دلچسپ وعجیب
امریکی ریاست نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے بلیک ہورٹون نامی شخص نے ساڑھے 4ہزار کیلوریز والی نوڈلز، چاکلیٹ سیرپ، مارش میلو، بنٹیز اور اسٹارٹس سے بنی سپیگیٹی کی ڈش چند منٹ میں کھانے کا حیرت انگیز مظاہرہ کر کے دیکھنے والوں کو دنگ کردیا۔ 

امریکی صدر کا گھر وائٹ ہائوس ایسا مقام ہے جسے پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے بلکہ نام لینے سے بھی لوگ شناخت کر لیتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس نام کی وجہ کا اس عمارت کی رنگت سے کچھ لینا دینا نہیں جی ہاں واقعی وائٹ ہائوس کے نام کا عمارت کی رنگت سے کچھ لینا دینا نہیں۔ امریکی عوام میں تو کہا جاتا ہے کہ اس عمارت کو اس وقت سفید رنگ سے رنگا گیا تھا جب برطانوی فوجیوں نے 1812 کی جنگ میں اسے تباہ کرنے کی کوشش کی، مگر یہ رنگت اس زمانے سے پہلے کی ہے۔1791 میں جب اس جگہ کی تعمیر شروع ہوئی تو اسے ایوان صدر کا صدر کے گھر کا نام دیا گیا تھا اور 1798 میں اسے سفید رنگ سے رنگا گیا۔ اس عمارت کا حقیقی رنگ زردی مائل تھا اور اس کی دیواریں چونے کے پتھر سے تیار کی گئی تھیں۔ یہ دیواریں سردیوں میں منجمد ہوجاتی تھیں اور ورکرز کو موسم کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے اسے وائٹ واش رنگت دینا پڑی تاکہ رنگ ہمیشہ فریش رہ سکے۔ ویسے تو اس کا آفیشل نام صدارتی ہائوس تھا مگر لوگوں نے اسے ایک عرفیت دی یعنی وائٹ ہائوس۔1812 میں ایک کانگریس مین نے اس اصطلاح کا استعمال ایک خط میں کیا اور 1818 میں اصل سفید رنگ سے اسے رنگا گیا۔ مگر 1901 سے پہلے تک اس کی عرفیت کو آفیشل حیثیت نہیں ملی تھی جو کہ تھیوڈور روز والٹ نے دی۔
image

دبئی میں اونٹوں کے علاج کے لئے دنیا کا پہلا منفرد ہسپتال کھول دیاگیا،برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک کروڑ ڈالرکی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس ہسپتال میں اونٹوں کے لئے آپریشن تھیٹر اور ایکس رے روم بھی موجود ہے۔دبئی کیمل ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد البلوشی نے کہاکہ ہسپتال کا مقصد خطے کی ثقافت کو محفوظ رکھنا ہے۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا واحد اور اب تک کا پہلا ہسپتال ہے۔ہسپتال میں اونٹوں کا  علاج انتہائی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا جائے گا۔ یہاں بیک وقت 20 اونٹوں کا ایک ساتھ علاج ہو سکے گا۔ عملے میں یوکے، بھارت، سپین اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ دبئی کیمیل ہسپتال میں منی ریس ٹریک بھی شامل ہے  تاکہ آپریشن کے بعد اونٹوں کو بحالی اور مکمل صحتیابی میں مدد دی جا سکے۔ ہسپتال کے ہیڈ آف مارکیٹنگ اینڈ فائنانس احسان الحق کے مطابق ہسپتال اونٹوں کے جسم پر ریسرچ کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے تاکہ اس صحرائی جانور کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔ دبئی کیمل ہسپتال میں آئندہ سال ایم آر آئی اور سی ٹی سکین سمیت مزید طبی سہولیات متعارف کرائی جائیں گی۔
image

