خوراک و صحت
 کینیڈا کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ میاں بیوی کے جراثیم بھی ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔یونیورسٹی آف واٹرلو کینیڈا میں کی گئی اس تحقیق کے دوران 330 شادی شدہ رضاکاروں کی جلد کے 17 مختلف مقامات سے  نمونے حاصل کئے گئے جن کے تجزیہ سے معلوم ہوا کہ ایک ساتھ رہنے والے شادی شدہ افراد کی جلد پر موجود جرثوموں کے 80 فیصد نمونے اپنے جیون ساتھی جیسے تھے۔یہ تحقیق اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہر انسان میں جرثوموں کا مجموعہ دوسروں سے مختلف ہوتا ہے جو ساری عمر کم و بیش یکساں ہی رہتا ہے لیکن یہ انکشاف اس خیال کے بالکل خلاف ہے۔ریسرچ جرنل ایم سسٹمز میں شائع شدہ اس تحقیق کے نتائج سے جہاں یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان میں موجود جراثیم کا مجموعہ طویل عرصے تک درپیش ماحول کے نتیجے میں تبدیل ہو جاتا ہے وہیں اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ برسوں تک ساتھ رہنے والے بعض شادی شدہ جوڑے ایک ہی جیسی بیماریوں کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔  

چہرے اور دانوں کے کیل مہاسوں کیلئے کئی طریقے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ٹوتھ پیسٹ میں ٹرائی کلوسان اور ہائیڈروجن پرآکسائیڈ نامی مادوں کی موجودگی دانوں اور کیل مہاسوں کیلئے بہترین علاج بنادیتی ہے۔ ایک معمولی مقدار کو دانوں اور کیل مہاسوں سے متاثرہ حصے پر لگا کر 2 گھنٹے تک چھوڑ دیجیے اور پھر اسے صاف کریں تو حیران کن نتیجہ سامنے آتا ہے۔البتہ حساس جلد والے افراد اسے محتاط انداز میں استعمال کریں۔
image

 جاپانی سائنس دانوں نے جینیاتی ٹیکنالوجی سے کام لیتے ہوئے مرغیوں کو اس قابل بنادیا ہے کہ وہ انٹرفیرون سے بھرپور انڈے دیں تاکہ  انہیں  سرطان اور ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض سے بچائو کے لیے بھی  استعمال کیا جا سکے۔  نیشنل ایگری کلچر اینڈ فوڈ ریسرچ آرگنائزیشن  کے  ماہرین کا کہنا ہے کہ  جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مرغیوں کو اس قابل بنایا جارہا ہے کہ وہ انٹرفیرون سے بھر پور انڈے دیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرفیرون پروٹین کینسر کے علاج میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔   ایک ادویہ ساز کمپنی کے تعاون سے اس منصوبے پر کام شروع کیا گیا ہے تاکہ دیکھا جائے کہ سرطان کا علاج سستا کیسے ہوسکتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مرغی کے انڈے میں موجود قدرتی پروٹین کو جینیاتی تغیرات سے گزارنے اور ایسی مرغیاں پیدا کرنے پر تحقیق کا آغاز کیا ہے جو انٹرفیرون سے بھرپور انڈے دیا کریں گی۔سائنس دانوں نے اعلان کیا ہے کہ ابتدائی تجربات کام یاب ثابت ہوئے ہیں اورجیناتی تغیر سے پید اہونے والی مرغیاں مطلوبہ انڈے دے رہی ہیں۔ محققین کے مطابق ہر مرغی ایک سے دو دن کے بعد ایک انڈا دیتی ہے۔ سائنسدان پْرامید ہیں کہ آئندہ برس کے اوائل میں ان انڈوں کی مدد سے سرطان کے خلاف لڑنے والی دوا تیار کرنے کی تیکنیک وضع کرلی جائے گی۔ ان انڈوں کے ذریعے انٹرفیرون کی دوا کی شکل میں تیاری پر آنے والی لاگت موجودہ سے نصف ہوجائے گی جس سے سرطان اور ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض کے علاج کے ضمن میں یہ تحقیق انقلابی ثابت ہوسکتی ہے۔  
image

