27 مئی 2018
تازہ ترین
پاکستان
خیبرپختونخوا اسمبلی میں آج خصوصی اجلاس ہوگا جس میں وفاق کے زیر انتظام فاٹااصلاحات بل کی منظوری دی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق آج خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہورہا ہے جس میں فاٹا اصلاحات بل کی منظوری دے دی جائے گی جبکہ مالاکنڈ سے ارکان اسمبلی  پاٹا کی حیثیت ختم کرنے پر بل کی توثیق سے پیچھے ہٹ گئے ہیں فاٹا کو ٹیکسوں سے استثیٰ ملنے کی صورت میں حمایت کا اعلان کیا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس آج سہ پہر 2 بجے ہوگا جو موجودہ اسمبلی کا آئینی مدت پوری ہونے پر اختتامی اجلاس ہوگا۔ فاٹا اصلاحات بل کی حمایت کرنے والی جماعتوں نے تمام ارکان کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں فاٹا اصلاحاتی بل کی منظوری بھی دی جائے گی۔ فاٹا اصلاحاتی بل میں پاٹا کو ختم کرنے پر مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آج ہونے والے اجلاس میں اصلاحاتی بل کی مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے رابطہ کرتے ہوئے مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے۔ اجلاس میں مالاکنڈ سے ارکان اسمبلی کی جانب سے پاٹا کی حیثیت ختم کرنے پر قرارداد بھی پیش کی جائے گی۔ دوسری جانب فاٹا اصلاحاتی بل کے خلاف جے یوآئی نے اسمبلی کے گھیرائو کا بھی اعلان کیا ہے اور آج  اجلاس کے وقت اسمبلی کے سامنے مظاہرہ کیا جائے گا۔

فاٹا انضمام کے خلاف جے یو آئی ف کا کے پی کے اسمبلی کے باہر احتجاج جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق جے یو آئی ف فاٹا  کے خیبر پختونخوا سے انضمام کے خلاف اسمبلی کے باہر احتجاج کر رہی ہے ۔ مظاہرین کے مطابق وہ  بل پاس نہیں ہونے دیں گے چاہے کچھ بھی ہو جائے۔جو بھی رکن اسمبلی آئے گا، اسکی گاڑی کو روکیں گے، اور اسمبلی ہال میں داخل ہوکر  سپیکر کے ڈائس کا گھیرائو بھی کریں گے ،  ووٹنگ نہیں ہونے دیں گے ۔ دوسری جانب  مظاہرین کی جانب سے شدید نعرے بازی جاری ہے اور ٹائر جلائے گئے ہیں۔  جبکہ  پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی بھی منظر عام پر آئی ہے ۔ 
image

سی ٹی ڈی نے چناب پل کے قریب کارروائی کرتے ہوئے 6 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جب کہ 3 دہشت گرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔نجی ٹی وی کے مطابق سی ٹی ڈی نے چناب پل کے قریب 9 دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی تو دہشت گردوں نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ کردی۔ سی ٹی ڈی کے اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان ایک گھنٹے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس  میں 6 مبینہ دہشت گرد ہلاک جب کہ 3 اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی گرفتاری کے لئے سرچ آپریشن جاری ہے اور علاقے میں ناکہ بندی کردی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گردوں میں صہیب، عبدالمقیم، فیصل، عثمان، عبدالعظیم اور رئوف شامل ہیں جن کے قبضے سے 2 خودکش جیکٹس، کلاشنکوف، ہینڈ گرینیڈ، اور بارودی مواد برآمد ہوا۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا ایک دہشتگرد صہیب جس کا نام ریڈ بک میں شامل تھا اور وہ لاہور دھماکوں میں بھی ملوث تھا۔
image

 خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے وفاق اور صوبوں کے زیرانتظام علاقوں فاٹا، پاٹا کو ٹیکس فری قرار دینے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو خط لکھا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے سپیکر کی جانب سے لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق بل میں پاٹا کو شامل کرنے سے بل کی ترمیم میں مشکلات پیدا ہوں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کو بل پر تحفظات ہیں اور انہوں نے علاقے کو 10 سال تک ٹیکس فری قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سپیکر اسمبلی اسد قیصر نے خط میں مزید کہا ہے پاٹا سے منتخب ارکان اسمبلی کا مطالبہ جائز ہے، فاٹا اور پاٹا دہشت گردی سے مثاثر ہوئے جب کہ آپریشن اور قدرتی آفات سے ان علاقوں کے لوگ بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت فاٹا اور پاٹا کو ٹیکس فری کرنے کا اعلامیہ جاری کرے۔
image

