17 اگست 2017
تازہ ترین

عوامی سروے

سوال: آپ کے خیال میں کونسی سیاسی یا مذہبی جماعت صحیح معنوں میں نظریہ پاکستان کی محافظ اور عوامی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے؟

خوراک و صحت
 ایک نئی کریم تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور اسے بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ اسے جسم اور ہاتھوں پر ملنے سے پرسکون نیند حاصل ہو سکتی ہے۔ریڈاِٹ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس کریم کے چرچے ہیں جسے ’سلیپی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ پر درجنوں افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کریم سے ان کی بے خوابی ختم ہو گئی ہے، ان میں سے بعض افراد کئی برس سے بے خوابی کے شکار تھے۔سلیپی کریم کو لش کمپنی نے بنایا ہے جس کی ویب سائٹ پر 60 سے زائد افراد نے کریم سے بے خوابی دور کرنے کے اپنے تجربات بیان کئے ہیں۔ صارفین کے مطابق وہ کئی برس نیند سے محروم رہے تھے لیکن اب سلیپی کریم سے وہ سونے کے قابل ہو چکے ہیں۔سلیپی کریم میں کوکو مکھن، دلیے کا باڈی لوشن، سیم کے بیج، لیونڈر آئل اور لنگ لنگ آئل ملایا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پہلے اسے محدود تعداد میں تیار کیا گیا تھا لیکن عوام کی بے پناہ فرمائش کے بعد کمپنی نے اسے اپنی مستقل مصنوعات میں شامل کرلیا ہے۔ایک صارف نے ویب سائٹ پر کہا کہ وہ بے خوابی کی وجہ سے شدید درد اور نفسیاتی عوارض کے شکار تھے لیکن سلیپی نے انہیں دہشتناک بے نیند راتوں سے نجات دلائی ہے۔  ایک اور صارف نے کہا کہ یہ نیند لانے والی ایک مؤثر لوشن ہے۔کچھ لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ لوشن لگانے سے ان کا ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے اور وہ سکون محسوس کرتے ہیں۔ 

ناشپاتی ہماری صحت کیلئے انتہائی فائدہ مند ہے،اگر ایک ناشپاتی کو روز کھایا جائے تو کینسر،موٹاپے اور بخار سمیت مختلف امراض سے بچاجا سکتا ہے ،فائبر، پوٹاشیم اور دیگر اہم اجزا سے بھرپور یہ پھل کم کیلوریز کے ساتھ جسم کو مختلف اینٹی آکسائیڈنٹس بھی فراہم کرتا ہے،ماہرین صحت کے مطابق ناشپاتی میں وٹامن 'سی'، وٹامن 'کے' اور کاپر جیسے اجزا موجود ہوتے ہیں، جو جسمانی خلیات کو نقصان پہنچانے والے مضر عناصر کی روک تھام کرکے جلد کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں،ناشپاتی میں فائبر کافی مقدار میں ہوتا ہے جو جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاکر امراض قلب سے تحفظ دیتا ہے، اسی طرح فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے ناشپاتی کو روزانہ کھانا فالج کا خطرہ بھی 50 فیصد تک کم کردیتا ہے،ناشپاتی میں موجود فائبر ایسے خلیات کی روک تھام کرتا ہے جو آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں،ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک ناشپاتی کھانا خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 34 فیصد تک کم کرسکتا ہے، امریکا کی لوزیانے سٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشپاتی فائبر اور وٹامن سی کے حصول کے لیے بہترین ذریعہ ہے، ماہرین کے مطابق آج کل ہڈیوں کے امراض کافی عام ہوچکے ہیں، اگر ہڈیوں کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں تو روزانہ ماہرین طب کی تجویز کردہ کیلشیئم کی مقدار کھانا بہت ضروری ہے، ناشپاتی کیلشیئم کو جسم میں آسانی سے جذب ہونے میں مدد دینے والا پھل ہے،ماہرین کا کہنا ہے فولک ایسڈ حاملہ خواتین کے لیے بہت اہم ہے تاکہ بچے پیدائشی معذوری سے بچ سکیں، ناشپاتی میں بھی فولک ایسڈ موجود ہے اور دوران حمل اس کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے،یہ پھل اپنی تاثیر میں ٹھنڈا ہوتا ہے اور یہ ٹھنڈک بخار کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
image