ایک نئے تحقیقی مقالے میں سائنس دانوں نے دریافت کیاہے کہ چینی کس طرح کینسر جیسی مہلک بیماری کو پالتی ہے۔ اس دریافت کو زبردست کامیابی گردانا جارہا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ کینسر کے خلیے کیوں چینی کو توانائی پیدا کیے بغیر ہی فوری توڑ دیتے ہیں۔ یہ عمل 1920میں دریافت ہوا تھا جسے واربگ ایفکٹکا نام دیا گیا تھا۔اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکاتھا کہ آیا یہ اثر کینسر کی علامت ہے یا نہیں۔لیکن ڈچ جامعات کی 9 سالہ مجموعی تحقیقی پروجیکٹ میں یہ معلوم ہوا کہ چینی کا قدرتی طور پر راسنامی ایک جین سے تعلق ہوتا ہے جو کینسر کے ہر خلیے کی بقا کیلئے ضروری ہوتاہے۔یہ تعلق کینسر کو اتنی طاقت سے پکڑ تا ہے کہ خلیوں کے پاس اِسے نکالنے کیلئے طاقت نہیں ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا مہلک چکر بناتا ہے جو کینسر کی مسلسل پرورش کرتا رہتا ہے۔تحقیق کے نتائج کینسر کے مریضوں کیلئے ان کی غذائوں میں ان کی بیماری کے متعلق کچھ چیزیں پوشیدہ رکھتے ہیں اور جو اس مرض میں مبتلا نہیں ہیں ان کیلئے یہ تحقیق چینی کے نقصانات پر مزید روشنی ڈالتی ہے۔
image

 امریکہ میں ہونیوالی ایک تحقیق کے مطابق اپنے شریک حیات سے تکرار یا جھگڑا ایسے ہارمون کو سرگرم کردیتا ہے جو ہمیں جنک فوڈ کے استعمال پر مجبور کرسکتا ہے ۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان لڑائی سے بھوک بڑھانے والے ہارمون گیرلین کی مقدار بڑھ سکتی ہے مگر اس کا اثر ان افراد پر ہوتا ہے جو صحت مند وزن یا موٹاپے سے کچھ کم وزن کے حامل ہوں ۔ تحقیق میں کچھ جوڑوں کے درمیان کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ ازدواجی عدم اطمینان اور خوراک کے ناقص انتخاب کے درمیان تعلق موجود ہے ،لڑائی جھگڑے کے بعد لوگ ایسی غذا استعمال کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں جس میں چربی، چینی اور نمک کی مقدار بہت زیادہ ہو۔
image

 انکشاف  ہوا ہے کہ بیم لائٹ سے بلڈ پریشر بھی چیک ہوسکے گا۔ ا س چھوٹی ڈیوائس سے شریانوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر بھی نظررکھی جاسکے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی محکمہ صحت نےبیم کی کارکردگی کا یہ نیا تجربہ کامیاب اور موثر قرار دیا ہے۔ اسکی کارکردگی اتنی درست ہوتی ہے کہ اس سے سو فیصد ٹھیک قرار دیا جاسکتا ہے۔ نئی تحقیق کا مطلب یہ بھی ہوا کہ بیم لائٹ دوسرے روایتی طریقوں سے زیادہ کارگر ہے۔
image

اکثر کہا جاتا ہے کہ گرم پانی پینا صحت کے لئے مفید ہے اور کہا جاتا ہے کہ ٹھنڈا پانی مضر صحت ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کس وقت ٹھنڈا پانی پینا انتہائی مفید ہوتا ہے اور کس وقت گرم پانی پینا چاہیے۔ ٹھنڈاپانی پینے کے لئے بہترین وقت مندرجہ ذیل ہے، جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ پسینے کی وجہ سے ہمارا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن اس عمل کے دوران ہمارے جسم سے پانی اور الیکٹرولائیٹ کی تعداد ضائع ہوجاتی ہے۔ اس دوران اگر ٹھنڈا پانی پیا جائے تو نہ صرف جسم کا درجہ حرارت کم رہتا ہے بلکہ پانی کی کمی بھی پوری ہونے لگتی ہے۔ ایک تحقیق میں کچھ لوگوںکو کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا گیا پانی پلایا گیا جبکہ دوسرے گروہ کو ٹھنڈا پانی دیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ ٹھنڈا پانی پینے والے افراد کے جسم کا درجہ حرارت زیادہ کم رہا یعنی ٹھنڈا پانی زیادہ مفید ثابت ہوا۔ ہمارے جسم میں بخار کی وجہ سے پانی کی کمی ہونے لگتی ہے اور اگر پانی نہ پیا جائے تو دیگر پیچیدگیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ ٹھنڈا پانی پینے سے بخار کی شدت میں کمی آنے لگتی ہے اور ساتھ ہی پانی کی کمی پوری ہونے لگتی ہے۔ ٹھنڈے پانی میں لیموں کا رس ملا لیں اور بخار سے جلد چھٹکارا پائیں۔ ٹھنڈا پانی پینے سے میٹابولزم تیزی سے کام کرتا ہے اور ایک دن میں اضافی 70حرارے جلتے ہیں۔15منٹ کی چہل قدمی کے بعد 70 حرارے جلتے ہیں لیکن یہی مقصد ٹھنڈا پانی پینے سے با آسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ گرم پانی پینے کے لئے بہترین وقت مندرجہ ذیل ہے، اگرآپ کا نظام انہضام صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا توگرم  پانی کا استعمال شروع کردیں۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ صبح سویرے گرم پانی پینے سے قبض سے نجات ملتی ہے اور ہمارا معدہ زیادہ بہتر طریقے سے کام کرنے لگتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کھانے کے ساتھ ٹھنڈا پانی پینا معدہ کے لئے زہر قاتل ہے لہذا ہمیشہ گرم پانی استعمال کریں۔ اگر آپ اپنے جسم سے زہریلے مواد نکالنے کے خواہشمند ہیں تو گرم پانی کا استعمال کریں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جسم سے زہریلے مواد نکالنے کے لئے گرم پانی میں لیموں کا رس ملاکرپئیں۔ اس طریقے سے معدے سے زہریلے مواد نکلیں گے اور نظام انہضام بھی ٹھیک طریقے سے کام کرے گا۔ آپ چاہیں تو اس پانی میں کھیرے، مالٹے اور سیب کے ٹکڑے بھی ڈال سکتے ہیں۔ اگر سر میں درد یا جسم میں سوزش ہوتو گرم پانی استعمال کریں کہ اس طرح خون کی گردش بہتر رہے گی اور جسم سے سوزش اور درد کم ہوگی۔
image