پاکستان نے فاٹا کے انضمام سے متعلق افغانستان کا بیان مسترد کر دیا، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ  فاٹا انضمام پر ہماری پارلیمان کا فیصلہ عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے، فاٹا انضمام کو رد کرنے کے افغان حکومت کے بیان کو مسترد کرتے ہیں ، افغانستان کا عدم مداخلت کے اصولوں پر عمل نہ کرنا افسوسناک ہے۔
image

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور کونسل کے ممبران وزرا اور سینئر حکام شرکت کریں گے۔ اجلاس میں چھٹی مردم و خانہ شماری کے حتمی نتائج منظوری کے لیے پیش کئے جائیں گے، مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کے بعد مردم و خانہ شماری کے حتمی نتائج جاری کیے جائیں گے۔ اجلاس میں مردم شماری کے 5 فیصد نتائج کی توثیق کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا جبکہ پٹرولیم و گیس کی پیداوار اور تقسیم کے مکینزم کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔  
image

 آصف علی زرداری نے الیکشن لڑنے کے لیے شہر منتخب کر لیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ الیکشن میں کسی کو اکثریت نہیں ملے گی، اکثریت ملنا عمران خان کا خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ انتخابات 2018 میں اپنی آبائی نشست نواب شاہ سے الیکشن لڑیں گے ۔سابق صدر نے اپنے کارکنان کو الیکشن کی تیاریاں کرنے کی ہدایت بھی کردی۔  
image

صدر مملکت ممنون حسین نے 25 جولائی کو عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ ملک بھر میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہوں گے،  صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی بھیجی گئی سمری پر تاریخ کی منظوری دے دی ہے۔ عام انتخابات کے تاریخ کا اعلان تو کر دیا گیا ہے تاہم حکومت اور اپوزیشن اب تک نگراں وزیراعظم کے لیے کسی ایک نام پر متفق نہیں ہوسکے ہیں۔ موجودہ حکومت کی آئینی مدت 31 مئی 2018 کو ختم ہوجائے گی اور اگر اس وقت تک حکومت اور اپوزیشن کسی نام پر متفق نہ ہوئے تو نگراں وزیراعظم کی تعیناتی کا اختیار پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔  
image

سابق را چیف امرجیت سنگھ دلت نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کلبھوشن یادیو کی تعیناتی بدترین غلطی تھی، کسی سینئر افسر کو کیسے کھلے عام بلوچستان یا چمن بھیج سکتے ہیں ؟ سابق را چیف امرجیت سنگھ دلت نے کتاب میں اعتراف کرتے ہوئے کہا آج تک آئی ایس آئی کے کسی ایجنٹ نے اپنی وفا داری نہیں بدلی ؟ کلبھوشن کے معاملے میں آئی ایس آئی کی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ ہوتا ہے، انھوں نے جاسوس کو فوراً ٹی وی کے سامنے پیش کر دیا۔ انہوں نے کتاب میں مزید کہا بھارت میں کچھ بھی ہو جائے الزام آئی ایس آئی پر ڈال دیا جاتا ہے، کارکردگی کے حوالے سے آئی ایس آئی را سے بہت آگے ہے، دنیا بھر کی تمام خفیہ ایجنسیوں میں سے آئی ایس آئی سب سے دلچسپ ایجنسی ہے، میں نے کہا تھا اگر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بن جائوں تو مجھے بے حد خوشی ہو گی۔ سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی نے کتاب میں دعویٰ کیا کہ کارگل جنگ جنرل مشرف کا جنون تھا، مکتی باہنی کا قیام اور سقوط ڈھاکہ  را  کی اہم کامیابیاں ہیں، آئی ایس آئی کشمیر میں تحریک آزادی کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پائی، نواز شریف کو کارگل آپریشن سے متعلق بہت کم معلومات تھیں،پاکستانی وزیر اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے، ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر آئی ایس آئی خود فیصلے کرتی ہے، حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے، الزام لگے گا کہ اسد درانی کے خلاف کارروائی بھارتی ایما پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے افغانستان میں سویت یونین کی شکست کو آئی ایس آئی کا بڑا کارنامہ قرار دیا۔سپائی کرانیکلز نامی کتاب پاک بھارت خفیہ ایجنسیز کے دو سابق سربراہوں کی گفتگو پر مبنی ہے۔
image

