خوراک و صحت
ناریل کا باقاعدہ استعمال  گلے کی خرابی سے نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ناریل کا تیل گلے کی تکالیف کو مندمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موسموں کے اثرات یا ٹھنڈی اور کھٹی چیزیں کھا لینے سے گلے میں  تکلیف  درپیش ہو سکتی ہے  جس سے نجات پانے کے لیے ناریل کا تیل دوا کا کام کرتا ہے ۔اسکے ساتھ ساتھ یہ قوت مدافعت میں بھی  اضافہ کرتا ہے  اور میٹا بولزم کو بہتر بناتا ہے۔وزن کم کرنے کے لیے بھی اسکا استعمال مفید ہے ۔ اسکے علاوہ  ناریل کے تیل میں موجود چکنائی انسانی جسم کے لیے بے حد فائدہ مند ہے۔ماہرین غذائیت کہتے ہیں کہ اپنے کھانوں میں باقاعدگی سے ناریل کے تیل کے 3 چمچے ملانے سے اس کے تمام فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ویسے تو چائے پینے کے لئے کسی جواز کی ضرورت نہیں تاہم اگر آپ اسے پسند نہیں کرتے تو جان لیں کہ یہ گرم مشروب آنکھوں کیلئے بھی فائدہ مند ہے، دن بھر میں ایک کپ گرم چائے پینے سے آنکھوں کے سنگین مرض کالے یا سبز موتیا کے شکار ہونے کا خطرہ نمایاں حد کم ہوجاتا ہے کیونکہ یہ امراض  دنیا بھر میں اب تک ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کر چکے ہیں ۔ ایک تحقیق کے دوران دس ہزار افراد کے خون کے نمونوں سمیت دیگر ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ چائے پینے کی عادت موتیے کی ان خطرناک اقسام کا خطرہ کم کر دیتی ہے اور ان میں اس مرض کا امکان اس مشروب سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں 74 فیصد کم ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے یہ فائدہ کافی، آئس ٹی یا سافٹ ڈرنکس کے استعمال سے نہیں ہوتا بلکہ صرف کیفین والی گرم چائے ہی آنکھوں کی صحت کیلئے فائدہ مند ہے۔ یہ ایک تجزیاتی تحقیق ہے تاہم  ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ چائے کی وجہ سے یہ فائدہ کیوں ہوتا ہے ۔  چائے میں اینٹی آکسائیڈنٹس، ورم کش اور دماغی تحفظ کے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو امراض قلب، کینسر اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں اور وہی ممکنہ طور پر آنکھوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ 
image

ماہرین طب نے کہا ہے کہ سفید اور چمک دار دانت ہونے کا مقصد یہ نہیں کہ وہ صحت مند بھی ہیں اور پیلے دانت کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے دانت کمزور ہیں، پیلے دانت صحت مند اور مضبوط دانت بھی ہوسکتے ہیں۔  ہم میں سے اکثر افراد چاہتے ہیں کہ جب وہ مسکرائیں تو ان کے دانت سفید اور چمک دار حالت میں ہوں، دانتوں سے تعلق کی گئی ایک تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگ اپنے دانتوں کے رنگ سے مطمئن نہیں ہوتے، امریکا میں موجود ڈینٹل کلینکس میں آنے والے مریضوں کی ڈاکٹر سے سب سے زیادہ درخواست دانتوں کو سفید اور چمک دار بنانے کی ہوتی ہے اسی طرح برطانوی باشندے بھی پیلے دانتوں کی وجہ سے مسکرانے سے گریز کرتے ہیں جب کہ دانتوں کی ایک منظم قطار جرائد اور رسائل میں چھپنے والی تصاویر اور ٹی وی اسکرین کی مانگ ہوتی ہے۔  ہم سب کے نزدیک یہ بات عام فہم ہے کہ سفید دانت نہ صرف خوبصورت ہوتے ہیں بلکہ وہ مضبوط دانت ہونے کی بھی علامت ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، دراصل ہمارے دانتوں کے سامنے کا رنگ ان کے اندرونی رنگ ہونے کی عکاسی کرتا ہے اس کا تعلق جین سے بھی ہے، خاندان کے اعتبار سے بھی دانتوں کا رنگ پیلا ہوسکتا ہے یا بڑھتی ہوئی عمر بھی دانتوں پر اثر انداز ہونے کا باعث ہے جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے دانتوں کا رنگ اس وجہ سے بھی پیلاہٹ کی جانب مائل ہوسکتا ہے۔ بی بی سی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوشی، کھانے پینے اور دیگر ادویہ کے استعمال کا بھی دانتوں کے سفید رنگ سے گہرا تعلق ہے، تحقیق سے ثابت ہے کہ ٹماٹر سے بنے ساسز، کافی اور کچھ اقسام کے فوڈ کلر کے استعمال سے دانتوں کا رنگ ہرا، سیاہی مائل یا پیلا پڑسکتا ہے، ٹوتھ پیسٹ بنانے والی مختلف کمپنیاں دانتوں کو سفید بنانے سے متعلق لیبارٹری میں مختلف تجربات کرتی ہیں اور یہ تجربات انسانی دانتوں کے بجائے مردہ جانوروں کے دانتوں پر کیے جاتے ہیں جن میں گائے کے دانت کا استعمال زیادہ ہوتا ہے کیوں کہ ان پر تحقیق سے ماہرین کو نتائج اخذ کرنے میں آسانی ہوتی ہے تاہم کچھ تجربات انسانی دانتوں پر بھی کیے جاتے ہیں، ایسے پیسٹ سے دانت سفید تو ہوسکتے ہیں لیکن وہ دانتوں میں چھپے بیکٹیریاز اور انفیکشنز کو کس حد تک ختم کرسکتے ہیں یہ ایک الگ معاملہ ہے۔  نیویارک یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق کے دوران ماہرین نے بلیک ٹی اور دیگر دو مشروبات کو گائے کے دانتوں پر ایک گھنٹے کے لیے ڈال دیا، بلیک ٹی نے دانتوں پر کوئی نشانہ نہیں چھوڑا جب کہ رنگ دار ایک سرخ مشروب نے دانتوں پر داغ ڈال دیا، دانتوں پر پڑنے والے داغوں سے متعلق اور کئی بھی طرح کے تجربے کیے گئےجن سے ماہرین نے دانتوں کا رنگ تبدیل ہونے کا مشاہدہ کیا اور نتائج اخذ کیے۔  تحقیق سے ثابت ہوا کہ مختلف غذائی اشیا دانتوں پر اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں تاہم یہ اس بات کی نشاندہی نہیں کہ دانت کمزور ہیں، ممکن ہے آپ کے دانت موتیوں کی طرح سفید اور چمک دار ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں بیکٹیریا اور انفیکشن موجود نہیں ، بالکل اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ رنگ دار اشیا کے مسلسل استعمال سے آپ کے دانتوں کا رنگ اور چمک ماند پڑجائے تاہم اس میں سوراخ، بیکٹیریاز اور انفیکشن نہ ہوں تو ایسے دانت سفید دانت کی بہ نسبت زیادہ اچھی حالت میں ہیں یعنی اختصار سے کہا جائے تو دانتوں میں صرف سفیدی ہی صحت مندی کی علامت نہیں اور پیلاہٹ کمزور دانت کی نشاندہی نہیں۔
image

 امریکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ فائبر سے بھر پور غذائوں کا باقائدہ استعمال طویل العمری اور صحت مند زندگی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق فائبر دو اقسام کا ہوتا ہے ایک کولیسٹرول کی سطح کم کرنے والا یا آسانی سے ہضم ہونے والا جو کہ دلیہ، مٹر، بیج، سیب، ترش پھل، گاجر وغیرہ میں پایا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم کا فائبر گندم کے آٹے،  آلو اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر لوگوں کو بڑھاپے میں مختلف بیماریوں اور معذوری سے بچانے کے لیے مفید ہے۔ فائبر عمر میں 10 سال کے اضافے ساتھ ساتھ کئی خطرناک امراض فالج ، ہارٹ اٹیک ،گردوں میں پتھری ،کولیسٹرول ، امراض قلب ، ذیابیطس ٹائپ ٹو ، وزن کم کرنے، غذائی نالی کو ہمیشہ صحت مند رکھنے سمیت جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے ۔ ماہرین نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فائبر کی مقدار میں اضافہ بتدریج کرنا چاہیے کیونکہ بہت جلدی میں بہت زیادہ فائبر قبض یا ہیضہ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ 
image

 ماہرین  کا کہنا ہے کہ صحت کے لیے مضر سفید چینی جسمانی زخم بھرنے، ہاتھوں کی صفائی، سوجن ختم کرنے ، بسکٹس کو تازہ رکھنے سمیت  پھولوں کی تازگی اورگھاس کے نشان ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سفید چینی اگرچہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے لیکن اس کے کچھ حیرت انگیز فائدے بھی ہیں ۔ ان میں  سے فائدہ  جسمانی زخموں کا بھرنا ہے ۔ اگر چینی کو زخموں پر  چھڑک دیا جائے تو زخم جلدی بھرنے لگتے ہیں۔  انگلی کو پانی سے بھگو نے کے بعد  چینی میں ڈال کر ہونٹوں پر لگایا جائے تو ہونٹ تروتازہ  اور جلد ملائم ہو جاتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک چمچہ چینی ، ایک چمچہ چاول کا آٹا اور ایک چمچہ دودھ کو ملا کر تیار کردہ  آمیزہ کو تھوڑا تھوڑا کرکے چہرے پر لگائیں، پانچ منٹ تک مالش کرنے کے بعد  سوکھنے کے لیے چھوڑ دیں پھر ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیں تو چہرہ صاف ستھرا اور جلد ملائم ہوجائے گی  اس عمل سے کیل مہاسے بھی ختم ہو جائیں گے۔ چینی کے دانے بسکٹوں میں رکھنے سے بسکٹ کئی دنوں تک تازہ رکھے جاسکتے ہیں جبکہ چینی کو کپڑوں پر لگے داغ یا نشانوں کو دور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چینی کے دانوں کو کپڑے پر لگے گھاس کے نشان پر ڈال دیں اور ایک گھنٹے تک ایسے ہی چھوڑ دیں، پھرحیران کن نتیجہ پائیں اور پھولوں کو تازہ رکھنے کے لئے 3 چمچے چینی اور 2 چمچے سرکے کو پانی میں شامل کر کے آمیزے میں پھولوں کا گلدستہ رکھ دیں تو وہ کئی روز تک تروتازہ رہے گا۔
image

