی ادائیگی لازمی  ہو گی، عدم ادائیگی   کی صورت  میں ان کو جرمانہ کیا جائیگا۔
image

پاکستان کی 5کمپنیاں عالمی شہرت یافتہ میگزین فوربز کی ایک ارب ڈالر سے کم اثاثے رکھنے والی کمپنیوں کی فہرست میں  شامل ہوگئی۔پاکستانی کمپنیوں نے دنیابھر کی 200ایسی کمپنیوں میں اپنی جگہ بنالی ہے جو تیزی سے ترقی کررہی ہے اورجن کی وجہ سے مجموعی معیشیت پر اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔فوربز میگزین ہرسال گروتھ انجن کی حامل کمپنیوں کی فہرست شائع کرتی ہے۔رواں سال اس فہرست میں 13ممالک کی کمپنیوں نے اپنی جگہ بنالی ہے۔ایشیا اوربحرالکاہل کے خطے سے سب سے زیادہ چین اورہانگ کانگ کی کمپنیوں نے اس فہرست میں جگہ حاصل کی ہے۔فوربز کے مطابق فہرست میں شامل کمپنیاں سیلز میں 55فیصد، نفع کے مارجن میں 24فیصد اورفی حصص آمدنی کے لحاظ سے 113فیصد بڑھوتری کی حامل ہیں۔ان کمپنیوں کا انتخاب تین سالہ اوسط کارگردگی کی بنیاد پرکیا گیاہے۔پاکستان سے جو کمپنیاں اس فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں ان میں ایگری آٹوانڈسٹریز، چراٹ پیکجنگ، فیروزسنز لیبارٹریز،گندھارانڈسٹریزاور سرل کمپنی شامل ہیں۔گزشتہ سال اس فہرست میں 7پاکستانی کمپنیاں شامل تھیں۔
image

جرمنی کی فضائی کمپنی ایئر برلن نے دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے مالی امداد کی درخواست دے دی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ اس کے اہم شیئر ہولڈر اتحاد ایئرویز گروپ کی طرف سے اسے مزید مالی امداد نہ دینے کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے۔ جرمن حکومت کے مطابق وہ ابتدائی طور پر اس کمپنی کو ایک سو پچاس ملین یورو کا قرض فراہم کر رہی ہے تاکہ پروازوں کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔ اس وقت جرمنی کے زیادہ تر صوبوں میں بچوں کی چھٹیاں ہیں اور لاکھوں جرمن شہری چھٹیاں گزارنے کے لیے بیرون ملک گئے ہوئے ہیں۔ ایئر برلن کی حریف جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا نے ایک علیحدہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس کمپنی کے کچھ حصے خریدنے کے لیے ایئر برلن کے ساتھ مذاکرات کر چکی ہے، ایئر برلن ایک عرصے سے شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اسے ایک عشاریہ دو ارب یورو مالیت کا نقصان ہو چکا ہے،اتحاد ایئر ویز نے چند برس پہلے اس کے شیئرز کا ایک اہم حصہ خرید لیا تھا اور یہ عرب کمپنی اس کے بعد سے اسے متعدد مالی پیکیجز بھی فراہم کر چکی ہے  تاہم اب اس نے بھی مزید مالی مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ 
image

 گذشتہ مالی سال2016-17کے دوران خدمات کے شعبہ کی برآمدات میں1.7فیصد کا اضافہ ہوا ہے، ادارہ برائے شماریات پاکستان پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران شعبہ کی برآمدات5.55 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں جبکہ جون2017کے دوران شعبہ کی برآمدات میں5.4 فیصد کے اضافہ سے برآمدات 443.29 ملین ڈالر تک بڑھ گئیں جبکہ جون2016 کے دوران برآمدات سے420.25 ملین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا تھا، پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2015-16 کے دوران خدمات کے شعبہ کی برآمدات میں7.14 فیصد کی کمی سے برآمدات5.46 ارب ڈالر تک کم ہوگئی تھیں،پی بی ایس کے مطابق خدمات کا شعبہ مجموعی قومی پیداوارٟ جی ڈی پیٞ میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔  
image