دلکش اور گھنے بال ہر عورت کا خاصہ ہیں، لیکن اگر یہ بال ہی باعث پریشانی بن جائیں ، تو خواتین کا سب سے بڑا شیوہ انکو تراش  دینا ہے ناکہ انکا مناسب حل ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے بال بڑھنے کا عمل سست روی کا شکار ہے اور وہ بہت گرتے ہیں تو اس کی کافی حد تک وجہ آپ کی خوراک ہے۔ تاہم بہترین غذا اور کچھ مفید گریلو ٹوٹکوں اور علاج سے اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے، پیاز کا پانی بدبودار ہوتا ہے مگر یہ محلول گھنے بالوں کی افزائش کے لئے انتہائی موثر ہے جس سے بال جھڑنا بند ہوتے ہیں اور بالوں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے،پیاز میں بہت سا سلفر ہوتا ہے جو کولیجن کی پیداوار میں براہ راست اضافے کا باعث ہوتا ہے بہترین نتائج کے لئے سرخ پیاز استعمال کریں،دو سے تین پیاز چھیل کر رس نکال لیں اور سر پر اس کا مساج کریں اور ایک گھنٹہ لگا رہنے دیں بعد ازاں بالوں کو دھولیں، اس کے علاوہ آپ آلو کو بھی استعمال کرسکتے ہیں  آلو کا رس بال گھنے کرنے کا ایک اور بہترین ذریعہ ہے،آلو وٹامن اے بی اور سی کے حامل ہوتے ہیں جب ان وٹامنز کی کمی ہوتی ہے تو بال خشک اور بے جان ہو جاتے ہیں،آلو کا پانی لگانا اس سلسلے میں خاصا مفید ہوتا ہے،تین سے چار آلو لے کر کوٹ لیں اور ان کا لیپ خشکی والی جگہوں پر لگائیں پندرہ منٹ بعد بال دھو لیں
image

آسٹریلیامیں خواتین کے کیفے میں مردوں کے لیے مہنگئی کافی متعارف کرادی گئی جس کی قیمت 18گنا تک زیادہ ہوگی،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں ایک کیفے ایسا بھی ہے جہاں آنے والے مرد حضرات کو کافی خواتین کے لیے مقابلے میں 18 فیصد مہنگی مل سکتی ہے۔کیفے کے مالک نے بتایاکہ ویسے توکیفے صرف خواتین کے لیے ہے تاہم اگر خواہشمند حضرات آنا چاہتے ہیں تو انہیں 18گنا مہنگی کافی پینے کے لیے دستیاب ہوگی۔
image

  امریکی ماہرین نے کچے پیاز کو کیل مہاسوں سے بچائو میں معاون قرار دے دیا۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ماہرین کے مطابق پیاز میں موجود اینٹی آکسی ڈنٹس  تکسید کے عمل کو آہستہ کرنے والے اجزا کیل مہاسوں کے انفیکشن یا چہرے کے دانوں میں موجود مادے کو ختم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ پیاز کے اندر پائے جانے والے قدرتی تیل میں سلفر  گندھک  کے اجزا  بھی موجود ہوتے ہیں جو جسم میں گلوٹا تھائیون مالیکیولز کی پیداوار کو بڑھا دیتے ہیں کیونکہ  جن افراد میں گلوٹا تھائیون نامی مادے کی کمی ہوتی ہے ان میں جلد کی بیماریاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں۔ گلوٹا تھائیون کی کمی سے جلد انتہائی حساس ہو جاتی ہے اور چہرے پر کیل مہاسے بھی زیادہ بنتے ہیں۔ پیاز کے اندر موجود اینٹی آکسی ڈنٹس اس وقت زیادہ اثر کرتے ہیں اگر کچا پیاز کھایا جائے یا پھر اسے بہت ہی کم پکایا جائے،  پیاز کو زیادہ پکانے یا پھر زیادہ تلنے کی صورت میں اس کے فوائد انتہائی کم ہو جاتے ہیں۔ 
image

ماہرین صحت کے مطابق چکوترے کے اجزاء انسانی جسم کے خراب کولیسٹرول کے خلاف جنگ کرکے انسانی ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں، جب کہ یہ اضافی وزن کو بھی کم کرنے میں حیران کن طور پر مددگار ثابت ہوتا ہے۔اگر کہا جائے کہ چکوترا سپر فوڈ ہے تو اس میں کوئی بھی غلط بات نہ ہوگی۔ہیلتھ جرنل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اگر ہر کھانے سے پہلے چکوترے کا جوس پیا جائے یا آدھا چکوترا کھایا جائے تو اس عمل سے نہ صرف ہاضمے کا نظام درست ہوتا ہے، بلکہ حیران کن طور پر وزن بھی کم ہوتا ہے۔یہی نہی اگر چکوترے کے جوس یا فروٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے گا تو اس سے نہ صرف کولیسٹرول کم ہوگا، بلکہ اس سے انسانی جسم میں پیدا ہونے والے کینسر کے جراثیم کا بھی خاتمہ ہوگا۔
image

تحقیق سے معلوم ہوا  ہے کہ بادام کھانے والے افراد میں جسم کے لیے موزوں ایچ ڈی ایل کی مقدار بڑھتی اور اس کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی سائنسداں پینی کرس ایتھرٹن نے اپنی تحقیقات کو جرنل آف نیوٹریشن میں شائع کرایا ہے۔ پینی کرس کہتی ہیں کہ اس سے قبل کئی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بادام کھانا خود ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو بھی کم کرتا ہے جس کی مقدار بڑھ جائے تو دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح بادام کھانے سے اچھا کولیسٹرول بڑھتا ہے اور دل دشمن کولیسٹرول کم ہوتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ بادام ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی کارکردگی اور انجذاب کو بھی بڑھاتا ہے اور دل کی شریانوں سے ایل ڈی ایل کشید کرکے جسم سے باہر نکال دیتا ہے۔ ماہرین نے بادام کھانے والوں کے خون میں ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی مقدار معلوم کی تو تصدیق ہوئی کہ یہ اہم میوہ دل کے لیے بھی بہت مفید ہے۔
image