ہچکی لگ جائے تو  تھوڑی دیر بعد ٹھیک ہوجاتی ہے لیکن بعض اوقات یہ طویل ہوجاتی ہے اور تکلیف دینے لگتی ہے۔ میٹھی چیز کو ہچکیاں روکنے کے لئے کافی آزمودہ پایا گیا ہے لہذا چینی کھانے سے ہچکی بند ہوجائے گی۔ جس طرح چینی کھانے سے ہچکی رُک سکتی ہے بالکل اسی طرح کھٹی چیز بھی ہچکی کو روکنے کے لئے فائدہ مند ہے۔پی نٹ بٹر میٹھا اور مزیدار ہونے کی وجہ سے پی نٹ بٹر کھانے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ جیسے جیسے یہ آپ کے حلق سے نیچے اترے گا ویسے آپ کو ہچکی میں کمی محسوس ہونے لگے گی۔ شہد کو تھوڑے سے نیم گرم پانی میں ملا کر پینے سے بھی آپ کو افاقہ ہوگا۔ اگر آپ کو چاکلیٹ سے ہچکیوں کا علاج کرنا ہوتو یقیناًآپ کبھی بھی علاج نہیں کریں گے۔ایک چمچ چاکلیٹ یا اوولٹین کھانے سے بھی ہچکی رُک جائے گی۔ کسی بھی کاغذ کے بیگ میں گہرے اور ہلکے سانس لیں ۔ایسا کرنے سے آپ کے خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے لگے گی اور نظام تنفس آکسیجن لینے کے لئے زور لگائے گا اور اس دوران ہچکی رُک جائے گی۔
image

مرد ہوں یا خواتین، دونوں اپنے بالوں کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں اور ہمیشہ اسی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کے بالوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے  جس سے بچنے کے لئے وہ مختلف جتن میں مصروف رہتے ہیں ،  کچھ ایسے نایاب نسخے ہیںجس کی مدد سے آپ اپنے بالوں کو  گرنے ، ٹوٹنے اور خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں،نہانے کے بعد اکثر مرد و خواتین اپنے بالوں کو تولیے سے خشک کرتے ہیں لیکن یہ بلکل غلط طریقہ  کارہے،  گیلے بالوں کو تولیے سے خشک کرنے پر بالوں کی جڑوں میں شدید رگڑ پیدا ہوتی ہے اور بالوں کے کنارے متاثر ہوتے ہیں،   گیلے بالوں میں کنگھی کرنے سے بھی گریز کریں اس سے بھی بال ٹوٹتے ہیں، ملازمت پیشہ افراد اپنے بالوں کو عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ دھوتے ہیں کیونکہ دھول مٹی کے باعث بال جلدی خراب ہوجاتے ہیں ، بالوں کو باربار دھونے کے بجائے رات کو سونے سے پہلے بالوں پر تیل کا استعمال کیجئے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کو کٹوانے کا انحصار ان کی اقسام پر ہوتا ہے، کچھ بال قدرتی طور پر ہلکے ہوتے ہیں اور کم رفتار سے بڑھتے ہیں جبکہ کچھ بال موٹے ہوتے ہیں اور ان کے بڑھنے کی رفتار تیز ہوتی ہے،لہٰذا بالوں کو اس وقت کٹوائیں جب وہ تھوڑے زیادہ بڑے ہوجائیں، ورنہ بالوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے،مرد حضرات، خاص طور پر نوجوان   طبقہ بالوں کی سٹائلنگ کے معاملہ میں بہت حساس  دکھتے ہیں اور بالوں کو مختلف سٹائل دینے کےلئے جیل اور ہیر سپرے وغیرہ کثرت سے استعمال کرتے ہیں جو کہ بالوں کو برباد کردیتا ہے ، لہٰذا اس طرح کی  چیزوں کے استعمال سے گریز کیجئے  تاکہ بالوں کو نقصانات سے بچایا جائے ۔
image