بھارت نے آبی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریائے چناب کا پانی روک دیا۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے بگلیہار ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے دریائے چناب میں 30 ہزار کیوسک پانی کم ہوگیا ہے۔  دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد صرف 20 ہزار کیوسک رہ گئی۔ ٰمئی 2017 میں اسی عرصے کے دوران دریائے چناب میں پانی کی آمد 50 ہزار کیوسک سے زیادہ تھی۔ پانی کی شدید قلت کے باعث ہیڈ پنجند کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کا اخراج صفر ہوگیا ہے۔ صورتحال برقرار رہی تو پنجاب اور سندھ کو پانی کی کٹوتی کا خدشہ ہے۔ بھارت نے دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم مشرف دور میں بنایا تھا۔ بھارت مسلسل نئے سے نئے ڈیمز بنا کر پاکستان کا پانی روکنے میں مصروف ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چند روز قبل ہی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا ڈیم کا افتتاح بھی کیا ہے۔ پاکستان نے اس معاملے کو عالمی بینک میں اٹھایا جو سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے تاہم عالمی بینک نے بھی بھارت کی آواز سے آواز ملاتے ہوئے پاکستان کے اعتراضات کو ناکافی قرار دے کر مسترد کردیا۔ بھارتی حکومت نے کشن گنگا ڈیم کا منصوبہ بھی گزشتہ دہائی میں پیش کیا جب پرویز مشرف کی حکومت تھی۔
image

 لاہور میں تھانہ غالب مارکیٹ کے دو اہلکاروں نے ایک شہری کو اہلخانہ سمیت مبینہ طور پر پولیس وین میں اغوا کیا اور 10 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا۔  اہلکاروں نے شہری سے 10 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا، لیکن 80 ہزار روپے پر مک مکا ہوگیا۔ جب خاتون فیروزہ نے 80 ہزار روپے کانسٹیبل مشتاق کو تھمائے تو ان کی کمسن بیٹی نے موبائل فون سے اس موقع کی فوٹیج بنالی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کانسٹیبل مشتاق نے ٹیبل کے نیچے کر کے رقم گنی اور پھر دراز میں رکھ لی۔ رہائی پاتے ہی شہری امجد نے سی سی پی او کو درخواست دے دی، جس پر ایس ایس پی ایڈمن نے انکوائری کا آغاز کیا۔ انکوائری میں نام سامنے آنے پر  اے ایس آئی امتیاز اور کانسٹیبل مشتاق نے تحریری معافی مانگ لی۔ معافی نامے کے مطابق امجد کی فیملی کو شبہ کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا، لیکن وہ تفتیش کے دوران بیگناہ نکلے۔ اہلکاروں نے مزید کہا کہ وہ رشوت میں لی گئی 80 ہزار رقم اور 3 تولے سونا واپس کرنے کو تیار ہیں۔ پولیس کے مطابق شہری امجد کے خلاف پہلے سے منشیات اور اسلحہ فروشی کے مقدمات درج ہیں، تاہم انکوائری جاری ہے۔
image

خیبرپختونخوا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگراں وزیراعلیٰ کے لیے منظورآفریدی کے نام پراتفاق ہوگیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ پرویزخٹک اورصوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا لطف الرحمان کے درمیان نگراں وزیراعلیٰ کے لیے ہونے والی گفت وشنید نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں۔ حکومت نے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے جے یوآئی ف  کے تجویز کردہ نام منظور آفریدی پر اتفاق کرلیا ہے۔ اس کا باقاعدہ طور پر اعلان شام تک کرلیا جائے گا۔ واضح رہے کہ منطور آفریدی پی ٹی آئی کے سینیٹرایوب آفریدی کے بھائی اور پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کے چچا ہیں، منظور آفریدی کا تعلق خیبرایجنسی سے ہے اوروہ ملک کے معروف کمپنی کے مالک ہیں۔
image