لندن کے ایک کیفے نے کافی کی سطح پر لوگوں کی تصاویر بناکر سب کو حیران کردیا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں کافی کو منفرد انداز میں پیش کیا جاتا ہے لیکن برطانوی دارالحکومت لندن کا ایک کیفے لوگوں کو ان کی سیلفی والی کافی بنا کر پیش کررہا ہے۔ ویسے تو کافی کا استعمال پورے سال ہی کیا جاتا ہے لیکن سردیوں میں اس کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس کے لیے لوگ اکثر مختلف کیفوں کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ اپنی من پسند کافی بنواتے ہیں جن میں بلیک کافی، چاکلیٹ کافی، کیپی چینو، موکا چینو، ایسپریسو کافی اور کولڈ کافی سمیت دیگر شامل ہیں۔ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور کافی کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے کیفے والے کافی کے کپ کے اندر خوبصورت نقش نگاری کرتے ہیں جو لوگوں میں بہت مقبول ہے لیکن لندن کے ایک کیفے نے گاہکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کافی کے کپ میں پینے والوں کی تصاویر بنانا شروع کردی ہے جس کے لیے وہ تھری ڈی پرنٹر کا استعمال کرتے ہیں۔ لندن کیفے کی انتظامیہ موبائل فون سے گاہک کی تصویر کھینچنے کے بعد اسے تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے کافی کے کپ میں پرنٹ کرکے گاہکوں کو پیش کرتی ہے اور اس کے عوض وہ صرف 2 ڈالر اضافی چارج کرتی ہے۔ کیفے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گاہکوں کو اچھی کافی تو ہر جگہ مل جاتی ہے لیکن انہیں اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کچھ الگ کرنا پڑتا ہے، اس لیے ہم نے کافی پر تصویر بنانے کا عمل شروع کیا ہے کیوں کہ لوگ اسے دوستوں کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے محظوظ ہوتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ گاہکوں نے اسے منفرد اقدام قرار دیا لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ اپنی تصویر والی کافی پینا تھوڑا عجیب لگتا ہے۔
image

  چینی سڑکوں پر بھکاری سمارٹ فون کے ذریعے خیرات وصول کر رہے ہیں اور جلدی میں بھاگتے دوڑتے لوگ انہیں بھیک بھی دے رہے ہیں۔ چینی صوبے شیندوگ کے شہر جینان میں موبائل والے بھکاریوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہاں سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ یہ بھکاری اپنے کاسے کے سامنے کیو آر کوڈ لگائے بیٹھے ہیں تاکہ آپ اسے سکین کرکے پیسوں کی لین دین کےلیے استعمال ہونے والی ایپ علی پے، وی چیٹ والٹ یا دیگر موبائل پلیٹ فارم سے انہیں رقم دے سکیں۔ اس کے علاوہ بھکاریوں کی بڑی تعداد کے پاس خود اپنے سمارٹ فون بھی موجود ہیں۔ چینی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں کیونکہ ذہنی طور پر معذور ایک بھکاری سے جب پوچھا گیا کہ اس نے کیو آر کوڈ کیسے بنایا تو معلوم ہوا کہ اس کے خاندان نے اس کےلیے تیار کیا ہے لیکن بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق کیو آر کوڈنگ کے ذریعے آپ کی معلومات چین کے مختلف اداروں کو بھیجی جارہی ہیں کیونکہ بھکاری انہی کمپنیوں سے اپنی کمائی ہوئی رقم کیش کراتے ہیں۔ اس طرح صارفین کا بہت وسیع ڈیٹا وی چیٹ پروفائلز چین کے مشہور سوشل میڈیا نیٹ ورک کی صورت میں کمپنیوں کے پاس جمع ہوتا رہتا ہے جسے بعد میں اشتہاروں اور سپیم پیغامات کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ بھکاری کو کچھ نہیں دیتے لیکن کیو آر کوڈ سکین کر لیتے ہیں تو اس کے بھی انہیں پاکستانی 10 سے 20 روپے مل جاتے ہیں اور اگر یہ بھکاری ہفتے میں 45 گھنٹے تک بھیک مانگیں تو اس سے ماہانہ 70 ہزار روپے کی آمدنی ہوتی ہے جو چین میں ایک ہنرمند مزدور کی کم درجے کی تنخواہ کے برابر ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کےلیے یہ ایک عجیب بات ہوگی لیکن چین بہت تیزی سے بنا نقدی کی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں کیو آر کوڈز کا استعمال بڑھتا جارہا ہے خواہ تحفہ خریدنا ہو یا پھر ہوٹل میں ویٹر کو ٹپ دینی ہو، امریکا کے مقابلے میں چین میں موبائل ادائیگیوں کا حجم 50 گنا زائد بڑھ چکا ہے اور صرف 2016  میں چین میں موبائل فون سے 112 ارب ڈالر کی ریکارڈ لین دین کی گئی تھی۔ اب چین کی معیشت کو کوڈ اکانومی کا نام دیا جارہا ہے۔
image

 جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے انسان کی ہمت بھی وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جاتی ہے لیکن ویڈیو میں نظر آنے والے اس معمر شخص کی ہمت کی داد دینی چاہئے جو اس عمر میں بھی سٹنٹس دکھانے کا شوق رکھتے ہیں۔ چین سے تعلق رکھنے والے ایڈونچر کے شوقین 69سالہ معمر شخص نے پول سے لٹک کر 360 ڈگری زاویے پر مسلسل تیس بار گھومنے کا ایسا شاندار مظاہرہ پیش کیا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔ اس معمر شخص کی ہمت اور عزم کا یہ مظاہرہ دیکھ کر جہاں شائقین دنگ رہ گئے وہیں داد دئیے بنا بھی نہ رہ پائے۔ واضح رہے اس سے قبل بھی یہ شخص پول سے لٹک کر کئی شاندار مظاہرے پیش کر چکا ہے۔
image

 برطانوی محقق کا کہناہے کہ  10میں سے 9کچھوے سمندر میں پلاسٹک کی وجہ سے مرے۔ انکا کہناہے کہ یہ پلاسٹک سمندر میں تیل پھیلنے سے زیادہ ان کچھوئوں کیلئے خطرہ ہے۔  پلاسٹک کی وجہ سے انکے انڈے دینے کی صلاحیت ختم ہورہی ہے۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ  یہ پلاسٹک ان کچھوئوں کے گلے میں پھنس جاتا ہے جسکی وجہ سے بعض اوقات یہ مرجاتے ہیں یا زخمی ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے بازو بھی الگ ہوچکے ہیں۔ سمندر میں ماہی گیری کے ٹوٹے جالوں ، پلاسٹک اور نائیلون کے جالوں، اسکے علاوہ مشروبات کے ڈبوں ، غباروں اور پتنگوں کی ڈور سے بھی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔
image

 اٹلی کے  مغربی ساحل  میں  سمندر  میں 1700 سال قبل  ڈوبنے والے جہاز کا پتہ لگا لیا گیا۔ غوطہ خورو ں نے اس کی تصاویر نکال کر  بھیج دیں۔  اس کی تمام چیزیں تقریباً محفوظ ہیں۔  بتایا جاتا ہے کہ  سمندر میں  آتش فشانی سرگرمیوں کے نتیجے میں  یہ جہاز ڈوبا تھا اور  اسی کی وجہ سے  یہ تباہی آئی تھی۔  اس سرگرمی کی وجہ سے  400 میٹر دور تک ساحل تباہ ہوا اور پھر تقریباً پورا شہر ہی  ڈوب گیاتھا۔  یہ واقعہ  موجودہ دور کے اٹلی  کے  خلیج نیپلز میں  ہوا تھا۔ غوطہ خوروں کو حال ہی میں اس ڈوبے جہاز کی تلاش کیلئے بھیجا گیا تھا۔
image

  آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں  ہوٹل مالکان نے  اپنے ہوٹل کی  پبلسٹی کیلئے انوکھا  طریقہ اپنایا۔  باقاعدہ قرعہ اندازی کے ذریعے ایک جوڑے کو چنا گیا جس نے  ہوٹل کی لابی میں  بسیرہ کیا اور انہیں  ہوٹل آنے والے مہمان  اور  عملہ  دیکھتا رہا کہ وہ کیا کھا پی رہے ہیں اور کس طرح وقت گزار رہے ہیں۔ اس جوڑے کو  شہر میں  سڑک پر  چنا گیا تھا  اور ان سے کہا گیا تھا کہ  کیا وہ پیسہ خرچ کئے بغیر  ہوٹل کی پہلی سالگرہ پر  کوئی تجربہ کرنا چاہتے ہیں؟  انہیں لابی میں  وقت گزارنا ہوگا  اور  ہوٹل کے کسی کمرے میں انہیں کوئی جگہ نہیں دی جائے گی۔  اس جوڑے نے  لابی میں ہی  بیوٹی تھراپسٹ سے مساج کروایا  اور رات کا کھانا کھایا۔
image

