17 جولائی 2018
تازہ ترین
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
یاہو میسینجر نے اپنی سروسز بند کر دیں دنیا کی اولین میسیجنگ سروسز میں سے ایک یاہو میسینجر کا آج خاتمہ ہوگیا ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آن لائن ٹیکنالوجی کمپنی  یاہو  نے اپنی 20 سال پرانی میسجنگ سروس ایپلیکیشن یاہو میسنجر کو بند کر دیا ۔ یاہو میسینجر پہلی بار1998 میں متعارف کرایا گیا تھا اور فوراً ہی مقبول بھی ہو گیا تھا مگر فیس بک، واٹس ایپ ، میسینجر، سنیپ چیٹ، وی چیٹ جیسی دیگر میسجنگ ایپلیکیشن اور سوشل ویب سائٹس نے اسے بالکل پیچھے چھوڑ دیا۔ صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے اس ایپلیکیشن میں متعدد بار تبدیلیاں بھی لائی گئیں مگر نتیجہ نہ ملنے پر اسے مستقل طور پر 17 جولائی 2018 کو بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ کمپنی کے مطابق یاہو میسینجر کے وہ تمام پیغامات جو یاہو کے صارفین کے میل باکس میں محفوظ تھے، انہیں بھی جلد ہی ختم کر دیا جائے گا لہٰذا صارفین سے درخواست کی گئی کہ ان پیغامات کو اپنے پاس ڈائون لوڈ کر لیں۔ واضح رہے کہ یاہو کمپنی اپنی نئی میسجنگ ایپلیکیشن سکئرل کے نام سے متعارف کرا رہی ہے جسے 17 جولائی کے بعد آن لائن کیا جائے گا۔

 چھٹی حس کو آج تک سائنس کی دنیا میں محض ایک مذاق ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔ مگر اب امریکی سائنسدانوں نے اب پہلی بار چھٹی حس کی موجودگی کی سائنسی طور پر بھی تصدیق کر دی ۔ برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق یہ دریافت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے سائنسدانوں نے کی ۔ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے ماہر دماغی امراض، ڈاکٹر کارسٹن بان مین نے بتایا کہ دو نو عمر لڑکوں پر کی جانے والی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی کہ انسان میں حواس خمسہ، یعنی دیکھنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کی حس کے علاوہ بھی ایک حس پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں لڑکے ایک حیرت انگیز بیماری میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے وہ دیکھے بغیر اپنے ہی جسم کی موجودگی کا احساس نہیں کر پاتے۔ ڈاکٹر بان نے بتایا کہ جب ان لڑکوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تو انہیں معلوم بھی نہیں تھا کہ ان کی ٹانگیں کہاں اور بازو کہاں ، تاہم وہ اپنی چھٹی حس کی مدد سے بعض کام انجام دینے میں کامیاب رہے مثلاً میز پہ پڑا گلاس اٹھا لیا۔ جب لڑکوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تو وہ چلنے کے قابل بھی نہیں تھے کیونکہ انہیں اپنی ٹانگوں کی موجودگی کا احساس ہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود وہ چھٹی حس سے کام لے کر بتائی گئی جگہ تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
image

پاکستان میں تقریبات یا خوشی کے مواقعوں پر ہوائی فائرنگ بہت عام ہے مگر ہوا میں جب کسی گن سے فائرنگ کی جائے تو کیا ہوتا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ کچھ زیادہ اچھا نہیں بلکہ برا ہوتا ہے۔ درحقیقت جب آپ گن اوپر کرکے فائر کرتے ہیں تو نکلنے والی گولی دو میل اوپر تک سفر کر سکتی ہے، جس کے بعد وہ نیچے زمین کی جانب گرنا شروع ہوتی ہے اور یہی وہ موقع ہوتا ہے جب حقیقی مسئلے کا آغاز ہوتا ہے۔ گن سے نکلنے والی گولی کو ہوا اس مقام سے سینکڑوں فٹ دور لے جاسکتی ہے جہاں اسے فائر کیا جاتا ہے، تاہم اس کا انحصار ہوا کی شدت پر ہے۔ یہ امر آپ کے لئے تو باعث اطمینان ہوسکتا ہے مگر قریب موجود کسی بھی فرد کے لئے ڈرائونا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنی حد بلندی پر پہنچ کر گولی کی رفتار صفر میل گھنٹہ ہوجاتی ہے۔ مگر جب یہ واپس زمین کی جانب آنے لگتی ہے تو کشش ثقل اس کی رفتار میں اضافہ کرتی ہے۔ ہوا کی مزاحمت گولی کے گرنے کی رفتار کچھ حد تک تو کم کر سکتی ہے مگر یہ پھر بھی زمین پر گرنے تک چار سو میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ سکتی ہے۔ زمین پر گرنے کے بعد اگر یہ کسی انسان سے ٹکراتی ہے تو یہ یقیناً اسے زخمی کرنے یہاں تک کہ ہلاکت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی گولی بھی جلد میں سوراخ کر سکتی ہے تو چار سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرانے کی صورت میں نتیجہ آپ خود سوچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال ہوائی فائرنگ سے ان آوارہ گولیوں سے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اکثر یہ گولیاں لوگوں کے سروں سے ٹکراتی ہیں۔ اسی لئے اکثر ممالک اور شہروں میں ہوائی فائرنگ کے خلاف قوانین کا اطلاق کیا گیا ۔ بنیادی طور پر کسی گن سے ہوا میں فائر کرنا کچھ زیادہ اچھا خیال نہیں جس سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔ 
image

