17 جولائی 2018
تازہ ترین
دلچسپ وعجیب
جرمنی اور مصر کے ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے یہاں پائے جانے والے سب سے بڑے اہرام کے قریب سے ایک ایسا ڈھائی ہزار سال پرانا کارخانہ دریافت کیا ، جہاں ممیاں تیار ہوتی تھیں۔ یونیسکو اس علاقے کو پہلے ہی عالمی ثقافتی ورثہ  قرار دے چکا ہے۔ اس علاقے کو میمفس  کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ کارخانہ اچانک ہی دریافت ہوا ، تاہم ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ یہ بہت بڑی دریافت ہے جسے  اطلاعات کے حوالے سے سونے کی کان کہا جاسکتا ہے۔ کارخانے سے 4برتن،  بڑے بڑے تسلے،  پیالے، نقاب ، خشک کئے گئے  جسمانی اعضا، موم جامہ کے  طور پر استعمال ہونے والی چیزیں اور بہت سی دوسری کارآمد اشیا بھی ملی ہیں۔  ماہرین آثار قدیمہ نے کہا کہ  وہ قاہرہ کے جنوب میں واقع اس علاقے میں جسے زمانہ قدیم میں نیکرو پولس کہا جاتا تھا کسی اور چیز کی  تلاش میں نکلے تھے مگر یہ بیش بہا خزانہ کارخانے کی شکل میں  دریافت ہوگیا۔  ماہرین نے کہا کہ اس کارخانے کے قریب ہی میمفس کا  سکارا  علاقہ بھی شامل ہے  جسے قبرستان کے طور پر استعمال کیا جاتا  رہا ہے۔ 

خطروں سے کھیلنا اور کچھ منفرد کارنامے انجام دینا ایڈونچر کے شوقین افراد کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے جوہر خطرے سے لڑ جاتے ہیں اور ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں۔ ویڈیو میں نظر آنے والے اس جانباز کا شمار بھی ایسے ہی خطروں کے کھلاڑیوں میں کیا جا سکتا ہے جو سمندر کی تند و تیز لہروں پر کائٹ سرفنگ کا شاندار مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے دارالحکومت کیپ ٹائون میں ایڈونچر کے شوقین منچلے نے نہ صرف سمندر کی لہروں پر کائٹ سرفنگ کا شوق پورا کیا بلکہ اس دوران کرتب بازی کا بھی شاندار مظاہرہ کیا کہ جیسے یہ اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔
image

سکولوں میں دوبارہ بلیک بورڈ اور چاک متعارف لندن برطانیہ کے کئی سکولوں میں ٹیبلٹ، الیکٹرانک وائٹ بورڈ اور لیپ ٹاپ کی جگہ دوبارہ روایتی بلیک بورڈ اور چاک کا طریقہ متعارف کرایا گیا۔ ایک مطالعے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ انٹر ایکٹو الیکٹرانک بورڈز اور ٹیبلٹ کی جگہ اگر روایتی تختہ سیاہ اور چاک سے پڑھایا جائے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ایک برطانوی این جی او کے مطابق اس عمل پر کمزور طلبہ و طالبات بھی یکساں طور پر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسری جانب الیکٹرانک آلات کی بجائے بچوں اور ٹین ایجرز کو روایتی انداز میں پڑھایا جائے تو وہ تیزی سے سبق سیکھتے ہیں اور اس کے اخراجات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔ برطانیہ بھر کے سکولوں میں تین سال تک یہ تجربات کئے گئے اور اس میں کہا گیا کہ بچوں کو سلیٹ پر لکھنا سکھایا جائے تو اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اول تو استاد ازخود فوری طور پر جواب معلوم کر لیتا ہے جس کے بعد استاد فرداً فرداً ہر بچے کی فوری رہنمائی کر سکتا ہے۔ تجرباتی طور پر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الیکٹرانک آلات کی بجائے چاک، بلیک بورڈز سے بچوں کو پڑھایا جائے تو صرف دو ماہ بعد ہی بچوں کے امتحانی گریڈ میں واضح اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی دو ماہ تک بھی چاک اور بورڈز پر پڑھانے سے واضح فرق سامنے آجاتا ہے تاہم ٹیبلٹس کے لئے سلیٹ کی طرح کام کرنے والی اگر کوئی ایپ بنالی جائے تو بھی اس کے فوری فوائد سامنے آتے ہیں۔ یہ سروے برطانیہ کی مشہور تعلیمی این جی او دی ایجوکیشن اینڈائومنٹ فائونڈیشن  نے کیا اور اس بنا پر 140 سکولوں میں دوبارہ بلیک بورڈ اور چاک سے پڑھائی شروع کرا دی ہے۔ اس مطالعے میں سیکڑوں سکول شامل تھے اور مجموعی طور پر 25 ہزار  بچوں کا تین سال تک مطالعہ کیا گیا۔ ماہرین تعلیم نے چاک اور بورڈ کے نتائج کو اس لئے موثر ثابت پایا کیونکہ اس میں بچے کی صلاحیت ہاتھوں ہاتھ سامنے آجاتی ہے۔ تین سال بعد معلوم ہوا کہ اچھے طالب علموں کی صلاحیتیں مزید بہتر ہوئیں اور اوسط طلبہ و طالبات کی کارکردگی بھی اچھی ہوتی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیبلٹ پر دیئے گئے جوابات کو استاد بعد میں چیک کرتا ہے جبکہ بلیک بورڈ اور سلیٹ پر لکھے گئے جوابات وہ فوری طور پر چیک کرکے بچے کی خامیوں سے آگاہ ہوتا ہے اور اسی لمحے بچے کو ہدایت اور رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ قبل ازیں جاپانی ماہرین بھی کہہ چکے ہیں کہ الیکٹرانک آلات سے بچوں کے لکھنے کی استعداد متاثر ہوتی ہے، جبکہ چھوٹی عمر میں بچوں کے لکھنے سے دماغ کے اعصاب اچھی طرح سرگرم ہوتے ہیں۔
image

