17 جولائی 2018
تازہ ترین
پاکستان
ہائیکورٹ نے نوازشریف، مریم اور محمد صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا جب کہ سابق وزیراعظم کی دیگر دو ریفرنسز کی دوسری عدالت منتقلی کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ  نے تینوں درخواستوں کی علیحدہ علیحدہ سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر مسلم لیگ ن  کے رہنما راجہ ظفر الحق، پرویز رشید اور بیرسٹرظفراللہ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے پہلے نوازشریف کی جانب سے فلیگ شپ اور العزیزیہ کے ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی کی اپیل مسترد ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کیا اور احتساب عدالت کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس محسن اختر نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ ریفرنسز کی کیا سٹیج ہے؟ بار ثبوت آپ پر شفٹ کردیا گیا؟ یہ جج کا تعصب تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کے تعصب یا پرسنل گرج کی بات نہیں، جج ایک ریفرنس میں اپنی رائے قائم کرکے فائنڈنگ دے چکے ہیں، فیئرٹرائل کے لیے مناسب یہی ہے کہ دیگر دو ریفرنسز وہ نہ سنیں، دیگردو ریفرنسز میں واجد ضیا پر جرح کررہا ہوں، وہ دونوں ریفرنسز میں مشترکہ گواہ ہیں۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ باقی دو ریفرنسز پر کیا رائے دی گئی ہے؟ کیا فیصلے میں دیگر ریفرنسز پر کوئی فائنڈنگ دی گئی ہے؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ یہ کیس نہیں ہے، وہ ایک کیس میں اپنی مکمل رائے دے چکے ہیں، جج محمد بشیر دیگر دو ریفرنسز کو نہیں سن سکتے۔ عدالت نے نوازشریف کی ریفرنسز منتقلی کی درخواست سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل قابل سماعت قرار دے دی۔ تاہم عدالت نے نوازشریف کی جانب سے فیصلے تک حکم امتناع دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نیب کونوٹس جاری کردیئے اور درخواست کی مزید سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔ اس کے بعد عدالت نے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن  ریٹائرڈ صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت شروع کی اور خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کیا۔ سماعت کے آغازپر جسٹس گل حسن نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ نیب لندن فلیٹس کی قیمت بتانے میں ناکام رہا؟ اس پر انہوں نے جواب دیا جی ہاں ایسا ہی ہے۔ نوازشریف کے وکیل نے استدعا کی کہ اپیل کے فیصلے تک سزائیں معطل کی جائیں جس پر جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیئے کہ سزا معطلی پر بھی نوٹس جاری کردیتے ہیں۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ عام طور پر بچے والدین کے زیر کفالت ہوتے ہیں، دوران جرح واجد ضیائ نے تسلیم کیا کہ بچے نوازشریف کے زیرکفالت ہونے کے ثبوت نہیں ملے، نواز شریف کو یہ نوٹس ہی نہیں دیا گیا کہ کیا بچے اس کے زیر کفالت تھے یا نہیں۔ بے نامی دار کی تعریف نیب آرڈیننس میں کردی گئی ہے، ان کے موکل پر فرد جرم عائد کی گئی کہ اثاثے بے نامی دارکے نام تھے، کسی گواہ نے نہیں کہا کہ بچے نواز شریف کے بے نامی دار ہیں۔ جسٹس محسن نے سوال کیا کہ ٹائٹل دستاویزات ریکارڈ پر آئیں؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ جی ان دستاویزات میں نوازشریف کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا، واجد ضیا سے پوچھا انہوں نے کہا نوازشریف کا کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، کمپنیزکے کنٹرول سے متعلق بھی انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ جسٹس محسن نے سوال کیا کہ شواہد کی کڑی مسنگ ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جی سر بالکل۔ جسٹس محسن نے مزید سوال کیا کہ بچوں کے میڈیا پر انٹرویوز سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ بچوں کے انٹرویوزکے علاوہ نواز شریف نے بھی خطاب کیا، انہوں نے کبھی ان اثاثوں کی ملکیت تسلیم نہیں کی۔ جسٹس گل حسن نے سوال کیا کہ کس نے ٹیکس ادا کیا؟ مورگیج کا اصول کیا تھا؟ جسٹس محسن نے پوچھا کہ آپ یہ تسلیم نہیں کرتے؟ خواجہ حارث نے جسٹس محسن کے سوال پر جواب دیا کہ جی ہاں بالکل۔ جسٹس محسن نے کہا کہ سارے معلوم ذرائع ریکارڈ پر آگئے ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ سارے معلوم ذرائع ریکارڈ پر نہیں آئے، یہ ایک الگ دلچسپ کہانی ہے، جرح کے دوران واجد ضیا نے منی فلو چارٹ سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلوں پرنیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

نیب نے اسحاق ڈار کیخلاف مزید گھیرا تنگ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مدد مانگ لی، اسحاق ڈار نے کتنے الیکشن لڑے، الیکشن کمیشن نے نیب کو تفصیلات فراہم کر دی، نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے نیب کو انتخابی اخراجات اور دیگر ریکارڈ پیش کر دیا گیا، نیب نے ریکارڈ ملنے کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا، واضح رہے کہ اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات جاری ہیں ۔  
image