 سال 2016 کے مقابلہ میں رواں سال2017  کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران صرف 17فیصد افرادی قوت سعودی عرب بھیجی گئی ہے، امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائیمنٹ بیورو کی رپورٹ کے مطابق سال2016 کے دوران4 لاکھ 62ہزار598 افراد روزگار کے سلسلہ میں سعودی عرب گئے تھے  جبکہ رواں سال2017 میں جنوری تا جون کے دوران صرف77 ہزار600 افراد سعودی عرب میں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو گذشتہ سا ل2016 کے دوران سعودی عرب بھیجی گئی مجموعی افرادی قوت کا صرف17فیصد بنتا ہے، افرادی قوت کو سعودی عرب اور دیگرخلیجی ممالک میں روزگار کے کم مواقع دستیاب ہونے کے باعث ترسیلات زر میں بھی کمی ہوئی ہے اور گذشتہ مالی سال کے دوران سعودی عرب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کی شرح میں8.3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستوں میں روزگار کے صحول کے مواقع میں کمی کا بنیادی سبب تیل کی قمیتوں میں کمی کے باعث معاشی سست روی ہے۔  
image

 گذشتہ مالی سال2016-17ئ کے دوران زیورات اور قیمتی پتھروں کی قومی برآمدات میں26.33 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، ادارہ برائے شماریات پاکستان  کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران زیورات اور قیمتی پتھروں کی برآمدات میں2.103 ملین ڈالر کی کمی سے برآمدات کا حجم 5.884 ملین ڈالر تک کم ہوگیا جبکہ مالی سال2015-16ئ کے دوران برآمدات سے7.987 ملین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا تھا، پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق جون2017ئ کے دوران جیولری کی برآمدات میں61.31 فیصد کی کمی سے برآمدات5 لاکھ6 ہزار ڈالر تک کم ہوگئیں جبکہ جون2016ئ کے دوران برآمدات  کا حجم 1.308 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، اسی طرح گذشتہ مالی سال کے دوران قیمتی پتھروں کی برآمدات میں24فیصد کی کمی سے برآمدات2.998 ملین ڈالر تک کم ہوگئیں جبکہ مالی سال2016ئ کے دوران برآمدات  سے 3.931 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا تھا، اس طرح مالی سال2015-16ئ کے مقابلہ میں گذشتہ مالی سال2016-17ئ کے دوران زیورات اور قیمتی پتھروں کی مجموعی ملکی برآمدات میں26 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔  
image

   ملک میں گزشتہ چار سال کے دوران زرعی قرضوں کی تقسیم میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا  ۔ سٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق کمرشل بینکوں نے زرعی شعبہ میں خود کفالت کے حصول کے لئے مجموعی قرضوں سے زراعت کے لئے تقسیم کی جانے والی رقم میں نمایاں اضافہ کیا  اور تقریباً  57 فیصد رقم اس مقصد کے لئے کسانوں میں تقسیم کی ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے چھوٹے کاشتکاروں کی بھر
image

گزشتہ مالی سال 2016-17  میں جولائی تا مارچ کے دوران انجینئرنگ مصنوعات کی قومی برآمدات میں 6.2 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان  کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا مارچ 2016-17 کے دوران انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات کا حجم 126 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ مالی سال 2015-16  کے اسی عرصہ کے دوران برآمدات سے 134.3 ملین ڈالر کا زر مبادلہ کمایا گیا تھا اس طرح گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران انجینئرنگ مصنوعات کی ملکی برآمدات میں 6 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔  
image

گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال 2017-18 کے ابتدائی ماہ جولائی کے دوران کاروں، جیپوں، ہلکی کمرشل گاڑیوں اور ٹریکٹروں کی فروخت میں 50 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں جولائی 2016 کے دوران کاروں، جیپوں، ہلکی کمرشل گاڑیوں اور ٹریکٹروں کی فروخت حجم 16 ہزار 687 یونٹس ریکارڈ کیا گیا تھا جو جاری مالی سال میں جولائی 2017 کے دوران 24 ہزار 988 یونٹس تک بڑھ گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی ماہ کے دوران فور بائی فور جیپوں کی فروخت میں سب سے زیادہ 2186 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جن کی فروخت جولائی 2016ئ کے دوران 42 یونٹس تھی جو جولائی 2017ئ کے دوران 960 تک پہنچ گئی۔
image

پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں گزشتہ 7سال کے دوران 11 فیصد تک کمی کا انکشاف ہوا ہے جبکہ انڈیا، بنگلا دیش، ویت نام، سری لنکا سمیت دیگر ممالک میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 107فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔دستاویزات کے مطابق پاکستان کی ٹیکسٹائل سیکٹر کی ایکسپورٹ مالی سال 2010-11کے دوران 13.8ارب ڈالر تھی جو 2011-12 میں کم ہو کر 12.4ارب ڈالر ہوئی 2012-13 میں ایک مرتبہ پھر برآمدات میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 13.1ارب ڈالر ہو گئیں۔ مالی سال 2013-14 میں یہ برآمدات 13.7ارب ڈالر ہو گئیں۔ 2014-15میں 13.5ارب ڈالر ، 2015-16 میں 12.5ارب ڈالر اور مالی سال 2016-17میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی یہ برآمدات پستی کا شکار ہوتے ہوئے 12.3ارب ڈالر تک پہنچ آئی ہیں۔ گزشتہ 7سال کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں بتدریج کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے اور پاکستان کی 57فیصد ایکسپورٹ پر مبنی ٹیکسٹائل سیکٹر زبوں حالی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمسایہ ممالک انڈیا جس کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ 2010-11 میں 27.7ارب ڈالر تھی 2016-17میں 31فیصد اضافے کے ساتھ 36.4ار ب ڈالر ہوگئی۔ بنگلادیش کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں بھی 63فیصد اضافہ ہوا اور 2010-11میں 19ارب ڈالر کی بنگلادیش کی ٹیکسٹائل برآمدات 2016-17 میں 31ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ سری لنکا کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ2010-11 میں 4.1ارب ڈالر تھی جو 2016-17 کے دوران 20 فیصد اضافے کے ساتھ 4.9 ارب ڈالر ہو گئی۔اسی طرح ویت نام کی ٹیکسٹائل برآمدات میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا اور 2010-11میں 15.2ارب ڈالر کی ویت نام کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ 2016-17میں 31.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس طرح ویت نام کی ٹیکسٹائل اور کلاتھ کی برآمدات میں 107فیصد تک اضافہ ہوا۔ یوں اگر بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو پاکستان کے مد مقابل ممالک کی ٹیکسٹائل برآمدات میں کم سے کم 20 فیصد سے 107 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن پاکستان کا اہم برآمدی سیکٹر حکومتی مراعاتی پیکیج کے باوجود دن بدن پستی کی جانب جا رہا ہے۔
image

معاشی ترقی میں اضافے کے سبب پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات بھی بڑھ گئی ، ایک سال کے دوران ڈیزل کی درآمدات 27 فیصد جبکہ فرنس آئل کی درآمدات میں 11 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایک سال کے دوران پیٹرول کی درآمدات 10 فیصد اضافے سے 46 لاکھ 81 ہزار ٹن رہی جبکہ مالی سال 16-2015 میں 42 لاکھ 51 ہزار ٹن پیٹرول درآمد کیا گیا تھا ،مالی سال 17-2016 میں ہائی سپیڈ ڈیزل کی درآمدات 27 فیصد اضافے سے 38 لاکھ 90 ہزار ٹن رہی جبکہ گذشتہ سال 30 لاکھ 64 ہزار ٹن ڈیزل درآمد ہوا تھا ،اسی طرح ایک سال کے دوران بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والا فرنس آئل 11 فیصد اضافے سے 59 لاکھ 48 ہزار ٹن درآمد ہوا جبکہ مالی سال 16-2015 کے دوران 53 ہزار 76 ہزار ٹن فرنس آئل درآمد کیا گیا تھا، معاشی تجزیہ کاروں کےمطابق معاشی ترقی کی شرح میں اضافے سے صنعتوں کا پہیہ چلنے لگا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک سال میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔
image

  ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز ایکسپو 2017  کے دوران تعمیراتی صنعت نے 225ارب روپے مالیت کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں، ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق گزشتہ ایکسپو کے مقابلہ میں رواں سال منعقد ہونے والے ایکسپو 2017 ئ میں مالیاتی حجم کے لحاظ سے کم معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں، گزشتہ مالی سال کے ایکسپو میں تعمیراتی شعبے نے تقریباً 500 ارب روپے کے معاہدوں پر دستخط کئے تھے، ایسوسی ایشن کے مطابق ہالیڈے ایکسپریس نے ملک کے 5 مختلف شہروں میں 5 فائیو سٹار ہوٹل بنانے کے لئے 100ارب روپے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں، باقی معاہدے تعمیراتی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے متعلق ہیں۔  
image

 امریکا،یورپ اور ایشیائ میں سونے کے نرخوں میں کمی ہوئی، جس کی وجہ ڈالر کی شرح تبادلہ میں اضافہ اور امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان سیاسی کشیدگی میں ٹھہرائو ہے،نیویارک میں سپاٹ گولڈ کے وقفے کے بعد نرخ 0.6 فیصد کم ہوکر 1281.21 ڈالر فی اونس رہے،امریکی سونے کے دسمبر کیلئے سودے 0.3  فیصد کمی کے ساتھ 1290.40 ڈالر فی اونس طے پائے،لندن میں سپاٹ گولڈ کے نرخ 0.5 فیصد کم ہوکر 1281.72  ڈالر فی اونس رہے،امریکی سونے کے دسمبر کیلئے سودے 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 1287.30  ڈالر فی اونس طے پائے،ایشیائ میں سپاٹ گولڈ کے نرخ 0.2 فیصد کم ہوکر 1286.39 ڈالر فی اونس رہ،۔امریکی سونے کے دسمبر کیلئے سودے  0.12 فیصد کمی کے ساتھ 1292.4 ڈالر فی اونس طے پائے۔  
image

گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں 105 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2013ئ کے دوران سرمایہ کاری کا حجم 5.15 کھرب روپے تھا جو مالی سال 2014ئ کے دوران 6.65 کھرب روپے اور مالی سال 2015ئ میں 7.42 کھرب روپے تک بڑھ گیا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2016ئ کے دوران سٹاک مارکیٹ میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا حجم 7.58 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال 2017ئ کے اختتام تک سرمایہ کاری 9.59 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔ اس طرح گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے مجموعی حجم میں 105.63 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔  
image