آنکھ پھڑکنے کا سب سے عام سبب کشیدگی، تھکاوٹ ، نیند کی کمی اورکیفین کا زیادہ استعمال ہے۔ اگر آپ آنکھوں کے پھڑکنے سے پریشان ہیں تو آپ کیفین کی مقدار کو کم کریں۔ آنکھ کا پھڑکنا یا مایوکیمیا پپوٹوں کے پٹھوں کا بار بارغیر اختیاری طور پر سکڑنا ہے ۔ عموماً آنکھ کے اوپر والا حصہ زیادہ پھڑکتا ہے لیکن یہ عمل اوپری اور نچلے دونوں حصوں میں ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں میں یہ کھنچاؤ بہت معمولی سا ہوتا ہے اسی لئے پپوٹے پر ہلکا سا کھچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں میں یہ کھچاؤ شدید ہوتا ہے۔  آنکھوں کے پھڑکنے کا عمل چند سیکنڈ یا ایک منٹ ہوتا ہے۔ یہ عمل چند دن تک جاری رہ سکتا ہے لیکن یہ ہفتوں یا مہینوں نہیں ہوتا۔ اس سے نہ تو درد ہوتا ہے اور نہ ہی یہ نقصان دہ ہیں لیکن اس عمل سے آپ پریشان ضرور ہوجاتے ہیں۔ ویسے تو یہ خود ہی ٹھیک ہو جاتاہے لیکن اگر یہ مسلسل ہوتو یہ دائمی مومنٹ ڈس آرڈر کی نشانی ہوسکتی ہے۔ کبھی کبھار آنکھ پھڑکنے کی وجوہات نہیں ہوتی لیکن اس کی زیادتی مختلف مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کی وجہ آنکھوں میں جلن،پپوٹے میں کشیدگی، تھکاوٹ ،نیند کی کمی، جسمانی محنت کی زیادتی، ادویات کے منفی نقصانات اور تمباکو یا کیفین کا زیادہ استعمال ہے۔ اگر آنکھوں کے پھڑکنے کی شکایت مستقل رہے تویہ حالت عام طور سے دونوں آنکھوں کو متاثر کرتی  ہے۔ اس حالت کی صحیح وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی لیکن یہ صورتحال اسے مزید نقصان کا باعث بنا دیتی ہیں۔ اس میں پپوٹے کی سوزش، آنکھوں کا خشک ہونا، آشوب چشم، ماحولیاتی اثرات جیسے ہوا، تیزروشنی ، سورج اور آلودگی وغیرہ، تھکاوٹ اور کشیدگی، روشنی سے حساسیت ،الکحل،تمباکواورکیفین کازیادہ استعمال شامل ہے۔ مردوں کی نسبت عورتوں میں یہ عام ہے۔ اگریہ حالت شدت اختیار کر جائے تو اس کے سبب دھندلا نظرآنا، روشنی کی حساسیت میں اضافہ اور Facial spasmsکے مسائل ہوسکتے ہیں۔ اگر آنکھوں کے پھڑکنے میں اضافہ ہوجائے تو  میڈیکل ٹریٹمنٹ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بصورت دیگر یہ اعصابی نظام میں خرابی کاسبب بن سکتی ہے۔ اگر آنکھ پھڑکنے کے ساتھ ساتھ آپ کو ان علامات کابھی سامناہوتوڈاکٹرسے فوری رابطہ کریں  اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ جب آپ ناکافی نیند لیتے ہیں تو اس مسئلہ سے دوچارہوتے ہیں تو کوشش کریں کہ اپنے نیند کے دورانیہ میں اضافہ کریں۔ اگرکیفین یاسموکنگ کی زیادتی کے سبب ہوتا ہے تو اسے کم کریں۔ اگرآپ کو لگتا ہے کہ جب آپ ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں تو ایسا ہوتا ہے تو اپنے آپ کو اس سے بچانے کی کوشش کریں۔ ڈپریشن ، کیفین  اور غیر صحت بخش طریقوں کو کم اور نیند کو پورا کریں اور مزے سے خوشگوار زندگی گزاریں۔
image

