27 مئی 2018
تازہ ترین
دلچسپ وعجیب
 بچوں میں موٹاپا اس وقت دنیا بھر میں ایک چیلنج بن چکا ہے اور ایسے بچے آگے چل کر ذیابیطس، بلڈ پریشر اور میٹابولک سنڈروم کے شکار ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ہیلتھ سائنس سینٹر کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر موٹاپے کی جانب مائل بچوں کو روزانہ دو گلاس گائے کا  دودھ دیا جائے تو اس سے نہ صرف ان میں انسولین کا انجذاب بہتر ہوتا ہے بلکہ آگے چل کر خون میں شکر کی مقدار بھی کنٹرول میں رہتی ہے۔ اس سروے کی تفصیلات ویانا میں یورپین کانفرنس آن اوبیسٹی میں پیش کی گئی ، جس سے بچوں میں دودھ پینے کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔ غذائی ماہر ڈاکٹر مائیکل یافی نے بتایا کہ روزانہ دودھ پینے کی عادت بچوں کو میٹابولک سنڈروم سے بچاتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سروے میں شامل صرف دس بچے ہی ایسے تھے جو دودھ کی ضروری مقدار پی رہے تھے۔ ڈاکٹر مائیکل نے بتایا کہ والدین دودھ کو بچوں کیلئے مضر سمجھنے لگے ہیں اور ان کےلئے ہمارا پیغام ہے کہ وہ دودھ سے نہ گھبرائیں اور ہر عمر کے بچوں کو دودھ ضرور پلائیں۔ میٹابولک سنڈروم ایک جسمانی کیفیت ہے جس میں پانچ میں سے کوئی تین مضر حالتیں ایک جگہ موجود ہوسکتی ہیں، جیسے کہ خون میں زیادہ شکر، زیادہ کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، پیٹ پر چربی اور اچھے کولیسٹرول میں کمی۔ یہ کیفیات امراض قلب، فالج اور ذیابیطس کا راستہ کھولتی ہیں۔ اس سے قبل ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ بڑوں میں بھی دودھ کا استعمال ان کیفیات سے بچاتا ہے لیکن اب یہ بات موٹاپے کے شکار بچوں اور نو عمر کےلئے بھی ثابت ہوچکی ہے۔ سروے میں 353 موٹے بچوں اور نوعمر افراد کو شامل کیا گیا اور دو برس تک مسلسل ان کا جائزہ لیا جاتا رہا ، جن کی عمریں 3 سے 18 برس تھیں۔ اس دوران فاسٹنگ انسولین کو بھی شروع میں نوٹ کیا گیا۔ ان میں سے ایک تہائی ہسپانوی بچے تھے، جبکہ لڑکیوں میں دودھ پینے کی مقدار لڑکوں سے بھی کم تھی۔ ان میں سے جن بچوں نے مقررہ مقدار سے کم دودھ پیا ان میں فاسٹنگ انسولین کی شرح بقیہ کے مقابلے میں کم تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ دودھ کا باقاعدہ استعمال بچوں میں میٹابولک سنڈروم اور ذیابیطس کے خطرے سے بچائو میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

گرائینڈ ہارڈپلمبنگ کمپنی کے ماہر نوجوان نے ایسی کاریگری دکھائی کہ چھوٹی سی کار کو تیز رفتار سواری میں تبدیل کر دیا۔ یوں تو آپ نے کئی جدید اور بیش قیمتی ایڈ وانس گاڑیاں دیکھی ہونگی تاہم ننھی باربی کار وہ بھی اتنی تیز رفتار شاید ہی کبھی دیکھی ہو۔ گرائینڈ ہارڈپلمبنگ کمپنی کے ماہر نوجوان نے ایسی کاریگری دکھائی کہ چھوٹی سی کار کو تیز رفتار سواری میں تبدیل کر دیا جو240ccانجن سے مزین کی گئی ہے اور0سے60رفتار تک صرف9.4سیکنڈز میں پہنچ جاتی ہے۔ 12Vبیٹری والی اس باربی کار میں 24ہارس پاور ہے جب کہ کلچ پْل ہینڈل ،گیئر لیول،اسٹیئرنگ وہیل سب اس کے کاک پٹ میں موجود ہے۔ایک بار ننھی باربی کار سٹار ہو جائے تو 72میل فی گھنٹے تک کی رفتار کو چھْو لیتی ہے جب کہ ایک عام باربی کار2.5میل فی گھنٹے کا سفر بھی بمشکل کر پاتی ہے۔
image

نیشنل اکیڈمی آف سائنسسز کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جتنے بھی جاندار ہیں انکے مقابلے میں انسانوں کی تعداد اور انکی کمیت  صرف 10فیصد ہے مگر تحقیقی کاموں سے پتہ چلتا ہے کہ  اتنی قلت میں ہونے کے باوجود انسان ہی ہے جس نے دنیا سے تقریباً 85فیصد ایسے جانوروں کے خاتمے کا سبب بنا ہے۔ جنہیں دودھ دینے والے جانور کہا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کرہ ارض پر جتنے درخت اور پودے لگے ہیں  ان میں بھی انسانوں کی وجہ سے زبردست کمی ہورہی ہے اور اب تک کرہ ارض سے 50فیصد درخت اور پودے انسان نے ہی ختم کئے ہیں۔ خواہ اسکا مقصد جنگلوں کو کاٹ کر بستیاں بسانا ہو یا کارخانے لگانا۔ نئی رپورٹ سے کرہ ارض پر  انسان اور دیگر جانداروں کی تعداد ، وزن اور وجود میں عدم توازن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر دنیا پر موجود تمام حیاتیات کو وزن کیا جائے  تو درختوں، پودوں، کیڑے مکوڑوں کے تناسب میں انسان کا کوئی خاص شمار نہیں ہوتا۔ مگر تباہی انسان ہی پھیلا رہا ہے۔ یہ تحقیق رپورٹ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے سیمینار میں پڑھی گئی۔
image