آنکھیں قدرت کا حسین تحفہ ہیں اور ان کی حفاظت کرناہمارا فرض ہے، صحت مند آنکھیں معیار زندگی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ،آنکھوں کی اچھی صحت میں سب سے اہم کردار ہماری غذا کا ہے ، اومیگا تھری فیٹی ایسڈ ، لیونین اور زنک اور وٹامن سی اور ای سے بھرپور غذائیں بڑھتی عمر کے ساتھ ہونے والے نظر کے مسائل کی روک تھام میں کار آمد ثابت ہوتی ہیں، آنکھوں کی اچھی صحت کے لیے ہرے پتوں والی سبزیاں جیسے پالک،مچھلی، انڈے ، میوے  اورکینو اپنی خوراک میں شامل کریں،اچھی متوازن غذا موٹاپے سے بچا کر مناسب وزن رکھنے میںمدد دے گی اس کے علاوہ ذیابیطس سے بھی بچاتی ہے جو بڑھ کر اندھے پن کی وجہ بھی بن سکتی ہے،زیادہ وقت تیز دھوپ میں رہنے سے الٹراوئلٹ ریز آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہیں ،باہر نکلتے وقت آنکھوں کوالٹرا وائلٹ ریز سے بچانے کے لیے سن گلاسز کا استعمال کریں ،اگر آپ کے کام کے دوران استعمال ہونے والے مٹیریل کے ذرات ہو امیں اڑتے ہیں تو اس سے بچنے کے لیے حفاظتی چشمہ لگائیں،کمپیوٹر یا موبائل سکرین کو دیر تک دیکھتے رہنے سے  آنکھوں پر زور پڑنا،دھندلا دکھائی دینا،آنکھیں خشک ہوجا نا اورسردرد ہوناجیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں،کمپیوٹر استعمال کرتے وقت جوگلاسس یالینز آپ لگاتے ہیں وہ بالکل صحیح ہونے چاہئیں تاکہ کمپیوٹر سکرین صاف نظر آئے،کمپیوٹر سکرین کو اس طرح رکھیں کہ آپ کی آنکھیں سکرین کے اوپری حصے کی سیدھ میں ہوں تاکہ سکرین کو دیکھنے کے لیے آپ کو نیچے دیکھنا پڑے،کمپیوٹر استعمال کرتے وقت آرام دہ کرسی پر بیٹھیں تاکہ آپ کے پیر زمین پر ٹکے رہیں، اگر آنکھیں خشک ہوں تو انھیں زیادہ جھپکائیں،بچے ہوں یا بڑے سب کے لیے آنکھوں کا معائنہ کرانا ضروری ہے، اس طرح نظر زیادہ کمزور نہیں ہوتی اور شروع میں ہی پتہ چل جاتا ہے ،اس کے علاوہ آنکھوں کے معائنہ سے ایسی بہت سی بیماریوں کا پتہ چل جاتا ہے جن کی کوئی ظاہری علامت نہیں ہوتی ، اس طرح ابتدا میں ہی ایسی بیماریوں کا علاج آسانی سے ہوجاتا ہے۔
image

امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ خود کلامی پاگل پن نہیں بلکہ ذہن اور یادداشت میں مثبت کردار ادا کرتی ہے، خود سے باتیں کرنا بالکل نارمل اور عام سی بات ہے، ایسے لوگوں کا دماغ بالکل درست ہوتا ہے اور انہیں پاگل نہیں کہا جاسکتا بلکہ خود کلامی انسانوں کےلئے صحت مند ہے۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں 89 رضاکاروں پر تحقیق کی گئی جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی زندگی کے ایسے واقعات یاد کریں کہ جب انہیں شدید اعصابی تناؤ اور ناگوار حالات کا سامنا تھا اور ان کے ذہنوں پر منفی خیالات بھی مسلط تھے، کچھ رضاکاروں کو اعصابی تنائو اور منفی خیالات پیدا کرنے والی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔ اس دوران الیکٹرو انسیفالو گرافی اور ایف ایم آر آئی نامی تکنیکوں کی مدد سے ان کے دماغوں میں اعصابی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی گئی جس سے ظاہر ہوا کہ ایسے واقعات کو یاد کرتے وقت ان افراد میں اعصابی تناو بڑھ گیا تھا۔ امریکی ماہر نفسیات کے مطابق خود کلامی کرنے والے افراد بہتر طور پر مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے خود کلامی پاگل پن نہیں بلکہ ذہن اور یادداشت کی ٹریننگ میں مثبت کردار ادا کرتی ہے خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کو باقاعدگی سے خود کلامی کرنا چاہئے تاکہ دیگر افراد کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔
image