 الحاج فاموٹرز نے پاکستان میں پہلی بار مکمل اسمبل کردہ کار وی ٹو متعارف کرادی ہے، فا وی ٹوپہلی چینی پسنجر کار ہے جسے مکمل طور پر پاکستان میں ہی اسمبل کیا گیا ہے۔فا وی ٹوکار کی تعارفی تقریب گزشتہ روز فا موٹرز کے پلانٹ پر منعقد کی گئی جہاں الحاج فا موٹرز کے منیجنگ ڈائریکٹر بلال آفریدی بھی موجود تھے جبکہ تقریب میں ملک بھر سے کار ڈیلرز اور وینڈرز کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ فا چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی آٹو موٹیو کمپنی ہے جس نے پاکستان میں الحاج کے ساتھ سن2007میں الحاق کیا تھا۔اس وقت الحاج فا کی 50ہزار اسکوائر میٹر پھیلے پلانٹ میں 600سے زائد ملازمین کام کررہے ہیں جبکہ سنگل شفٹ میں پلانٹ کی پیداواری صلاحیت 10ہزار سالانہ ہے۔ الحاج فا موٹرز کے پاس مجموعی طور پر 1لاکھ5ہزار اسکوائر میٹر کا رقبہ ہے جس میں سے 50ہزار اسکوائر میٹر پر پلانٹ قائم کیا گیا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے الحاج فا کے ایم ڈی بلال آفریدی نے کہا کہ ابتدائی طور پر اس پلانٹ پر ڈھائی ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی تھی جبکہ بعد ازاں مزید ایک ارب تیس کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے اسمبلی پلانٹ کے سیٹ اپ کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ای ڈی پینٹ ٹیکنالوجی حاصل کی گئی ،انہوں نے کہاکہ الحاج فا کی جانب سے ملک بھر کے بڑے شہروں میں تھری ایس سروس فراہمی کے ساتھ ساتھ تین سالہ یا 60ہزار کلو میٹر تک کی وارنٹی بھی مہیا کی جارہی ہے۔الحاج فا کا دعوی ہے کہ مقامی طور پر اسمبلنگ کی سہولت سے انہیں اپنے صارفین کی بہتر خدمت کرنے اور معیاری کاروں کی فراہمی میں مدد دے گی ،کمپنی کا ارادہ ہے کہ سال 2020تک پلانٹ کی پیداواری استعداد کو 15ہزار یونٹس سالانہ تک لے جانے کے ساتھ ساتھ نئے ماڈلز بھی متعارف کرائے جائیں۔الحاج فا کی نئی V2 hatchback تیرہ سو سی سی انجن کی حامل ہے جسے مکمل طور پر سی بی یو کی صورت میں در آمد کیا گیا ہے ،کمپنی نے پاکستان میں اپنا آپریشن سات ایکڑ زمین سے شروع کیا گیا تھا اور اب کمپنی کے آپریشنز 27ایکڑ رقبے یک پھیل گئے ہیں جو کہ کمپنی کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم یہاں بھاگنے کیلئے نہیں بلکہ کام کرنے کیلئے آئے ہیں۔فا کے ایم ڈی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی کاروں میں لگږری سہولیات کے باوجود ان کی قیمت انتہائی مناسب سطح پر رکھی ہیں اور اب ہمارا شمار انتہائی مناسب قیمت پر معیاری اور لگږری کاریں بنانے والی کمپنی کے طور پر کیا جاتا ہے اور صارفین کا ہم پر اعتماد ہے، ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر اسمبل کردہ V2کی قیمت در آمدی سی بی یو کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جبکہ اس کے کم طاقت کے انجن کے باعث خریداروں کو ٹیکس اور رجسٹریشن کی مد میں بھی بچت ہوگی۔بلال آفریدی کا کہنا تھا کہ ایندھن کی بچت کے حوالے سے بھی یہ ایک آئیڈیل کار ہوگی جو کہ شہروں میں ایک لٹر میں15تا 16کلو میٹر جبکہ ہائیوے پر 18کلو میٹر تک کا مائلیج فراہم کرے گی ،انہوں نے بتایا کہ رواں سال تک کے اختتام تک ہم V2کے ماہانہ 500یونٹس بنائینگے جبکہ ہمارا منصوبہ ہے کہ یہاں تیار کردہ رائٹ ہینڈ ڈارئیو کاروں کو جلد ہی چین اور دیگر ممالک کو بھی بر آمد کریں۔
image