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ آصف زرداری اور ان کی بہن سندھ کا پیسہ چوری کرتے ہیں۔ اڈیالہ جیل اب آصف زرداری اور شہباز شریف کا انتظار کر رہی ہے ، 22جولائی کو کراچی میں بڑا جلسہ کریں گے جس میں سندھ بھر سے لوگ شرکت کریں گے ۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر عوام کو لوٹا ، جتنی لوٹ مار سندھ میں ہوئی ہے وہ کسی صوبے میں نہیں ہوئی ۔ پیپلز پارٹی 10سال سے سندھ پر حکومت کر رہی ہے اور پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ کھل کر لوٹ مار کی ۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور ان کی بہن سندھ کا پیسہ چوری کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی والے سندھ کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک لے جاتے ہیں، 25جولائی کو عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے ۔ سندھ کی 75فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔ کسی صوبے میں اس طرح عوام کو لوٹا نہیں گیا جس طرح سندھ میں لوٹا گیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ 10سال سے حکومت کر رہے ہیں اور عوام کے لیے روٹی ، کپڑا اور مکان کا شور مچاتے ہیں۔ آصف زرداری الیکشن مہم میں نہیں آرہے ۔ اگر وہ الیکشن مہم میں آئیں گے تو ووٹ کم ہونگے ۔ اندرون سندھ 67فیصد بچوں کو صحیح خوراک نہیں ملتی ۔ آصف زرداری جمہوریت کی آڑ میں لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اور جب چوری پکڑی جائے تو جمہوریت کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی والے ڈرا کر عوام سے ووٹ لیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی عوام کو ڈرانے کیلیے پولیس اور غنڈوں کو استعمال کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری سن لو صرف آٹھ دن رہے گئے ہیں۔ اڈیالہ جیل اب شہباز شریف اور آصف زرداری کا انتظار کر رہی ہے ۔ بلاول بھٹو عوام میں نہیں آرہے ۔ وہ سب کچھ چار دیواری میں ہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ جی ڈی اے کے ساتھ ملکر زرداری کو شکست دیں گے ۔  آصف زرداری نے ایک بچے کوا لیکشن لڑنے کے لئے بھیج دیا ہے ۔ بلاول کو سندھ کے مسائل کا پتہ ہی نہیں۔ سندھ کے عوام کو پانی ، صحت اور غربت جیسے مسائل کا سامنا ہے ۔ پیپلز پارٹی والے کسانوں کو سزا دینے کے لئے ان کا پانی بھی بند کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 22جولائی کو کراچی میں بڑا جلسہ کریں اور سندھ بھر سے عوام جلسے میں شرکت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شکل والے بھائیوں نے مجھ پر 32ایف آئی آر درج کروائیں۔ یہ لوگ 30سال سے باریاں لے رہے ہیں۔ زرداری کو تو اتنا نہیں پتہ کہ ان کا کتنا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے ؟
image

بھارتی دہشتگرد کلبھوشن سنگھ یادیو کے معاملے پر پاکستان نے عالمی عدالتِ انصاف میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے جس میں مودی سرکار کے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی دہشتگرد کلبھوشن سنگھ کے معاملے میں یہ پاکستان کی جانب سے جواب الجواب میں پہلا جواب ہے تاہم عالمی عدالت میں جمع جوابات میں مجموعی طور پر دوسرا جواب ہے جسے ڈائریکٹر انڈیا کے عہدے پر فائز ڈاکٹر فاریحہ بگٹی نے جمع کرایا۔ پاکستان کی جانب سے جواب میں بھارتی سوالات پر تفصیل سے جواب دیا گیا ہے۔ پاکستان نے اپنے جواب میں بھارت کے تمام اعتراضات کے جوابات دیے ہیں۔پاکستانی جواب 400 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے پاکستان نے بھارتی دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن یادیو کے کیس میں اپنا جواب 13 دسمبر 2017ء کو جمع کرایا تھا۔ پاکستانی جواب اٹارنی جنرل کی سربراہی میں ماہرین کی ٹیم نے مرتب کیا ہے۔
image

نگراں حکومت نے نواز شریف کو جیل میں سہولیات کی فراہمی کیلئے شہباز شریف کے خط کا جواب دیدیا۔ جس میں لکھا گیا کہ سابق حکومت جو سہولیات اپنے دور میں دے رہی تھی نگراں حکومت بھی وہ ہی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جوابی خط میں نگراں حکومت نے کہا  ہے کہ سابق حکومت قیدیوں کو جوسہولتیں دےکر گئی وہی سہولتیں اب بھی دی جارہی ہیں ۔ سابق حکومت نے جیلوں میں جو غسل خانے دیئے تھے وہی نگراں حکومت بھی دے گی۔ نگراں وزیرقانون پنجاب ضیا حیدررضوی نے کہا ہے کہ معاملات بہتر کرکے قیدیوں کو سہولتیں دے رہے ہیں،اگر جیل کے غسل خانوں کی حالت اچھی نہیں ہے تو سابق حکومت کو اس جانب توجہ دینی چاہئے تھی۔
image