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ کچھ خواتین بے وفائی کی جانب کیوں مائل ہوتی ہیں اور ہمیں کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ بے وفائی کے جانب راغب ہو رہی ہیں؟ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ خواتین کے رومانوی رویے میں آنے والی تبدیلی کی بنیادی وجہ انہیں ملنے والی عدم توجہ ہوتی ہے۔ جب توجہ نہ ملنے کے باعث خواتین کے رویئے میں تبدیلی آتی ہے تو اسے با آسانی نوٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ خواتین اپنے شریک حیات کی مکمل اور ہمہ وقت توجہ کی طلبگار ہوتی ہیں اور اگر انہیں یہ بات معلوم ہو کہ انہیں آپ کی پوری توجہ نہیں مل رہی تو وہ آہستہ آہستہ اس تعلق میں اپنی دلچسپی کھونے لگتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق خواتین اپنی اہمیت کے بارے میں انا پرست ہوتی ہیں، یعنی اگر انہیں محسوس ہو کہ شریک حیات انہیں اہمیت نہیں دیتا تو وہ گہرا دکھ محسوس کرتی ہیں اور ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا ان کے لئے بتدریج مشکل تر ہوتا چلا جاتاہے۔
image

 ایک خاتون فوٹو گرافر انا روزلنگ نے دنیا بھر کا سفر کرکے غریب ترین اور امیر ترین ممالک میں بچوں کی ان کے پسندیدہ کھلونوں کے ساتھ تصاویر لی ہیں جنہیں دیکھ کر ہر ملک کے پس منظر اور غریبی کو نوٹ کیا جاسکتا ہے۔ خاتون فوٹو گرافر نے دیگر رضاکاروں کی مدد سے 50 ممالک کے بچوں کی ان کے پسندیدہ کھلونوں کے ساتھ تصویریں لی ہیں جنہیں دیکھ کر ان بچوں کی سادہ زندگی کا احساس ہوتا ہے ۔ برکینا فاسو میں فی کس آمدنی صرف 29 ڈالر ماہانہ ہے۔ یہاں ایک بچی نے بتایا کہ اسے ایک پرانے ٹائر سے کھیلنا اچھا لگتا ہے اور یہی اس کا پسندیدہ کھلونا بھی ہے۔ افریقی شہر زمبابوے میں فی کس آمدنی صرف 34 ڈالر ماہانہ ہے اور اس بچے نے گھر میں ایک گیند بنائی ہے جو اس کا پسندیدہ کھلونا ہے۔ غربت اور بد امنی کے شکار  یہ بچہ دن رات اس پلاسٹک کے پہیے کو اپنے ساتھ رکھتا ہے جو اس کی کل متاع ہے۔ ہیٹی کے ایک اور بچے کے پاس دستی ویڈیو گیم ہے جو اس کا من پسند کھلونا ہے، فلسطین میں ایک بالغ آمدنی کی فی کس آمدنی 112 ڈالر ماہانہ ہے لیکن پلاسٹک کی بوتل اس کا پسندیدہ کھلونا ہے۔
image

مراکش کے تپتے ریگستانوں میں خانہ بدوش آسمان سے گرنے والے قیمتی شہابِ ثاقب جمع کرکے فروخت کررہے ہیں لیکن اس کےلئے کئی دنوں تک صحرا کی خاک چھاننا پڑتی ہے۔ یہ چھوٹے بڑے پتھر بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگے داموں میں فروخت ہوتے ہیں۔ جنوبی مراکش میں خانہ بدوشوں کے پاس طاقتور مقناطیس اور مکعب عدسے ہوتے ہیں جن سے وہ شہابیوں کو تلاش کرتے ہیں ۔ ایک سابقہ ٹیچر نے کہا کہ بسا اوقات کوئی پتھر سونے اور پلاٹینم سے بھی قیمتی ہوتا ہے اور ایک گرام دھاتی شہابیہ ایک ہزار ڈالر یعنی ایک لاکھ روپے میں فروخت ہوسکتا ہے۔ اس کا انحصار شہابیے میٹیورائٹ کی شکل اور اس میں موجود دھات پر ہوتا ہے۔ ایک اور شخص نے بتایا کہ اسے 600 گرام کا ایک آسمانی پتھر ملا جس کے ہر گرام کو اس نے 80 ہزار روپے میں فروخت کرکے خطیر رقم کمائی تھی۔ 2000 کے بعد تمام خانہ بدوش شہابیوں کی تلاش میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔ شہابیے جمع کرنے کے شوقین، سائنسدان اور بین الاقوامی نیلام گھر کے نمائندے ہر سال مراکش آتے ہیں اور ارفود، تاتا اور زغورہ کے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں کی سفید مٹی میں شہابی پتھر آسانی سے نظر آجاتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سائنسی جرائد میں شہابیوں پر جتنے تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں ان میں مراکش کا ذکر ضرور ہوتا ہے کیونکہ یہ خطہ اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ سائنسدانوں کے لیے یہ نظامِ شمسی پر تحقیق کا اہم ذریعہ ہے اور ہر پانچ میں سے ایک شہابیہ قیمتی ہوتا ہے۔ اس جگہ شہابیوں کی برسات ہوتی رہتی ہے جس سے ہربار یہ خزانہ بڑھتا رہتا ہے۔ مراکش میں اس خزانے کےلیے قانون موجود نہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں جمع کرکے ذاتی طور پر فروخت کررہے ہیں۔ 2011 میں تاتا میں ایک پتھر گرا جس کا وزن 7 کلوگرام تھا جس کی فی گرام قیمت 500 سے 1000 ڈالر تھی ۔ لیکن اس کا انحصار خوش بختی پر بھی ہوتا ہے بسا اوقات ہفتوں کوئی شہابیہ نہیں ملتا اور کبھی تو ایک دن میں دو پتھر بھی ہاتھ آجاتے ہیں۔ ان میں سے قیمتی شہابیے نیویارک اور پیرس کے آکشن ہائوسز میں فروخت ہوتے ہیں۔
image