دانت قدرت کا انمول تحفہ ہیں جو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اچھی صحت کے ضامن بھی ہوتے ہیں۔ کسی بالغ انسان کا دانت ٹوٹ جائے تو تکلیف دہ سرجری کے ذریعے مصنوعی دانت لگانا پڑتا ہے جس پر بھاری اخراجات ہوتے ہیں لیکن اب جدید طریقوں کے بجائے قدرتی طریقے سے اپنے دانت خود اگائے جاسکتے ہیں، کولمبیا یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے ڈاکٹر جیریمی مائو کی سربراہی میں طویل تحقیق کے بعد ایک ایسا قدرتی طریقہ دریافت کیا ہے جس میں اسٹیم سیلز کے ذریعے 9 ماہ میں قدرتی طور پر دانت اگانا ممکن ہے۔ واضح رہے کہ اسٹیم سیلز ان خلیوں کو کہتے ہیں جو جسم کے کسی بھی عضو میں موجود خلیات بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈاکٹرجیریمی کے مطابق اسٹیم سیلز نئے دانتوں کی نشوونما میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں اور اس قدرتی طریقے کی دریافت کے بعد دانتوں کی سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اسٹیم سیلزکودانتوں کے ساتھ ملاکر ان میں ٹشوز شامل کرتے ہوئے نئے دانت اگائے جاسکتے ہیں۔ اگر کوئی دانت ٹوٹ جائے تو اس کے نچلے حصے میں موجود خالی مسوڑھے کے اندر اسٹیم سیلز اور ٹشوز کا ملاپ کرنے سے دانت دوبارہ اُگنا شروع ہوجاتا ہے۔ اسٹیم سیلز ان خلیات کو جنم دیتے ہیں جو ٹوٹے ہوئے دانت کو دوبارہ اگانے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں ،اور یوں نیا دانت بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ طریقہ دانت اگانے کا قدرتی اور آسان عمل ہے تاہم یہ صبر آزما بھی ہے کیونکہ یہ عمل 9 ہفتے لیتا ہے۔ اس قدرتی طریقے سے مصنوعی دانتوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے اور بار بار ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ قدرتی طریقہ اپنے آپ میں مکمل اور ہر ایک کے لیے ہے یعنی جو چاہے اسے آزما سکتا ہے۔ یہ تحقیق ابھی طبّی آزمائشوں کلینیکل ٹرائلز کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہی ہے اور اگر کامیاب ثابت ہوگئی تو آنے والے چند برسوں میں مصنوعی دانت لگانے اور بتیسی بنانے والوں کا کاروبار شدید طور پر متاثر ہوسکتا ہے۔
image

 برطانوی ماہرین نے کہا ہے کہ اپنی غذا میں روزانہ ایک کیلا شامل کر کے آپ ہارٹ اٹیک اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ برٹش ہارٹ فائونڈیشن کے ماہرین نے اپنی ایک تحقیق میں کہا ہے کہ پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں شریانوں کے سکڑنے یا خون گاڑھا ہونے کے جان لیوا عمل سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ شریانوں کی سختی اور دوران خون کے مسائل ہارٹ اٹیک یا فالج کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں جبکہ پوٹاشیم کا زیادہ استعمال شریانوں کی سختی دور کر کے انہیں لچک دار بنا نے میں مدد دیتا ہے۔ایک کیلے میں 450 ملی گرام پوٹاشیم موجود ہوتا ہے ، محققین کے مطابق روزانہ صرف ایک کیلا کھانے کی عادت فالج اور ہارٹ اٹیک سے بچائومیں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔  
image