نگراں حکومت نے نواز شریف کو جیل میں سہولیات کی فراہمی کیلئے شہباز شریف کے خط کا جواب دیدیا۔ جس میں لکھا گیا کہ سابق حکومت جو سہولیات اپنے دور میں دے رہی تھی نگراں حکومت بھی وہ ہی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جوابی خط میں نگراں حکومت نے کہا  ہے کہ سابق حکومت قیدیوں کو جوسہولتیں دےکر گئی وہی سہولتیں اب بھی دی جارہی ہیں ۔ سابق حکومت نے جیلوں میں جو غسل خانے دیئے تھے وہی نگراں حکومت بھی دے گی۔ نگراں وزیرقانون پنجاب ضیا حیدررضوی نے کہا ہے کہ معاملات بہتر کرکے قیدیوں کو سہولتیں دے رہے ہیں،اگر جیل کے غسل خانوں کی حالت اچھی نہیں ہے تو سابق حکومت کو اس جانب توجہ دینی چاہئے تھی۔
image

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے 12جولائی سے دو روز پہلے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا ریلی کے ذریعے ایئر پورٹ  پر استقبال نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔  تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے نواز شریف کے استقبال کیلئے جانے والی 12جولائی کو ائیر پورٹ جانے والی ریلی کا پروگرام 2روز قبل منسوخ کر دیا تھا اور 12جولائی کو مسلم لیگ ن کے سینئر رہنمائوں خواجہ آصف،پرویز رشید ،خواجہ سعد رفیق ،مشاہد حسین سیداور مشاہد اللہ خان کو بھی فیصلے سے مشاروت آگاہ کردیا تھا جس پر خواجہ آصف ،پرویز رشید اور مشاہد حسین نے فیصلہ ماننے سے انکار کردیا تھا لیکن پارٹی قائد کے اٹل فیصلے کے بعد انہیں مجبوراً سر خم ہونا پڑا لیکن مشاہد اللہ خان نے شہباز شریف کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور اپنے چند کارکنوں کے ساتھ قائد کے استقبال کیلئے ایئر پورٹ پہنچے اور شہباز شریف متعدد رہنمائوں کے ہمراہ ایئر پورٹ سے 5کلو میٹر دور جوڑے پل پر ہزاروں کارکنوں کے ساتھ کھڑے رہے  اس کے علاوہ انہیں آئی جی پنجاب کلیم امام نے بھی  شہباز شریف کو ایئر پورٹ پہنچنے کی صورت میں سنگین خطرات سے آگاہ کردیا تھا  اور ریلی کے دوران  شہباز شریف اور آئی پنجاب کا ٹیلی فونک رابطہ بھی مسلسل برقرا رہا  ۔
image

 انٹربینک میں روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور آج بھی ڈالر میں اب تک 76 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے۔  گزشتہ روز انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں تاریخی کمی آئی اور ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 128 روپے 26 پیسے تک پہنچا جو کاروبار کے اختتام پر 127 روپے 99 پیسے پر بند ہوا۔ فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں آج بھی ڈالر کی قدر میں 76 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے جس کے بعد ڈالر 128 روپے 75 پیسے کا ہوگیا ہے۔ فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر 129 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
image