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جن کے خون کا گروپ او نہیں ہے، انھیں دل کا دورہ پڑنے کا امکان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں تھوڑا زیادہ ہوتا ہے،سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اے، بی اور اے بی گروپ والے لوگوں میں خون جمانے والی ایک پروٹین کی مقدار او گروپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے ،تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے دل کی بیماری کے خطرے سے دوچار لوگوں کے علاج میں مدد ملے گی۔ m عارضہ قلب کی پیشن گوئی،سستے بلڈ ٹیسٹ سے ممکن ،تاہم ایک خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ لوگوں کو بیماری کا خطرہ کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی چھوڑنے اور صحت بخش خوراک کھانے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ یہ تحقیق یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی کانگریس میں پیش کی گئی اور اس میں 13 لاکھ لوگوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے خون کا گروپ او نہیں ہے، انھیں دل کے دورے کا خطرہ 1.5 فیصد ہے۔ جب کہ وہ لوگ جن کے خون کا گروپ او ہے، ان میں یہ شرح 1.4 فیصد ہے، سابقہ تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ سب سے نایاب گروپ یعنی اے بی کو سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور ان کے حامل لوگوں میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 23 فیصد ہوتا ہے،ریسس نیگیٹِو نامی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے عام گروپ اے بی ہے، جو آبادی کا 24 فیصد بنتا ہے، جب کہ او گروپ تقریباً 29 فیصد لوگوں میں ہے۔ دل کی بیماری کے پیچھے کئی عوامل ہوتے ہیں جن میں تمباکو نوشی، موٹاپا، اور غیر صحت مندانہ طرزِ زندگی شامل ہیں،تاہم انسان خون کے گروپ کے مقابلے پر ان عوامل کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
image

 ہالینڈ کی ریٹیل کمپنی جیکبز ڈووے ایگبرٹس جے ڈی ای نے کہا ہے کہ وہ برازیل کی خراب معیشت کے باوجود ابھرتی پرتعیش مارکیٹ میں جگہ بنانے کیلئے اپنی سپر پریمیم برانڈ کافی متعارف کرائے گی۔ کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  برازیل میں خراب معیشت کے باوجود پرتعیش صورتحال ہے۔وہ بھی اپنی سپر پریمیم برانڈ کی کافی جلد یہاں کی مارکیٹ میں متعارف کرائے گی۔یہ کافی برازیل میں 2000سے زیادہ مقامات پر فروخت کیلئے پیش کی جائے گی۔  
image

مانیٹرنگ برطانیہ کے کنگز کالج لندن اور کارڈف یونیورسٹی کی   تحقیق کے دوران مریضوں کے دو گرپوں کے اندر پروٹین دا خل کی گئی ،  جس نے دفاعی نظام میں انسولین کے خلیات کو ہدف بننے سے روکا۔ تجربات کے دوران ایک گروپ کو عام ادویات کا استعمال کرایا گیا تو ان کے انسولین کے خلیات میں کمی دیکھی گئی جبکہ دوسرے گروپ کی صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آئی۔
image