 سپیشل سنٹرل عدالت کے جج محمد رفیق نے 3 سوروپے مبینہ رشوت لینے والے لائن مین کو 17 سال بعد بری کر دیا۔ 17 سال وقت ضائع کرنے اور لاکھوں روپے برباد کرنے کے باوجود استغاثہ 300 روپے رشوت کاالزام ثابت نہ کر پایا جبکہ مال خانے سے مال مقدمہ300 روپے بھی غائب ہو گئے۔ عدالت نے ملزم محمد علی کو جرم ثابت نہ ہونے پر 17 سال بعد بری کر دیا۔ پراسیکیوٹر رانا محمد زبیر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم پی ٹی سی ایل میں لائن مین تھا، جس نے طارق محمود سے 300 روپے رشوت لی۔ ملزم پی ٹی سی ایل گلشن راوی میں تعینات تھا۔ جہاں مجسٹریٹ نے اسے رشوت کے پیسوں کے ساتھ ریڈ کر کے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ انکوائری میں بھی ملزم گنہگار ثابت ہوا جس پر 2001  مقدمہ درج ہوا ۔تاہم فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم کو بری کرتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کیخلاف اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ، رشوت کے تین سو روپے مال خانے والے کھا گئے اور ملزم سالوں سے عدالتوں میں خوار ہو تا رہا جبکہ مدعی مقدمہ طارق محمود کو بھی بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا۔
image

 وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا  ہے کہ نئے صوبے بنانے ہیں تو الیکشن کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اتفاق رائے پیدا کریں۔ کوٹ مٹھن میں دریائے سندھ پر شہید بےنظیربھٹو پل کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوازشریف اقتدارمیں آئے توپورے ملک میں ترقی کا سفرشروع ہوا، نوازشریف کی حکومت پہلی حکومت ہے جس نے ماضی کے منصوبے مکمل کیے۔  آج پاکستان کے  بہت سے مسائل حل ہوچکے ہیں، ہماری حکومت نے بجلی کا بحران حل کیا ،  10 ہزار 400 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوگئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے لیے شہبازشریف کے اقدامات مثالی ہیں، صوبے بنانے کے حوالے سے تمام پارٹیاں الیکشن کے بعد  قومی اتفاق رائے قائم کریں۔ اس سے قبل سکھر ملتان موٹروے کے ملتان شجاع آباد سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جب حکومت سنبھالی تو بہت سے مسائل درپیش تھے، دہشت گردی عروج پر تھی، عوام کو بدترین لوڈشیڈنگ کی عفریت کا سامنا تھا لیکن ہم نے مشکل حالات کے باوجود بھی وہ منصوبے مکمل کئے جو کئی عشروں سے رکے ہوئے تھے اور وہ کام کرکے دکھایا جس کا کوئی خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا،حکومت کوغیرمستحکم کرنے کے لیے دھرنے دیئے گئے،عدالتوں میں گھیسٹا گیا لیکن ہم نے کسی امپائر یا کسی کی انگلی اٹھنے کاانتظارنہیں کیا بلکہ ترقی کا سفر جاری رکھا، اور 5 سال میں وہ کام ہوئے جو 65 سال میں نہیں ہوئے، آج پورے پاکستان میں دیکھ لیں، ہرتحصیل اورضلع میں اربوں روپے کے کام کیے ہیں کسی بھی صوبے میں جائیں، آپ کو  ن  لیگ کے کام نظر آئیں گے، ہمارے پاس بھی اتنے ہی وسائل ہیں جتنے ماضی کی حکومتوں کے پاس تھے لیکن کمی صرف نیت اورملک کی خدمت کی تھی، پرویز مشرف کے 10 سالہ آمرانہ دور میں بجلی کے 2 یا 4 کارخانوں کا صرف اعلان کیا گیا لیکن اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا جب کہ آصف زرداری نے تو اپنے دور حکومت میں کوئی اعلان ہی نہیں کیا تو کوئی منصوبہ مکمل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہماری حکومت منصوبے کےاعلانات ہی نہیں، مکمل بھی کرکے دکھاتی ہے ہم نے نہ صرف آج  بلکہ آنے والے کل کے لیے بھی کام کیا جو دنیا تسلیم کرتی ہے، آج جنوبی پنجاب صوبے کا نعرہ لگایا جارہا ہے، جنوبی پنجاب کا نعرہ لگانے والے مشرف کے دائیں بائیں بیٹھے ہوتے  تھے اس وقت صوبہ کیوں نہیں بنایا گیا، یہ لوگ اس وقت کہاں تھے؟ پاکستان میں مزید صوبے بننے ہیں توقومی اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ  ہر جماعت کوحکومت ملی، کسی کو سندھ اور کسی کو کے پی میں حکومت ملی، لیکن پنجاب اور دیگر صوبوں میں فرق واضح نظر آتا ہے، اب انتخابات اورسیاست کا فیصلہ پولنگ سٹیشن میں ہوگا اورجولائی میں عوام کے پاس  فیصلہ آئے گا، ایک طرف وہ سیاست ہے جس کے پلیٹ فارم سے گالیوں اور الزامات کی سیاست ہوتی ہے اور ان سے کسی خیر کی توقع نہیں اور دوسری جانب مسلم لیگ  ن  ہے جو باتوں کے بجائے ملک کی ترقی اورعوام کی خدمت کا پلیٹ فارم ہے، اگرآپ چاہتے ہیں ملک میں ترقی ہوتوفیصلہ مشکل نہیں۔
image

سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل (ر)اسد درانی کی کتاب پر پاک فوج نے تحفظات کا اظہار کر دیا۔۔ڈائریکٹر جنرل  ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل  ریٹائرڈ اسد درانی کو 28 مئی کو جی ایچ کیو طلب کیا جارہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کتاب اسپائی کرانیکل پر اسد دارنی سے منسوب خیالات پر وضاحت کیلئے انہیں بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ تمام حاضر اور ریٹائرڈ فوجیوں پر لاگو ہوتا ہے اور کتاب میں ان سے منسوب خیالات اس کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز  انٹیلی جنس  آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر اسد درانی کی کتاب پر فوج کو تحفظات ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اس کتاب میں بہت سے موضوعات حقائق کے برعکس بیان کیے گئے ہیں۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اور قانون سے بالاتر نہیں، ایک بروقت اور زبردست اقدام اٹھایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملٹری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اسد درانی کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی اور یوں عسکری قیادت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر پاک فوج کا کوئی سابق افسر بھی ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات کرے گا تو اس کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔
image

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہاہے کہ انتہا پسندی تمام ممالک کیلئے ایک خطرہ ہے اور ہمیں باہمی تعاون سے دہشت گردوں کا سامنا کر نا ہوگا۔شنگھائی تعاون تنظیم کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور انتہا پسندی تمام ممالک کیلئے ایک سیکورٹی خطرہ ہے ، اس کے لئے ہمیں مل اس کا خاتمہ کرنا ہوگا، ہمیں دشمنوں کیلئے زمین تنگ کر نا ہوگی ،ہمیں مل کردہشت گردی کے خاتمے کا عہد کرنا ہوگا  
image

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کی ضامن سلامتی کونسل فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہوچکی ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی جارہی ہیں۔ سلامتی کونسل میں مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے ملیحہ لودھی  نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں شہریوں کے خلاف جرائم کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر کشمیر و فلسطین سب سے پرانے تنازعات ہیں، جہاں جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی جا رہی ہیں۔ مقبوضہ علاقوں میں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔    
image

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے اپنی آئینی مدت پوری ہونے سے قبل ہی عوام سے کئے تمام وعدے پورے کر دیئے جب کہ مجھے شو باز کہنے والوں نے آخری سال میٹرو بس کے نام پر پورا پشاور کھود ڈالا۔ نارووال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی اور کام نہیں ہوسکتا، ہم عام آدمی کے لیے کروڑوں اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں، جنوبی اور وسطی پنجاب ، سب ہمارے لیے برابر ہیں، آج پنجاب کے اسپتالوں میں انقلاب برپا ہے، اسپتالوں کی نہ صرف عمارتوں کو بہتر کیا بلکہ جدید مشنری بھی لائے، پنجاب کے ہر اسپتال میں ادویات میسر ہیں اور عام آدمی کو وہی دوا مل رہی ہے جو اشرافیہ استعمال کرتی ہے، مریضوں کو علاج کے لیے ایک ڈھیلا نہیں دینا پڑے گا، 24 گھنٹے مفت سی ٹی اسکین اور گردوں کا مفت علاج ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 5 سال پورے ہونے سے قبل ہی عوام سے کئے تمام وعدے پورے کر دیئے، مخالفین مجھے شوباز کہتے تھے، اور کہا جاتا تھا کہ شو باز صرف فلائی اوور بناتا ہے، تعلیم اور صحت کے لئے کچھ  نہیں کرتا، لیکن وہ کس منہ سے بات کرتے ہیں، عمران خان بتائیں انہوں نے خیبر پختون خوا میں 5 سال کے اندر  کتنے اسپتال اور کالجز بنوائے، وہ لاہور میٹرو کو جنگلہ بس کہتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم خیبر پختونخوا میں کبھی جنگلا بس نہیں بنائیں گے لیکن 5 سال بعد میٹرو کے نام پر پورا پشاور کھود کر شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ  دیا، اب وہ جنگلہ بس منصوبہ کیا معلوم کب مکمل ہو؟ آصف زرداری نے سندھ کا بیڑا غرق کر دیا ، کراچی کو کرچی کرچی کر دیا اور اربوں کھربوں روپے ایسے خرچ کئے گئے جو نظر نہیں آتے۔  
image