مسلم لیگ ن  اڈیالہ جیل میں نوازشریف کی غیر موجودگی میں دیگر دو ریفرنسز کی سماعت پر سوالات اٹھادیئے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ نواز شریف نے ایک دن کے لیے بھی بیگم کی عیادت کے لیے عدالت سے اجازت مانگی تو انہیں اجازت نہیں دی جاتی تھی، وہ عدالت کے حکم پر حاضر ہوتے تھے، سوا سو دن وہ، ان کی بیٹی اور داماد بغیر کسی وقفے کے عدالت میں حاضر ہوتے رہے اور عدالت کے بلانے پر دن میں دو مرتبہ بھی آئے۔  آج مقدمے کی سماعت نوازشریف کو عدالت میں لائے بغیر کی جارہی ہے، جو کارروائی  ہوئی اس میں نواز شریف کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، کچھ دن پہلے تک تو اصول یہ تھا کہ تینوں ضرور حاضر ہوں تاکہ مقدمے کی کارروائی کی جائے لیکن آج اصول یہ ہے کہ تینوں کو عدالت نہیں لانا تاکہ عدالت کی کارروائی جاری رکھی جائے ایک دن پہلے وہ اصول کیوں تھا اور آج یہ دوسرا اصول کیوں ہے؟ ن  لیگ کے رہنما نے کہا کہ ہماری آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں اس پر ہمارے سوال ہیں، اس کے جواب ہمیں ملنے چاہئیں کہ یہ فرق کیوں ہے؟ پہلے عدالت میں لانا اور اب چھپانا کیوں ضروری سمجھا جارہا ہے؟ کیوں نواز شریف کو سماعت پر پیش ہونے کا قانونی حق نہیں دیا جارہا ہے؟ کون سی بات ہے جسے خفیہ رکھا جارہا ہے؟ کیوں نواز شریف کی تصویر، موجودگی اور حاضری سے گریز کیا جارہا ہے؟ ہم اس بات پر پریشان ہیں کہ پاکستان کے ایک رہنما کو عوام کی نظروں سے کیوں پوشیدہ رکھا جارہا ہے؟  نوازشریف کے ساتھ پچھلے تین چار دنوں میں کون سا ایسا سلوک کیا گیا جسے کرنے والے اب پریشان ہیں اور وہ انہیں، ان کی بیٹی اور داماد کو عدالت میں نہیں لائے، عدالت کو ان سوالات کا جواب دینا چاہیے تاکہ لوگوں کی تسلی ہو۔  ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت اس امید سے سننا چاہتے ہیں جتنی تیز رفتاری سے نواز شریف کو احتساب عدالت سے سزا سنائی گئی، جس طرح فاسٹ ٹریک پر مقدمہ چلایا گیا، چند ہفتوں میں سزا سنائی گئی اس سزا کےخلاف اپیل کو کس رفتار سے چلایا جائے گا؟ یقین ہے جس تیز رفتاری سے سزا کا فیصلہ کیا گیا اسی طرح اپیل کا فیصلہ بھی کیا جائےگا، یہ نہیں ہوگا کہ سزا سنانے کی رفتاری ہزار میل فی گھنٹہ ہو اور اپیل کچھوے کی رفتار سے چل رہی ہو، اسے بھی خرگوش کی رفتار سے چلایا جائے تاکہ سزا دینے اور اپیل دینے کی رفتار کا ایک ہی معیار ہو۔ پانچ سال ہماری حکومت رہی، بتایا جائے کس سیاسی رہنما پر اس طرح کا مقدمہ چلایا جس طرح کا نوازشریف پر چلا، پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال بتادیں، بتایا جائے کون سے سیاسی رہنما کو روزانہ کی بنیاد پر کسی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ہو۔   2018 تک دھرنے اور احتجاج بھی ہوئے لیکن ن لیگ کی حکومت پر کوئی انگلی نہیں اٹھاسکتا کہ ہم نے جبر کا کوئی ہتھکنڈہ استعمال کیا ہو، جنہوں نے پی ٹی وی پر حملہ کیا وہ دندناتے رہے، انہیں مفرور قرار دیا گیا لیکن انہیں کسی نے گرفتار نہیں کیا، وہ اپنی مرضی سے عدالت میں گئے انہیں فی الفور ضمانت کی سہولت ملی۔
image

اسلام آباد ہائیکورٹ نے گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کی تقرری کے خلاف 22 سینیٹرز کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تقرری قانون کے مطابق قرار دی ہے۔  پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے 22 سیینٹرز نے گورنر سٹیٹ بینک کی تقرری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کی تھی جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے درخواست گزاروں کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کی تقرری کو عین قانون کے مطابق قرار دیا۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ گورنرسٹیٹ بینک کی تعیناتی میں مسابقتی عمل اختیار نہیں کیا گیا اس لیے انہیں عہدے سے فارغ کیا جائے۔
image

 سپریم کورٹ نے ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کےخلاف حنیف عباسی کی درخواست مسترد کردی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسداد منشیات کی عدالت کو مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کے خلاف ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کا حکم دے رکھا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق حنیف عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔ حنیف عباسی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حنیف عباسی کے خلاف ایفی ڈرین کیس 2 اگست کے لیے مقرر تھا، عدالت نے درخواست گزار شاہد اورکزئی کی درخواست پر کیس 16 جولائی کےلئے مقرر کر دیا۔ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں بنتا کہ کیس کو طے شدہ تاریخ سے پہلے سنے۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 203 کے تحت ہائیکورٹ کا اختیار بنتا ہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ نے عدالتی فیصلے میں رضامندی ظاہر کی ہے۔ کامران مرتضیٰ نے موقف اپنایا کہ میں بیان حلفی دینے کو تیار ہوں، کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی، سپریم کورٹ نے درخواست گزار شاہد اور کزئی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اگر پابندی لگائی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ شہری کا حق بھی نہیں رہا۔ عدالت نے کامران مرتضیٰ کے دلائل سننے کے بعد حنیف عباسی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
image

 ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ دینے والے جج محمد بشیر نے نواز شریف کے خلاف مزید 2 ریفرنسز کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت چاہے تو میرا ٹرانسفر کردے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھیجے گئے  ایک خط میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا ہے کہ میں ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کرچکا ہوں اور اب العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت نہیں کرسکتا ہائی کورٹ چاہے تو مجھے ٹرانسفر کردے، مزید کہا گیا ہے کہ ان دونوں ریفرنسز کی سماعتیں دوسری عدالت منتقل کردی جائیں کیوں کہ نواز شریف کے وکیل نے بھی مجھ پر اعتراض کردیا ہے۔ 
image