بلڈ پریشر وہ   عمل ہے جس سے خون ہمار ے جسم کی   شریانوں کی دیواروں سے ٹکرا تا ہے  ۔ یٹھے  یالیٹے ہو ئے   ہمارا دل ایک منٹ میں ساٹھ سے ستر  بار دھڑکتا ہے  اور اتنی ہی مرتبہ خون ہماری  شریانوں میں دھکیل اجاتا ہے ۔ جب دل دھڑکتا  ہے اور خون کو شریانوں میں دھکیلتا ہے اس وقت بلڈ پریشر بلند ترین سطح پر ہوتا ہے اسے سسٹولک  پریشر کہتے ہیں۔ دھڑکنوں کے درمیانی وقفہ میں جب دل ساکن ہوتا ہے  تو بلڈ پریشر کی سطح کم ہوجاتی ہے۔ اس کو ڈایا سٹو لک پریشر کہتے ہیں بلڈ پریشر کم ہو یا زیادہ دونوں ہی صورتوں میں نقصان دہ ہوتا ہے لیکن اس کا بڑھ جانا کئی دیگر بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ ا س سے نجات کے لئے اگر چند اقدامات فوری طور پر کرلئے جائیں تو یہ نہ صرف کنٹرول ہو سکتا ہے بلکہ مستقل عمل سے نارمل بھی رہ سکتا ہے   اپنی کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی لاکر بلڈ  پریشر میں اس قدر نمایاں کمی کی جاسکتی ہے جتنی کہ بلڈ پریشر کی ادویات سے کی جاسکتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بہت زیادہ پھل اور سبزیوں کے استعمال ، بغیر  چھنے آٹے کی روٹی اور دلیہ کھانے سے بھی  پائپرٹینشن میں نمایاں کمی آتی ہے ۔ ساتھ ساتھ گوشت ، مرغی اور مچھلی کی مناسب مقدار اپنی خوراک میں شامل رکھنا ضروری ہے ۔ کم چکنائی  وال ادودھ  اور اس سے تیار کردہ مصنوعات بھی مفید ہیں صحت مند زندگی گزارنے کے لئے جسمانی سرگرمی ناگزیر ہے۔ جسمانی سرگرمی سے مراد صرف ورزش ، جاگنگ اور دیگر مشقیں نہیں ہوتی جنھیں  کرنا عموماً لوگوں کے لئے مشکل ہوجاتا ہے بلکہ روزانہ صرف تیس منٹ تیز تیز چلنے ، باغبانی اور کوئی دوسری سرگرمی کے ذریعے سے بھی آپ اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ہدف آپ دن میں تین مرتبہ دس دس منٹ کی چہل قدمی سے یا پھر سیڑھیاں چڑھنے سے بھی حاصل کر سکتے ہیں بلاشبہ بہت زیادہ نمک کا استعمال بلڈ پریشر میں اضافہ کر سکتا ہے لیکن نمک کا انتہائی پرہیز بھی درست نہیں کیونکی اس سے بلڈ پریشر میں بہت زیادہ کمی واقع ہوسکتی ہے۔ نمک کے استعمال کے سلسلے میں میانہ روی اختیار کرنی چاہئے۔ ا س بات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ تیار شدہ اور ڈبہ بند  غذا¶ں میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اسی لئے گھر میں تیار کردہ تازہ کھانا صحت کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ سوڈیم کی مقدار کو دیگر معدنی  الیکٹرولائٹس ،کیلشیم ، میگنیشیم  اور خصوصاً پوٹاشیم کے اضافی استعمال کے ذریعے متوازن کیا جاسکتا ہے۔ ٓڈپریشن ، کسی بھی قسم کا تنا¶ اور غصہ دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اضافہ کرتا ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ یہ اضافہ مستقل ہوجاتا ہے۔  
image

 جرمن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ  برتن صاف کرنے والے  اسفنج میں موجود جراثیم کئی بیماریوں کا سبب بنتے  ہیں۔ فرٹ وینجن یونیورسٹی کے  ماہرین کی  جانب سے کی گئی تحقیق کے دوران  مختلف مقامات سے استعمال شدہ کچن اسفنج برتن دھونے والے اسفنج کے 14 نمونے حاصل کیے اور ان کا جینیاتی تجزیہ کیا جس کا مقصد اسفنج کے نمونوں میں موجود جرثوموں کی اقسام کا تعین کرنا تھا۔تحقیق کے نگراں ڈاکٹر مارکس ایجرٹ کہتے ہیں کہ اگرچہ انہیں امید تھی کہ برتن دھونے والے اسفنج میں جراثیم موجود ہوں گے لیکن اتنی زیادہ اقسام کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی خود ان کے لیے حیران کن ہے۔تشویش ناک بات یہ سامنے آئی کہ برتن دھونے والے صاف ستھرے اسفنجوں میں بھی یہ جراثیم اسی طرح موجود تھے جیسے گندے اسفنجوں میں دیکھے گئے  ۔ ماہرین کا کہنا ہے کلہ یہی جواثیم کھانے والے برتنوں کے باعث خوراک میں شامل ہو کر  متعدد بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔  تحقیق کے مصنفین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ برتن دھونے والے اسفنج کی صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ہر ہفتے یہ اسفنج تبدیل کرلیا کریں تو اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی بہتر صحت کی ضمانت دے سکیں گی۔
image

کھیرے کا استعمال اگرچہ بہت افدیت رکھتا ہے مگر اسی کھیرے کو اگر ضرورت سے زیادہ کھایا جائے تو وہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔امریکہ میں  ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کھیروں کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان تینوں میں ایک پروٹین لیسٹینز پایا جاتا ہے جس کا تعلق الزائمر اور ڈیمینیشا جیسے دماغی امراض سے دریافت کیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ پروٹین معدے کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے جبکہ یاداشت کی ممکنہ محرومی کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔
image

 ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہاحساس تنہائی بھی ایک جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتی ہے۔ احساسِ تنہائی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ اب یہ کیفیت ایک نئی اور جان لیوا بیماری کا روپ دھارتی جا رہی ہے جب کہ اس سے وابستہ خطرات موٹاپے سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔احساسِ تنہائی کے جسمانی صحت  پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس سے متعلق ماہرین نے ایک تجزیہ کیا جن میں سے 148 امریکا میں کیے گئے تھے جبکہ ان میں 3 لاکھ سے زائد افراد شریک تھے۔ ان کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ معاشرے میں زیادہ میل جول رکھنے والے ہوتے ہیں اور دوسری کی خوشی غمی میں شریک رہتے ہیں ان میں ناگہانی اموات کا خطرہ تنہائی پسند یا احساسِ تنہائی میں مبتلا افراد کی نسبت 50 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
image