  بینکوں سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں ہونے والی وصولیوں میں رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی کے دوران 3 فیصد کمی کا انکشاف ہوا ہے جس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بینکوں سے ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی سخت مانیٹرنگ کرنے کے احکام جاری کر دیئے ہیں۔ دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بینکنگ سیکٹر سے گزشتہ ماہ جولائی میں  انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 231 اے اور 231 ڈبل اے کے تحت کٹوتی کئے  جانے والے ود ہولڈنگ ٹیکس ریونیو کے موازنے پر مبنی موصول ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ اس تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بنکنگ سیکٹر سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والے ریونیو سے متعلق گزشتہ ماہ کے عبوری اعدادوشمار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جولائی 2016 کے مقابلے میں جولائی 2017 کے دوران سیکشن 231 اے اور 231 ڈبل اے کے تحت بینکوں سے حاصل ہونے والے ود  ہولڈنگ ٹیکس ریونیو میں 3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس سے شدید تحفظات جنم لے رہے ہیں جس پر ایف بی آر نے ایکشن لیتے ہوئے ملک کے 18 سے زائد ریجنل ٹیکس آفسز اور کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفسز کے علاوہ لارج ٹیکس پیئر یونٹس کے چیف کمشنرز کو لیٹر ارسال کر دیئے ہیں جن میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ بینکوں سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 231 اے اور 231 ڈبل اے کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی سخت مانیٹرنگ کی جائے کیونکہ اگر بنکنگ سیکٹر سے مذکورہ شقوں کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی مد میں ہونے والی وصولیوں میں کمی کا یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو اس کے ٹیکس وصولیوں کے مجموعی ہدف پر بہت خطرناک اثرات مرتب ہوں گے اور رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف متاثر ہوں گے اور شارٹ فال بڑھ جائے گا لہٰذا صورتحال کو ابھی سے کنٹرول کیا جائے لہٰذا فیلڈ فارمشنز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ بینکوں سے گزشتہ ماہ ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں آنے والے ریونیو شارٹ فال کو سنجیدگی سے لیا جائے اور آنے والے مہینوں میں اس شارٹ فال کو پورا کیا جائے اور اس ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کی جائے۔
image

پاکستان سے گزشتہ ماہ 40594ٹن خام تیل و کنڈنسیٹ کی بر آمد ریکارڈ کی گئی ۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ملک سے بر آمد کیا جانے والا خام تیل معیار میں کم اور ریفائن کرنے کے حوالے سے مہنگا پڑتا ہے لہٰذا اسے مقامی ریفائنریوں میں ریفائن کرنے کے بجائے بر آمد کر دیا جاتا ہے ۔ ملک سے خام تیل و کنڈنسیٹ کی بر آمد میں یونائٹڈ انرجی پاکستان اور مول شامل ہیں جو انڈونیشیا اور بعض دیگر ممالک کو خام تیل و کنڈنسیٹ بر آمد کرتی ہیں، انڈسٹری ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ اس سے قبل جون میں خام تیل و کنڈنسیٹ کی بر آمد نہیں کی گئی تھی جبکہ مئی میں 40645 ٹن خام تیل و کنڈنسیٹ بر آمد کیا گیا تھا ، اسی طرح مارچ میں 40 ہزار ٹن، دسمبر 2016میں 40 ہزار ٹن اور اکتوبر 2016میں 44384ٹن خام تیل و کنڈنسیٹ بر آمد کیا گیا ، پاکستان سے خام تیل و کنڈنسیٹ کے ساتھ ساتھ نیفتھا بھی بر آمد کیا جاتا ہے اور گزشتہ ماہ جولائی میں ملک سے 35964ٹن نیفتھا بر آمد کیا گیا ، نیفتھا کو عمومی طور پر پٹرول کی تیار ی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔
image

    سعودی عرب کی وزارت خزانہ نے 2017  کے میزانیہ کی دوسری سہ ماہی میں اپنی کارکردگی کا اعلان کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ کی رپورٹ میں مالیاتی ڈیٹا ، آمدن کا موازنہ ، اخراجات اور خسارے اور سرکاری قرضوں کا گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی کی بجٹ کارکردگی سے موازنہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بجٹ خسارے میں بیس فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ آمدن میں معمولی سا اضافہ ہوا ہے اور اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں آمدن میں 6 فی صد اضافہ ہوا ہے اور اس کی مالیت 163.9ریال ہے  ، تیل کی آمدن میں 28 فی صد اضافہ ہوا ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تیل سے حاصل ہونے والی آمدن بڑھ کر 101 ارب ریال ہوگئی ہے۔ دوسری سہ ماہی میں سرکاری اخراجات میں 1.3 فی صد کمی واقع ہوئی ہے اور بجٹ خسارہ کم ہو کر 46.5ارب ریال رہ گیا ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران میں یہ خسارہ 58.4ارب ریال تھا۔ مئی میں اس سال کے میزانیے کی پہلی سہ ماہی رپورٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق بجٹ خسارے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 71 فی صد کمی واقع ہوئی تھی۔ آمدن میں 144 ارب ریال کا اضافہ ہوا تھا اور اخراجات 170 ارب ریال رہے تھے۔
image