پانی سے بجلی بنانے کا ایک پرانا طریقہ یہ ہے کہ پہلے پانی کے  مالیکیولزکو توڑ کر آکسیجن اور ہائیڈروجن الگ کرلی جائیں جنہیں بعد ازاں آپس میں ملا کر دوبارہ پانی بنالیا جائے اور اس دوران خارج ہونے والی توانائی کو بجلی میں تبدیل کرلیا جائے۔ تاہم یہ طریقہ اب تک تجارتی پیمانے پر کچھ خاص کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ یہ بہت مہنگا ہے اور اس میں پلاٹینم جیسی قیمتی دھات استعمال کی جاتی ہے۔ مگر اب رٹگرز یونیورسٹی نے پانی سے ہائیڈروجن علیحدہ کرنے کا ایک نیا طریقہ وضع کرلیا ، جو اب تک دستیاب، کسی بھی دوسرے طریقے کے مقابلے میں 4 گنا بہتر طور پر ہائیڈروجن حاصل کر سکتا ہے۔ اس کی تفصیلات تحقیقی جریدے کیم(Chem) کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں ،جن سے پتا چلتا ہے کہ اس نئے طریقے میں سونے کے ایسے ننھے ننھے ذرات استعمال کئے گئے ہیں جن کی جسامت نینومیٹر پیمانے کی ہے اور جو ستارے جیسی شکل کے ہیں۔ ان پر ایک خاص طرح کے سیمی کنڈکٹر مادے کی پرت چڑھا کر انہیں اس قابل بنایا گیا کہ سورج کی روشنی استعمال کرتے ہوئے، پانی سے ہائیڈروجن الگ کر سکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس طریقے کی کارکردگی، پانی سے ہائیڈروجن (اور آکسیجن) الگ کرنے والے موجودہ طریقوں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں، پانی سے ہائیڈروجن علیحدہ کرنے کے طریقوں میں اب تک الٹراوائیلٹ شعاعیں استعمال کی جاتی تھیں جن کی خاصی کم مقدار دھوپ کے ساتھ زمین تک پہنچتی ہے جبکہ مصنوعی ذرائع سے الٹراوائیلٹ شعاعوں کا حصول خصوصی انتظامات کا تقاضا کرتا ہے جس کے باعث یہ تمام طریقے بہت مہنگے ہوجاتے ہیں۔ رٹگرز یونیورسٹی، نیو جرسی میں مٹیریلز سائنس اینڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور مذکورہ تحقیق کی نگراں، لارا فیبرس کہتی ہیں کہ الٹراوائلٹ شعاعوں کی جگہ مرئی (دکھائی دینے والی) روشنی اور انفراریڈ لہروں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سورج سے زمین تک پہنچنے والی شعاعوں میں ان کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ سونے کے نینو ذرات پر ٹیٹانیم آکسائیڈ کی باریک پرت چڑھانے کے بعد اس مادے پر الٹراوائلٹ، مرئی روشنی اور انفراریڈ لہریں ڈالی گئیں تو اس نے تینوں طرح کی شعاعوں پر بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مروجہ طریقوں کے مقابلے میں 4 گنا تک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لارا فیبرس کے مطابق، یہ اپنی نوعیت کی پہلی کامیابی ہے جبکہ اس کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کےلئے وہ اور ان کے ساتھی دوسرے مادوں کو بھی آزمائیں گے تاکہ مستقبل میں صاف ستھری بجلی کا حصول کم خرچ بنایا جاسکے تاکہ دنیا بھر میں فروغ پا سکے۔
image

سامسنگ گلیکسی ٹیب اے 2 کی تصاویر سامنے آگئیں ہیں۔ سامنے آنے والی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس ٹیب میں ہوم کی کو شامل نہیں کیا گیا، اس کے علاوہ ٹیپ کے دونوں اطراف میں انتہائی کم بیزل رکھے گئے ہیں۔ ٹیب میں ممکنہ طور پر 10.5 انچ ڈسپلے دیا جائے گا ۔ وائس میں بلیوٹوتھ اور وائی فائی کنیکٹیویٹی بھی شامل ہوگی۔ سام سنگ کمپنی ٹیبلٹ کو وائی فائی ، ایل ٹی ای اور یو ایس بی سی چارجنگ پورٹ کے الگ الگ ماڈلز میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
image

دنیا میں سب سے زیادہ کلوننگ شدہ کتے مریکل ملی کو 49 کلون کاپی بننے پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرلیا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے متنازع ریسرچ ادارے سوآم بائیوٹیک 2006 سے کتوں کی کلوننگ کر رہا ہے تاہم گزشتہ برس اگست سے اس ادارے نے مخصوص نسل کے 6 سالہ کتے مریکل ملی کی کلوننگ کر کے اس جیسے 49 کلون کتے بنالئے ۔ شکل و صورت اور جسامت میں ایک جیسے دکھائی دینے والے یہ کلون کتے  مریکل ملی کی کاربن کاپی لگتے ہیں۔ ابتدا میں مریکل ملی کی 10 کلون کاپی کا ارادہ تھا تاہم یہ تعداد اب بڑھتے بڑھتے 49 تک جا پہنچی ہے۔ تاہم سائنس دانوں نے اس عمل کو فطرت کے لئے خطرناک قرار دیا اور مکمل معلومات، جامع کیس ہسٹری اور محفوظ ترین احتیاطی اقدامات کے بغیر کلوننگ کو کرہ ارض اور نسل انسانی کے لئے تباہ کن عمل کہا ہے۔ سائنس دانوں نے تنبیہ کی ہے کہ کلوننگ کا عمل نہایت ضرورت پڑنے پر اور ایک خاص تعداد تک کیا جانا تو محفوظ ہوسکتا ہے لیکن اس ٹیکنالوجی کا بے تحاشا اور بے دریغ استعمال نقصان دہ ثابت ہوگا۔ نظام فطرت کو اپنے ہاتھ میں لینا عقل مندی نہیں۔ واضح رہے کہ 1996 میں سب سے پہلے کلون ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا گیا تھا جس میں ایک بھیڑ کی کلوننگ کی گئی تھی اور کلون شدہ بھیڑ کو ڈولی کا نام دیا گیا تھا۔
image