موسم سرما کی شدت میں ہر گزرتے روز کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور گرما گرم غذائوں کا استعمال بھی اس کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے۔ مگر سوپ ہو، کافی، چائے یا یخنی وغیرہ، وہ اپنے ساتھ ایک خطرہ بھی لے کر چلتی ہیں اور وہ ہے زبان یا منہ کا جلنا۔ یقیناً آپ کو بھی اس کا تجربہ تو ہوا ہوگا جب اچانک گرم چیز منہ میں جانے سے زبان جلنے کا احساس ہوتا ہے۔ تاہم اگر ایسا تجربہ ہو تو درج ذیل طریقہ کار اپنانے سے جلن کے احساس کی شدت کم کرکے اس سے نجات کے عمل کو تیز کیا جاسکتا ہے۔ آئسکریم اور دہی جیسی کریم والی چیزیں اس معاملے میں مددگار ثابت ہوتی ہے تاہم انہیں زیادہ مقدار میں کھانے سے گریز کرنا چاہیے، ان کی ٹھنڈک عارضی طور پر تو سکون پہنچاتی ہے مگر زیادہ مقدار سے نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک اور عام سا ٹوٹکا نمک کو مائوتھ واش میں مکس کرکے اس سے کلیاں کرنا ہیں، اس محلول کا سن کردینے والا اثر منہ کو فوری ریلیف پہنچاتا ہے۔ منہ جلنے کا تجربہ ہونے پر چند دن تک غذائی عادات میں تبدیلیاں لائیں، یعنی چند دن تک مصالحے دار غذائوں سے دور رہیں جو جلن کے احساس کو بڑھا کر تکلیف کی شدت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، اسی طرح نمکین غذائوں سے بھی یہی اثر ہوتا ہے جبکہ چپس جیسی کرکری چیزوں کے کونے اس تکلیف کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ گرم چائے یا کھانے نے زبان کو جلا دیا ہے، اگر ایسا تجربہ ہو تو چٹکی بھر چینی کو چوس لیں، اس سے فوری ریلیف میں مدد ملے گی۔ ایلوویرا جلد کی جلن میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جبکہ منہ کی جلن میں بھی فائدہ مند ہوتا ہے، ایسے سیال سے کلیاں کریں جس میں ایلو ویرا ایکسٹری موجود ہو، ویسے ایلوویرا جیل اور جوس کی شکل میں بھی مل جاتا ہے۔ اگر منہ جلنے کے بعد زبان میں سرخی، معمولی سوجن یا ورم، درد ، جلد پھٹنا اور خشکی نظر آئے تو اس صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ طبی امداد سے زخم کو بگڑنے سے روکا جاسکے۔  
image

  حجامہ  میں کینسر، نفسیاتی مرض سمیت دیگر کئی بیماریوں کے علاج ہیں،اس میںعام طور پر مریض کے جسم کے مختلف حصوں پر خراشیں لگا کر مختلف قسم کے ٹرانسپرینٹ کیپ لگا دیئے جاتے ہیں جس کے بعد خراش لگے ہوئے جسم کے حصوں سے خون کی بوندیں نکل نکل کر اس کیپ میں جمع ہوتی ہیں اور پھر ان کو پھینک دیا جاتا ہے۔حجامے کے بعد عام طور پر مریض خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے اور بتدریج صحتیابی کی جانب گامزن ہوجاتا ہے۔  حجامہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چوسنا اور کھینچنا کے ہیں۔حجامہ کو مغربی ممالک میں عام طور پر کپنگ تھراپی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
image

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 40 فیصد لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کی شکایت ہے، ایسے میں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے لیکن ہم آپ کو ایسی اشیا کے متعلق آگاہ کریں گے جو بلڈ کا پریشر متوازن رکھنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں۔ تلسی کے پتے خون کو پتلا کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، بلڈ پریشر کو بڑھنے سے بھی روکتے ہیں اور اگر انہیں کھانے میں استعمال کیا جائے تو یہ انتہائی مفید ہیں،دار چینی، بلڈ پریشراور کولیسٹرول کو بڑھنے سے روکتی ہے، اس کا صرف ایک چٹکی پائوڈر شہد میں ملا کر کھا لیا جائے تو یہ ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور وزن کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ الائچی صحت کے لیے کئی طریقوں سے مفید ہے۔ یہ ہائی بلڈ پریشر میں بھی بے انتہا فائدہ مند ہے،اس کے لگاتار استعمال سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں بھی یہ کلیدی کردار ادا کرتی ہے،ادرک کا استعمال گاڑھے خون کو پتلا کرتا ہے، ساتھ ہی اس کی مدد سے شریانوں میں خون آسانی سے دوڑتا ہے۔ ادرک انسانی صحت کے لیے کئی حوالوں سے مفید ہے، یعنی ناخنوں کی چمک اور نظام ہضم کو درست رکھنے میں بھی نہایت مفید ہے۔ السی کے بیج میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو ہائی بلڈ پریشر ہونے سے روکتا ہے۔
image