 ایک مردہ شارک کے پیٹ سے پلاسٹک کی 4تھیلیاں برآمد ہوئیں۔ ماہی گیر نے اسکی فلم بناکر ویب سائٹ پر ڈالدی تاکہ لوگوں کو بتایا جاسکے کہ پلاسٹک کی تھیلیاں سمندری حیات کو کس طرح نقصان پہنچا رہی ہیں۔ نیو سائوتھ ویلز آسٹریلیا کی واحد ریاست ہے جہاں پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی نہیں۔ یہ ماہی گیر جنوبی ساحل پر مچھلیاں پکڑ رہا تھا جب اس کے جال میں مردہ شارک آگئی۔
image

 فلپائن میں تیزی سے مقبول ہوتے ایک سپیرے کو اب زہریلے آدمی کا خطاب مل گیا کیونکہ وہ سانپوں کے زہر سے مدافعت پیدا کرنے کیلئے ہر ہفتے کوبرا سانپ سے خود کو ڈسواتا ہے اور خود کو زہر کی چھوٹی چھوٹی مقدار کے ٹیکے بھی لگاتا ہے۔ 31 سالہ قولیلان کاگیان ڈی اور و سٹی میں رہتے ہیں اور انہوں نے 14 سال کی عمر میں پہلا کوبرا سانپ پکڑا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے مزید سانپ پکڑنے کی کوشش کی تو ایک مرتبہ کوبرا نے انہیں ڈس لیا لیکن وہ ہسپتال نہیں گئے اور گھر آکر زخم دھولیا۔ کوبرا سانپ کے کاٹنے کے بعد چکر آتے ہیں، سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے اور آخرکار موت واقع ہوجاتی ہے لیکن جو قولیلان کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ سانپ کاٹنے سے معلوم ہوا کہ میرا جسم اس کا زہر برداشت کر سکتا ہے اور یوں میں نے زہر سے مدافعت کیلئے خود کو تیار کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد میں نے پابندی سے خود کو کوبرا سے ڈسوایا اور کچھ مقدار میں سانپوں کا زہر بدن میں بھی داخل کیا ۔ اب جو قولیلان کا دعویٰ ہے کہ ان پر سانپ کے زہر کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ سانپوں سے ڈسوانے اور زہر داخل کرنے کے بعد وہ اس سے مدافعت پیدا کر چکے ہیں۔ انہوں نے سال میں سیکڑوں مرتبہ خود کو سانپ سے ڈسوایا اور پانچ مرتبہ مرتے مرتے بچے ہیں۔ ایک مرتبہ وائپر نے ان کی انگلی پر کاٹ لیا تھا تو ان کی ایک انگلی کاٹنا پڑی تھی لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ کچھ دن قبل ایک ٹی وی شو میں انہوں نے فلپائنی کوبرا سے خود کو دو مرتبہ ڈسوایا اور تھوڑی حالت بگڑنے پر انہیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں ابتدائی امداد کے بعد ڈاکٹروں نے جو کو بالکل فٹ قرار دے دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سانپ کا زہر ان پر اثر نہیں کرتا۔
image

کیا آپ ایک رسی کی مدد سے جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کتنے صحت مند ہیں ، اسے سٹرنگ ٹیسٹنگ کہتے ہیں جو ایک آسان طریقہ ہے یہ چیک کرنے کیلئے کہ آپ کتنے صحت مند ہیں ۔ یہ ٹیسٹ ایسے کیا جاتا ہے کہ ایک دھاگے کی مدد سے اپنے پائوں سے سر تک کی پیمائش لیں ، پھر دھاگے کو آدھا تہہ کر لیں اور اس سے اپنی کمر کی پیمائش لیں ، تہہ شدہ دھاگہ آپ کے وسط کے اردگرد جانے کے قابل ہوجانا چاہئے۔ صحت مند ہونے کیلئے آپ کی کمر کا ناپ آپ کی لمبائی سے آدھا ہونا چاہئے ۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نارمل جسم رکھنے والے 25 فیصد افراد یہ ٹیسٹ پاس نہیں کر پاتے ۔
image