عورتوں کا دماغ مردوں سے زیادہ تیز ہوتا ہے، تحقیق   عورتوں کا دماغ مردوں سے زیادہ تیز ہوتا ہے، تحقیق شیئرٹویٹ ویب ڈیسک  بدھ 9 اگست 2017 شیئرٹویٹتبصرے مزید شیئر       کیلیفورنیا میں ایک تحقیق میں ثابت ہوا ہے  کہ خواتین کے دماغوں میں خون کا بہاؤ مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے اور انہیں مردوں کی نسبت دماغی امراض کا بھی خاصا کم سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس مطالعے میں 119 صحت مند جبکہ 26,683 ایسے خواتین و حضرات شریک تھے جنہیں کوئی نہ کوئی دماغی بیماری لاحق تھی۔ مطالعے کے دوران جدید تکنیکوں کی مدد سے مجموعی طور پر دماغ کے 128 مقامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران بنیادی نوعیت کی آزمائشوں (بیس لائن اسٹڈیز) میں خواتین کے دماغوں میں 65 مقامات پر سرگرمی میں اضافہ مشاہدے میں آیا جبکہ مردانہ دماغوں میں صرف 9 مقامات پر اضافی سرگرمی نوٹ کی گئی۔اسی طرح جب ان لوگوں کو توجہ مرکوز رکھنے کی آزمائش سے گزارا گیا تو خواتین کے دماغوں میں 48 مقامات پر زیادہ سرگرمی کا مشاہدہ ہوا جبکہ مردوں میں یہ تعداد صرف 22 تھی۔واضح رہے کہ مردوں میں ساری عمر لاحق رہنے والے ڈپریشن کی شرح خواتین کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتی ہے جبکہ ’’آٹزم‘‘ کہلانے والی نفسیاتی بیماری کی شرح بھی لڑکوں میں لڑکیوں کی نسبت 4.5 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اب پہلی بار اس کی بنیادی وجہ بھی سامنے آگئی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ دماغ کے زیادہ تر حصوں میں بہتر دورانِ خون کی وجہ سے عورتوں کی دماغی صحت بھی مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر رہتی ہے۔
image

 ماہرین کا کہنا ہے کہ روز ایک سیب کھانے سےجسم صحت اور تندرست رہتا ہے۔سیب ایک ہی وقت، تحلیل ہونے والے اور حل نہ ہونے والے فائبر حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ تحلیل ہونے والے فائبر خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، جو دل کی بیماریوں کی روک تھام کا سبب بنتا ہے۔ایک پرانی، لیکن مشہور کہاوت ہے کہ ’ایک سیب روزانہ کھانے سے آپ ڈاکٹر سے دور رہ سکتے ہیں‘۔ ۔سیب کم کیلوری والا ایک مزیدار اور صحت بخش پھل ہے، جسے خوش خوراک حضرات ترجیحی طور پر استعمال کرتے ہیں۔عام طور پر، سیب سرخ، سبز اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں؛ جو قدرتی طور پر چربی، نمکیات کے اجزا اور کولیسٹرول کی آمیزش سے مبرا ہوتے ہیں۔
image

دوائوں کی بجائے قدرتی غذائیں کا استعمال مفید اعصابی تنأ، تھکاوٹ اور بے خوابی دور ہو کر مکمل سکون حاصل ہو جاتا ہے۔اور کسی وٹامن کی ضرورت نہیں رہتی ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ روگ بن کر رہ گئی ہے ،اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم جسمانی ورزشیں نہ کرنے والوں اور سہل پسندانہ معمولات کے مطابق زندگی گزارنے والوں کو یہ شکایت عام رہتی ہے اور وہ وٹامنز کی گولیاں کھا کر چستی اور توانائی حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں حالانکہ ضعف دماغ اور ذہنی سکون کے لئے ہماری طب میں نہایت مجرب نسخے موجود ہیں جو دوا کے ساتھ غذا کی کمی بھی پوری کرتے اور سب سے بہترین وٹامن ہوتے ہیں ۔ اس غرض کے لئے مغز بادام پانچ عدد، مغز تخم کدو شیریں، تخم خشخاش، تل سفید ہر ایک تین گرام پانی یا دودھ کی مدد سے تمام اشیائ کو باریک پیس لیں یا بلینڈ کر لیں اور حسب ضرورت پانی یا دودھ کا اضافہ کر کے چھان لیں اور کسی شربت یا چینی سے میٹھا کر کے یا بلا میٹھا کئے صبح خالی پیٹ استعمال کریں۔ اس نسخہ کے مستقل استعمال سے دماغ و نظر کو طاقت حاصل ہوتی ہے۔ اعصابی تنأ، تھکاوٹ اور بے خوابی دور ہو کر مکمل سکون حاصل ہو جاتا ہے۔اور کسی وٹامن کی ضرورت نہیں رہتی ۔بڑوں کو یہ نسخہ اپنے بچوں کو لازمی استعمال کراتے رہنا چاہئے تاکہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط اعصاب کے مالک بن سکیں ۔پرانی مائیں خاص طور پر اپنے بچوں کو یہ نسخہ استعمال کراتی تھیں لہذا آج کی ماں کو اپنے بچوں کی صحت پیاری ہے تو یہ قدرتی ٹانک انہیں بھی استعمال کراتی رہیں۔تاکہ ان کے بچوں کو بڑے ہونے کے بعد جسمانی اور دماغی زوال نہ آسکے۔
image