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس مختصر سماعت کے بعد عدالتی کارروائی  ملتوی کردی گئی۔ جوڈیشل کمپلیکس میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے دونوں ریفرنسز کی سماعت کی تو اس موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جگہ معاون وکیل سعد ہاشمی پیش ہوئے اور نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے نیب کی جانب سے پیروی کی۔ سماعت شروع ہوئی تو نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں شریف فیملی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہیں، اس موقع پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے کیا حکم ہوتا ہے اس کا انتظار کر لیتے ہیں۔ فاضل جج نے مکالمے کے دوران نواز شریف کے وکیل کو کہا کہ آپ کی دونوں درخواستیں ہائیکورٹ بھیج دی تھیں جس پر وکیل سعد ہاشمی نے کہا ہم نے بھی ریفرنس دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست دائر کی ہے جس پر جج نے استفسار کیا کہ کیا لگتا ہے آج فیصلہ آ جائے گا۔ اس موقع پر جج محمد بشیر نے کہا کہ میں نے بھی ایک درخواست ہائیکورٹ میں دی ہے لیکن وہ تو انٹرنل سنی جائے گی جب کہ سنا ہے وزارت قانون نے بھی جیل ٹرائل کا کہا ہے جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ہمیں اس نوٹیفکیشن کا نوٹس نہیں ملا۔ فاضل جج نے استفسار کیا کہ خواجہ حارث کب آئیں گے، ان سے طے کریں گے کہ جیل ٹرائل اور دیگر دو ریفرنسز کا کیا کرنا ہے جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔ نواز شریف کے جیل میں ٹرائل سے متعلق صحافی نے فاضل جج سے سوال کیا کہ جیل ٹرائل کے دوران کیا میڈیا کو کوریج کی اجازت ہو گی، جیل کے باہر کھڑے ہو کر مستند رپورٹنگ نہیں ہو سکتی۔ صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں ٹرائل کی رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی جائے جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ صحافیوں کو نواز شریف کا جیل ٹرائل کور کرنے کی اجازت ہو گی تاہم اس کے لیے ان کے خصوصی پاس بنوائے جائیں گے۔
image

افغان صدر اشرف غنی نے  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ کرکے حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔  ترجمان پاک فوج کے مطابق افغان صدر نے پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی مزید بہتر بنانے کی بھی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پاکستان میں انتخابات کے دوران سیکیورٹی فورسز سے تعاون کریں گے،  پاک فوج کے سربراہ نے افغان صدر کا شکریہ ادا کیا۔
image

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایک بار پھر سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ میانوالی میں جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی قرضہ ہے، پاکستان میں ٹیکس سے جو پیسہ اکٹھا ہوتا ہے وہ قومی خزانے میں نہیں جاتا بلکہ چوری ہوتا ہے، اس لئے قوم قرض لے کر غریب ہو رہی ہے، قرض کی قسطیں واپس کرنے کے لئے ٹیکس لگا دیتے ہیں ، بری خبر یہ ہے کہ ڈالر جو 10 سال پہلے 60 روپے کا تھا آج 130 پر پہنچ گیا ہے، روپے کی قدر کم ہونے سے قوم پر ایک ہزار ارب روپے کا قرض بڑھ گیا ہے، قرضے واپس کرنے کے لئے ٹیکس لگے گا جس سے مہنگائی بڑھے گی ، یہ لوگ یہاں سے پیسہ چوری کر کے باہر بھیجتے ہیں اور ان کے بچے اربوں پتی ہیں، پوچھو پیسہ کہاں سے آیا تو کہتے ہیں بچے برطانیہ کے شہری ہیں، وہ جواب دہ نہیں ، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ چور آگئے، جب وزیر خزانہ اور وزیراعظم چوری کرتے ہیں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے بلی کو دودھ کی رکھوالی پر لگا دو، اس کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں ، بجلی 400 فیصد مہنگی گئی ہے، نوازشریف کے پانچ سال میں دنیا میں تیل نیچے آیا، آدھی بجلی تیل سے بنتی ہے لیکن اس کے باوجود بجلی کی قیمتیں بڑھیں ، 10 سال پہلے گیس 150 روپے یونٹ پر تھی جو آج 573 روپے فی یونٹ ہے، ان سالوں میں گیس کہاں گئی، جب بجلی گیس کی قیمت بڑھتی ہے تو عوام کے پاس پیسہ کم ہو جاتا ہے ، جب ن لیگ والے ووٹ مانگنے آئیں تو پوچھنا کہ 10 سال سے پنجاب میں ہیں، پانچ سال سے وفاق میں ہو، ایک چیز اور ادارہ تو بتائو جو ٹھیک کیا ہو ، پانچ سال میں پی آئی اے، واپڈا،  سٹیل ملز اور ریلوے میں 3600 ارب روپے کا نقصان ہوا، یہ عوام کا نقصان ہوا ہے جو ان حکمرانوں نے کیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ الیکشن میں نظریے کو ووٹ دیں، جو پی ٹی آئی کے لوگ آزاد کھڑے ہو گئے ہیں، وہ تحریک انصاف اور ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں کیونکہ آزاد امیدوار کچھ نہیں کر سکتا ، حکومت بنا کر ہی تبدیلی لائی جا سکتی ہے، آزاد امیدوار کیسے ملک کا فائدہ کر سکتا ہے، وہ اپنا فائدہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ منتخب ہو کر اپنے آپ کو نیلام کرے گا ،  عوام کا فائدہ صرف سیاسی جماعت ہی کر سکتی ہے، پی ٹی آئی اقتدار میں آ کر ملک کے نظام کو ٹھیک کرے گی جس میں عوام کا فائدہ ہے ، گزشتہ دور حکومت میں کسان پسا ہے لیکن ہم حکومت میں آکر زراعت کے شعبے کو ٹھیک کر سکتے ہیں، حکومت اپنے کسانوں کی دیکھ بھال کرتی ہے لیکن یہاں ان لوگوں نے کسانوں کا قتل کر دیا ، خیبر پختون خوا میں ایک ارب 18 کروڑ درخت اگائے جب کہ یہاں ان لوگوں نے جنگل تباہ کر دیا، ہم آنے والی نسلوں کی بہتری کے لئے جنگلات بنائیں گے۔
image