 امریکا میں مونٹیری کائونٹی کے ساحلی علاقے کی چوٹی سے کار سمیت گر جانے والی پورٹ لینڈ  کی 23 سالہ خاتون کا ایک ہفتے بعد سراغ لگا لیا گیا، سات روز تک خاتون نے اپنی جیپ کے ریڈی ایٹر کا پانی پی کر توانائی بحال رکھی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی شہر پورٹ لینڈ کی 23 سالہ خاتون انجیلا ہرنانڈیز ایک ہفتے قبل کیلیفورنیا کے ساحلی علاقے میں لاپتا ہوگئی تھیں ان کی تلاش میں ریسکیو اہلکاروں کو ناکامی کا سامنا تھا کہ دو بائیکرز کو 61 میٹر بلند چوٹی کے نیچے تباہ کار نظر آئی جس پر ریسکیو ادارے کو مطلع کیا گیا۔ ریسکیو ادارے کے اہل کاروں نے 61 میٹر چوٹی سے نیچے اتر کر دیکھا تو تباہ حال جیپ میں انجیلا نحیف حالت میں موجود تھیں، جنہیں طبی امداد کے لئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ،جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق خاتون کی جیپ کے سامنے اچانک ایک کتا آگیا تھا جسے بچانے کی کوشش میں وہ کھائی میں گرگئیں جس کی وجہ سے ان کے کندھے میں چوٹ آئی، تاہم خوش قسمتی سے وہ نہ صرف اتنی اونچائی سے گرنے کے بعد محفوظ رہیں بلکہ انہوں نے سات دن تک صرف جیپ کے ریڈی ایٹر کا پانی پی کر گزارا کیا۔
image

بھارتی ریاست آسام میں پہلی بار ایک خواجہ سرا کو جج مقرر کر دیا گیا ۔ جج سواتی بدھان بارو نے مقدمات کی سماعت بھی کی۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست آسام میں پہلی بار ایک خواجہ سرا کو جج مقرر کر دیا گیا ۔ جج سواتی بدھان بارو نے مقدمات کی سماعت بھی کی۔ آسام کی جج سواتی نے بتایا کہ انہیں جج بننے کا حق آسانی سے نہیں ملا، اس کے لئے انہیں باقاعدہ قانونی جنگ لڑنی پڑی۔ بھارت میں اس سے پہلے بھی دو خواجہ سرائوں کو جج مقرر کیا جا چکا ہے۔
image

چین سے منظر عام پر آنیوالا ایک انوکھا نظارہ آج کل توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جس میں مشہور چینی زرد دریا کا پانی سمندر میں ملتا دکھائی دے رہا ہے۔ قدرتی طور پر ترتیب پانے والا یہ نظارہ جس نے دیکھا اپنی حیرت نہیں چھپا سکا۔ نیلے ساحل کا زرد دریا سے ملاپ نہ صرف اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے بلکہ یہ مقام سیاحوں کی توجہ کا بھی مرکز بنا ہوا ہے ۔
image

سابق فوجی اڈے کو کیمپنگ کا میدان بنا دیا گیا، پرتعیش اور آرام دہ خیمے توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ نیویارک کے گورنرز آئی لینڈ میں کیمپنگ کا میدان قائم کر دیا گیا، مین ہٹن اور مجسمہ آزادی کا خوبصورت منظر بھی یہاں سے باآسانی دکھائی دیتا ہے۔ ایک کمپنی نے سات ایکڑ رقبے پر پھیلے ایک سابق فوجی اڈے کو خوبصورت پبلک پارک میں تبدیل کر دیا اور اسے نیا تصور یوں دیا کہ وہاں 37 پر تعیش کیمپ لگا دیئے۔ آرام دہ بیڈ رومز، مزے دار کھانے،اور کیمپ فائر کے ساتھ دیگر سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ ارک کے سی ای او پیٹر میک کا کہنا ہے یہ تصور نیا ہے، دنیا میں تیزی سے پھیلتے اس تصور کو گلیمپنگ یعنی   گلیمرس کیمپنگ   کا نام دیا گیا ہے۔ اب دور دراز جانے کی ضرورت نہیں، اپنے شہر میں چھٹیاں پر سکون ماحول میں گزاریں۔  
image