 سعودی عرب کی خاتون ڈاکٹر نے کھجوروں سے کینسر کا علاج دریافت کر لیا ۔ مدینہ منورہ کی طیبہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنس کی استاد ڈاکٹر نجلا سعد الرداوی نے کھجوروں سے کینسر کا علاج دریافت کیا ہے ۔ ڈاکٹر نجلائ کو کنگ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے پروانہ ایجاد دیا گیا ہے تاہم ڈاکٹر نجلائ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کھجورون کے ذریعے کینسر کا جو علاج تیار کیا ہے وہ فطری علاج ہے اور اس کے منفی اثرات نہیں بلکہ یہ نہایت موثر سستا اور محفوظ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسے  ماحول دوست علاج کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بہت مفید اور سستا ہے اور اس سے کینسر کے مرض میں مبتلا لوگوں کو بہت فائدہ حاصل ہو گا ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر نجلائ اس سے پہلے 2016 میں بھی اپنی ایک اور ایجاد پر کنگ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی سے پروانہ ایجاد حاصل کر چکی ہیں اور ان کے مضامین سائنسی مجلات میں بھی شائع ہوتے رہتے ہیں ۔
image

  یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ زیادہ میٹھا کھانے کے عادی ہوتے ہیں وہ اوسط اور کم مقدار میں میٹھا کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ اداس رہتے ہیں۔ ماضی میں بھی اس حوالے سے مختلف تحقیقات کی جاچکی ہیں جن میں شکر کے زائد استعمال اور دماغ پر منفی اثرات کے مابین تعلق سامنے آچکا ہے۔یو سی ایل میں پی ایچ ڈی کی طالبہ انیقہ نیوپیل اور دیگر ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ایسے صحت مند مرد جو لمبے عرصے تک روزانہ 67 گرام یا اس سے زیادہ مقدار میں شکر استعمال کرتے ہیں انہیں روزانہ 40 گرام یا اس سے کم شکر کھانے والے مردوں کے مقابلے میں مزاج سے متعلق مسائل کا خطرہ 23 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ ان مسائل میں ڈپریشن اور بے چینی سرِفہرست ہیں، مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ زیادہ شکر اور مزاجی مسائل میں تعلق ہر طبقے کے مردوں یکساں ہوتا ہے یعنی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زیادہ شکر استعمال کرنے والا کوئی مرد امیر ہے یا غریب، اور زیادہ تعلیم یافتہ ہے یا کم پڑھا لکھا۔علاوہ ازیں یہ بھی پتا چلا ہے کہ چاہے خالص حالت میں زیادہ شکر کھائی جائے یا پھر میٹھے کھانوں میں شامل کرکے، دونوں صورتوں میں زیادہ شکر کھانے کے موڈ پر منفی اثرات یکساں ہی رہتے ہیں۔اس دریافت کے باوجود ابھی یہ معلوم ہونا باقی ہے کہ شکر کا زیادہ استعمال کس طرح سے دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے جبکہ خواتین پر ایسے ہی ایک اور بھرپور تحقیقی مطالعے کی ضرورت ہے۔  
image

سائنس دانوں نے نئے اعضا اگانے والی پیوند بنا لی، اس اہم ٹیکنالوجی کو ٹشو نینوٹرانسفیکشن (ٹی این ٹی) کا نام دیا گیا ہے۔ اسے جلد کے متاثرہ مقام پر چند سیکنڈ تک لگا کر ہٹا لیا جاتا ہے جو جلد کے خلیات میں جینیاتی کوڈ داخل کرتا ہے جس سے خون کی رگیں درست ہو جاتی ہیں اور تجربات کے مطابق صرف چند روز میں ہی زخم مندمل ہو جاتا ہے۔اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ویکسنر میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں نے اسے چوہے پر آزمایا ہے جسے پہلے فالج سے بیمار کیا گیا اور وہ پیروں سے معذور ہو گیا تھا۔ جب چِپ کو اس پر رکھا گیا تو صرف تین ہفتے میں چوہا چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔اوہایو یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر چندن سین کہتے ہیں کہ ’ہم نے پیوند کو ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفے کے لیے متاثرہ حصے پر لگا کر ہٹایا اور خلیات کی پروگرامنگ شروع ہو گئی۔ ماہرین نے کئی طرح سے اس ایجاد کو آزمایا ہے مثلاً چوہے کے زخموں پر لگانے بعد خون کا بہاؤ رک گیا۔چندن سین کے مطابق چپ عام جلدی خلیات کو اس طرح ری پروگرام کرتی ہے کہ وہ ویسکیولر خلیات بن جاتے ہیں۔ چپ لگاتے ہی چوہے میں خون کی رگیں بننے لگیں اور تیسرے ہفتے میں ان جانوروں کے پیر بالکل ٹھیک ہو گئے۔ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے دوسرے ماہر جیمز لی نے بتایا کہ یہ عمل جین تھراپی جیسا ہے مگر اس کے فوری نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس سے ڈی این اے قدرے مختلف انداز میں خلیات کے اندر داخل کئے جاتے ہیں۔
image