اکثر لوگوں کو کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کا سامناہوتا ہے اور یہ مسائل براہ راست انسانی شخصیت، اس کی سوچ اور معاشرتی تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں،نفسیاتی امراض کی کئی اقسام ہوتی ہیں لیکن کچھ عام نفسیاتی بیماریاں ایسی ہیں جن سے ہر عمر کے لوگ متا ثر ہوسکتے ہیں،مثال کے طور پر انزائٹی میںبار بار کسی چیز کا خوف یا کچھ برا ہونے کا ڈر ہوتا ہے،ڈپریشن میں مختلف کیفیات ہوسکتی ہیں جس میں کمزوری اور غفلت شامل ہیں ،  نفسیاتی بیماری کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، ایسے لوگ جن کی فیملی ہسٹری میں یہ بیماری ہو وہ زندگی کے کسی بھی حصہ میں اسکا شکار ہوسکتے ہیں،غلط دوائوں یا غذائوں کے استعمال سے ذہنی صحت پر اثر پڑتا ہے اور ان بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ماحولیاتی اثرات ذہنی بیماری کا باعث بنتے ہیں ،مریض کی مختلف کیفیات کی بنا  پر اس کا علاج کیا جاتا ہے اور دوائیں دی جاتی ہیں ،ان دوائوں کے سائڈ افیکٹ میں متلی ، سردرد ،بھوک میں تبدیلی، بہت زیادہ پیشاب آنا ، بے چینی ، دھندلا نظر آنااور غنودگی شامل ہے، اس کے علاوہ دوسرے سائڈ افیکٹ جسمانی اور ذہنی ساخت کی بنیاد پر ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ یہ دوائیں کس حدتک مریض پر اثر انداز ہوتی ہیں ،جن لوگوں کو یہ دوائیں دی جاتی ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ علاج کے دوران ڈاکٹر سے رابطہ رکھیں اور جو بھی سائڈ افیکٹ ہوں وہ ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔
image

 برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 40 سال میں بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کی شرح میں 10 گنا اضافہ ہو گیا ہے اور دنیا بھر میں  124 ملین بچے بیماری کی حد تک موٹاپے کا شکار ہیں۔ ترک خبر رساں ادارے نے برطانوی طبّی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ   200 سے زائد ممالک میں موٹاپے کے شکار بچوں پر تحقیق کی گئی۔عالمی اوبیسٹی فیڈریشن کے مطابق  2025 سے موٹاپے سے متعلق صحت کے مسائل کے لئے1.2 ٹریلین ڈالرخرچ کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ ماہرین صحت نے بھاری کیلوریز والی غذائوں سے بچنے اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا ہے ۔
image

سیب کا سرکہ استعمال کرنے سے ہچکیوں سے نجات ملتی ہے ،اس کے علاوہ یہ نزلہ و زکام کو ختم کرنے میں  بھی بہت مفید مانا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چوتھائی کپ سیب کے سرکے میں ایک چوتھائی کپ گرم پانی ملا کر پینے سے گلے میں انفیکشن ٹھیک ہوجاتی ہے ، روزانہ کچھ مقدار میں سیب کا سرکہ استعمال کرنے سےکولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے،جسمانی وزن میں کمی آتی ہے، سرکہ نظام ہضم کو بھی تیز کرتا ہے  جبکہ سرکے کی تیزابیت سر کی سطح میں تبدیلیاں لاکر خشکی کو دور کرتی ہے۔
image

سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیاہے کہ ذیابیطس جیسے خاموش قاتل سے بچنے کے لیے روزانہ تین سے چار کپ چائے پینا اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 فیصد تک کم کردیتا ہے، جبکہ ایک کپ چائے بھی اس بیماری سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ یہی فائدہ کافی پینے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے تاہم پاکستان میں اس گرم مشروب کو پسند کرنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔  تحقیق میں بتایا گیا کہ ان گرم مشروبات میں موجود اجزا ممکنہ طور پر ذیابیطس کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہم فوری طور پر لوگوں کو مشورہ نہیں دیں گے وہ زیادہ مقدار میں ان گرم مشروبات کو نوش کریں تاہم معمول کی مقدار بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔
image

 طبی تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سومیت ایس چوگے نے انکشاف کیا ہے کہ کیلشیئم کی افادیت ہمہ جہت ہے۔ اب تک اسے ہڈیوں اورجوڑوں کی تقویت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا مگر اس پر جاری تحقیقی کاموں کے بعدیہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ دل کو مضبوط اور توانا رکھنے میں کیلشیئم کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سومیت نے جو مقامی سنائی ہارٹ انسٹی ٹیوٹ سے بھی وابستہ ہیں،  تحقیق میں کہا ہے کہ امریکہ میں ہونے والی اموات کی بڑی وجوہ میں دل کے دورے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ نئی تحقیق کے بعد ضرورت اس بات کی محسوس کی جارہی ہے کہ امراض قلب کو ان مختلف زاویوں سے دیکھا جائے جن کو اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ یہ رپورٹ مایو کلینک نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ جس کی خاص بات یہ ہے کہ کیلشیئم کی کمی کی وجہ سے دل کی حرکت اچانک بند ہوجاتی ہے اور انسان کو حفاظتی اقدام کا کوئی موقع نہیں ملتا۔
image