 اٹلی کی کیتھولک حکومت نے چرچ کی مخالفت کے باوجود ایک قانون کی منظوری دے دی جو مریضوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ زندگی میں اضافہ کرنے والے علاج سے انکار کر سکتے ہیں۔ تاہم چرچ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خودکشی میں معاونت کے مترادف ہے جبکہ اٹلی کی سینٹ نے  زندگی کی وصیت   سے متعلق قانون کی منظوری جو ایسے افراد کو علاج معالجے کا تعین کرتا ہے ۔ ان مریضوں کو انکار کا حق دیتا ہے جو کبھی نہ ختم ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہیں یا خطرناک طور پر زخمی ہیں۔ تاہم اٹلی کی طاقت و مذہبی قوت بشپ کانفرنس نے نئے قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ڈاکٹروں کو صحت عامہ سے متعلق ان کی ذمہ داری سے چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ اس قانون کو دائیں بازو کی اعتدال پسند حکمران جماعت اور حکومت مخالف فائی اسٹار موومنٹ دونوں کی حمایت حاصل ہے یہ قانون مریض کو نہ صرف علاج بلکہ خوراک اور پانی سے بھی انکار کا حق دیتا ہے جبکہ پوپ فرانس کہہ چکے ہیں کہ مریض کو تکلیف سے نجات دلانے کے لئے ہلاک کرنا غلط ہے اور ڈاکٹروں کو چاہئے کہ وہ موت کے خلاف لاحاصل جنگ میں مریض کو بہت زیادہ ادویات نہ دیں تاہم اٹلی کے وزیر اعظم پائو لوجینٹی لونی نے اس قانون سازی کو انسانی وقار اور عزت نفس کی جانب ایک قدم قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ مارچ میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے یہ انکی حکومت کی آخری قانونی سازی ہے ۔  
image

چین میں لوگوں نے احساس ہمدردی کے تحت کھلنے والے ہوٹل کا کاروبار تباہ کر کے رکھ دیا اور مالکان کوایک ہفتے میں 15 لاکھ روپے کا نقصان ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق چین میں 3 دوستوں نے مل کر ایک غار نما ریستوران کھولا اور لوگوں کے اندر موجود اچھے احساس  جگانے کے لیے انہیں پیشکش کی کہ وہ جو بھی کھانا کھائیں اس کی مناسب قیمت اپنی طرف سے لگا کر ادا کریں مگر انہیں ایک ہی ہفتے میں 15 ہزار ڈالر کے برابر نقصان ہوگیا جو پاکستانی 15 لاکھ روپے کے برابر ہے۔ اس پالیسی کے بعد لوگ اپنی مرضی سے  مگر مناسب رقم دینے کے پابند تھے لیکن ہوا یوں کہ اکثریت نے کھانے کی 10 سے 20 فیصد تک رقم ہی ادا کی اور چلتے بنے۔ اگرچہ ان کا یہ آئیڈیا مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے ہوٹل کا رخ کیا لیکن اکثریت نے 100 کی قیمت کے 10 یا 20 روپے ہی ادا کیے اور ہر روز خسارہ بڑھتا گیا ۔ ایک گاہک نے صرف ایک چینی آربی ایم ہی دیا جو امریکی 15 سینٹ کے برابر ہے اور اسے کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں ہوئی۔ اس کے بعد تمام مالکان میں بحث و جھگڑا شروع ہوگیا اور ایک کاروبار چھوڑ کر چلا گیا۔
image

دیو ہیکل سانپ کو چائے، ٹھنڈے مشروبات اور پودینہ پیش کرنے والے سعودی نوجوان کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ ثابت الفضل نامی سعودی نوجوان نے ویڈیو کلپ میں اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ شقرائکمشنری کے ماتحت القصب قریہ کا باسی ہے،اسکادلچسپ مشغلہ انتہائی پرخطر اور غیر معمولی خوفناک ہے، اسے سانپ کو سدھانے کا شوق ہے اور وہ سانپوں کی خوب خاطر مدارت کرتا ہے،ویڈیو کلپ میں نظر آنے والا سانپ اس کے ساتھ اطمینان سے چائے پیتا ہے اورزہریلا نہیں، ٹھنڈے مشروبات اور پانی پینے کا بھی اسے شوق ہے۔ 
image