 بھارت میں ایک پولیس افسر نے جرائم روکنے میں ناکامی پر اپنے ہی خلاف ہی مقدمہ درج کرا لیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایس ایچ او نے تھانے کی حدود میں جانوروں کی سمگلنگ کی روک تھام میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔ ایس ایچ او راجیندرا تیاگی نے میڈیا کو بتایا کہ کھڑ کودا پولیس سٹیشن کا چارج سنبھالنے سے قبل ایک اصول وضع کیا تھا کہ فرائض سے  غفلت برتنے اور نااہلی  کے مرتکب اہلکار کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا میں نے یہ تصور متعارف کرایا تھا کہ جرائم کی روک تھام میں ناکامی پر اہلکار کو  ذمہ دار ٹھہرایا جائےگا، اگر کسی علاقے میں چوری یا قتل کی ورادات ہوئی تو متعلقہ کانسٹیبل  کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ متعلقہ کانسٹیبل کو جرائم پر قابو پانے کیلئے دو مواقع دیئے جائیں گے تاہم تیسری بار غفلت پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ وضع شدہ اصول پر مذکورہ ایس ایچ او نے جانوروں کی سمگلنگ میں مسلسل ناکامی پر اپنے خلاف بھی مقدمہ درج کرایا۔ واضح رہے کہ ایس ایچ او نے اب تک 6 کانسٹیبلز کے خلاف مقدمات درج کرا رکھے ہیں۔
image

جمہوریہ آئس لینڈ میں وہیل کی ایک معدوم ہوتی ہوئی نایاب نسل کے شکار اور خرید و فروخت کا انکشاف ہوا ۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جزیرہ آئس لینڈ میں ماہی گیروں کی جانب سے وہیل کی نایاب نسل کے شکار اور خرید و فروخت کے مناظر کی تصاویر وائرل ہوئی ہیں۔ وائلڈ لائف ادارے نے نوٹس لیتے ہوئے آئس لینڈ حکومت کو سخت قوانین کے نفاذ اور وہیل کی خرید و فروخت کی روک تھام کے لئے اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا ۔ ماہرین کے مطابق مذکورہ وہیل نیلی اور پر والی وہیل کے اختلاط کا نتیجہ تھی جس کا 1978 سے شکار جاری تھا اور خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید یہ نسل مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہے تاہم تازہ تصاویر نے یہ معاملہ ایک بار پھر اجاگر کر دیا ۔ وائلڈ لائف اس وہیل کے ڈی این اے کرکے نسل کا پتا لگائے گی۔ وہیل کی اس نسل کا وزن 2 سو ٹن تک ہوسکتا ہے اور اس کی لمبائی 30 میٹر ہوتی ہے۔ آئس لینڈ میں وہیل کے شکار پر پابندی نہیں جس کی وجہ سے اس نسل کا شکار بڑھتا جا رہا ہے۔
image

 امریکی ماڈل کو ایڈونچر اس وقت مہنگا پڑ گیا جب اسے بہاماس کے ساحل پر منڈلاتی شارک مچھلیوں کے ساتھ تصاویر اتروانے کا شوق آیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ شارک مچھلیوں کے بے ضرر نظر آنے والے بچے اس کے لئے انتہائی تکلیف دہ موت کا سامان ثابت ہوسکتے تھے۔ 19 سالہ امریکی ماڈل، کیٹرین زروٹسکی اپنے اہلخانہ کے ساتھ امریکہ کے قریب بہاماس کے شفاف پانیوں کیلئے مشہور ساحل پر تیراکی میں مصروف تھی کہ اچانک شارک مچھلیوں کے بچوں کا جھنڈ جو عام حالات میں خطرناک نہیں سمجھا جاتا اور لوگ ان کے درمیان بے خوف ہو کر تیراکی میں مصروف رہتے ہیں کیٹرین کے قریب آ گیا۔ کیٹرین کو خیال آیا کہ کیوں نہ شارک مچھلیوں کے جھنڈ کے ساتھ تصاویر ہی بنوائی جائیں، کیٹرین کم گہرائی کے پانی میں اٹھکیلیاں کرتے شارک کے بچوں کے پاس آ گئی اور تصاوپر اتروانے لگی۔ کچھ تصاویر کھڑے ہو کراتروائیں، اب کیٹرین کچھ تصاویر تیراکی کرتے اتروانا چاہتی تھی۔ جونہی کیٹرین نے پانی کی سطح پر افقی انداز میں تیراکی شروع کی اچانک کیٹرین کو اپنے بائیں بازو کی کلائی میں چھریاں سی اترتی محسوس ہوئیں اور اسے یوں لگا جیسے اسے پوری قوت سے پانی کی تہہ میں کھینچا جا رہا ہو۔ یہ سب لمحوں کے ہزارویں حصے میں ہوا اور اس کے والد سوائے شور مچانے کے کچھ بھی نہ کر سکے۔ زندگی موت کی کشمکش میں کیٹرین نے اپنے حواس سنبھالتے ہوئے شارک کے بچے کو ایک مکا جڑ دیا اور پانی سے باہر نکلنے کیلئے پورا زور صرف کر دیا۔ یہ کیٹرین کی خوش قسمتی ہی تھی کہ جھنڈ میں موجود کسی دوسری شارک مچھلی نے کیٹرین پر حملہ نہیں کیا اور کیٹرین فوری طور پر پانی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔
image

بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے ایک سکول کے کچن سے درجنوں زہریلی سانپ نکل آئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ہنگولی ڈسٹرکٹ کے ضلع پریشاد سکول  کے کچن سے سانپ برآمد ہوئے، جس پر طلبہ و اساتذہ سمیت عملے کے ارکان میں کھلبلی مچ گئی۔ پنگرابوخرے نامی گائوں میں واقع اس سکول کے کچن میں ایک طالب علم نے سانپ کو دیکھا جس کی اطلاع سکول پرنسپل کو دی، بچوں کے شور مچانے پر یہ خبر گائوں میں پھیل گئی اور مکین  ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر اٹھائے تیزی سے سکول پہنچ گئے۔ سکول پرنسپل نے بتایا کہ انہوں نے ہجوم کو سانپوں کو مارنے سے روک دیا اور ایک تربیت یافتہ سانپ پکڑنے کے ماہر شخص کو بلایا گیا، جس نے دو گھنٹوں کی محنت  کے بعد 60 زہریلے سانپوں کو بآسانی پکڑ کر بوتل میں بند کر دیا اور بعد ازاں انہیں محکمہ جنگلات کے حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
image

یورپ کی قدیم ترین ممی اوٹزی کی آخری خوراک کیا تھی؟ سائنس دانوں نے تحقیق کرتے کرتے یہ بھی معلوم کرلیا اور بتایا ہے کہ ممی کی آخری خوراک جنگلی بکری کا گوشت تھا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 1991 میں برف تلے دریافت ہونے والی 5 ہزار 3 سو سال قدیم لاش کا معائنہ کرنے والے سائنس دانوں نے اُس زمانے کی خوراک اور طرز زندگی کا مشاہدہ کیا۔ اس ممی کو آئس مین اوٹزی کا نام دیا گیا تھا جس کی آخری خوراک جنگلی بکری تھی۔ سائنس دانوں نے تحقیق کے دوران لاش کے معدے سے جنگلی بکری و ہرن کے گوشت اور گندم کے ذرات دریافت کیے ہیں جس سے اُس زمانے کے انسانوں میں خوراک کی عادات کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ خوراک کا زیادہ حصہ چربی  پر مشتمل تھا جو مکمل خوراک کا 50 فیصد تھی جب کہ عام طور پر یہ 10 فیصد ہونی چاہیے یعنی اس زمانے کے لوگ زندہ رہنے کے لیے اپنی خوراک میں زیادہ تر Fats  کھایا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں حیران کن طور پر آئس مین اوٹزی کے معدے سے مختلف جڑی بوٹیوں کے ذرات بھی ملے ہے جس سے سائنس دان اندازہ لگا رہے ہیں کہ آئس مین کسی بیماری میں مبتلا تھا اور بطور علاج جڑی بوٹی کھایا کرتا تھا اور شاید اسی وجہ سے آئس مین کی ہلاکت بھی ہوئی ہوگی۔
image

جاپان کا مالبردار خلائی جہاز پہلی مرتبہ ایک کیپسول زمین پر لے کر آئے گا جس میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے سائنسی نمونے موجود ہوں گے۔ جاپان کی خلائی ایجنسی جاکسا اور متسوبیشی ہیوی انڈسٹریز نے کہا ہے کہ کونو توری 7 کو جاپان میں تیار کردہ H2B راکٹ کے ذریعے 11 ستمبر کو لانچ کیا جائے گا۔ ایک ہی بار استعمال کیا جانے والا کونوتوری خلائی جہاز پانی اور خوراک سمیت 6 ٹن تک  سامان بین الاقوامی خلائی سٹیشن پہنچا سکتا ہے۔ کون کی شکل کا کیپسول 84 سینٹی میٹر چوڑا ہے اور 66 سینٹی میٹر اونچا ہے اور اس میں 20 کلوگرام تک کے نمونے ڈالے جا سکتے ہیں۔ کیپسول میں سائنسی تجربات کے لئے نمونے موجود ہوں گے۔ ایجنسی کے مطابق جاپان نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے اشیا  لانے کے لئے دیگر ممالک پر انحصار کیا اور اسی لئے اس مرتبہ خود سے یہ کام کرنا جاپان میں خلائی تحقیق کے لئے اہم قدم ہے۔
image