آپ اس وقت کیسے پرسکون رہ سکتے ہیں اور چل پھر سکتے ہیں جب کوئی ناخن گوشت میں گھس جائے؟ ایسا ہونے پر معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوتے ہیں جبکہ پیر میں انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اور یہ ایسا عام مسئلہ ہے جس کا سامنا ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو ہوتا ہے بلکہ برسوں تک ہوتا ہے حالانکہ اس سے نجات پانا اتنا زیادہ مشکل بھی نہیں۔ پائوں کے ناخن کا گوشت میں گڑ جانا ایک انتہائی تکلیف دہ مگر پیروں کا بہت عام مسئلہ ہے جو ناخن کے ایک یا دونوں جانب ہوسکتا ہے۔ تنگ جوتے، چوٹ، جینز اور غلط انداز سے ناخن کاٹنا اس کی وجہ بنتے ہیں اور ایسا ہونے پر درد، سوجن، سرخی یا انفیکشن کا سامنا بھی ہوتا ہے۔ تاہم اگر اس کا سامنا ہو تو یہ گھریلو ٹوٹکے آرام پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اپنے پیر کو اپسم نمک ملے پانی میں 15 سے 20 منٹ کے لیے روزانہ 2 مرتبہ ڈبو دیں، اگر ناخن میں انفیکشن نہیں ہوا ہوگا تو وہ باہر اگنے لگے گا اور پھر اسے اوپر سے مناسب طریقے سے کاٹ لیں۔  اس حوالے سے مقبول ٹوٹکا ہے جس میں روئی کا ایک ٹکڑا ناخن کے اندر اس جگہ رکھ دیتے ہیں جہاں وہ جلد میں گھستا ہے، اس کے بعد ناخن باہر کی جانب اگنے لگتا ہے اور آپ کو اسے ٹھیک طرح سے کترنے کا موقع مل جاتا ہے، انفیکشن سے بچنے کے لیے روئی کے ٹکڑے کو سیب کے سرکے میں ڈبو کر رکھیں اور روزانہ اسے بدل دیں۔ جلد میں گھسنے والے ناخن کی سمت کو بدلنے کے لیے دانت صاف کرنے والے نرم دھاگے کا ایک ٹکڑا اس کے کونے میں رکھیں، دھاگے کے باہر نکلنے والے حصے کو کاٹ کر اسے وہاں چھوڑ دیں، اس طریقہ کار سے ناخن کو متاثرہ حصے سے الگ کرکے درد میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ وکس کی تھوڑی سی مقدار متاثرہ ناخن پر مل لیں اور پھر پٹی سے ڈھانپ دیں، وکس میں موجود آئلز جراثیم کش خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں جبکہ اس کا چکنا پن ناخن کو نرم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے اس کے رخ کو موڑنا آسان ہوجاتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ ہلدی لے کر کچھ مقدار میں پانی میں ملا کر پیسٹ بنالیں اور اسے متاثرہ حصے میں لگا کر کچھ گھنٹوں کے لیے چھوڑ دیں اور پھر صاف کریں، یا پٹی سے ڈھانپ کر اس پیسٹ کو خشک ہونے دیں، ضرورت پڑنے پر یہ عمل دوبارہ دہرائیں ۔ ورم کش اور درد میں کمی لانے والی خصوصیات کی وجہ سے ہلدی اس تکلیف سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔  
image

کنگز کالج لندن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مصنوعی بتیسی کے استعمال کی وجہ سے ٹھوس غذا کا استعمال نہ کرنا جوڑوں اور ہڈیوں کی کمزوری کی   ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس وجہ سے اہم غذائی عناصر جسم کا حصہ نہیں بن پاتے۔  اگرچہ مصنوعی بتیسی چبانے کے عمل کو بہتر کر دیتی ہے مگر اس کے چبانے کی طاقت قدرتی دانتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ کم ہوتی ہے۔ بیس سے کم قدرتی دانتوں والے افراد، چاہے مصنوعی بتیسی استعمال کریں یا نہ کریں، وہ صحت بخش اجزا کا استعمال کم کرتے ہیں، جس کی وجہ مخصوص غذا کو صحیح طرح چبانے میں ناکامی ہوتی ہے۔  نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ادھیڑ عمر یا معمر افراد کو نہ صرف اپنے چبانے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ کھانے کو موثر طریقے سے بھی چبانا چاہیے، تاکہ مسلز کے حجم کے لیے ضروری اجزا جسم کا حصہ بن سکیں اور جوڑوں کے امراض کا خطرہ کم ہوسکے۔  منہ کی صحت اور ہڈیوں کی کمزوری کے درمیان تعلق پر پہلے زیادہ کام نہیں کیا گیا۔ مصنوعی دانتوں کا استعمال مسلز اور ہڈیوں کی کمزوری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران پچاس سال یا اس سے زائد عمر کے 18 سو افراد کی صحت کا جائزہ لیا گیا جو مصنوعی دانتوں کا استعمال کرتے تھے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے Geriatrics & Gerontology International میں شائع ہوئے۔
image

پیٹرولیم جیلی جلد کو نرم و ملائم رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔بالخصوص میک اپ صاف کرنے کے لیے بھی اسے بہترین مانا جاتا ہے لیکن اسکا زیادہ استعمال جلد کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ۔پیٹرولیم جیلی جلد  میں جذب نہیں ہوتی، جب خشک اور روکھی جلد پر پیٹرولیم جیلی لگائی جاتی ہے تو یہ جلد میں جذب ہو کر مطلوبہ نمی فراہم کرنے کی بجائے جلد پر صرف چکنائی کی ایک تہہ پھیلا دیتی ہے اس طرح یہ بیرونی سطح سے جلد کو آکسیجن اور نمی کی فراہمی روک دیتی ہے  اور اس طرح جلد کا حال پہلے سے زیادہ خراب ہو جاتا ہے ، پیٹرولیم جیلی کا استعمال ترک نہیںکرنی چاہئے بلکہ  صرف انتہائی ضرورت میں استعمال کریں جب جلد پر خشکی اور سرخی بڑھتی ہوئی محسوس ہو ۔
image