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا کہ نوازشریف دہری باتیں کرتے ہیں وہ پہلے بھی ہم سے گیم کھیلتے تھے اور آج بھی کھیل رہے ہیں۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کو پنجاب میں حکومت بنانے دی، نواز شریف اس وقت بھی ہمارے ساتھ کھیل کھیل رہے تھے اور آج بھی کھیل رہے ہیں، وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں، نواز شریف سچ ماننے کو تیار نہیں تو وہ سچ کیا بولیں گے, نوازشریف کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں، وہ دہرے بیان دیتے  ہیں۔ پرویز مشرف کے خلاف مقدمے سے متعلق سابق صدر نے کہا کہ  نوازشریف کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے معاملے پر آصف زرداری میرے پاس آئے، میرا پرویز مشرف سے کیا تعلق تھا وہ میرا لیڈر نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو میں اور بھی بہت سے کام نکلوا لیتا لیکن ہم نے پرویز مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح نکالا کیونکہ ایک آمر کو نکالنا میرے لیے بہت ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے لوگوں پر مقدمات ہیں اور وہ جیلوں میں ہیں ، ہم اسٹیشبلمنٹ کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ ہیں اب میاں صاحب بتائیں وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا کسی اور طاقت کے ساتھ ہیں۔ مریم نواز کی عدالت پیشی سے متعلق آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف کو آج بیٹی کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کا افسوس ہورہا ہے، مجھے ان کی بیٹی کو کٹہرے میں دیکھنے کی خوشی نہیں ہے لیکن بے نظیر بھٹو بھی کٹہرے میں کھڑی رہی ہے، ذوالفقار بھٹو کی بیٹی کے کٹہرے میں کھڑے ہونے پر وہ کیا کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی طاقتیں اور جمہوریت ہی دہشت گردی کا علاج ہیں ، فاٹا کا انضمام پاکستان اور عوام کے حق میں ہے لیکن کچھ لوگ اپنے ذاتی ایجنڈے کے مطابق اس کی مخالفت کرتے آئے ہیں، فاٹا انضمام ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی سوچ تھی، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں فاٹا میں سیاست شروع ہوئی، انہوں نے کہا تھا کہ 10 سال میں وہ فاٹا کا انضمام صوبے کے ساتھ کر دیں گے، بےنظیر بھٹو فاٹا انضمام کا معاملہ عدالت لے کر گئیں، جب میں صدر تھا تو ایوان صدر میں جرگہ بلایا تھا، امید رکھتا ہوں فاٹا انضمام کا معاملہ مزید آگے بڑھے گا۔ عام انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن کو مضبوط بنانا ہے، امید کرتے ہیں کہ اس مرتبہ آر او الیکشن نہیں ہوں گے اور الیکشن کمیشن صاف و شفاف انتخابات کرا کے عوام کے اعتماد پر پورا اترے گی، صوبہ پنجاب صوبہ ضرور بنے گا اور عوام اس کے حق میں ووٹ پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری عمران خان کو کندھا نہ دیتے تو وہ کبھی دھرنا نہیں دے سکتے تھے۔ نگراں وزیر اعظم سے متعلق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے لیے ہم نے ریٹائرڈ ججز کے نام نہیں دئیے، ہماری جانب سے نگراں وزیراعظم کے ناموں میں ایک بزنس مین ہے اور ایک سابق سیکریٹری خارجہ۔  
image