 ایک کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اگلے سال ڈی این اے میں ڈیٹا والی پہلی تجارتی پروڈکٹ پیش کر رہی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی لائف لیب میں قائم ہونے والی اس کمپنی کا نام کیٹلاگ ہے جو اگلے سال ڈی این اے گولی (پیلٹ) بنائے گی اور ایک ایک پیلٹ میں بہ آسانی 40 بلیو رے ڈی وی ڈیز کے برابر ڈیٹا رکھا جاسکے گا۔ اس سے قبل ماہرین ثابت کر چکے ہیں کہ ڈی این اے میں ڈیٹا کو سیکڑوں سال تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل ماہرین ڈی این اے میں تصاویر اور معلومات رکھنے کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اب کیٹلاگ کمپنی نے ڈی این اے پیلٹ میں معلومات رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اگلے سال پہلی کمرشل پروڈکٹ پیش کرنے کا اعلان کیا ۔ ایک سال قبل وہ ایک کلوبائٹ کے اشعار ڈی این اے پر لکھ چکے ہیں۔ اب وہ ایسی مشین پر کام کر رہے ہیں جو فوری طور پر ڈی این اے کے اربوں مالیکیولز پر ڈیٹا منتقل کر سکے گی۔ اگلے مرحلے میں آئی ٹی کمپنیوں اور دیگر اداروں کو ڈی این اے ڈیٹا سٹوریج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اب تک کئی بڑی کمپنیوں نے اس نظام میں دلچسپی کا اظہار کیا ۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہتا ہے تو اکیسویں صدی میں ڈیٹا کو کم جگہ محفوظ کرنے کا بہت بڑا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ پوری دنیا میں ہر سال 4 سے 5 ارب زیٹا بائٹس کا ڈیٹا پیدا ہورہا ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو 2040 تک ڈیٹا کو محفوظ رکھنا ایک بہت گھمبیر مسئلہ ہوجائے گا۔ اس وقت ہم ہر چیز مقناطیسی ہارڈ ڈسک میں رکھتے ہیں اور یہ ڈسک اپنی حدود تک پہنچ رہی ہے۔ اس کا بہترین حل ڈی این اے میں معلومات محفوظ رکھنا ہے۔ اس وقت سیارہ زمین پر جتنی بھی فلمیں بنی ہیں وہ سب چینی کے دانے جتنے ڈی این اے نظام میں رکھی جاسکتی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ پہلے یہ عمل بہت مہنگا تھا اور اب قدرے کم خرچ ہوگیا، تاہم اب بھی یہ قدرے مہنگا نسخہ ہے۔ البتہ ماہرین پرامید ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ڈی این اے میں ڈیٹا رکھنے کی ٹیکنالوجی بہت آسان اور کم خرچ ہوتی جائے گی۔
image

اب گاڑی میں اڑان بھرنے کے لیے نہ ہی پائلٹ کا لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ یہ جیب پر بھاری ہوگی، کیونکہ امریکی سٹارٹ اپ کمپنی نے اڑنے والی جدید گاڑی متعارف کروادی ہے۔ بلیک فلائی نامی یہ گاڑی بجلی سے چلتی ہے اور ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد 62میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 25میل تک کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک سیٹ پر مشتمل اس فلائنگ کار کو  اڑانے کیلئے پائلٹ کا لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تاہم ڈرائیورز کو معمولی ٹریننگ دی جائے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ گاڑی انتہائی کم قیمت میں اگلے برس دستیاب ہوگی۔
image

لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کے کی بورڈ میں بٹن کے اندر مٹی، پانی اور دیگر نقصان دہ ذرات کے داخلے کو روکنے کے لئے نیا طریقہ کار ڈھونڈ لیا گیا۔ ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ایپل کے 15 انچ طویل اس نئے لیپ ٹاپ میں جہاں کئی اور خاصیتیں موجود ہیں وہاں اس کے کی بورڈ کو مٹی سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایک بٹن کو سلیکیون سے ڈھانپا گیا ۔ ایپل کی نئی میک بک لیپ ٹاپ کے کی بورڈ کے حوالے سے شکایتیں موصول ہورہی تھیں جس پر کمپنی نے شکایتوں کا ازالہ کرتے ہوئے نئے لیپ ٹاپ کی ایک ایک Key  کو سیلیکون کی جھلی کے ذریعے اس حد تک محفوظ کر دیا کہ اس میں مٹی اور پانی داخل نہیں ہوسکتا۔ کی بورڈ کے ہر بٹن کے زیریں حصے میں یہ سیلیکون کی جھلی موجود ہے جس سے بٹن کے نازک اور چپ والے حصے تک مٹی اور دیگر مضر ذرات نہیں پہنچ سکتے۔ اسے کی بورڈ کا محافظ نظام کا نام دیا گیا۔ ایپل کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس طریقہ کار سے صارفین کی شکایات کا ازالہ ممکن ہو سکے گا۔ واضح رہے کہ ایپل کمپنی نے 2015 میں Butterfly Switch  متعارف کرایا تھا، تاہم صارفین کی جانب سے کی بورڈ میں مٹی اور دیگر مضر ذرات کے باعث کارکردگی میں کمی سے متعلق شکایت موصول ہوئی تھیں۔
image

اوپو کمپنی نے بجٹ سمارٹ فون اوپو اے 3 ایس متعارف کرا دیا ۔ سمارٹ فون میں 6.2 انچ آئی پی ایس ڈسپلے ، سنیپ ڈریگن 450 پروسیسر ، اینڈرائیڈ اوریو آپریٹنگ سسٹم ، 2 جی بی ریم اور 16 جی بی سٹوریج دیا گیا ۔ سٹوریج کو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ فون کے کیمرہ سیٹ اپ میں پشت پر 13 میگا پگسل اور 2 میگا پگسل جبکہ فرنٹ پر 8 میگا پگسل کا کیمرہ دیا گیا۔ فرنٹ کیمرے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیوٹی افیکٹس بھی شامل کئے گئے ہیں۔ سمارٹ فون کی بیٹری 4230 ملی ایمپیئر آورز کی ہے۔ فون کی قیمت 160 ڈالر ہے اور اسکی فروخت 15 جولائی سے شروع ہوگی۔
image