 برطانوی ماہرین نے ایک مطالعے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ شکر کی زائد مقدار جگر  کے لیے  انتہائی مضر ہے۔برطانیہ میں یونیورسٹی آف سرے کے پروفیسر بروس گریفن نے کہا ہے کہ شکر کی بے تحاشہ مقدارجگر پر منفی اثر ڈالتی ہے اور دل کے امراض کی وجہ بھی بنتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شکر کی زائد مقدار سے جگر کے میٹابولزم پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ جگر میں زائد چربی کی اس کیفیت کو نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز  کہا جاتا ہے۔ یہ موٹاپے کی وجہ سے ہوتی ہے، جگر کو تباہ کرسکتی ہے اور دیگر کئی امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔ جگر کی چربی خون میں بھی شامل ہوجاتی ہے جو دل کے امراض اور فالج کی وجہ بن سکتی ہے۔اس بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ صحت مند مرد بھی اپنی خوراک میں شکر کو کم سے کم کردیں ورنہ ایک وقت کے بعد ان کا جگر اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔  
image

انڈا قدرتی طور نہایت فائدہ مند ہے ۔ انڈے کا ماسک ہر طرح کی جلد کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ کی جلد آئلی ہے تو ایک انڈے کی سفیدی لے کر اس میں چند قطرے لیموں کا رس اور آدھا چمچ شہد ملا کر اچھی طرح مکس کر لیں۔ چہرے پر اسکا لیپ کریں اور20 منٹ بعد روئی کو گرم پانی میں بھگو کر چہرے سے ماسک اتار لیں۔یہ چہرے کی زائد چکنائی صاف کر دے گا۔ خشک جلد کے لیے ماسک کچھ یوں تیار کیا جاتا ہے کہ ایک انڈے کی زردی لے کر اس میں بادام یا زیتون کا خالص تیل ملا لیں۔ اچھی طرح پھینٹ کر چہرے پر لگائیں اور20 منٹ بعد نیم گرم پانی سے صاف کر لیں۔ یہ جلد کو ملائم بنانے کے لیے بہترین ہے۔ انڈے کا ماسک چہرے کے اضافی بال صاف کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔ ایک انڈے کی سفیدی میں ایک چمچ چینی اور آدھا چمچ کارن فلور شامل کر کے اچھی طرح مکس کر لیں ۔ چہرے پر لگائیں اور 15 سے 20 منٹ بعد کھینچ کر اتار دیں۔ ہفتے میں3 سے 4 مرتبہ یہ عمل کر کے چہرے کے اضافی بالوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔
image

 دنیا بھر میں ٹیڑھے دانتوں کو سیدھا کرنے کیلئے بریسز کااستعمال کرایا جاتا ہے، فی الوقت جو روایت عام ہے اس کے تحت کچھ عرصے کے لئے ان بریسز کو استعمال کرنے کے بعد جب دانت سیدھے ہوجاتے ہیں تو انہیں نکال دیا جاتا ہے تاہم نئی تحقیق کے بعد ماہرین دندان نے باور کرایا ہے کہ نوجوانوں کو اپنے ٹیڑھے دانت سیدھے کرنے کیلئے بریسز کا استعمال زندگی بھر کرنا چاہئے کیونکہ اگر وہ ان کا استعمال ترک کردینگے تو کچھ عرصے بعد دانت دوبارہ ٹیڑھے ہونا شروع ہوجائیں گے، برٹش آرتھوڈانکٹ سوسائٹی نے اس حوالے سے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس میں وہ ٹیڑھے دانتوں کے مریضوں کو یہ باور کرا رہی ہے کہ وہ رات کے وقت دانتوں پر یہ بریسز ضرور پہنیں، خواہ ان کے دانت ٹھیک کیوں نہ ہوگئے ہوں،یہ انتباہ ایک تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دیکھا گیا تھا کہ گزشتہ 10برس کے دوران جن لوگوں نے دانتوں میں بریسسز لگائے ان کی 70فیصد تعداد دوبارہ دانتو ںکے مرض کا شکار ہوئی اور ان کے دانت ٹیڑھے ہونے لگے۔
image

سرخ پیاز کو کاٹا جائے تو اس سے خارج ہونے والے بخارات کی وجہ سے انسان کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگتے ہیں اور اگر انہیں کھایا جائے تو تیز ہونے کی وجہ سے یہ بہت لگتا ہے،لیکن یہ پیاز ہماری صحت کے لئے اس قدر فائدہ مند ہے ،لال پیاز میں انٹی بائیوٹکس، انٹی سیپٹیکس اور انٹی مائیکروبیول ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا جسم انفیکشن سے پاک رہتا ہے،یہ پیاز وٹامنز، منرلز، فائبر ،پوٹاشیم ، سلفر اور کیلشیم سے بھرپورہوتا ہے،انہیں چھوٹی موٹی بیماریوں کے لئے بھی مفید پایا گیا ہے،گلے کی انفیکشن،سردی، زکام، الرجی، بخار اور اس طرح کے دیگرامراض کے لئے یہ بہت فائدہ مند پائے گئے ہیں،اگر ناک سے خون بہنے لگے تو پیاز سونگھنے سے خون نکلنا بند ہوجائے گا،پیاز کھانے سے نظام انہضام ٹھیک رہتا ہے اور معدہ بیماریوں سے بچتا ہے،انہیں  آنت کے کینسرکے لئے بھی مفید پایاگیا ہے،اگر آپ کو کوئی جلدی مرض لاحق ہوجائے اور جلد خراب ہونے لگے تو سرخ پیاز کا رس نکال کر متاثرہ جگہ لگانے سے جلد ٹھیک ہوجائے گی،یہ جسم میں انسولین کی مقدار کو بڑھاتے ہیں لہذا ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بہت مفید واقع ہوئے ہیں۔
image