  ایران کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل ڈاکٹر محمد باقری نے جنرل ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر  کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سلامتی کی صورتحال سمیت دفاعی تعاون اور پاک ایران سرحدی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک ایران فوجی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاک ایران فوجی تعاون خطے میں امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال پر مثبت اثر ڈالے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق معزز مہمانوں نے پاک ایران بہتر تعلقات کے لئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا جب کہ ایرانی وفد نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی بھی مذمت کی۔  
image

 مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے نوازشریف کو جیل میں سہولیات کیلئے نگران حکومت کو خط لکھ دیا۔ ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سزا پانے والے نوازشریف ان دنوں اڈیالہ جیل میں قید ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ روز اپنے وکلا سے جیل میں سہولیات کی عدم فراہمی پر شکوہ کیا تھا۔نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ ن  کے صدر شہبازشریف نے نگران وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک اور نگران وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کے نام خط لکھے ہیں جس میں نوازشریف کو سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کو سابق وزیراعظم کے استحقاق کے مطابق سہولتیں دی جائیں، انہیں طبی معائنے اور ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔  میاں نوازشریف کو دل کا عارضہ ہے اس لیے ان کے ذاتی معالج کو تواتر کے ساتھ طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔  شہبازشریف کا خط نگران وزیراعظم اور نگران وزیراعلیٰ پنجاب کو پہنچا دیا گیا ہے۔
image

پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 127 روپے 99 پیسے تک پہنچ گیا۔ انٹر بینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں کاروبار کے دوران امریکی ڈالر کی قیمت میں 6 روپے 75 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد ایک ڈالر 128 روپے 26 پیسے کا ہوگیا۔ کاروبار کے دوران ایک موقع پر ڈالر 126 روپے کی سطح پر پہنچا جس کے بعد اس میں کمی دیکھی گئی اور ایک ڈالر 125 روپے 50 پیسے پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ ٹریڈنگ کے دوران امریکی ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر ساڑھے 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ڈالر 128 روپے 26 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔  انٹر  بینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں 6 روپے 45 پیسے تک اضافہ ہوا اور ڈالر 127 روپے 99 پیسے پر بند ہوا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق ڈالر مہنگا ہونے سے حکومت کے بیرونی قرضوں میں 800 ارب روپے کا اضافہ ہوا جو بڑھ کر 8 ہزار 120 ارب روپے ہوچکا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مئی کے اختتام  پر حکومت کا بیرونی قرض 7 ہزار 324 ارب روپے تھا اور مئی میں بیرونی قرضوں کی مالیت روپے میں 115.61 کی شرح تبادلہ سے نکالی گئی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ادائیگیوں کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور ڈالر مہنگا ہونے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔  
image

 صوبہ سندھ کے ضلع مٹیاری کے قریب قومی شاہراہ پر مسافر بس اور ٹرالر  میں تصادم سے 17 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے۔ سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس  مٹیاری زاہد حسین شاہ کے مطابق حادثہ مٹیاری اور بھٹ شاہ کے درمیان قومی شاہراہ پر پیش آیا۔  سکرنڈ سے حیدرآباد جانے والی باراتیوں سے بھری بس کا ٹائر پنکچر ہونے پر اسے سڑک کنارے کھڑا کرکے ٹائر بدلا جارہا تھا کہ ایک تیز رفتار ٹرالر نے بس کو ٹکر دے ماری۔ حادثے  میں 17 افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہوگئے۔ جاں بحق افراد میں 5 خواتین اور 2 بچے بھی شامل ہیں۔ حادثے کے زخمیوں کو بھٹ شاہ اور ہالا کے ہسپتال منتقل کیا گیا، دوسری جانب لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد ایدھی سرد خانے منتقل کردیا گیا، جہاں سے انہیں آبائی علاقے کی جانب روانہ کیا جائے گا۔ حادثے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کا تعلق زئنور برادری سے تھا۔
image