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جو 1500 دنوں میں کام نہیں کر سکے وہ اب 100 دنوں کا منصوبہ دے رہے ہیں۔ شیخوپورہ کے علاقے مانانوالہ  میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جو آج 100 دنوں کا منصوبہ دے رہے ہیں یہ سب کام مسلم لیگ   ن کی حکومت کر چکی ہے اب کسی اور کو یہ کام کرنے کی ضرورت نہیں، ہماری حکومت نے پانچ سال میں جو ترقیاتی کام کیے وہ پاکستانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے ہماری حکومت کی کارکردگی جیسی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ  الزامات لگانے اور گالیاں دینے والے پاکستان کی سیاست کی نمائندگی نہیں کرتے جو لوگ اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرتے ہیں وہ عوام کی خدمت نہیں کر سکتے، عوام بہروپیوں اور وفادار یاں تبدیل کرنے والے سے بچے کیونکہ جو پارٹی کا وفادار نہیں ہوسکتا وہ ملک کا بھی وفادار نہیں، مسلم لیگ  ن چھوڑ کر جانے والوں کو عوام مسترد کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگلا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی مسلم لیگ  ن کا ہوگا اس میں کوئی شک نہیں کہ اگلی حکومت بھی  ن لیگ ہوگی اور عوام ہم پر ایک بار پھر اعتماد کریں گے، مسلم لیگ   ن کے علاوہ کوئی جماعت ووٹ کی حقدار نہیں ہے۔
image

سٹیٹ بینک نے آئندہ 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ۔ سٹیٹ بینک نے شرح سود اعشاریہ 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے 6.50 فیصد کر دی گئی۔  سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال ملک کی معاشی ترقی کی شرح  5.8 فیصد رہے گی جو کہ گزشتہ  13 برس کے دوران بلند ترین سطح ہے۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 6 فیصد کے سالانہ ہدف سے کم رہے گی. سٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق نئی مانیٹری پالیس کا اطلاق 28 مئی سے ہوگا۔
image

عدالتی حکم پر میانی صاحب قبرستان کی چار دیواری مکمل جبکہ 62 سال بعد قبرستان کی 60 کنال اراضی بھی وا گزار کروا لی گئی۔ قبرستان میں میت کے غسل کا انتظام اور لائٹنگ بھی کرا دی گئی۔ جسٹس علی اکبر قریشی کے تاریخی فیصلوں کے سبب تمام میانی صاحب قبرستان کی اراضی وا گزار ہوئی۔ 17 اکتوبر 2016 کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے درخواستیں دائر کی گئیں۔ جسٹس علی اکبر قریشی نے کیس کا روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا آغاز کیا۔ قبضہ مافیا نے قبرستان کی زمین پر سکول، پٹرول پمپ، لیسکو آفس تعمیر کر رکھا تھا۔ جسٹس علی اکبر قریشی کے حکم پر 31 اکتوبر 2016 کو 27 کنال اراضی واگزار کرائی گئی، میانی صاحب قبرستان میں لیسکو آفس ایک کنال 3 مرلے پر بنایا گیا تھا۔ جسٹس علی اکبر قریشی نے لیسکو کو 4 کروڑ 22 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ میٹرو بس اور ایل ڈی اے نے سڑکوں کیلئے تقریبا 10کنال اراضی حاصل کی تھی۔ عدالتی نوٹس کے بعد مجموعی طور پر 34 اعشاریہ 45 ملین کی رقم قبرستان کمیٹی کو ادا کی گئی۔ میانی صاحب کی اراضی پر واسا نے ٹیوب ویل نصب کیے لیکن کرایہ ادا نہیں کیا، عدالت نے کرایہ ادا نہ کرنے پر واسا کو بھی نوٹس جاری کیا تھا۔ میانی صاحب قبرستان اراضی پر بنایا گیا شادی ہال بھی عدالتی حکم پر ختم کیا گیا۔  
image

 ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ کلبھوشن یادیو کیس میں جولائی میں جواب جمع کرایا جائے گا لیکن اسے بھارت کے حوالے قطعاً نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں  ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں معصوم شہریوں کو شہید کیا جا رہا ہے، شوپیاں میں بھارتی فوج نے افطار کے بعد کشمیریوں پر فائرکھول دیا، بھارت ناصرف کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے بلکہ لائن آف کنٹرول پر بھی تواتر کے ساتھ اشتعال انگیزی کررہا ہے، بھارت عالمی قوانین کی بھی پاسداری نہیں کررہا،کشن گنگا ڈیم کی تعمیرسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور یہ خلاف ورزی بھارت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، پاکستان نہیں چاہتا ہے کہ آبی تنازعات کسی خطرناک نہج تک پہنچ جائیں، پاکستان کی جانب سے اشتر اوصاف کی قیادت میں وفد نے کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، رتیلے اور بگہلیار ڈیم کے معاملات پر عالمی بنک کے سربراہ سے ملاقات کی اور سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں آبی تنازعات کو حل کرانے کی ضرورت پر زور دیا، اس سے قبل بھی پاکستان کی جانب سے  کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کئی برس سے معاملے کو موثر انداز میں اٹھایا جاتا رہا ہے۔ 
image