مقولہ ہے کہ روزانہ ایک سیب کھائیں اور بیماریوں سے بچیں لیکن اب جاپان کے سائنسدانوں  کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک کینو کھانے سے مستقبل میں آدمی کے رعشہ اور ذہنی عوارض میں مبتلا ہونے کا امکان حیران کن طور پر ایک چوتھائی کم ہو جاتا ہے۔گریپ فروٹ، لیموں اور کھٹاس والی دیگر اشیاءبھی انہی فوائد کی حامل ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کینو یا دیگر کھٹاس والی چیزیں بڑھتی عمر کے ساتھ دماغ کو نقصان پہنچنے سے بچاتی ہیں اور یادداشت کو محفوظ رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے انسان ذہن کی شکست و ریخت سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
image

 سائنسدانوں نے دودھ کو محفوظ کرنے کا ایک ایسا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جس کی بدولت دودھ 9 ہفتے یعنی 63 دن تک نہیں پھٹے گا، تفصیلات کے مطابق اس طریقے میں سب سے پہلے دودھ کو جراثیم سے پاک کرنے کے معیاری طریقے یعنی پاسچر ائزیشن سے گزار کر ٹھنڈا کرلیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دودھ کو ایک بار پھر بڑی تیزی سے گرم کرتے ہوئے اس کا درجہ حرارت معمول کے مقابلے میں ایک سے 2 سیکنڈ کے لیے 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ کیا جاتا ہے اور پھر اسے اتنی ہی تیزی سے ٹھنڈا کرلیا جاتا ہے۔ اب اگر یہ دودھ کسی ڈبے یا برتن میں بند کرکے رکھ لیا جائے تو یہ 63 دن تک محفوظ رہے گا، یہ دلچسپ طریقہ ایجاد کرنے والی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پاسچرائزیشن کی بدولت دودھ میں موجود 99 فیصد سے زیادہ جراثیم مر جاتے ہیں اور ہماری تکنیک ان باقی بچے ہوئے جرثوموں میں سے بھی 99 فیصد سے زیادہ کو مار ڈالتی ہے، یعنی عملاً دودھ میں ایسا کچھ نہیں بچتا جو اسے خراب کرسکے، اس طرح سے محفوظ بنایا گیا دودھ نہ صرف جراثیم سے پاک ہوتا ہے بلکہ 9 ہفتے تک اپنی رنگت، ذائقے اور خوشبو میں بھی تر و تازہ رہتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ طریقہ ڈیری مصنوعات بنانے والے کارخانوں کے لیے ہے جس سے گھر پر مشکل ہی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے اب اس نئے طریقے کو پیٹنٹ بھی کروالیا ہے۔
image

آلو اور ہلدی صرف کھانے کے لیے نہیں بلکہ چہرے کی جلد کو چمکدار بنانے، چہرے سے داغ دھبے صاف کرنے اور رنگت نکھارنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہں۔ برطانوی ماہرین طب کا کہنا ہے کہ  آلو اور ہلدی کا ماسک رنگت نکھارنے کے ساتھ چہرے کے سانولے پن کوکم کرکے رنگت گوری کرنے میں نہایت اہم کردارادا کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بازار سے ملنے والی اشیائ چہرے کی جلد کو نقصان پہنچانے کے ساتھ کافی مہنگی بھی ہوتی ہیں تاہم گھر پر صرف آلو اور ہلدی سے بنایا گیا یہ فیس پیک کسی بھی قسم کے مضراثرات سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ کچے آلو کے گودے میں تھوڑا سا ہلدی پاؤڈر ملانے ےا پاؤڈر کی جگہ ہلدی کی جڑ سے رس نکال کر آلو کے گودے میں ملانے  کے بعد چہرے اور گلے پرتقریباً 30 منٹ تک لگا نے سے جلد صاف ہوکر چمکدار ہوجاتی ہے جب کہ اسے مسلسل استعمال کرنے سے رنگت میں بھی نکھار پیدا ہوتا ہے۔  
image

عوامی سروے

سوال: انتخابی اصلاحات کی منظوری ملک کیلئے فائدہ مند ہو گی یا نقصان دہ؟