واٹس ایپ اب میسج فارورڈ کیے جانے پر لوگوں کو آگاہ کرے گا۔ یہ اقدام ایپ پر جان لیوا افواہیں پھیلنے کی روک تھام کیلئے لیا گیا ہے۔ واٹس ایپ کی جانب سے کیا جانے والا یہ فیصلہ بھارت میں واٹس ایپ پر افواہوں کے سبب ہونے والی اموات کے سبب کیا گیا۔ کمپنی امید کرتی ہے کہ ایسا کرنے سے مہلک واقعات رُونما ہونے میں کمی پیش آئے گی۔ اب سے ہر فارورڈ میسج میں ایک سطر لکھی ہوگی کہ یہ میسج فارورڈ ہے۔ اس میں یہ نہیں لکھا ہوگا کہ میسج کس کی جانب سے فارورڈ کیاگیا اور یہ واٹس ایپ کے جدید ورږن پر کارگر ہوگا۔ لیکن ایپ کی ویب سائٹ اب بھی صارفین کو  فارورڈ میسجز کے متعلق متنبہ کر رہی ہے اور لوگوں کو احتیاط سے فارورڈ کرنے کا کہہ رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق  لوگوں کو موصول ہونے والے  سپیم یا کسی مشکوک میسج کو رپورٹ کرنا چاہیے تاکہ اس کی ترسیل کو روکا جاسکے۔
image

 سائنس دان ایسا سورج مکھی روبوٹ بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو سورج کی حرکت پر نظر رکھتے ہوئے پودوں کو روشنی کی جانب منتقل کر دیتا ہے اور ساتھ ہی انہیں پانی و ہوا کی فراہمی بھی یقینی بناتا ہے۔ اگر آپ کسی بھی مصروفیت کی وجہ سے گھر کے لان میں لگے پودوں کو پانی دینا بھول گئے ہیں، تو پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ اب ایک روبوٹ اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرے گا۔ یہ روبوٹ پودوں کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے پانی فراہم کرے گا، جبکہ دھوپ اور ہوا کی کمی کی صورت میں پودوں کو درست جگہ بھی منتقل کر سکے گا۔ روبوٹ بنانے والی معروف کمپنی ون کراسن Vincrossn نے گھر کے پودوں کی دیکھ بحال اور اسے بروقت پانی دینے کے لئے کیکڑے کی شکل کا ایک روبوٹ تیار کیا ۔ چھ ٹانگوں والے اس روبوٹ پر سورج مکھی کی طرح کا پھول بنا ہوا ہے، جبکہ زیریں حصے میں پانی رکھنے کی گنجائش بھی ہے۔ یہ پودوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی منتقل کر سکتا ہے۔ اس روبوٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ گھر میں موجود پودوں کی ضروریات جیسے پانی ، دھوپ اور ہوا کا مکمل خیال رکھتا ہے اگر کسی پودے کو درکار دھوپ نہیں مل رہی تو یہ پودے کو دھوپ والی جگہ منتقل کر دیتا ہے، اسی طرح ہوادار جگہ اور پانی کی کمی و بیشی پر نظر رکھتا ہے۔ اسے سورج مکھی سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا ۔ اپنے فرائض کی انجام دہی کے بعد یہ روبوٹ خوشی میں رقص بھی کرتا ہے۔ امریکا میں اس کی قیمت 949 ڈالر ہے اور اسے پہلی مرتبہ ایک سال قبل آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا، لیکن اب اس میں ترمیم و تبدیلی کے بعد جدید خصوصیات سے لیس کرکے لانچ کیا گیا ۔
image

اس صدی کا سب سے طویل مکمل چاند گرہن 27  اور 28جولائی کی رات کو ہوگا جو تقریبا پونے 2 گھنٹے تک رہے گا۔28۔27 جولائی کی رات ایک گھنٹہ 43 منٹ تک چاند پوری طرح زمین کے سایہ میں ہوگا جو نہ صرف سال 2001 سے اب تک کا سب سے طویل مکمل چاند گرہن ہوگا بلکہ اگلے 82 برسوں یعنی 2100 تک اتنا طویل مکمل چاند گرہن دوبارہ نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ 27 جولائی کو مریخ زمین کے ٹھیک سامنے ہوگا، جبکہ اس دن زمین سورج اور مریخ کے درمیان میں ہوگی، اس طرح جولائی کے آخر اور اگست کے ابتدائی دنوں میں غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک پورے عرصے مریخ دکھائی دے گا اور عام دنوں کے مقابلے زیادہ چمکدار نظر آئے گا۔ یہ 31 جولائی کو زمین کے سب سے قریب ہوگا۔ چاند گرہن کی رات مریخ چاند سے کافی قریب ہوگا اور گرہن کے دوران اسے بنا کسی آلہ کے دیکھا جاسکتا ہے۔ مریخ اوسطاً ہر 26 مہینے میں ایک مرتبہ زمین سے سورج کے ٹھیک الٹ سمت میں آتا ہے اور2003 کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوگا کہ مریخ زمین کے اتنا قریب ہوگا اور اتنا چمکدار دکھائی دے گا۔ اگست 2003 میں یہ تقریبا 60 ہزار سال میں زمین کے سب سے قریب آیا تھا۔
image