 برطانوی شہزادہ ہیری اور امریکی اداکارہ میگھن مرکل کی شادی کا ننھا ورږن بھی آ گیا۔ نیویارک میں ننھے بچوں نے شاہی جوڑے کا روپ دھار کر چند روز قبل ہونیوالی شادی کی یاد تازہ کر دی۔ پرنس ہیری کا روپ بنائے ننھے بچے اور میگھن کے کردار میں لڑکی نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی جب شاہی جوڑے کی طرز کا لباس زیب تن ننھا جوڑا کیمرے کے سامنے آیا۔ نیویارک کی ڈیزائنر ٹیم نے 48 گھنٹے کی محنت کے بعد لباس اور دلہا دلہن کو تیار کیا، ننھے بچوں کا فوٹوشوٹ بھی کیا گیا۔ صورتحال مزید دلچسپ ہو گئی جب میگھن کی والدہ ڈوریا رگلینڈ اور شہزادہ ہیری کے والدین پرنس چارلس اور کمیلا بھی اس شادی میں نظر آئے۔
image

 سائنسدانوں نے اپنی تازہ ترین تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ بستر پر لیٹے لیٹے ٹی وی یا آئی پیڈ پر فلمیں وغیرہ دیکھنا صحت کیلئے بہت خراب ہے ۔ اس سے نہ صرف نیند اڑ جاتی ہے اور رات بے چینی میں کٹتی ہے۔ اگر صبح ہوتے ہوتے کچھ دیر کیلئے آنکھ لگ بھی جائے تو پھر اٹھنا محال ہوتا ہے اور اگر انسان اٹھ جائے تو تھکن کا غلبہ اس پر بدستور قائم رہتا ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ رات کے وقت زیادہ دیر تک ٹی وی وغیرہ دیکھنے والے افراد نہ صرف خود بیمار رہتے ہیں بلکہ انکی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور وہ اپنے دفاتر میں بھی درست طریقے سے کام نہیں کرپاتے ۔
image

 سائنسدانوں نے تین صدیوں بعد ایک غرق شدہ بحری بیڑہ دریافت کیا ہے جس میں کھربوں روپے مالیت کا خزانہ موجود ہوسکتا ہے ۔ اس ہسپانوی بحری جہاز کا نام سان ہوزے ہے جو 1708 میں کولمبیا سے روانہ ہوا تھا اور راستے میں سمندر برد ہوگیا تھا۔ تاریخی حوالوں میں قیمتی سونے چاندی اور دیگر اشیا سے لدے اس جہاز کو کئی ملاحوں، خزانہ ڈھونڈنے والوں اور دیگر افراد نے بہت تلاش کیا لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تاہم ماہرین نے 2015 میں اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔ وڈز ہول اوشیانوگرافی انسٹی ٹیوشن ( ڈبلیو ایچ او آئی) کے سمندری ماہرین نے اسے ایک زیرِ آب تحقیق کرنے والے روبوٹ سے دریافت کیا ہے اور خیال ہے کہ اس میں 17 ارب ڈالر کا خزانہ اور قیمتی اشیا موجود ہیں۔ اس کی دریافت سے اس کے حقِ ملکیت پر کئی سوالات اٹھ گئے ہیں ۔ بحری جہاز پر 60 توپیں نصب تھیں اور اس پر 600 افراد کا عملہ موجود تھا جو اسپین کا قیمتی ترین بحری بیڑہ بھی تھا۔ اس کا ملبہ 600 میٹر گہرائی میں دریافت ہوا ہے جس میں انتہائی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ ماہرین نے اس خزانے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے جب کہ اس کے اندر موجود اشیا نکالنے کے لیے ایک منظم آپریشن کی ضرورت ہے جو اس کی ملکیت کے مسئلے کے حل کے بعد ہی ممکن ہوسکے گا۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں لاکھوں کی تعداد میں سونے کے سکے اور چاندی کے زیورات موجود ہیں۔
image

 اپریل1988 میں ہونے والی ایک بیک پیکر لڑکی کے قتل کے سلسلے میں2افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق دونوں کی گرفتاری عین اس وقت سامنے آئی ، جب یہ مقدمہ خارج کیا جانے والا تھا۔ دونوں کی گرفتاری خفیہ پولیس کے اہلکاروں کی مدد سے ہوئی  جو 30سال قبل جرمن بیک پیکر لڑکی اینگا ماریہ ہوسا کے قتل کی تحقیقات کر رہے تھے۔ ماریہ کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش بیلی پیٹرک کے جنگلات میں پھینک دی گئی تھی۔ قتل کئے جانے سے صرف 14دن قبل میونخ کی رہنے والی اس لڑکی کو سکاٹ لینڈ سے آنے والے ایک بحری جہاز پر دیکھا گیا تھا۔ 18سالہ ماریہ کا قتل پورے علاقے میں برسوں کے دوران ہونے والی قتل کی وارداتوں میں ایک اہم حیثیت حاصل تھی۔ گرفتار ہونے والے دونوں افراد کے نام صیغہ راز میں رکھے ہیں اور ان کی عمریں 58اور 61سال بتائی جاتی ہے۔ گرفتاری کے بعد پولیس نے انہیں خفیہ مقام پر منتقل کر دیا  ۔ اپریل میں پولیس اس نتیجے تک پہنچ چکی تھی کہ قتل کی اس واردات میں متعدد افراد بالواسطہ یا بلا واسطہ ملوث رہے تھے اور اس کے بعد پولیس کو مزید معلومات جمع کرنی تھیں تاکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں آسانی ہو۔ قتل کی جگہ سے پولیس کو جو آثار ملے تھے اس نے بھی ان دونوں کی گرفتاری میں ہم کردار اد ا کیا ۔ 
image