تھائی لینڈ میں اگلی ٹانگوں سے محروم کتے کو مصنوعی پائوں لگا دیئے گئے،جس سے وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا ۔ تفصیلات کے مطابق کولہ نامی کتے نے ہمسائے کو دیکھ کر بھونکنا شروع کر دیا تو وہ طیش میں آگیا اوراس نے کولہ پر ڈنڈے برسا دیئے جس سے  اس کی ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں۔ 
image

سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ   پلاسٹک کے ایسے جوتے جو ہر وقت ارتعاش پیدا کرتے ہیں ان سے ٹانگوں میں خون کی روانی  40فیصد تک بڑھ جاتی  ہے۔  رائل اولڈ ہیم ہسپتال میں  ایسے جوتوں پر تجربات  کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے جوتے شریانوں کے امراض میں کام آتے ہیں او راس مرض میں 55 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 27لاکھ برطانوی متاثر ہیں۔انہوں نے کہاکہ خون کی گردش کم ہونے کے نتیجے میں پٹھے اورجلد مر جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں السر جیسے امراض پیدا ہوتے ہیں جس کا علاج مشکل ہوتا ہے اگر علاج نہ کرایا جائے تو انفیکشن ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں جسم کا ایسا حصہ کاٹنا پڑ سکتا ہے،ایسے کئی مریضوں کو خون پتلا کرنے کیلئے ایسپرین جیسی دوائیں دی جاتی ہیں جس سے خون کے لوتھڑے بننے کا خدشہ ختم ہوتا ہے۔
image

  ایک امریکی جوڑے نے دوائیوں اور ایکسر سائز ٹرینر کے بغیر محض ایک سال کے اندر 180 کلو سے زائد وزن کم کرکے دنیا کو حیران کردیا۔امریکی ریاست انڈیانا سے تعلق رکھنے والی خاتون لیشی ریڈ کا شادی کے وقت مجموعی وزن 215 کلو گرام سے زائد تھا، جب کہ ان کے شوہر ڈینی ٹپڈ کا وزن بھی شادی کے وقت 127 کلو گرام تھا۔ان دونوں کی شادی 2015 میں ہوئی، اور اگلے سال 2016 تک موٹاپے کے باعث ان دونوں کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ جوڑا جہاں اپنے موٹاپے کی وجہ سے غیر صحت مند زندگی گزار رہا تھا، وہیں اولاد نہ ہونے کے غم نے انہیں مزید پریشان کردیا۔لیکن پھر 2016 کے وسط تک لیشی ریڈ کو اپنی ایک خاتون دوست نے چیلنج دیا کہ وہ محض 30 دن اپنے روز مرہ کے معمولات تبدیل کرکے دیکھے کہ اس کے ان کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔لیشی ریڈ نے اپنی کہانی انسٹاگرام 2 پر شیئر کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی دوست کے کہنے پر 30 دنوں تک باہر کی غذائیں کھانا بند کردیں، جب کہ انہوں نے ایکسرسائز شروع کرنے سمیت الکوحل پینا بھی بند کردیا۔لیشی ریڈ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اپنا وزن کم کرنے اور ایک بہترین زندگی گزارنے کا منصوبہ بنایا، جس کے تحت انہوں نے سب سے پہلے اپنے کھانے کی مقدار کم کرکے گھر میں کھانا تیار کرنا شروع کردیا۔
image

  امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا کا ایک شخص ایسا  ہے جو سال بھر میں صرف 2 بار کام کرکے پاکستانی 21 لاکھ روپے سے زائد کماتا ہے۔  کیون اسکیمڈٹ دراصل معروف امریکی نشریاتی ادارے نیشنل براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ذیلی ٹی وی چینل کے ڈی ایل ٹی کے ٹاور میں بطور ٹاور الیکٹریشن ملازمت کرتا ہے اور اس کا کام سال میں دوبارہ  ٹی وی کے 1500 میٹر اونچے ٹاور پر چڑھ کر بلب تبدیل کرنا ہوتا ہے اور انہیں اس کام کے  20 ہزار امریکی ڈالرز ملتے ہیں جو پاکستانی 21 لاکھ روپے سے زائد بنتے ہیں۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ کیون اسکیمڈٹ یہ کام کئی سال سے کر رہے ہیں لیکن ان کے کام کا دنیا بھر میں گزشتہ تین سال سے چرچا شروع ہوا جبکہ ان کے  فوٹوگرافر دوست ٹوڈ تھرون نے ان کی ٹی وی ٹاور پر چڑھنے کی ڈرون ویڈیو بنائی، جو دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف وائرل ہوئی بلکہ اس نے امریکا میں متعدد ایوارڈ بھی جیتے۔ 
image