امریکہ میں کی جانیوالی نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ دل کو ہمیشہ صحت مند رکھنے کے لیے شکر قندی کا استعمال کیاجائے،۔بوسٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق شکرقندی کا استعمال صرف منہ کا ذائقہ ہی دوبالا نہیں کرتا بلکہ دل کی صحت کے لیے بھی بہتر ہے۔شکرقندی میں وٹامن سی اور بی سکس کے ساتھ ساتھ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند فائبر اور مینگنیز جیسے اجزا موجود ہوتے ہیں۔ایک درمیانے سائز کی شکر قندی جسم کے لیے روزانہ درکار وٹامن اے کی مقدار بھی فراہم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔وٹامن اے وہ جز ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ مختلف اعضامیں آنے والی تنزلی کی روک تھام کرنے کے ساتھ ساتھ بینائی کو بہتر رکھتا ہے۔یہ وٹامن کسی زخم کی صورت میں اسے جلد بھرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ وٹامن اے جلد کی ساخت کو ٹھیک رکھنے میں مدد دیتا ہے ورنہ دوسری صورت میں بیکٹریا اور وائرس زیادہ آسانی سے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شکر قندی میں موجود پوٹاشیم جسم میں سوڈیم کے اثرات کو کم کرتا ہے جس سے ہائی بلڈ پریشر سے نجات پائی جاسکتی ہے جو کہ ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
image

گوشت کھانا کس کو پسند نہیں، پاکستان میں تو یقیناً بیشتر افراد اپنی غذا میں اس کو لازمی شامل کرتے ہیں۔ مگر اس وقت کیا ہو جب آپ گوشت کھانا چھوڑ دیں؟ ایسا کرنے پر آپ کی غذا یقیناً سبزیاں یا دالوں تک محدود ہوجائیں گی مگر گوشت سے دوری جسم پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟ طبی ماہرین کے مطابق سبزی کھانے کے عادی افراد کو غذا کے بعد پیٹ بھرنے کا زیادہ احساس ہوتا ہے کیونکہ وہ غذائیت سے بھرپور فوڈ کو استعمال کرتے ہیں جن میں فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز اور منرلز شامل ہوتے ہیں۔ گوشت کھانے والوں کے مقابلے میں سبزی پسند کرنے والوں کا جسمانی وزن اوسطاً دو کلو گرام تک کم ہوتا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کو کھانے والی خواتین میں موٹاپے کا امکان 28 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ زیادہ فائبر والی نباتاتی غذا انتڑیوں کی صفائی کرتی ہیں، اس طرح کے فائبر میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو جسم میں موجود کچر ے کے اخراج میں مدد دینے کے ساتھ انتڑیوں کی سرگرمیوں کو آسان کرتا ہے، یعنی قبض نہیں ہونے دیتا۔ چونکہ سبزیوں میں کیلوریز کی مقدار کم ہوتی ہے، لہذا ان کے کھانے کے بعد ہوسکتا ہے ذہن کو تو لگے کہ پیٹ بھر چکا ہے مگر کچھ دیر بعد جسم کو ضروری غذائیت کی کمی کا احساس ہونے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں بھوک لگنے لگتی ہے، طبی ماہرین کا مشورہ یہی ہے کہ غذا میں مختلف چیزوں کا امتزاج ہونا چاہیے۔ جب بیجوں، گوبھی اور دیگر سبزیوں کا استعمال بڑھ جائے تو آپ کو پیٹ پھولنے یا گیس پیدا ہونے کا احساس ہوسکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ کچی سبزیوں کو کھا رہے ہوں کیونکہ نظام ہاضمہ کے لیے ان کے ٹکڑے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جب آپ کی غذا صحت مند چربی، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہو تو توانائی کی سطح بھی بڑھتی ہے، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سبزی کھانے والے افراد میں جسمانی توانائی کی سطح زیادہ ہوسکتی ہے، جبکہ ان میں بلڈ شوگر نہ بڑھنے کا امکان بھی ہوتا ہے۔ اگر تو آپ پراسیس چینی، فیٹ،سوڈیم اور کیلوریز پر مشتمل سبزیوں کو استعمال کرتے ہیں تو جسمانی وزن بڑھنے کا امکان ہوتا ہے، کیونکہ وہ پراسیس فوڈ پر مشتمل ہونے کے باعث جسم کو موٹاپے کی جانب مائل کرتے ہیں۔ سبزی کھانے والوں کے اندر کینسر، ذیابیطس اور امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے جس کی وجہ پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والا جز phytonurtients ہوتا ہے، جو صحت کے لیے فائدہ مند ہے، کم کیلوریز والی غذا جس میں صحت مند غذائی اجزا شامل ہوں، توانائی اور نظام ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں اور جسم کو وہ دیتے ہیں جو صحت مند ہونے کے لیے ضروری ہے۔ سبزیاں اور پھلوں تک محدود ہونے سے جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی ہونے لگتی ہے کیونکہ قدرتی طور پر جسم میں یہ وٹامن نہیں بنتا، اس کے لیے گوشت وغیرہ پر انحصار کرنا ہوتا ہے۔ وٹامن بی 12 کی کمی ذہنی تھکاوٹ اور خون کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ طبی رپورٹس کے مطابق سبزی کھانے کے نتیجے میں نہ صرف وٹامن بی 12 بلکہ زنک، آئرن اور وٹامن ڈی کی بھی کمی ہوسکتی ہے، اگر جسم کو ضروری غذائی اجزا نہ ملیں تو اس سے اہلیت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، آئرن اور زنک کی کمی جسمانی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس حوالے سے کوئی واضح شواہد تو موجود نہیں مگر ایک طبی تحقیق کے مطابق سبزی کے شوقین افراد میں ہڈیوں کی کمزوری کا امکان کم ہوتا ہے جس کی وجہ پھلوں اور سبزیوں میں کم تیزابیت کا ہونا ہے، جو ہڈیوں کی کثافت کو گھٹاتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
image