افغانستان میں سلک پر لکھا گیا قرآن پاک نمائش کے لیے رکھ دیا گیا، چھ سو دس صفحات پر مشتمل اس کلام پاک کو اڑتیس کیلی گرافرز نے لکھا۔ افغانستان میں ماہ رمضان کے موقع پر سلک پیپر پر لکھے قرآن پاک کو عوام کے لیے پیش کر دیا گیا۔ اس سے پہلے ساتویں اور آٹھویں صدی کے دوران قرآن پاک سلک پر لکھے جاتے تھے۔ آٹھ اعشاریہ چھ کلو گرام وزنی یہ قرآن پاک افغانستان کے کاریگروں کی محنت کا ثبوت ہے۔ جنہوں نے قرآن پاک کو کیلی گرافی میں لکھنے کو مختلف تجربہ قرار دیا۔ چھ سو دس صفحات پر مشتمل قرآن پاک کو مکمل کرنے میں اڑتیس کیلی گرافرز نے حصہ لیا۔ 
image

چین کے ایک صوبے میں قرض لے کر واپس نہ کرنے والے افراد کو شرم دلانے کے لئے ان کی تصاویر اور نام سینما شوز کے دوران نشر کئے جارہے ہیں۔ چینی صوبے سچوان کی ہیجیانگ کائونٹی میں قرض لے کر واپس نہ کرنے والے مرد و خواتین کے نام اور تصاویر سینما شوز سے قبل دکھائے جارہے ہیں تاکہ وہ شرمسار ہوکر اپنا قرض واپس کرنے میں جلدی کریں۔ اسے ریل آف شیم کا نام دیا گیا ، جس کے شروع میں اینی میٹڈ کارٹون آکر کہتا ہے کہ آئو دیکھو یہ ہیں لائو لائی، یہاں لائولائی کا لفظ ایسے لوگوں کیلئے استعمال ہوتا ہے جو وقت پر اپنی قرض لی گئی رقم جمع کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کے بعد سینما سکرین پر قرض لے کر واپس نہ کرنے والوں کی تصاویر اور نام ظاہر کئے جاتے ہیں۔ ہیجیانگ کورٹس میں قوانین پر عمل درآمد کے سربراہ لی جیانگ نے بتایا کہ قرض واپس نہ کرنے والوں کو عوامی سطح پر شرمندہ کرنا، بلیک لسٹ کرنا اور ان پر سفری پابندیاں عائد کرنا ایک عام بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس علاقے میں قرض واپس نہ کرنے والے افراد بستے ہیں عین ان ہی سینما میں ان کی تصاویر اور نام ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ یہ مہم بھرپور طور پر اثرانداز ہوسکے۔ ریل آف شیم کے بعد یہ خبر پورے چین کے سوشل میڈیا پر مشہور ہوتی جارہی ہے جس میں 26 ایسے بااثر تاجروں کی تصاویر دکھائی گئی ہیں جنہوں نے حکومت سے قرض لے کر اب تک واپس نہیں کیا  اور حکومتی اصرار کے باوجود وہ ٹس سے مس نہیں ہورہے۔ چین میں کئی طرح سے قرض واپس نہ کرنے والوں کو شرمندہ کیا جاتا ہے۔ ان کی تصاویر بڑے اشتہاری بورڈ پر آویزاں کی جاتی ہیں، اس کے علاوہ جیانگسو، ہینان اور سچوان صوبوں میں قرض واپس نہ کرنے والے کے نمبروں پر کوئی فون کرے تو ٹیلی کام کمپنیاں پہلے اس قرض خور فرد کا جرم سناتی ہیں پھر اس شخص سے رابطہ ہوتا ہے۔
image

بوئنگ کمپنی کے نئے مسافر بردار طیارے کو پرواز کے لیے اجازت نامہ دیدیا گیا ہے۔ اس طیارے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ لینڈنگ کے وقت اپنے بازو سکیڑ لیتا ہے۔ بوئنگ 777 ایکس کے بازو کا گھیر 235 فٹ ہے لیکن اس چوڑائی میں وہ ایئرپورٹ کے روایتی گیٹ سے نہیں جڑ سکتا۔ اسی وجہ سے لینڈنگ کے بعد اس کے بازو سکڑ کر 212 فٹ تک کیے جاسکتے ہیں۔ بوئنگ کمپنی کے مطابق 18 مئی کو اس طیارے کے نئے ڈیزائن کے استعمال کی منظوری دیدی گئی ہے اور فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک رپورٹ میں طیارے کی خصوصی ڈیزائن سے وابستہ پرواز کے اجازت نامے کی درخواست کی ہے ۔ تاہم بوئنگ کو اپنے نئے طیارے کے بازو مزید پھیلانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کاربن فائبر سے بنے یہ بازو طیارے کا ایندھن بچانے میں اہم کردار ادا کریں گے کیونکہ اس سے پرواز کے دوران ہوا کی مزاحمت  کم کرنے میں مدد ملے گی۔ لینڈنگ اور گیٹ پر آتے ہوئے بوئنگ 777 ایکس کے بازو سکڑ جائیں گے جس کےلئے بازو کا یہ نظام انتہائی پیچیدہ بنایا گیا ہے اور اس کے بند ہونے والے حصے میں کوئی ایندھن نہیں ہوگا۔ 
image