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا کے خلاف اپیل کل سماعت کے لئے مقرر کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نواز شریف، مریم نواز اور  صفدر کی اپیلیں مارکنگ کے لئے چیف جسٹس آفس بھجوائیں جسے کل سماعت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ کل سماعت کرے گا۔ ہائیکورٹ میں دائر اپیل میں احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور اپیل پر فیصلہ آنے تک سزا معطل کر کے مجرموں کو ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اپیل کے متن کے مطابق احتساب عدالت نے انصاف کے تقاضے پورے کئے بغیر سزا سنائی جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بری کیا جائے۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ ضمنی ریفرنس اور عبوری ریفرنس کے الزامات میں تضاد تھا، صفائی کے بیان میں بتا دیا تھا کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا اس لئے شک کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے اس لئے سزا سنا کر احتساب عدالت کے جج قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔  اڈیالہ جیل میں قید تینوں مجرموں کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا کہ واجد ضیائ کے بیان کی بنیاد پر سزا سنائی گئی جو تفتیشی افسر تھے لیکن انہیں بہت سے حقائق کا علم ہی نہیں تھا، واجد ضیائ کا بیان ناقابل قبول اور غیر متعلقہ شہادت ہے۔ اپیل میں کہا گیا کہ واجد ضیا ایسی دستاویز نہیں پیش کر سکتے جس کے وہ گواہ نہ ہوں اور ان کی گواہی محض سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے۔ اپیل میں کہا گیا کہ نواز شریف نے کبھی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا اور استغاثہ نواز شریف کے اپارٹمنٹس کے مالک ہونے کے ثبوت پیش نہیں کر سکا جب کہ استغاثہ نے بھی تسلیم کیا کہ نواز شریف کے فلیٹس کے مالک ہونے کے کوئی ثبوت نہیں۔ اپیل کے مطابق کرپشن اور بدعنوانی سے متعلق نیب آرڈیننس کی سیکشن 9 اے 5 کے تحت الزام ثابت نہیں ہوا، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی قیمت خرید بتائے بغیر سزا دینے کا جواز نہیں تھا جب کہ ضمنی ریفرنس میں نیا الزام لگایا گیا اور نواز شریف کو اسی ریفرنس کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔ اپیل میں کہا گیا کہ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف پر دوبارہ فرد جرم عائد کی جانی چاہئے تھی لیکن ایسا کئے بغیر سزا سنائی گئی اور احتساب عدالت نے شواہد کے بغیر فیصلہ سنایا۔ اپیل میں استدعا کی گئی ہے نواز شریف کو سزا دینے کا کوئی قانونی جواز نہ تھا اس لئے ان کے خلاف غیر قانونی فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ اپیل کے مطابق واجد ضیا  نے تسلیم کیا کہ بچوں کا نواز شریف کے زیر کفالت ہونے کا ثبوت نہیں ملا اور بچوں کو کاروبار چلانے کے لئے نواز شریف نے پیسہ دیا اس کا بھی ثبوت نہیں ملا جب کہ عدالت نے واجد ضیا  کے اس بیان کو مکمل نظر انداز کیا اور غلط مفروضے کی بنیاد پر سزا سنائی اور احتساب عدالت کا فیصلہ حقائق اور شواہد پر مبنی نہیں ہے۔ اپیل کے مطابق جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا  نے خود تسلیم کیا کہ ایم ایل اے کا جواب نہیں آیا اس کے باوجود الزام لگانا بدنیتی ہے جب کہ رابرٹ ریڈلے نے تسلیم کیا کہ اس نے خود کیلبری فونٹ ڈائون  لوڈ کیا اور انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ کمپیوٹر گیک نہیں ہے۔ اپیل کے متن کے مطابق واجد ضیا  نے کہا انہیں نہیں پتا 7 جولائی کو بی وی آئی کا خط جے آئی ٹی رپورٹ میں کس نے کب لگایا۔ اپیل کے متن میں کہا گیا کہ موزیک فونسیکا کے خطوط پوری سماعت کے دوران متنازع رہے، استغاثہ کی ذمہ داری تھی کہ خطوط کی متن کی تصدیق کرتا تاہم وہ اس میں ناکام رہا، بغیر تصدیق کے مریم نواز اور  صفدر پر معاونت کا الزام لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اپیل میں کہا گیا کہ معلوم ذرائع کون سے ہیں استغاثہ یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا جب کہ استغاثہ نواز شریف اور دیگر کے خلاف اپنا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا اس لیے دفاع میں گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپیل میں کہا گیا کہ احتساب عدالت کو فیصلہ ایک ہفتے تک موخر کرنے کی درخواست کی تھی لیکن احتساب عدالت نے درخواست مسترد کر کے غیر حاضری میں فیصلہ سنایا اور فیصلے میں نواز شریف اور دیگر کو کرپشن کے الزامات سے بری کیا گیا لیکن عدالت نے مجرم قرار دے کر سزائیں بھی سنا دیں 
image

 سفارتی ذرائع  نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی عدالت میں کلبھو شن یادیو کیس کے حوالے سے جوابات 17 جولائی کو جمع کرائے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے بھارتی اعتراضات پر پاکستان اپنا تحریری جواب 17 جولائی کو عالمی عدالت میں جمع کرائے گا۔ پاکستان کی جانب سے جواب دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فاریحہ بگٹی جمع کرائیں گی جو نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ پہنچ چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق 400 سے زائد صفحات پر مشتمل پاکستانی جواب اٹارنی جنرل کی سربراہی میں ماہرین کی ٹیم نے مرتب کیا، جس میں بھارت کے تمام اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے جواب الجواب میں یہ پہلا جواب ہوگا۔ پاکستان نے اس سے پہلے بھارتی دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن یادیو کے کیس میں اپنا جواب 13 دسمبر 2017 کو جمع کرایا تھا۔
image