لاہور میں ایسا انوکھا ریسٹورنٹ کھولا گیا ہے جہاں آنے والوں پر مقدمہ درج ہوتا ہے اور پھر سزا بل کی صورت میں ملتی ہے یہاں ویٹر نہیں بلکہ قیدی ہیں جن کا کام کال کوٹھری میں کھانا تیار کرنا اور جیل میں بیٹھے مہمانوں کو یہ کھانا پیش کرنا ہے ۔ مزیدار کھانا کھانے کے بعد جیلر بل کے بجائے ایف آئی آر کاٹتا ہے ۔ لاہور کے چائے تھانہ نامی اس ریسٹورنٹ کی دیوار پر خطرناک اور اشتہاری ملزموں کی تصاویر اور پھانسی کے پھندے بھی نصب کئے گئے ہیں۔جیل نما اس ریسٹورنٹ میں موسیقی کے ساتھ ساتھ لڈو اور تاش کھیلنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
image

نیوزی لینڈ میں زمانہ قبل از تاریخ کے ایک دیو قامت پرندے کی باقیات دریافت ہوگئیں جن کے متعلق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ پرندہ اپنی ساخت میں آج کے پینگوئن جیسا تھا لیکن قدو قامت اور وزن میں اس سے کئی گنا بڑا تھا۔دیو قامت پرندے کا قد پانچ فٹ پانچ انچ اور وزن 220 پونڈ کے لگ بھگ تھا، لاکھوں برس قبل فنا ہوجانے والے اس پرندے کو پینگوئن کی ابتدائی صورت بھی کہا جا سکتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ ابتدا میں اس نسل کے پرندوں کا سائز چھوٹا تھا لیکن سمندر کے کنارے رہنے کے باعث انہیں مشقت کئے بغیر ہی خوراک مل جاتی تھی، اس کاہلی اور سستی کے باعث ان کا وزن اور حجم بڑھنا شروع ہوگیا اور پھر آنے والی نسل دیو قامت بن گئی۔
image

 دنیا میں کوئی چیز بیکار نہیں ہوتی اگر انسان میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہوں، تو ہر بے بیکار چیز کو کار آمد بنایا جاسکتا ہے۔ چین میں ایسا ایک 65سالہ باصلاحیت شخص سٹرا کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورت پینٹنگ تخلیق کرنے کا فن جانتا ہے۔
image

کینیڈا میں دوسالہ بچہ الرجی کے عجیب مرض کا شکار ہے جس میں وہ سوائے آڑو کے کچھ اور کھانے سے قاصر ہے۔ میکا گیبرئیل میسن لوپیز نامی بچہ مونٹریال میں رہتا ہے اور صرف آڑو ہی اس کی خوراک میں شامل ہے، اسے ایک مرض لاحق ہے جسے فوڈ پروٹین اینڈیوسڈ اینٹروکولائتھس سنڈروم یا ایف پی آئی ای ایس کہا جاتا ہے، اس مرض کے شکار افراد قریباً تمام اقسام کے کھانوں سے شدید الرجی کے شکار ہوجاتے ہیں اس لیے یہ بچہ صرف آڑو کھا کر گزارا کرتا ہے ۔بیماری کی وجہ سے اس کا کوئی دن بغیر تکلیف کے نہیں گزرتا لیکن صرف یہی نہیں، اس بچے کو ایک اور مرض بھی لاحق ہے جسے ڈائی جارج سنڈروم کہتے ہیں جو کہ ایک کمیاب جینیاتی مرض ہے، ہر ماہ اس کے والدین اسے 9 مختلف ڈاکٹروں کے پاس لے جاتے ہیں۔
image