رمضان میں سعودی گھروں سے مصطگی کی دھونی کی مہک اٹھنے لگتی ہے۔ مصطگی ایک گوند نما مواد ہوتا ہے جو MASTIC کے درخت کی جڑوں سے نکالا جاتا ہے، اقسام اور کوالٹی کے لحاظ سے اس کے کئی رنگ ہوتے ہیں جن میں سفید، زرد اور سرمئی بھی شامل ہیں۔ مصطگی کو ضرورت کے مطابق مختلف استعمال میں لایا جاتا ہے۔ بعض لوگ اسے خوشبودار دھونی کے لیے استعمال کرتے ہیں تو کہیں یہ عطر اور سنگھار و آرائش کے سامان کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کے موقع پر سعودی خواتین گھر کے برتنوں بالخصوص گلاسوںکو مصطگی کی دھونی سے مہکاتی ہیں۔ سعودی سرزمین کے رہنے والے طویل عرصے سے نسل در نسل رمضان کے اس رواج پر کاربند ہیں۔ برتنوں کو مصطگی کی دھونی دینے کا طریقہ کار بھی کچھ مختلف ہے جس میں پہلے کوئلے کا ٹکڑا جلا کر اس پر مصطگی کے دانے رکھ دیئے جاتے ہیں اور پھر پانی کے گلاس، کپوں، فلاسکوں اور ڈشوں کو تقریباً 10 منٹ تک دھونی دی جاتی ہے، اس طرح ان میں دھونی کی مہک برقرار رہتی ہے۔ تاریخی لحاظ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس رواج کا آغاز مدینہ منورہ سے ہوا جو وہاں سے ہوتا ہوا دیگر شہروں تک پھیل گیا۔
image

مسجد حرام کی انتظامیہ نے بوڑھے، مریض اور معذور حجاج کرام کی سہولت کے لیے سکوٹرز کی شکل میں مفت شٹل سروس فراہم کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسجد حرام میں ٹرانسپورٹ سروس کے ڈائریکٹر صالح محمد علی ہوساوی نے میڈیا کو بتایا کہ حرم شریف کی پہلی منزل کے میزانائن فلور کو ان برقی سواریوں کے ذریعے طواف اور سعی کرنے والوں کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ میزانائن فلور پر ان سکوٹرز کی تعداد سات سو بتائی گئی ہے جب کہ فری وہیکل سروس کے تحت تمام سواریوں کی مجموعی تعداد 8700 ہے جو مسجد حرام کے تمام اطراف کے مخصوص پوائنٹس پر موجود ہوں گی۔ شٹل سروس تک لوگوں کی آسان رسائی کے لیے مختلف مقامات پر کاؤنٹر بھی بنائے گئے ہیں جہاں سے زائرین کو شٹل سروس کے استعمال کے سلسلے میں معلومات مل سکتی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق سکوٹرز  سٹینڈز کے ساتھ کیو آرکوڈ فراہم کیے گئے ہیں جنہیں سکین کرکے روٹ اور متعلقہ نقشہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔
image

 بحرین میں دنیا کا سب سے بڑا بسکٹ تیار کرلیاگیا۔ اس نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈمیں جگہ بنالی ہے۔اپنی نوعیت اور سائز کے اعتبار سے منفرد بسکٹ بحرین کے شیفس کی ٹیم نے مل کر بنایاہے۔ اس کا وزن لگ بھگ 73.4 کلوگرام ہے جو اب تک تیار کیاجانےوالا دنیا کا سب سے بڑا بسکٹ ہے جوبلیک اور سفید کریم سے بھر اہوا ہے۔
image

 ایک ہندوستانی شہری نے چھوٹی سی استری ایجاد کرلی ہے جسے دنیا کی سب سے چھوٹی استری ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیاہے، شہری  نے اپنی بیٹی کی گڑیا کے کپڑوں کیلئے بنائی جو ایک منفرد اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ اپنی نوعیت کی اس چھوٹی سی استری کو سائنس عجائب گھر میں رکھاگیاہے جہاں دیکھنے والے اسے حیرت سے دیکھتے رہ گئے۔اس استری کی چوڑائی صرف 9.5ملی میٹر ہے جو صرف 9 وولٹ کی بجلی سے چلتی ہے اور بڑی استریوں کی طرح اس سے کپڑوں کی شکنیں دو کی جاسکتی ہیں۔
image