پاکستان پوسٹ کو گزشتہ 3سالوں کے دوران 20ارب40کروڑ روپے سے زائد خسارہ ہوا، مالی سال2013-14میں پاکستان پوسٹ کو 6588.540ملین   روپے کا نقصان ہوا۔   مالی سال 2015-16میں پاکستان پوسٹ نے 10231.383ملین روپے کا ریونیو حاصل کیا جبکہ اسی دوران ادارے کے اخراجات17720.307ملین روپے رہے جس سے ادارے کو مالی سال 2015-16میں7488.924ملین روپے نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان پوسٹ کو مجموعی طور پر مالی سال2013-14 تا مالی سال2015-16تک 20ارب40کروڑ85لاکھ30ہزار روپے کا خسارہ ہوا۔ 
image

گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں  9فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملک میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ چین کی جانب سے اس عرصہ کے دوران میں ایک ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کی منتقلی نے بھی ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری پر اچھے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2016سے لیکر جون 2017 کے اختتام تک ملک میں مجموعی طورپر 2.157ارب ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی جبکہ اس سے پیوستہ سال میں غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 1.976ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سب سے زیادہ غیرملکی سرمایہ کاری میں چین سرفہرست رہا جس نے اس عرصہ میں  مجموعی طورپر 1.185ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی۔ ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری میں نیدر لینڈ دوسرے نمبر پر رہا جس نے اس عرصہ میں پاکستان میں مجموعی طور پر 483ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ترکی کی جانب سے ڈائولنس کی خریداری نے بھی پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری پر اچھے اثرات مرتب کئے ہیں اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں 135ملین ڈالر آئے ہیں۔  
image

گزشتہ مالی سال کے دوران مختلف قسم کی کھادوں کی برآمدات میں 100فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارہ شماریات پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق 30جون 2017کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران کھادوں کی برآمدات میں پیوستہ سال کے مقابلے میں مجموعی طورپر100فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق اس دوران مجموعی طور پر44ہزار250میٹرک ٹن کھاد برآمد کی گئی جس سے 10.58ملین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2015-16میں کھادوں کی برآمدات نہیں ہوسکی تھیں۔  
image

 بنگلہ دیش مارکیٹ میں چائے کے نرخوں میں کمی ہوئی جس کی وجہ اس کی وافر سپلائی ہے تاہم بڑھتی طلب کے باعث قیمتوں میں کمی محدود رہی۔ عالمی میڈیا نے قومی بروکرز ذرائع کے  حوالہ سے بتایا کہ  گزشتہ روز ہونے والی بولی کے دوران چائے کی  اوسط قیمت 207.12  ٹکے فی کلوگرام رہی۔ ایک ہفتہ قبل ہونے والی نیلامی میں اس کی اوسط قیمت 209.64  ٹکے فی کلوگرام رہی تھی۔ مارکیٹ میں لائی گئی 2.80 ملین کلوگرام چائے میں سے 24.5  فیصد چائے فروخت نہ ہوسکی۔ ایک ہفتہ قبل نیلامی کیلئے لائی گئی 2.53 ملین کلوگرام چائے میں سے  22  فیصد چائے فروخت نہ ہوسکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سیزن کے دوران بنگلہ دیش کی چائے کی پیداوار 27 فیصد اضافے کے ساتھ 85  ملین کلوگرام رہی تھی جو ایک ریکارڈ ہے۔  
image