واٹس ایپ دنیا کا مقبول ترین میسنجر ہے جس کے صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ہے جو کہ روزانہ ساٹھ ارب پیغامات اس اپلیکشن کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ مگر کئی بار ایسا ہوتا ہے جب صارف کسی ایسے فرد کو پیغام بھیجنا چاہتے ہیں جو ان کی کانٹیکٹ لسٹ میں موجود نہ ہو، مگر کیا اس کا کوئی حل ہے؟ ویسے تو ایسا اسی وقت ممکن ہے جب اس نمبر کو ایڈریس بک میں ایڈ کیا جائے مگر متعدد ایسے مواقع آتے ہیں جب صارف کسی کو ایک سے دو میسج بھیجنا چاہتا ہے اور نمبر ایڈ نہیں کرنا چاہتا، تو پھر کیا کرنا چاہئے؟ یہی وجہ ہے کہ متعدد تھرڈ پارٹی ایپس اس مقصد کے لیے تیار کی گئی ہیں اور ان کی موجودگی میں ویسے تو کسی نمبر کو کانٹیکٹ لسٹ میں محفوظ کیے بغیر پیغام بھیجنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایپس سیکیورٹی اور سمارٹ فون کے افعال کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں جبکہ ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ آپریٹنگ سسٹم میں مددگار ثابت نہ ہوں۔ تو اس کا جواب واٹس ایپ میں ہی چھپے ایک خفیہ فیچر میں موجود ہے، جس کے ذریعے کسی نمبر کو ایڈریس بک میں ایڈ کیے بغیر میسج بھیجا جاسکتا ہے۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس فیچر کے لیے کسی قسم کی ایپ کو انسٹال کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ آئی او ایس اور اینڈرائیڈ دونوں میں کام کرتا ہے۔ اگر آپ یہ فیچر نہیں جانتے تو اس کا طریقہ کار جان لیں جو اتنا مشکل بھی نہیں۔ ttps://api.whatsapp.com/send?phone=XXXXXXXXXآخر میں جو ایکس ہیں وہاں وہ فون نمبر لکھیں جسے پیغام بھیجنا چاہتے ہیں اور آغاز میں کنٹری کوڈ بغیر پلس کے سائز کے لکھیں۔ جیسے اگر اس شخص کا نمبر پاکستان کا ہے تو یہ کچھ ایسا ہوگا ttps://api.whatsapp.com/send?phone=923001234567۔ اس کے بعد انٹر دبا دیں۔ اس کے بعد ایک واٹس ایپ ونڈو اوپن ہوگی جس میں پوچھا جائے گا کہ کیا آپ اس نمبر پر پیغام بھیجنا چاہتے ہیں تو  سینڈ میسج پر کلک کردیں۔ آپ خود کار طور پر واٹس ایپ میں پہنچ جائیں گے جہاں سٹارٹ چیٹنگ ونڈو آجائے گی اور آپ کسی فرد کو ایڈ کیے بغیر پیغام بھیج سکیں گے۔ تو اس طرح آپ جب چاہیں گے کسی بھی ایسے فرد کو میسج بھیج سکتے ہیں جس کو ایڈریس بک کا حصہ نہیں بنانا چاہتے ہیں۔
image

سمندروں میں جمع پلاسٹک اب ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور اس کے خاتمے کے لئے تجرباتی طور پر پائپ نما کوڑے دان آزمائشی طور پر سمندر میں اتارا گیا۔ اسے بحر صاف کرنے والے منصوبے (اوشن کلین اپ پروجیکٹ) کا نام دیا گیا اور یہ پائپ 2200 کلومیٹر تک سمندر میں موجود رہے گا۔ بحرالکاہل میں ایک جگہ کوڑے کا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا اور ماہرین پرامید ہیں کہ اس نظام سے کچرے کو پکڑنے میں مدد ملے گی۔ کچھ روز میں انکشاف ہوا کہ یہ سسٹم طوفانی سمندر میں بھی اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ اس نظام کی تیاری میں 5 سال لگے ہیں اور یہ نظام بحرالکاہل میں تیرنے والے کچرے کے بڑے ڈھیر کو صاف کرے گا جس میں پلاسٹک کی بہتات ہے۔ سمندر کی قدرتی لہریں 600 میٹر طویل پائپ تک کچرا لائیں گی جس کے کھلے ہوئے سروں کے اندر پلاسٹک جائے گا اور سمندر صاف ہوگا۔ اسے ہوائوں کی مختلف رفتار، کیفیات اور موسموں میں آزمایا جائے گا۔ پہلے 120 میٹر طویل ٹکڑے کو دو ہفتے تک آزمایا جارہا ہے اور اس کے بعد اس کے مزید حصے جوڑ کر 600 میٹر لمبا نظام سمندر میں چھوڑا جائے گا۔ یہ پائپ پانی پر تیرتا رہتا ہے اور کسی بھی حالت میں اندر نہیں ڈوبتا ۔ اس طرح سطح کا کچرا اس کے اندر جاتا رہتا ہے۔
image

کولمبیا کی حکومت نے کہا ہے کہ جانوروں اور پودوں سے مالامال اس کے اہم گلیشیئر بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں، چھ بڑے گلیشیئرز پہاڑوں کی چوٹیوں پر موجود ہیں اور صرف سات سال کے عرصے میں ان کی 20 فیصد مقدار کم ہوچکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گلیشیئر بہت حساس ہیں اور عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ حکومت نے ان گلیشیئرز کی تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2010 میں ان کا رقبہ 45 مربع کلومیٹر تھا اور کم ہوتے ہوتے اب 2018 میں صرف 37 مربع کلومیٹر تک رہ گیا ۔ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ماہرین نے ایک محتاط اندازے کے بعد کہا ہے کہ سارے گلیشیئرز کے رقبے میں مجموعی طور پر 18 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین نے گلیشیئرز سکڑنے کے اس عمل کو قدرتی عمل اور موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت کو قرار دیا ۔ ماہرین نے ایک آتش فشانی چوٹی پر موجود سانتا ایزابیل گلیشیئر کے بارے میں رائے دی ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے 10 سال میں یہ گلیشیئر غائب ہوجائے گا۔ کولمبیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے انسٹیٹیوٹ سے وابستہ عمر فرانکو نے کہا ہے کہ یہ پہاڑی سلسلہ کورڈیلیرا سیںٹرل مائونٹین کہلاتا ہے، حیرت انگیز امر یہ ہے کہ گزشتہ دو برس میں 6 فیصد گلیشیئر پگھلے ہیں جو ایک تشویش ناک بات ہے۔ کولمبیا کے وزیر ماحولیات لوئس گلبرٹو مورویلو نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے برازیل کے بعد کولمبیا کا نمبرآتا ہے اور یہ آب و ہوا میں تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے۔ گلبرٹو نے کہا کہ کولمیبا کاربن ڈائی اخراج کرنے والے ممالک میں بہت پیچھے ہے لیکن پھر بھی اس کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ اس ضمن میں زیادہ آلودگی پھیلانے والے ممالک کو کولمبیا کی مدد کرنی چاہئے۔
image