اگلے چند ماہ میں ہوا بازی کی تاریخ میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ اپنی پہلی پر واز پر روانہ ہو گا ۔ ماہرین کے مطابق اس طیارے کے دو کا ک پٹ ہیں ، جب کہ 6 انجنوں کی وجہ سے یہ اب تک کا طاقت ور طیارہ بھی ہے ۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کاایک پر فٹ بال گر ائونڈ کی لمبائی سے بھی زیادہ ہے اور اس میں ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے 28 پہیے نصب کیے گئے ہیں ۔ طیارے میں نصب ہونے والے جیٹ انجن عام طور پر 747جمبو جیٹ میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ انجن سٹیلائٹس اور خلا نوردوں کو زمین کے اوپری کرہ ہوائی تک پہنچانے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں جہاں سے انہیں خلا میں چھوڑا جاتا ہے۔کوراڈو میں منعقدہ 34 ویں خلائی سمپوزیم میں دنیا کے سب سے بڑے طیارے اسٹار ٹو لانچ کے بارے میں توقع کا اظہار کیا گیا ۔یہ قوی الجثہ طیارہ موسم گر ما میں پہلی پرواز پر روانہ ہوگا ۔کمپنی کے مطابق چند ماہ قبل طیارے نے رن وے پر دوڑنے کے دوٹیسٹ میں پہلے ہی کام یابی حاصل کرلی ہے ۔اس دوران اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 41 کلو میٹر فی گھنٹے سے 74 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی ۔پہلی پرواز سے قبل طیارے کے رن وےپر دوڑنے کے مزید تین ٹیسٹ کئے جائیں گے۔ انگیجیٹ کے مطابق اگلے تین ٹیسٹ کے دوران طیارہ رن وے پر دوڑتے ہوئے 128 کلو میٹر فی گھنٹہ سے لے کر 222 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار پکڑ ے گا۔ اس کے مقابلے میں روایتی جیٹ طیارے 190 کلو میٹر فی گھنٹہ سے 241 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک رن وے پر دوڑتے ہیں۔ طیارے کے تخلیق کاروں کے مطابق خلا کارگو بھیجنے کے لیے استعمال کئے جانے کے ساتھ ساتھ اسے ایک خفیہ شٹل کے سائز کا راکٹ خلا میں بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا ،جس کا کوڈ نام بلیک آئس ہے۔ رن وے پر طیارے کے دوڑنے کی کم رفتار والے ٹیسٹ 25فروری 2018 کو کئے گئے تھے، جس کے دوران طیارے میں نصب 8940 پائونڈز وزنی تمام 6 انجن چلائے گئے تھے۔ اسٹار ٹو لائونچ کی جسامت اتنی بڑی ہے کہ اس میں دوہرے ڈھانچے (Fuselags) کی ضرورت پیش آئی اور دونوں ڈھانچوں میں دو علیحدہ کاک پٹ بنائے گئے ۔ کیلی فورنیا کے میوجیوائر اینڈ سپیس پورٹ پر ہونے والے حالیہ ٹیسٹ کا بنیادی مقصد رن وے پر جہاز کو چلانے اور روکنے کی اہلیت جانچنا تھا۔ سٹار ٹو لائونچ سسٹمز کارپوریشن کی ایک گرائونڈ ٹیم نے طیارے کے متعدد سسٹمز بشمول موڑنے، روکے، پھسلنے سے بچانے اور ریڈیو سگنلز کے ذریعے مسافت پیمائی (Telemetry) کی جانچ پڑتال کی۔ قبل ازیں انجینئروں نے گزشتہ سال دسمبر میں طیارے کے رن وے پر دوڑنے کے ٹیسٹ کئے، مگر اس وقت رفتار صرف 25 ناٹس 45 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکی تھی، جب طیارہ ہوا کے دوش پر رواں ہوگا تو صرف تین افراد پر مشتمل کریو پائلٹ، شریک پائلٹ اور فلائٹ انجینئر دائیں جانب والے کاک پٹ میں بیٹھ کر طیارے کو کنٹرول کریں گے۔ بائیں جانب کا ڈھانچہ بظاہر دیکھنے سے بالکل دائیں جانب جیسا نظر آتا ہے ،جس میں کاک پٹ اور باہر دیکھنے کے لیے کھڑکیاں بھی ہیں ،مگر درحقیقت یہ حصہ خالی اور کسی دبائو کے بغیر ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق سٹار ٹو لائونچ کا وزن کسی کارگو کے بغیر تقریباً 5لاکھ پائونڈ زہے، جب کہ اس میں 13لاکھ پائونڈز وزنی کارگو لے جانے کی گنجائش بھی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارہ قوی الجثہ ہونے کے باعث ائربورن راکٹ لانچر کی حیثیت سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ روایتی طور پر سٹیلائٹس اور دیگر خلائی وہیکلز خلا میں ایک لائونچ پیڈ سے چھوڑے جاتے ہیں، جس کے لیے بھاری مقدار میں فیول کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سٹار ٹو لائونچ کی ٹیم نے گزشتہ سال ستمبر میں پہلا انجن سٹارٹ کرنے کے بعد سے مشن کنٹرول سینٹرپر تمام انجنوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لے لیا تھا۔ ے، جو اب تک بننے والے تمام طیاروں سے زیادہ ہے۔ 2011ئ میں منصوبے کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 300 ملین ڈالر لگایا گیا تھا، مگر 7 سال گزرنے کے بعد اس کے حتمی اخراجات کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ اسٹار ٹو لائونچ کو دو ڈھانچوں کے درمیان راکٹ لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ یہ تیز تر ین طیارہ ایک ایرو اسپیس کمپنی اسکالڈ کمپوزٹس نے تعمیر کیا ہے۔ایلن کے منصوبے کا بنیادی مقصد انٹرنیٹ تک رسائی، زمین کی مختلف زاویوں سے تصاویر لینا، موسم کے اعدادوشمار مرتب کرنا اور زمین کے گرد کم بلندی پر گردش کرنے والے سیارچوں کی مدد سے سیکڑوں نیٹ ورکس کے لیے خدمات فراہم کرنا ہے۔ ان کا مقصد ایلن مسک کی اسپیس ایکس، جیف بیزو کی بلیو اوریجن، رچرڈ برانسن کی ورجن گیلا کٹک اور دیگر کمپنیوں کے مقاصد سے قطعی مختلف ہے جو کہ خلا میں ایک تجارتی شاہراہ تعمیر کرنے کے لیے کام کررہی ہیں۔ ایلن کے منصوبے کے ذریعے سیارچوں کو زمین کے اہم مدار میں براہ راست پہنچایا جاسکے گا، موسم کی خرابی اس کی روانگی میں خلل نہیں ڈال سکے گی ،جب کہ کسی لائونچ پیڈ کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ ایلن کی یہ سروسز اسے ایک منفرد مقام دلوائیں گی۔
image

ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور اس محاورے کا عملی مظاہرہ پیش کر دیا گیا ہے۔کینیڈاکی ایک کمپنی نے کپڑے رکھنے والے سوٹ کیس کو الیکٹرک سکوٹر میں تبدیل کر کے دنیا بھر میں شہرت حاصل کر لی ہے ۔ سوٹ کیس صرف کپڑوں کے لئے ہی نہیں بلکہ سواری کیلئے بھی استعمال ہو گا۔ کمپنی نے سفر کے دوران سامان اٹھانے کی مشکل کو حل کرتے ہوئے سوٹ کیس میں موٹر نصب کر دی ہے اور مسلسل آزمائش کے بعد طویل ترین عرصے میں لگاتار محنت اور تجربوں کے بعد عام سوٹ کیس کو الیکٹرک سکوٹر میں تبدیل کیا جو حیرت انگیز طور پر برقی توانائی سے سڑکوں پر 12 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ دلچسپ سوٹ کیس سکوٹر 299اعشاریہ9ڈالر میں با آسانی مارکیٹ میں دستیاب ہے جس سے نہ صرف وزن اُٹھانے سے نجات حاصل ہو گی بلکہ یہ سوٹ کیس تفریح کا سبب بھی بن سکے گا۔  
image

دنیا بھر میں مسلمان خواہ کسی اسلامی ملک میں رہتے ہوں یا کسی غیر مسلم ملک میں، اپنے اپنے انداز اور روایات کے مطابق رمضان کے بابرکت مہینے کو بھرپور انداز میں مناتے ہیں۔ انڈونیشیا میں رمضان کے دوران شعلوں میں لپٹے ناریل کے خول سے فٹبال کھیلنے کی روایت آج بھی برقرار ہے جہاں مسلمان افطار کے بعد اپنی اس مخصوص روایت کے مطابق ماہِ مبارک کی خوشیاں مناتے ہیں۔ اس کھیل کیلئے ناریل کے خول کو پہلے کیروسین میں بھگویا جاتا ہے اور پھر شعلوں میں لپٹے اس ناریل کے خول سے فٹبال کھیلی جاتی ہے۔
image

چین میں د نیا کی مشکل ترین میرا تھن کاانعقاد کیا گیا جس میں شا مل ایتھلیٹس کو دیو ارِ چین کی 5ہزا ر سے زا ئد سیڑ ھیا ں سر کر نی ہوتی ہیں۔ اس میر اتھن میں چین،کینیڈا،جاپان،روس،فرانس اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے تقریباً 2ہزار ایتھلیٹس نے شرکت کی ،شوقیہ ایتھلیٹس کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ دیوارِچین کے چینی صوبے ہبئی سے گزر نے والے جنشالنگ سیکشن پر ہونے والی اس میراتھن میں حصہ لینے وا لوں کو 5164 سیڑھیاں طے کر کے یہ مشکل ترین میر اتھن مکمل کر نی تھی۔ میراتھن کے اکثر شرکا جلد ہی ہمت ہار گئے مزید آگے بڑھنے کے بجائے سستانے کو ترجیح دی ۔ رواں برس اٹلی سے تعلق رکھنے والے پیریگو آسکرنامی ایتھلیٹ نے پہلی پوزیشن حاصل کی خواتین کی کیٹیگری میں جنوبی افریقہ کی میرینا کووٹز ماریا نے مقررہ فاصلہ سب سے پہلے طے کر یہ مقابلہ جیتا۔ان دونوں کا کہنا تھا بظاہر یہ میراتھن زیادہ مشکل نظر نہیں آتی لیکن مسلسل ہزاروں سیڑھیاں چڑھنا اور حریفوں کو بھی پیچھے چھوڑنے کا چیلنج پورا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ ہمیں تو اب بھی یقین نہیں آرہا کہ ہم 5ہزار سے زائد سیڑھیا ں چڑھنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
image

بھارتی خاتون کا پیٹ نہیں ہے لیکن وہ اپنا گزارا جوس پر کرتی ہے مگر دوسروں کیلئے کھانے شوق سے بناتی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق حیران کن طور پر بھارت کی نتاشا نامی خاتون کا اپنا معدہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ خود کچھ کھا سکتی ہے۔ نتاشا کو السر کی شکایت تھی جس کے بعد مرض اتنا بڑھا کہ ڈاکٹروں کو اس کا آپریشن کرنا پڑا ، صحت یابی کے بعد نتاشا نے نئی زندگی نئے سرے سے شروع کر دی ہے مگر وہ اب کھانا کھا نہیں سکتی اور صرف مشروبات پیتی ہے۔
image

عوامی سروے

سوال: کیا نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے؟