 ماہرین نے پھوڑوں کے علاج کیلئے انسانی جسم کی چکنائی سے دوا تیار کر لی ۔ برطانیہ میں ہر سال  پھوڑوں اور انکے خراب ہونے سے 40ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ اس تجرباتی دوا میں انسانی جسم کی چکنائی کے خلیات میں پایا جانے والا مواد استعمال کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں اس سلسلے میں چوہوں پر تجربات کئے گئے، جس کے نتیجے میں یہ چوہے ہارمون انجکیٹ کرنے کے بعد زندہ رہے۔برطانوی ماہرین کے مطابق اس دوائی سے ایسے مریضوں کا کامیاب علاج ممکن ہوگا جو پھوڑوں کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہیں۔ برطانیہ میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد اس مرض میں مبتلاہوتے ہیں اور اگر ڈاکٹر صحیح دوا تجویز کردیں تو ان میں سے ہزاروں افراد کو بچانا ممکن ہوجائے گا ۔ 
image

 لڑکیاں اور خواتین جب کسی تقریب سے واپس آتی ہیں تو شاید سب سے مشکل کام انہیں اپنے چہرے سے میک اپ صاف کرنا لگتا ہے اور وہ سُستی کے باعث میک اپ صاف کیے بنا ہی سو جاتی ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ میک اپ صاف کیے بنا سونا ان کے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ آنکھوں کا میک اپ نکھار میں اہمیت کا حامل ہوتا ہے، تاہم کسی بھی تقریب سے واپسی پر جب آنکھوں پر لگا مسکارا یا دیگر میک اپ نہ ہٹایا جائے تو آنکھیں پہلے لال ہوسکتی ہیں بلکہ خطرناک انفیکشن کا بھی خطرہ ہوتا ہے جو صحیح ہونے میں بہت وقت لیتا ہے۔ رات سونے سے قبل میک اپ نہ ہٹانے سے آپ کا چہرہ کیل مہاسوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ رات بھر میک اپ چہرے پر رہنے سے چہرے کے مسام متاثر ہوں گے جس کے بعد ایسے کیل مہاسے نکل آئیں گے جو بہت مشکل سے جائیں گے۔ میک اپ نہ ہٹانے سے آپ کے صاف ستھرے چہرے پر دانے نکل سکتے ہیں جو بعض اوقات چہرے کا انفیکشن بھی بن جاتے ہیں۔ خواتین اور لڑکیاں چاہتی ہیں کہ تقریبات کی واپسی تک ان کی لپ سٹک کا رنگ اور چمک ماند نہ پڑے تاہم رات بھرلپ سٹک لگے رہنے سے ہونٹ بہت زیادہ خشک ہوجاتے ہیں جس سے ہونٹوں کا موائسچر ختم ہوجاتا ہے۔ میک اپ نہ ہٹانے سے کیل مہاسوں اور دانوں کے بعد آپ کی جلد بہت زیادہ خشک اور روکھی ہونے کے ساتھ ساتھ کھچائو کا شکار بھی ہوجاتی ہے۔
image