چہرے کی خوبصورتی  میں دانت بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دانتوں کی حفاظت بھی بہت ضروری ہے ۔بعض اوقات دانتوں میں ٹھنڈا اور گرم لگنا شروع ہو جاتا ہے۔اس کے لیے ماہرین نے سبز چائے سے علاج متعارف کرایا ہے۔دانتوں کی حفاظتی پرت انیمل دھیرے دھیرے ختم ہو جاتی ہے اور دانت کی اگلی پرت ڈینٹائن نمایاں ہو جاتی ہے اور اس پر ٹھنڈی اور گرم اشیا بہت تکلیف دیتی ہیں۔ ڈینٹائن میں دانتوں کی حساس رگیں ہوتی ہیں جو سرد اور گرم اشیا کا احساس دلاتی ہیں۔اب ڈووہان یونیورسٹی چین کے ڈاکٹر چوئی ہوانگ نے گرین ٹی کے پولی فینولز نکال کر اس میں ایک نینو ہائیڈروکسی ایپیٹائٹ شامل کرکے ایک بایومٹیریل (حیاتی مادہ) بنایا ہے۔ واضح رہے کہ سبز چائے میں جو پولی فینول پایا جاتا ہے اس کا پورا نام ایپی گیلوکٹیچن تھری گیلاٹ (ای سی جی سی) ہے اور اس میں میسو پورس سلیکا نینوپارٹیکلز شامل کیے گئے ہیں۔ اب اگر یہ مٹیریل دانتوں پر لگایا جائے تو ڈینٹائن کو نہ صرف بند کرتا ہے بلکہ انیمل کو تباہ کرنے والے بیکٹیریا کے حملے کو بھی روکتا ہے۔اگر آپ ایک مرتبہ یہ مٹیریل دانتوں پر لگائیں تو 96 گھنٹوں تک یہ خاص کیمیکل خارج کرکے ڈینٹائن کی حساسیت روکتا ہے۔ توقع ہے کہ اگر یہ دریافت مصنوعہ کی صورت میں بازار میں آ گئی تو اس کی کامیابی کے بہت روشن امکانات ہیں۔
image

صبح اٹھتے ہی خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو تا ہے اور انسانی جسم میں کئی خطرناک بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ خالی پیٹ لہسن کھانے سے پیٹ میں موجود بیکٹیریا پیٹ خالی ہونے کہ وجہ سے بہت کمزور ہو جاتا ہے اور یہ لہسن کی طاقت کے خلاف لڑ نہیں پاتاجس سے آپ صحت مند اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اور سردیوں میں اس کے استعمال سے انسان کھانسی، نزلہ ،سردی اور زکام سے محفوظ رہتا ہے۔یہ خون کو پتلا کرتا ہے جس سے آپ کا نظام دوران خون تیز رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بلند فشار خون سے بھی نجات ملتی ہے۔اگر خون کی شریانیں بند ہونے لگیں تو روزانہ خالی پیٹ لہسن کا استعمال کریں ، بہت جلد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کی طبیعت بحال ہو رہی ہے۔اگر اعصابی کمزوری کا مسئلہ ہو تب بھی لہسن انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔اگر آپ کو جلدی بیماری کا مسئلہ درپیش ہو تو کھانے میں لہسن کی مقدار بڑھادیں۔ اس سے آپ کے جسم میں زہریلے مادے کم ہوں گے اور جلد تر وتازہ رہے گی۔
image