چین کا معروف سٹنٹ مین کرتب دکھاتے ہوئے  62 منزلہ عمارت سے گر کر موت کے منہ میں چلا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق چینی شہری وہونگ اپنے چاہنے والوں کے لیے اونچی عمارت سے لٹک کرسٹنٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ دیوار کی اوپر والی سطح چکنی ہونے کی وجہ سے اس کا ہاتھ پھسل گیا اور وہ سیدھا زمین پر آگرا ، اس کے گرنے اور موت کے منہ میں جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جسے سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے دیکھا ۔  
image

چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے ایک قصبے میں پاکستانی طرز پر گڑ بنایا جاتا ہے جس سے وہاں کے شہر ی بڑے شوق سے کھاتے ہیں ، اس سلسلے میں  چین کی سرکاری  نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری ہونے والی ایک تصویر میں چینی بچوں کو بڑے شوق سے گڑ کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، خبر میں کہا گیا ہے کہ ہانگ کو گائوں میں قدیم طرز پر گڑ تیار کیا جاتا ہے  ، اس طریقے کے مطابق گنے کو بیلنے سے گزار کر اس کا رس نکالا جاتا ہے اور پھر اس رس کو بڑے بڑے کڑاہوں میں ڈال کر پکایا جاتا ہے اور ایک خاص مرحلے پر پہنچنے کے بعد اس رس کو کڑاہوں میں سے نکال کر کسی بڑے برتن میں ڈال دیا جاتا ہے اور وہاں پر اسے ٹھنڈا کرنے کیلئے ایک خاص طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ، ٹھنڈ ا ہو نے پر اس کے ٹکڑے بنا لئے جاتے ہیں اور اب یہ گڑ تیار ہے جس سے لوگ مزے مزے لے لے کر کھاتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ، مارکیٹ میں گڑ چینی کی نسبت زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے ۔
image

 امریکی خاتون یاوا اوینات نے جدہ کی فلاحی انجمن خیر کم کے آن لائن پروگرام کی مدد سے قرآن کریم حفظ کرلیا۔سعودی اخبار کے مطابق جدہ کی فلاحی انجمن نے والد کے ہمراہ عمرے کیلئے ارض مقدس پہنچنے پر امریکی خاتون کو حفظ قرآن کا سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ امریکی خاتون نے آن لائن حفظ کرانے والی معلمہ کے ہاتھوں قرآن پاک کا آخری حصہ جدہ پہنچ کر یاد کرکے سنایا۔ 
image

جاپان کے چڑیا گھر میں پینگوئنز نے انوکھی کرسمس پریڈ میں حصہ لیا ۔ فلاحی مقاصد کیلئے منعقد کی گئی اس پریڈ میں پینگوئنز کو سانتا کلاز کا مخصوص لال و سفید لباس پہنایا گیا اور کوٹ کے ساتھ گلے میں ننھی گھنٹیاں بھی باندھی گئیں جو پینگوئنز کے چلتے ہی مدھر آواز بکھیرتے ہوئے حاضرین کو محظو ظ کر رہی تھیں۔ اس دلچسپ پریڈ کو دیکھنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں شائقین نے چڑیا گھر کا رخ کیا اور پینگوئنز کے ساتھ پوز دیکر تصاویر بنوائیں۔    
image

 تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں بین الاقوامی برائیڈ ریس کا منفرد مقابلہ ہوا، جس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی تقریبا 300 خواتین نے حصہ لیا۔ سفید رنگ کے روایتی عروسی لباس زیب تن کیے مکمل دلہن کی طرح تیار ہوکر مقررہ فاصلہ عبور کرتے ہوئے انہوں نے خوب دوڑ لگائی، اس ریس میں خواتین کے شوہروں نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ منفرد نوعیت کی اس سالانہ ریس میں مالدیپ کی سیر و تفریح کا ریٹرن ٹکٹ جیتنے کی کوشش میں جہاں عروسی لباس خواتین کیلئے مشکل بنا رہا وہیں ایک جوڑا با آسانی فنشنگ لائن تک پہنچ گیا۔    
image

عوامی سروے

سوال: فاٹا اصلاحات بل حکومت کو منظورکرلینا چاہیئے؟