دنیا میں خلائی سفر کی تیاری شروع ہو گئی  اور معروف سیاحتی کمپنی کے خلائی جہاز میں دو لاکھ ڈالر کی رقم ادا کر کے خلائی سفر کیا جا سکے گا۔ خلائی سیاحت ایمیزون کمپنی کے سربراہ جیف بیزوس نے شروع کی ، جن کے مطابق خلائی سیاحت کے لئے پروازیں جلد شروع کی جا سکیں گی۔ کمپنی کے ایک اہل کار نے بتایا کہ خلائی سیاحت کا ٹکٹ دو لاکھ سے تین لاکھ ڈالر ہو سکتا ہے۔
image

حکومت اور بلدیاتی ادارے عرصے سے ڈرائیوروں کو انتباہ دیتے رہے ہیں کہ  وہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل کا استعمال  ہرگز نہ کریں مگر ان پر خاطر خواہ عمل درآمد نہیں ہوسکا،  مجبوراً ناروچ کے بلدیاتی ادارے نے  ایک انتہائی انوکھا طریقہ  استعمال کرتے ہوئے ڈرائیونگ کے وقت فون پر بات کرنے والے ڈرائیوروں کو  شرمندہ کرنے کی غرض سے اور یہ بتانے کیلئے کہ وہ سنگین غلطی کر رہے ہیں خاص قسم کے الیکٹرانک سائن بورڈ لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ۔6ہزار پائونڈ مالیت سے تیار ہونے والے ان سائن بورڈز میں سے 3کو  شہری انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں نصب بھی کر دیا ۔ یہ سائن بورڈ انتہائی حساس آلات سے لیس ہیں اور 2جی ، 3جی اور 4 جی موبائل فون  کے سگنلز کا با آسانی سراغ لگا لیتا ہے۔   یہ  وارننگ  سائن بورڈ ایل ای ڈی کی مدد سے تیار ہوا  اور جب  کوئی ڈرائیور سڑک سے گزرتے ہوئے  موبائل فون کا  استعمال کرتا ہے تو بورڈ کی لائٹس جگمگانے لگتی ہیں  اور اس پر شرم دلانے والی عبارت بھی ابھر آتی ہے۔ اسے بنانے والی کمپنی کا خیال ہے کہ  یہ سائن  بورڈ دنیا بھر میں مقبول ہوسکتا ہے لیکن اگر انسان ضدی  اور ہٹ دھرم ہو جائے  تو انہیں شرم دلانے کا یہ طریقہ بھی کارگر ثابت نہیں ہو گا۔
image

 آج کی  ترقی پذیر دنیا میں  مسابقت کی جو دوڑ چلی ہوئی ہے   اس میں فن تعمیر کا شعبہ بطور خاص نمایاں نظر آتا ہے  اور  اس حوالے سے چین کی  ترقی مثالی  قرار دی جارہی ہے۔ اس  ترقی کی ایک مثال یہاں ایک آبی ذخیرے پر تعمیر ہونے والا پل ہے۔  اس کی  لمبائی 37میل بتائی جارہی ہے  او رجو حسین و خوبصورت ہونے کے علاوہ انتہائی قابل دید اور  قابل تقلید بھی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس آبی ذخیرے پر بنے ہوئے پل کے ذریعے جیانگږی کے  دو علاقوں  یونگ ږی یو اور  ووننگ کائونٹیز کو  ایک دوسرے کے ذریعے ملا دیا گیا ۔  عجیب و  غریب اور خوبصورت پل کی تعمیر کی  بنیاد  17زیر آب پلوں پر رکھی گئی ، جو آس پاس کی پہاڑیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئی چلتی ہے۔ آس پاس کے دوسرے چھوٹے جزیرے  بھی اس کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔ تعریف تو یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں اس خوبصورتی سے تعمیر کی گئی ہیں کہ سب ایک  دوسرے میں  مدغم نظر آتی ہیں، جیسے کسی پینٹنگ کے مختلف مناظر ایک دوسرے سے  منسلک نظر آتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس پل سے  بطور ضرورت آمد ورفت کر رہے ہیں مگر ایک  بڑی تعداد  ان  لوگوں کی بھی ہے جو محض پل اور اطراف کا جائزہ لینے کیلئے اس شاہراہ پر سے گزر  رہے ہیں۔ یہ شاہراہ جس آبی ذخیرے پر بنی ہے  وہ ږیلین جھیل کے نام سے مشہور ہے اور لوشان پہاڑی علاقے کے قریب ہے۔  یہ  راستہ انتہائی حسین ہونے کے ساتھ حیران کن بھی ہے۔ جھیل کی چوڑائی 248مربع کلو میٹر بتائی جاتی ہے  اور  اس میں 8ارب مکعب میٹر پانی کی گنجائش ہے۔  اس علاقے میں آنے والے جھیل کے  صاف شفاف اور نیلے پانی کو  دیکھ کر حیران  و ششدر ہوجاتے ہیں۔ اس ہائی وے کی تعمیر 2011 میں شروع ہوئی تھی اور  چند ماہ قبل مکمل ہوئی۔ جس کے بعد سے اس پر  ٹریفک بحال کردی گئی ۔   واضح ہو کہ یہ جھیل لوشان پہاڑی  کے  قریب ہے  جسے یونیسکو  1996 میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے چکی ہے  اور یہ  علاقہ صدیوں سے اپنے خوبصورت مناظر ،  تہذیب و  ثقافت کے حوالے سے مشہور ہے۔
image