  مچھلی کے چارے کے طور پر عام استعمال ہونے والا ایک کیچوا  لگ ورم  اب طب کی دنیا میں انقلاب لا کر ہزاروں لاکھوں افراد کی جان بچا سکتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ طب میں اس کا استعمال خون کی متبادل فراہمی میں مدد فراہم کرے گا۔ اسی طرح پیوند کاری اور سرجری کے بعد بھی یہ معمولی کیڑا انسانی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جسے طبی معجزہ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کے خون میں آکسیجن کی بہت بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ فرانس میں برٹنی ساحل پر موجود ایکوا اسٹریم نامی ایک کمپنی اور فارم سے وابستہ ماہر گریگری ریمنڈ نے انکشاف کیا ہے کہ لگ ورم  کے خون میں جادوئی ہیموگلوبن ہوتا ہے جو انسان کے مقابلے میں 40 گنا زائد آکسیجن جسم کے خلیات تک پہنچاتا ہے۔ گریگری کی ٹیم دن رات محنت کرکے لگ اپنی لیبارٹری میں ہر سال 13 لاکھ کیچوے تیار کر کے احتیاط سے ان کا ہیموگلوبن جمع کر رہے ہیں جو کسی خزانے سے کم نہیں۔ 2003 میں یورپ میں میڈ کا¶ مرض اور ایچ آئی وی میں اضافے کے بعد خون کی مانگ میں اضافہ ہوا تھا۔ جانوروں کے ہیموگلوبِن انسانوں میں الرجی اور گردوں میں بیماری پیدا کرسکتے ہیں لیکن کیچوے کا ہیموگلوبن اس کے خون میں گھل جاتا ہے ناکہ انسانوں کی طرح سرخ خلیات میں جمع ہوتا ہے اس لیے انسانوں کے لیے یہ کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرے گا اور ہر طرح کے بلڈ گروپ کے لیے اس کا ہیموگلوبن کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ 2006 میں سائنسدانوں کی ایک اور ٹیم نے مقامی  لگ ورم کیچوے کا خالص ہیموگلوبن نکالا اور انہیں چوہوں پر آزمایا گیا تو وہ تندرست رہے اور کسی قسم کا کوئی امنیاتی ردعمل ظاہر نہیں کیا، اگر اس کیڑے کا ہیموگلوبن انسانوں کے لیے موافق ثابت ہو جاتا ہے تو اسے سیپٹک شاک کے مرض کا علاج ممکن ہو گا جس میں اچانک بلڈ پریشر بڑھنے سے جسمانی اعضا ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب اس ننھے کیڑے کے ذریعے پیوند کاری کے لیے اعضا کی حفاظت میں بھی مدد مل سکے گی۔ اس کے خون کی طبی آزمائشیں 2015 میں شروع ہوئیں اور کیڑے کا ہیموگلوبن 10 انسانی گردوں میں شامل کیا گیا تو بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے، اب پورے فرانس میں مزید 60 افراد پر اس کے مختلف ٹیسٹ کئے جائیں گے، دس انچ کیچوا قدرت کا ایک شاہکار ہے جو سمندر کے کنارے مٹی میں دبا رہتا ہے اور اس کے جسم پر بیرونی گلپھڑے ہوتے ہیں۔ پانی میں ڈوبنے پر یہ اپنے اندر آکسیجن کا ذخیرہ کر لیتا ہے اور 8 گھنٹے تک آرام سے زندہ رہتا ہے۔ کیچوے کی افزائش میں سب سے بڑا مرحلہ یہ آیا کہ انہیں لیبارٹری میں کیسے زندہ رکھا جائے کیونکہ یہ حساس جانور اپنے ماحول میں ہی سکون سے رہتا ہے۔ تاہم اب بھی منزل بہت دور ہے اور اس کے ہیموگلوبن کی ہر قسم کی آزمائش سے گزارنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانوں پر اس کا بے خطر استعمال کیا جا سکے۔
image

 نامور  حکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ موسم برسات میں  حفظان صحت کا خیال رکھا جائے تو اس موسم کو باعث رحمت بنایا جا سکتا ہے، اس موسم میں گرمی اور رطوبت کی زیادتی کی وجہ سے مضر اور خطرناک جراثیم کی افزائش میں تیزی آجاتی ہے جس سے موسمی اور متعدی بیماریاں نمودار ہوتی ہیں ، بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے پانی کو دس منٹ سٹیل کے برتن میں ابال کر استعمال کریں، جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں دن میں کم از کم ایک بار صابن سے اچھی طرح ضرور نہائیں اور صاف لباس پہنیں ، گھر میں جراثیم کش ادویات سپرے کریں یا قدیم گھریلو ہربل جراثیم کش  سپرے یعنی حرمل،  گوگل کی دھونی دیں، بازاری کھانوں یا کھلے عام فروخت کی جانے والی کھانے پینے کی اشیا سے پرہیز کریں، سبزیوں اور پھلوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں، نرم اور زود ہضم غذا کھائیں، اس کے علاوہ باسی اشیا سے مکمل پرہیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ  سرکہ، ادرک، لہسن اور لیموں پانی کا استعمال موسم برسات کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ 
image

      اجوائن  کو زیادہ ترخصوصی ڈشوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ البتہ اس کے علاوہ بھی اس جڑی بوٹی کے کئی دوسرے استعمال بھی ہیں جنھیں ہم اکثر فراموش کرد یتے ہیں ۔اجوائن نہ صرف سالن کو ذائقہ دیتی ہے بلکہ ایک بہترین اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی بیکٹیریل بھی ہے ۔ اجوائن سے جسم کو وٹامن کے حاصل ہوتا ہے جو کہ ہڈیوں کی نشونما کے لیے اہم ہے اس کے علاوہ وٹامن کے خون کو جمنے نہیں دیتا ۔اس کے علاوہ اجوائن سے جلد کی انفیکشن سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ اجوائن کے استعمال سے سر درد، نزلہ زکام، گلے کی سوزش اور کھانسی جیسی بیماریاں جلدی ٹھیک ہو جاتی ہیں ۔     
image