اگر آپ اپنے پرانے موبائل فون کو فروخت یا تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ڈیٹا درست طریقے سے ڈیلیٹ کرنا ضروری ہے۔ کسی بھی فون کو مکمل ختم کر دینا ممکن نہیں کیونکہ اس کی سٹوریج سو فیصد فول پروف ہوتی ہے، یعنی ڈیٹا کو درست ٹولز سے ریکور کرنا بالکل ممکن ہے۔ اگر آپ اپنا فون بیچنے سے پہلے ڈیٹا محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام ڈیٹا بشمول کانٹیکٹس کا بیک اپ بنائیں۔ تمام سروسز جیسے ای میل اور سوشل میڈیا سے لاگ آئوٹ ہوں اور پھر ان کا ڈیٹا بھی ڈیلیٹ کریں۔ اس فون کا سیریل نمبر اپنے ریکارڈ میں ضرور محفوظ رکھیں۔ اینڈرائیڈ ڈیوائس کو انکرپٹ کرنا ڈیٹا کو دوبارہ ریکور ہونے سے روکنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے اس لئے اسے انکرپٹ ضرور کریں۔ اینڈرائیڈ 6.0 مارش میلو میں تو گوگل نے سیکیورٹی یقینی بنانے کے لئے انکرپشن کو لازمی کر رکھا ہے، تاہم اگر آپ اینڈرائیڈ 5.0 لالی پاپ یا اس سے پہلے کا سسٹم استعمال  کر رہے ہیں جو انکرپشن کو سپورٹ بھی کرتا ہو، تو سیٹنگز میں سیکیورٹی اور پھر انکرپٹ فون پر جاکر ڈیٹا کو سکریمبل کر دیں اور پھر فیکٹری ری سیٹ کریں۔ ایسا کرنے سے ڈیلیٹ ہونے والا ڈیٹا دوبارہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ انکرپٹ کرنے کے بعد فیکٹری ری سیٹ کرکے سب کچھ ڈیلیٹ کر چکے ہیں تو اب اس ڈیٹا کے حصول کو مزید ناممکن بنانے کے لئے نئے بیکار ڈیٹا سے اسے اوور رائٹ کر دیں۔ اس کے لئے اپنی ڈیوائس کے سیٹ اپ میں جائیں مگر اس بار کسی بھی گوگل اکائونٹ سے سائن ان نہ ہوں، جب سیٹ اپ نئے صارف کے طور پر سامنے آجائے تو جتنی دیر تک ہوسکے ہائی ریزولوشن ویڈیو کو ریکارڈ کریں۔ اس عمل کو دہرا کر جتنی جگہ ہوسکتی ہے بھر دیں۔ اس کے بعد ایک بار پھر فیکٹری ری سیٹ کر دیں۔ اس عمل کو دہرائیں اگر آپ زیادہ تشویش کے شکار ہیں تو اوپر دی گئی ٹپس کو کئی بار دہرائیں تاکہ اطمینان ہوجائے کہ ڈیٹا یقینی طور پر ڈیلیٹ ہوچکا ہے اور کوئی بھی اسے ریکور کر نہیں سکتا۔
image

اگر آپ اپنے پرانے موبائل فون کو فروخت یا تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ڈیٹا درست طریقے سے ڈیلیٹ کرنا ضروری ہے۔ کسی بھی فون کو مکمل ختم کر دینا ممکن نہیں کیونکہ اس کی سٹوریج سو فیصد فول پروف ہوتی ہے، یعنی ڈیٹا کو درست ٹولز سے ریکور کرنا بالکل ممکن ہے۔ اگر آپ اپنا فون بیچنے سے پہلے ڈیٹا محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام ڈیٹا بشمول کانٹیکٹس کا بیک اپ بنائیں۔ تمام سروسز جیسے ای میل اور سوشل میڈیا سے لاگ آئوٹ ہوں اور پھر ان کا ڈیٹا بھی ڈیلیٹ کریں۔ اس فون کا سیریل نمبر اپنے ریکارڈ میں ضرور محفوظ رکھیں۔ اینڈرائیڈ ڈیوائس کو انکرپٹ کرنا ڈیٹا کو دوبارہ ریکور ہونے سے روکنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے اس لئے اسے انکرپٹ ضرور کریں۔ اینڈرائیڈ 6.0 مارش میلو میں تو گوگل نے سیکیورٹی یقینی بنانے کے لئے انکرپشن کو لازمی کر رکھا ہے، تاہم اگر آپ اینڈرائیڈ 5.0 لالی پاپ یا اس سے پہلے کا سسٹم استعمال  کر رہے ہیں جو انکرپشن کو سپورٹ بھی کرتا ہو، تو سیٹنگز میں سیکیورٹی اور پھر انکرپٹ فون پر جاکر ڈیٹا کو سکریمبل کر دیں اور پھر فیکٹری ری سیٹ کریں۔ ایسا کرنے سے ڈیلیٹ ہونے والا ڈیٹا دوبارہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ انکرپٹ کرنے کے بعد فیکٹری ری سیٹ کرکے سب کچھ ڈیلیٹ کر چکے ہیں تو اب اس ڈیٹا کے حصول کو مزید ناممکن بنانے کے لئے نئے بیکار ڈیٹا سے اسے اوور رائٹ کر دیں۔ اس کے لئے اپنی ڈیوائس کے سیٹ اپ میں جائیں مگر اس بار کسی بھی گوگل اکائونٹ سے سائن ان نہ ہوں، جب سیٹ اپ نئے صارف کے طور پر سامنے آجائے تو جتنی دیر تک ہوسکے ہائی ریزولوشن ویڈیو کو ریکارڈ کریں۔ اس عمل کو دہرا کر جتنی جگہ ہوسکتی ہے بھر دیں۔ اس کے بعد ایک بار پھر فیکٹری ری سیٹ کر دیں۔ اس عمل کو دہرائیں اگر آپ زیادہ تشویش کے شکار ہیں تو اوپر دی گئی ٹپس کو کئی بار دہرائیں تاکہ اطمینان ہوجائے کہ ڈیٹا یقینی طور پر ڈیلیٹ ہوچکا ہے اور کوئی بھی اسے ریکور کر نہیں سکتا۔
image