انگور کھٹے ہیں کا محاورہ تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا لیکن جاپان میں انگور کھٹے نہیں بلکہ انتہائی مہنگے ہیں۔ جاپان میں سرخ انگوروں کے ایک گچھے کو 1.1ملین ین (تقریباً 12 لاکھ پاکستانی روپے ) میں نیلام کر دیا گیا۔ جاپانی شہر کانازاوا، کی فروٹ مارکیٹ میں لائی جانیوالی فصل کے پہلے سرخ انگوروں کے گچھے کی نیلامی میں کافی لوگوں نے دلچسپی کا اظہار کیا، تاہم جاپان کی ایک سپر مارکیٹ نے سب سے زیادہ بولی دے کر یہ انگور خرید لئے۔ واضح رہے کہ جاپان میں پھلوں کی پہلی فصل کو نیلام کرنے کا رجحان ہے۔
image

ترکی کے شہر استنبول کے ایک ریسٹو رنٹ میں موجود شیر کی بچی سے دوستی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔ میوزو ریسٹورنٹ میں موجود اس شیر کو ایک شیشے کے پنجرے میں بند رکھا گیا ، لیکن وہ بچی سے ایسا متاثر ہوا کہ جس طرف وہ رخ کرتی، وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ چل پڑتا۔ ریسٹورنٹ میں موجود دیگر لوگ بھی دونوں کو کھیلتا ہوا دیکھ کر خوب حیران ہوئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہورہی ہے۔ اس ریسٹورنٹ میں شیر کے علاوہ مگرمچھ، سانپ، گھوڑے، خرگوش اور دیگر پرندے بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو دیکھ کر جہاں متعدد افراد لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہیں کچھ صارفین نے کہا کہ جانوروں کے بھی حقوق ہیں اور انہیں ریسٹورنٹ میں اس طرح قید کرکے رکھنا غیر قانونی ہے۔
image

چہل قدمی کرنا اور دوڑنا اگرچہ ہماری صحت کیلئے بہت مفید ہے لیکن اگر آپ افریقہ کے ملک برونڈی میں ہیں تو ہوشیار رہئے گا کیونکہ وہاں لوگوں کو ایک ساتھ جاگنگ کرنے پر عمر قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔  برونڈی کے عوام میں ہفتے کے روز جاگنگ کی روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے لیکن پچھلے چند برسوں سے اس پر سخت پابندی عائد ہے کیونکہ برونڈی کے صدر پائیر انکورونزیزا کو خطرہ ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اسی روایت کو استعمال کرتے ہوئے حکومت کا تختہ بھی پلٹ سکتی ہیں۔ اسی خدشے کے تدارک کیلئے انکورونزیزا کے حکم پر برونڈی میں یہ میں قانون نافذ کیا گیا ہ،کہ لوگ جتھوں کی شکل میں ہفتے کی روایتی چہل قدمی/  جاگنگ نہیں کریں گے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہوا پایا گیا تو اسے اپنی زندگی کے باقی روز و شب قید خانے میں بسر کرنا پڑیں گے۔
image

 آسٹریلین یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی بڑی کامیابی، کروڑوں سال پرانا نامیاتی رنگ دریافت کرلیا۔ آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے صحرائے اعظم صحارا کے نیچے موجود میرین شیل کے ذخائر سے قدیم نامیاتی رنگ دریافت کیا ۔ مغربی افریقی ملک موریطانیہ سے ملنے والا یہ قدیم ترین نامیاتی رنگ شوخ گلابی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ دنیا کا سب سے پرانا نامیاتی رنگ ہے، جو ایک ارب 10 کروڑ برس پرانی چٹانوں میں محفوظ رہا۔ اس رنگ کو پی ایچ ڈی کی طالبہ نور گیونیلی نے دریافت کیا، جنہوں نے قدیم چٹانوں کو پیس کر سفوف بنایا اور پھر قدیم آرگنزمز کے مالیکیولز کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شوخ گلابی رنگ کلورفول کے مالیکیولر فوسلز میں موجود تھا جو کہ ایسے آرگنزمز کا حصہ رہ چکا تھا جو کہ ایسے قدیم سمندر میں رہتے تھے جو اب معدوم ہوچکا ہے۔
image