ایوان بالا نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے 31 ویں دستور  بل 2018کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران وزیر قانون چودھری محمود بشیر ورک نے دستور بل 2018 کو قومی اسمبلی سے منظور کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عثمان خان کاکڑ اور ان کی جماعت کے دیگر ارکان نے اس تحریک کے خلاف ایوان سے واک آئوٹ کیا تاہم بعد ازاں وہ ایوان میں واپس آ گئے اور بل پر رائے شماری میں حصہ لیا۔ بل پر مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے اظہار خیال کیا۔ جمعیت علمائے اسلام  ف  اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے بل کی مخالفت کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے رہنمائوں نے بل کی حمایت میں تقاریر کیں۔ بعد ازاں چیئرمین نے بل منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا۔ 71 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 5 نے مخالفت میں رائے دی جس کے بعد چیئرمین نے بل کی شق وار منظوری حاصل کی۔ اس کے بعد بل پر حتمی رائے شماری کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ چیئرمین نے سینیٹر سعدیہ عباسی کو علالت کے باعث سب سے پہلے دستخط کرنے کے لئے لابی میں جانے کی اجازت دی۔ ارکان نے باری باری رول آف ممبرز پر دستخط کئے جس کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اعلان کیا کہ 71 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 5 ارکان نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا ہے۔ اس طرح سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے بل کی منظوری دے دی ہے۔  علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ سینیٹر صادق سنجرانی نے وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے پاکستان اور بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سابق سربراہان کی مشترکہ کتاب کے معاملے پر جواب طلب کرلیا، اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ آئے دن لائن آف کنٹرول پر بھارت خلاف ورزیاں کر رہا ہے، کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بھی پوری دنیا کے سامنے ہے، فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا عالمی دنیا نوٹس نہیں لے رہی، لائن آف کنٹرول پر سویلین آبادی بھارتی گولہ باری کا نشانہ ہے، یہ اچھنبے کی بات ہے کہ چار یا پانچ دن پہلے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ر  اسد درانی اور بھارتی ایجنسی کے ان کے ہم منصب کی ایک کتاب کی خبریں آئیں، اب اس کے اقتباسات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ ایک طرف دونوں ملکوں کے تعلقات کی یہ حالت ہے۔ کیا وفاقی حکومت یا اس کے ادارے کسی سٹیج پر جنرل درانی نے را کے چیف کے ساتھ مل کر کتاب لکھنے کی اجازت لی تھی، اگر اجازت نہیں مانگی تو کیا آگاہ کیا تھا۔ وزیر قانون نے کہا کہ وزیر دفاع سے اس کا جواب لیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس پر وزارت دفاع جواب دے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ کتاب میں جو انکشافات کئے گئے ہیں ہمیں ان کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے۔ چیئرمین نے کہا کہ اس معاملے پر وزارت داخلہ سے جواب لے لیتے ہیں۔دریں اثنا قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، اس سے پاکستان میں پانی کے ذخائر میں کمی آئے گی، حکومت اس پر جواب دے، اس کے علاوہ عالمی بینک سے مذاکرات ہوئے ہیں، ان کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے حکومت سے اس پر جواب طلب کرلیا۔  
image

 فاٹا اصلاحات کی منظوری کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس اتوار کو بلانے کا فیصلہ کیاگیا ہے جس کے لیے  سمری گورنر کو بھجوادی گئی ہے فاٹا اصلاحات کی صوبائی اسمبلی سے منظوری آئینی ضرورت ہے۔ فاٹا اصلاحات قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ اور خیبرپختونخوا اسمبلی سے بھی منظور کیے جائیں گے ، اجلاس بلانے کے لیے سمری گورنر کو بھجوادی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان شوکت یوسفزئی کے مطابق فاٹا اصلاحات ایک تاریخی فیصلہ ہے اور اسے دو تھائی اکثریت سے منظور کرایا جائے گا۔ فاٹا اصلاحات کی منظوری کے لیے اس کے حمایتی جماعتوں نے تمام ارکان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، فاٹا اصلاحات کی منظوری پیپلزپارٹی کے ضیائ اللہ آفریدی نے سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی واپس لے لی ہے جس کے بعد اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے سمری بھجوائی گئی ہے۔
image

عوامی سروے

سوال: کیا نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے؟