فرانسیسی تعمیراتی کمپنی نے ایک ایسا مستری روبوٹ بنایا ، جو تھری ڈی پرنٹنگ کرتے ہوئے پانچ افراد کیلئے ایک مکمل گھر صرف 54 گھنٹے میں تیار کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے کے طور پر روبوٹ نے 1022 مربع فٹ کا ایک گھر تیار کیا ، جس کی تیاری میں دو دن اور چھ گھنٹے لگے ہیں۔ تاہم ماہرین اس وقت کو کم کرکے صرف 33 گھنٹے پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیٹی پرنٹ کمپنی نے یہ تھری ڈی پرنٹنگ روبوٹ بنایا ، جو عام گھروں سے 20 فیصد کم خرچ میں انتہائی موثر اور مضبوط گھر تعمیر کرتا ہے۔ تجرباتی طور پر کمپنی نے فرانس کے شہر نانٹیس میں ایک گھر تیار کرکے اپنے روبوٹ کا عملی مظاہرہ کیا ۔ یہ پہلا تھری ڈی گھر ہے جس میں اب لوگ مستقل طور پر رہیں گے۔ اس عمل میں ایک روبوٹ دھیرے دھیرے زمین کی سطح سے دیوار اٹھاتا رہتا ہے ۔ روبوٹ کسی مداخلت کے بغیر پولی یوریتھین کی دو اور کنکریٹ کی ایک پرت سینڈوچ کی طرح بناتا رہتا ہے۔ گھر مکمل ہونے کے بعد کے بعد غسل خانوں سمیت پانچ کمرے تیار ہوئے اور مکان کی بیرونی دیواریں بھی خوبصورت انداز میں خمیدہ ہیں۔ روبوٹ کے نوزل سے پولی یوریتھین شیونگ کریم کی طرح خارج ہوتا ہے جو پھیلتے پھیلتے کنکریٹ میں سما جاتا ہے۔ اس مٹیریل کی وجہ سے گھر قدرتی طور پر گرم یا سرد رہتا ہے اور بیرونی گرمی سردی کو روک سکتا ہے۔ روبوٹ عین سافٹ ویئر کی ہدایت کے مطابق، لیزر شعاع کی رہنمائی میں اپنا کام کرتا ہے۔ بیٹی پرنٹ کا خیال ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مکانوں کی تعمیر کو آسان اور کم خرچ بناتے ہوئے ایک نیا انقلابی عمل ثابت ہوگی۔
image

 پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آپریشن کے بغیر گھٹنوں کی بیماری کا جدید سائنسی علاج دریافت کر لیا گیا۔ کراچی کے علاقے کلفٹن میں اسٹیم سیل تھراپی کے ذریعے علاج معالجے کے لئے آرتھو پیڈک ہسپتال و جدید لیبارٹری قائم کردی گئی، جس کی افتتاحی تقریب حیدرآباد کے مقامی ہوٹل میں ہوئی۔ پاکستانی نږاد آسٹریلوی ماہر ڈاکٹر سید توفیق حیدر شاہ، ڈاکٹر پرھ میمن اور ڈاکٹر اشوک کمار نے بتایا کہ یہاں آپریشن کے بغیر گھٹنوں کی بیماری کا علاج ممکن نہیں تھا لیکن اب آسٹریلوی سائنسدانوں نے ٹیکے اور طب جدید سے گھٹنوں کی تکالیف ختم کرنے کے لئے کراچی میں جدید ہسپتال اور لیبارٹری قائم کردی۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی، میلبورن کے بعد پاکستان کے معاشی حب کراچی میں مہلک بیماری کا سستا اور جدید آسان علاج کیا جائے گا۔
image

طب کی دنیا میں انقلابی ایجاد، نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانی تاریخ میں پہلی بار رنگین ایکسرے حاصل کر لئے گئے۔  نیوزی لینڈ میں ایٹمی تحقیق کے سب سے بڑے ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے انسانی تاریخ میں پہلی بار تھری ڈی اور رنگین ایکسرے بنائے ہیں تاہم اس کے لئے دستیاب جدید ترین مائیکروچپ کے حوالے سے ادارے نے کچھ نہیں بتایا، تصویری ٹیکنالوجی میں تعاون کرنے والی طبیعاتی لیب نے کہا ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کو نیوزی لینڈ کی کمپنی مارس بائیو امیجنگ نے کمرشلائز کیا ، جس میں انگلینڈ کی کینٹربری یونیورسٹی اور نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف اوٹاگو نے معاونت فراہم کی ۔ ادارے نے اس ٹیکنالوجی کو ڈبڈ میڈی پکس نام دیا گیا ، جو بالکل کیمرے کی طرح کام کرتی ہے۔ رنگین ایکسرے کی اس نئی ٹیکنالوجی سے ڈاکٹر کو امراض کی تشخیص کرنے میں آسانی ہوگی۔
image