 اڈیالہ جیل میں نواز شریف اور شہباز شریف کی ملاقات کے دوران نواز شریف نے گلے شکووں کے علاوہ شہباز شریف سے 13 جولائی کی ریلی کی فوٹیج مانگ لی اور شہباز شریف سے اس سلسلے میں تمام ملاقاتوں اور اجلاسوں سے متعلق بھی معلومات مانگ لی ہیں۔ ماں آپ گواہ رہنا جو خدشات تھے وہی نکلے ہیں ،نواز شریف کا شہباز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ماں سے سوال؟  شریف خاندان شہباز شریف کی قیادت میں نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل گئے اس موقع پر نواز شریف نے اپنی فیملی کے افراد سے ہٹ کر شہباز شریف سے گرمجوشی نہ دکھائی ۔ ماں شمیم اختر نے اس موقع پر نواز شریف سے پیار کیا اور کہا کہ میری د عا ہے آپ ہر میدان کو خوش اسلوبی سے فتح کریں گے ۔اس موقع پر نواز شریف نے شہباز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماں آپ گواہ رہنا میرے جتنے خدشات شہباز اور ان کی ٹیم سے متعلق تھے ان خدشات کو میری لندن سے آمد کے موقع پر تقویت ملی ہے اور میری گزارش ہے کہ تلخ تجربات کے باوجود شہباز شریف نے ایئرپورٹ پہنچنے کے لئے ریلی تاخیر سے کیوں نکالی ؟ اور جگہ جگہ پزیرائی حاصل کرنے کے لئے بے فائدہ وقت ضائع کیا ۔نواز شریف نے اس موقع پر شہباز شریف سے ریلی کی فوٹیج اور اجلاسوں سے متعلق تفصیلات بھی مانگ لی ہیں۔
image

 چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ جن لوگوں پر اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے کیسز ہیں ان کے ساتھ نہیں مل سکتے اور اقتدار میں آنے کا فائدہ ہی کیا جب منشور پر عمل نہ ہو۔ کوئٹہ کے سی ایم ایچ ہسپتال میں سانحہ مستونگ کے زخمیوں کی عیادت کے بعد پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے کہا کہ سانحہ مستونگ کے پیچھے ملک دشمن عناصر ہیں جو 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کا التوا چاہتے ہیں۔  الیکشن ملتوی ہوئے تو دہشت گرد کامیاب ہوجائیں گے، دہشت گردی کے خوف سے تحریک انصاف جلسے منسوخ نہیں کرے گی۔ دہشت گردی کا مقصد خوف پھیلانا اور الیکشن سبوتاږ کرنا ہے تاہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پورے ملک کو اکٹھا ہونا پڑے گا اور پولیس کو دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے بڑا کردار ادا کرنا پڑے گا۔  پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے جس کی وجہ سے ملک مقروض ہوگیا، پیسے کی قدر میں کمی ہوئی اور ملکی معیشت دیوالیہ ہوگئی۔
image

 بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ میں ہر قسم کے جلسے اور جلوسوں پر تاحکم ثانی پابند عائد کردی گئی۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ظفر علی بلوچ  نے کہا ہے  کہ سانحہ مستونگ اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ضلع بھر میں ہر قسم کے جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی گئی ہے جس کا اطلاق اگلے حکم تک رہے گا۔ انتخابی امیدواروں کے ساتھ صرف 5 گاڑیوں کی اجازت ہوگی۔  الیکشن میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ 
image

نگران وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ  ناصر الملک نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا اور سانحہ مستونگ میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ نگراں وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے۔گورنر بلوچستان اور نگراں وزیر اعلی علائو الدین مری نے نگراں وزیراعظم کا کوئٹہ آمد پر ایئرپورٹ استقبال کیا۔نگران وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا اور سانحہ مستونگ  کے زخمیوں  کی عیادت کی۔  نگران وزیراعظم نے  زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی اس موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،  نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علائو الدین اور نگران وفاقی وزیر ریلوے بھی موجود تھے۔ وزیراعظم بلوچستان عوامی پارٹی کے شہید رہنما سراج رئیسانی کی فاتحہ خوانی کیلئے سراوان  ہائوس  گے جہاں پر انہوں نے سانحہ مستونگ میں جاں بحق نوابزادہ سراج رئیسانی کے خاندان سے اظہار تعزیت  اور ان کی مغفرت کیلئے  دعا کی ۔عالاوہ ازیں نگران وزیراعظم جسٹس  ریٹائرڈ  ناصر الملک سے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی اور نگران وزیراعلیٰ علائو الدین مری نے گورنر ہائوس میں ملاقات کی ،ملاقات میں صوبے میں امن وامان کی صورتحال سمیت دیگر امور پر غور کیاگیا
image

عوامی سروے

سوال: الیکشن 2018 کیلئے کونسی جماعت آپکی فیورٹ؟