برطانوی سائنسدانو ں نے ہیکنگ کے مسئلے پر ٹیکنیکل تحقیقی کام کے بعد یہ انکشاف کیا کہ لوگوں کو اپنے کمپیوٹر کی بورڈ کا بھی خیال رکھنا چاہئے اور استعمال کے بعد ان کی بورڈز کو رومال یا ٹشو سے صاف کر دینا چاہئے ورنہ انگلیوں کی حرارت استعمال شدہ کیز میں منتقل ہوجاتی ہے اور اسی حرارت سے بڑے بڑے ہیکرز صارفین کے پاس ورڈز، بینک کی تفصیلات اور دیگر معلومات حاصل کرکے جرائم کرتے ہیں۔ ایسا کرنے والے ہیکرز اپنے جرم کی تکمیل کیلئے تھرمل قسم کے کیمرے استعمال کرتے ہیں،  جو اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ استعمال ہونے والی کیز میں حرارت کی جو رمق رہ گئی ہو اسکا بھی عکس لے سکیں اور اسے استعمال کر سکیں۔ بعد میں ماہر ہیکرز ان تصاویر کو آپ کے پاس ورڈز اور دیگر تفصیلات جاننے کیلئے استعمال کر لیتے ہیں۔ اس قسم کی چوری کو سائنسدانوں نے نئی قسم کا سائبر حملہ قرار دیا  اور اسے تھرمینیٹر کا نام دیا گیا  ۔ کہا جاتا ہے کہ کیز میں رہ جانے والی حرارت 30سیکنڈ تک برقرار رہتی ہے۔
image

میڈرڈ سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ خاتون جسم میں زہر پھیلنے کے باعث جاں بحق ہوگئیں۔ خاتون کی موت دو گھنٹوں تک امونیا کی حامل شے سے کچن کی صفائی کرنے کے سبب ہوئی۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق خاتون نے پیر کو دوپہر تین بجے 112پر کال کی اور بتایا کہ انہیں چکر آرہے ہیں۔ فائرفائٹرز کو بروقت  خاتون کے گھر بھیجا گیا۔ دروازے پر کسی نے جواب نہیں دیا ، لہٰذا انہیں دروازہ توڑ کر اندر گھسنا پڑا۔ فائرفائٹرز نے خاتون کو کچن کے فرش پر پڑا ہوا پایا۔ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ ڈاکٹروں نے خاتون کو مردہ قرار دینے سے قبل 30منٹ تک سی پی آر کی کوشش کی۔ سیکیورٹی اور ایمرجنسی ایجنسی کے ترجمان کے مطابق ہر چیز اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ ان کے جسم میں زہر امونیا سانس کے ذریعے جانے کے باعث پھیلا۔ امونیا عموماً گلاس صاف کرنے والے، اوون صاف کرنے والے اور ٹوائلٹ صاف کرنے والے بلیچ میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ حدت کے کیمیکل کے سامنے سے کسی فرد کی آنکھ، ناک یا گلا جل سکتا ہے۔ یہ پھیپھڑوں کو ناکارہ کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے اور دماغ نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
image

جدیدایلوپیتھک ادویات ہمیں بہت سی بیماریوں سے نجات تو دیتی ہیں لیکن ساتھ کئی اور بیماریوں کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ ان کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں، لیکن اس کے برعکس قدرتی ادویات اور جڑی بوٹیاں نا صرف سست ہوتی ہیں بلکہ سائیڈ ایفیکٹ سے بھی پاک ہوتی ہیں۔ کنیری کا بیج بھی ایک ایسی ہی قدرتی نعمت ہے جو بیک وقت کئی طرح کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ یہ پرندوں کی غذا کے طور پر استعمال ہونے والا دانہ ہے، جسے کنگنی بھی کہا جاتا ہے۔ ابتدائی طور پر تو یہ بحیرہ روم کے خطے میں اگایا جاتا تھا مگر اب دنیا کے اکثر ممالک میں اسے پرندوں کی غذا کے لئے اگایا جاتا ہے۔ ویب سائٹ globalmedicinehouse کے مطابق پرندوں کی غذا کے طور پر استعمال ہونے والا یہ دانہ انسانوں کے لئے بھی حیرت انگیز فوائد کا حامل ہے۔ انسانی جسم کے لئے یہ ایسی مفید پروٹین اور انزائم کا خزانہ ہے جو ذہنی دبا ئو سے نجات دلاتی ہیں، نظام انہضام کے مسائل کو حل کرتی ہیں، اعضا کو تقویت دیتی ہیں، ذیا بیطس کے مرض کیلئے مفید ہیں اور دوران خون کے نظام کو بہتر بنانے کے علاوہ جسم سے فالتو چربی بھی ختم کرتی ہیں۔ کنیری کے بیج سے تیار کردہ مشروب کے ایک گلاس میں تین کلوگرام گوشت سے زیادہ پروٹین ہوتی ہے اور اس میں پائے جانے والے امینوایسڈ بھی مستحکم ہوتے ہیں۔ جسم سے فالتو چربی ختم کرنے کا کام اس بیج میں پایا جانے والا انزائم لائپیز کرتا ہے، جو کہ جوڑوں کے دردوں کیلئے بھی مفید ہے۔ جن افراد کو جلد کے مسائل لاحق ہوں، مثانے کی کمزوری یا سوزش جیسے مسائل کا سامنا ہو وہ بھی ان بیجوں کے استعمال سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ یہ سادہ نسخہ تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ چھ چمچ بیج لے کر رات بھر کیلئے پانی میں بھگو کر رکھ دیں۔ اگلے دن بیجوں کو پانی سے نکال کر پیس لیں اور پھر انہیں ایک لٹر ابلے ہوئے پانی میں اچھی طرح مکس کر لیں۔ اس کے بعد اس آمیزے کو چھان کر اس کا پانی الگ کر لیں۔ بیجوں کے اندر جذب پانی کو بھی اچھی طرح نچوڑ کر باہر نکال لیں۔ بس یہی وہ مشروب ہے جسے آپ استعمال کریں گے۔ اس پانی کا ایک گلاس صبح نہار منہ پیئں اور ایک گلاس رات سونے سے قبل۔ چند روز میں ہی اس کے مثبت فوائد نظر آنے لگیں گے۔
image

میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافر کے سامان میں موجود ہارڈ ڈسک سے ایک کم عمر اژدھا برآمد ہوا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بارباڈوس جانے والے ایک مسافر کے سامان کی چیکنگ کے دوران کسٹم اہلکار کو کسی مشکوک چیز کی موجودگی کا شک گزرا جس پر بم ڈسپوزل اہلکار کو بلایا گیا جس نے سامان کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد اژدھا برآمد کرلیا۔ میامی ایئرپورٹ کے ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی اور ایڈمنسٹریشن ساری کوشیٹز نے میڈیا کو بتایا کہ مسافر کے سامان میں کمپیوٹر ہارڈ ڈسک موجود تھی جب اسے کھولا گیا تو اس کے اندر تھیلی میں بند ایک زندہ اژدھا چھپایا گیا تھا۔ یہ اږدھا کم عمر ہے لیکن خطرناک ہے۔ جسے وائلڈ لائف محکمے کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اژدھے کی برآمدگی کے بعد مسافر کو پرواز سے روک دیا گیا ہے اور ممنوعہ چیز بغیر اطلاع دیئے لے جانے پر جرمانہ عائد کیا گیا تاہم حکام کی جانب سے مسافر کا نام خفیہ رکھا جا رہا ہے اور تاحال اژدھا لے جانے کی وجوہ کا بھی علم نہیں ہوسکا ہے۔
image

امریکی وائلڈ لائف ادارے نے فلوریڈا میں ایک عوامی پارک سے 13 فٹ طویل مگرمچھ برآمد کرلیا ، جو امریکی تاریخ پکڑا جانے والا سب سے بڑا مگر مچھ ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وائلڈ لائف ادارے کو فلوریڈا کے پبلک پارک میں مگرمچھ کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس پر ریسکیو اہل کاروں کی مدد سے امریکا کی تاریخ میں کسی عوامی مقام سے پکڑے گئے سب سے طویل اور بھاری مگرمچھ کو ریسکیو کرلیا گیا ۔ یہ مگرمچھ پارک کے گھنے درختوں میں چھپا ہوا تھا۔ وائلڈ لائف حکام کے مطابق مگرمچھ کو طبی معائنے کے لئے ہسپتال لے جایا گیا ، جس کے بعد مگرمچھ کو مقامی چڑیا گھر منتقل کر دیا جائے گا ، وائلڈ لائف حکام اور پولیس نے عوامی مقام پر خطرناک مگرمچھ کی موجودگی کی وجہ معلوم کرنے کے لئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ، جبکہ میونسپلٹی ادارے نے بھی ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ، کہ معلوم کیا جائے کہ وہ مگرمچھ کہاں سے آیا اور یہاں تک کیسے پہنچ گیا؟ ایک وائلڈ لائف اہلکار نے کہا کہ اپنے 20 سالہ دور ملازمت میں اتنا طویل اور بھاری مگرمچھ نہیں دیکھا، اب تک زیادہ سے زیادہ 10 سے 12 فٹ لمبے مگرمچھ پکڑنے کا موقع ملا ہے، یہ ہمارے لیے پرجوش لمحہ ہے اور پوری ٹیم اس کامیابی پر خوش ہے۔
image

عوامی سروے

سوال: الیکشن 2018 کیلئے کونسی جماعت آپکی فیورٹ؟