 برسٹل یونیورسٹی کے ماہرین حیاتیات یا بائیو لوجسٹس نے برسوں کی تحقیق اور تجربات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مکڑیاں ہوائوں میں موجود برقیاتی لہروں کے طفیل نہ صرف باآسانی اڑان بھر سکتی ہیں بلکہ وہ عالمی برقیاتی سرکٹ اے پی جی کی مدد سے ہزارو ں میل تک اڑان بھر سکتی ہیں۔ واضح ہو کہ اے پی جیز کا دائرہ اثر تمام اشیا پر محیط ہوتا ہے حد یہ کہ اسکی مدد سے مکڑیاں اپنے اور پھولوں کے درمیان حائل لیکن نظر نہ آنے والی جگہوں کا بھی پتہ لگا لیتی ہیں ۔ سائنسدانوں نے کہا کہ تحقیق کے دوران انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ مکڑیاں برقیاتی منطقوں میں با آسانی اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک آتی جاتی ہیں یعنی اگر ہوا نہ بھی ہو تو یہ مکڑیاں اپنے لئے ضروری اور مطلوبہ ہوا خود پیدا کرکے اس سے اپنے مطلب کا کام لے سکتی ہیں ، جبکہ اس تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ مکڑیوں کے جسم پر جو روئیں جیسی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ برقیاتی منطقوں میں فعال اور کارگر بن جاتی ہیں۔ یہ تحقیقی رپورٹ ڈاکٹر ایریکا مورلے کی نگرانی میں کام کرنے والے سائنسدانوں نے مرتب کی ہے۔
image

مائیکروسافٹ کمپنی نے 10 انچ ڈسپلے کا حامل سرفیس گو لیپ ٹاپ ڈیوائس متعارف کرا دیا ۔ ڈیوائس میں 1200×1800پگسل ریزولوشن سکرین ، پینٹیم گولڈ  4415 وائے پروسیسر اور ونڈوز 10 دی گئی ہیں ۔ لیپ ٹاپ میں 4 جی بی اور 8 جی بی ریم کے ساتھ 64 جی بی اور 128 جی بی سالڈ سٹیٹ ڈرائیو دیا گیا۔ فی الوقت لیپ ٹاپ کو صرف وائی فائی کنکٹیویٹی کے ساتھ پیش کیا گیا ، البتہ جلد ہی اس کا ایل ٹی ای ورږن بھی متعارف کرا دیا جائے گا۔4 جی بی ریم اور 64 جی بی سٹوریج کے ساتھ سرفیس گو کی قیمت 399 ڈالر جبکہ 8 جی بی ریم 128 جی بی سٹوریج کے ساتھ قیمت 549 ڈالر ہے۔ ڈیوائس کو پری آرڈر کے لئے پیش کر دیا گیا اور اس کی شپنگ اگست میں شروع ہوگی۔
image

سام سنگ کمپنی گیلیکسی نوٹ 9 سمارٹ فون جلد متعارف کرائے گی۔ فون سے متعلق تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سمارٹ فون میں 6.4 انچ ڈسپلے اور سنیپ ڈریگن 845 پروسیسر دیئے جانے کا امکان ہے۔ فون کو 8 جی بی ریم اور 512 جی بی سٹوریج کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ کیمرہ شٹر کے لئے فون میں فزیکل بٹن کو بھی جگہ دی جائے گی۔ سمارٹ فون میں سٹائلش پین بھی شامل ہوگا جس میں بلیوٹوتھ کنیکٹیویٹی دی جائیگی۔ فون کے پشت پر ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ دیا جائے گا ۔ سیکیورٹی کیلئے فون میں ان ڈسپلے فنگر پرنٹ سنسر دیئے جانے کا امکان ہے۔ سمارٹ فون کو ممکنہ طور پر کالے ، نیلے ، برائون ، گرے اور لیونڈر رنگ میں متعارف کرایا جائے گا۔ سمارٹ فون کے لانچنگ کی تقریب 9 اگست کو متوقع ہے۔
image

 سائنس دان انسانی جسم کی مناسبت سے مصنوعی اور مشینی بیرونی ڈھانچے کی تیاری میں مصروف ہیں جسے پہن کر تمام دن دوڑنے کے باوجود نہ تو تھکاوٹ کا احساس ہوگا اور نہ ہی جسم کے عضلات اور ہڈیوں پر کوئی بوجھ محسوس ہوگا۔ میا چیوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی بائیو میکاٹرونکس لیبارٹری میں تحقیق کار انسان کے ایسے بیرونی ڈھانچہ (Exoskeleton) کی تیاری میں مشغول ہیں جس سے انسانوں کو سپر ہیومن جیسی طاقت حاصل ہوجائے گی اور اسے مسلسل دوڑنے اور انتھک کام کرنے کے باوجود تھکن کا احساس تک نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ایک بیرونی ڈھانچہ نما آلہ ہے جس میں ہاتھ اور پائوں شامل ہیں اور ایک لباس کی طرح پہنا جاسکتا ہے اور الیکٹرانک موٹرز کی مدد سے تیار کردہ یہ فریم (لباس) ہاتھوں اور بازوئوں کی حرکت کو بے پناہ طاقت اور پائیداری فراہم کرتا ہے جس کی مدد سے بغیر تھکن کے مسلسل اور تیزی کے ساتھ دوڑا جاسکے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی وجہ سے انسانی جسم کے ناکارہ ہوجانے والے اعضا کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے بالخصوص فالج یا کسی حادثے میں حرکت کرنے سے محروم ہوجانے والے مریض اب اپنے پائوں پر کھڑے اور ہاتھوں سے معمولات زندگی کی انجام دہی کے لئے کارگر ثابت ہوسکیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کی تیاری کا خیال پی ایچ ڈی کے طالب علم ٹیلر کلٹس کی وجہ سے آیا جو جوڑوں کی سوزش کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اپنی صلاحیتیں کھونے لگے تھے۔ اس ٹیکنالوجی نے ان کی کھوئی صلاحیتوں کو بحال کرنے میں کافی مدد کی، جس کے بعد اس ٹیکنالوجی میں مزید پیشرفت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
image

عوامی سروے

سوال: الیکشن 2018 کیلئے کونسی جماعت آپکی فیورٹ؟