ڈبوں میں بند خوراک یا کینڈ فوڈز ترقی یافتہ ممالک میں ایک عرصے سے عام استعمال کیے جا رہے ہیں اور گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں میں ڈبوں میں بند خوراک کا استعمال بڑھ رہاہے۔ لیکن حال ہی میں امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ڈبوں میں بند خوراک میں ایک ایسے کیمیکل کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بی پی اے یا بیسفنول اے نامی یہ کیمیکل کینز اورڈبوں میں لگی حفاطتی کوٹنگ میں استعمال ہوتا ہے۔ سلور لائننگ نامی اس نئی تحقیق میں شامل50 میں سے 46ڈبوں میں بی پی اے بڑی مقدار میں موجود تھا۔ یہ کیمیکل ڈبے کے کھانے کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور خوراک کی صنعت سے وابستہ افراد اسے صحت کے لیے محفوظ قرار دیتے ہیں۔ لیکن مفاد عامہ کے ایک امریکی تحقیقی ادارے کی ڈائریکٹر لیز ہچکوک اس سے اختلاف کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کیمیکل کے اثرات بچوں پر پیدائش سے پہلے بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ڈبے کے کھانوں کی عام مقدار کھانے سے ایک نوجوان حاملہ خاتون کے جسم میں بی پی اے کی اتنی مقدار جذب ہوسکتی ہے ، جس کے نتائج لبیارٹری ٹیسٹ میں خطرے کی نشاندہی کرسکیں۔ بیماریوں کی روک تھام کے امریکی ادارے کے مطابق93 فیصد امریکیوں کے جسم میں بی پی اے موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہ کیمیکل پلاسٹک اور بچوں کی چیزوں میں بھی موجود ہوتا ہے، اس سلسلے میں ہونے والی تحقیق میں 19 ریاستوں سے مچھلی، پھلوں، سبزیوں اور کولڈ ڈرنکس کے ڈبے ٹیسٹ کئے گئے۔ دو سال قبل امریکی کانگریس نے پلاسٹک کے ڈبوں میں بی پی اے کی موجودگی کے خطرے پر کی جانے والی تحقیق کا جائزہ لیا تھا۔ آج چھ امریکی ریاستوں میں بچوں کے دودھ کی بوتلوں اور کچھ دیگر اشیا میں بی پی اے کے استعمال کی ممانعت ہے۔ سینیٹر ڈائیان فائن سٹائن، بی پی اے پر مکمل طور پر پابندی لگانے کے لیے ایک قانون متعارف کروا رہی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں  کہ ڈبے کی خوراک بنانے والی کئی کمپنیاں ایسی پابندیوں کی مخالفت کر رہی ہیں۔
image

خوبصورت اور مضبوط دانت ہر انسان کی اولین ترجیح ہوتی ہے دانت صحت مند اور خوبصورت ہونگے، جب ہی آپ کھل کر مسکرا پائیں گے۔ شوگر کو دانتوں کے لئے نقصان دہ مانا جاتا ہے لیکن ہماری روزمرہ کی چند غذائیں ایسی ہیں جن میں شوگر کی مقدار بہت کم پائی جاتی ہے اور ان غذائوں کو انسانی صحت کے لئے بھی محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ آپ کے دانتوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔ یہ بات بہت عام ہے کہ ایک سیب روزانہ آپکو ڈاکٹر سے دور رکھ سکتا ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہیں کہ سیب میں موجود تیزابیت آپ کے دانتوں کے لئے نقصان دہ ہے اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کے سیب کا استعمال ترک کر دیا جائے سیب مجموئی صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ سیب کے استعمال کے بعد برش لازمی کریں تاکہ اس کے مضر اثرات سے اپنے دانتوں کو محفوظ بنا سکے۔ آلو کے چپس  کو بہت زیادہ تناول کرنا آپ کے دانتوں کو متاثر کر سکتا ہے ۔ جب آپ چپس کو چباتے ہیں تو چپس کی ساخت سخت ہونے کی وجہ سے اس کے زرات دانتوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں جو کے دانتوں کے اندر بیکٹریا کو جنم دیتے ہیں جو آپکے دانتوں کے کمزور ہونے کی وجہ بنتے ہیں۔ پاپ کارن کا شمار ان غذائوں میں کیا جاتا ہے جو فارغ وقت میں ٹی وی دیکھتے یا ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے کھائے جاتے ہیں۔ لیکن آلو کے چپس کی طرح یہ بھی دانتوں کے درمیان پھنس کے بیکٹریا کی افزائش کی وجہ بنتا ہے جو آپکے دانتوں کوشدید متاثر کرتا ہے۔ زیادہ تر گھروں میں ڈبل روٹی کا استعمال ناشتے میں کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سفید ڈبل روٹی دانتوں کے لئے مضر ہے کیوں کے سفید ڈبل روٹی کی تیاری کے دوران چینی شامل کی جاتی ہے جو منہ میں جا کے گھل جانے کی وجہ سے آپکے دانتوں کے لئے نقصان کا باعث بنتی ہے۔  
image

لیموں اورپیاز کا رس ملاکرپینے سے ہیضے میں افاقہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں پودینے کارس  بھی اس سلسلے میں بہت کار آمد سمجھا جاتا ہے۔ جائفل کاجوشاندہ پینے اور لونگ پانی میں ابال کرپینے سے بھی ہیضے میں لگنے والی پیاس ختم ہوجاتی ہے ، پیاز کے رس میں چٹکی بھرہینگ ملاکرآدھے گھنٹے بعدپی لینے سے بھی شفاملتی ہے۔  
image

 ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسی دوا سامنے آگئی ہے جو نہ صرف پٹھے مضبوط کرنے کیلئے ہے مگر اس پر جاری تجربات سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ اسکے استعمال سے خراٹے لینے والے افراد کو کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہناہے کہ جس دوا کی وہ بات کررہے ہیں وہ حلق کے اوپری حصے میں انجیکٹ کی جائے تو خراٹے رک جاتے ہیں۔ یہ انجکشن کے علاوہ جیل کی صورت میں بھی ممکن ہے جسے اوپری حصے میں لگا کر فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں تاہم ابھی اس دوا کا تجربہ نہیں ہوا ہے اور اسے تیار کرنےوالی کمپنی 20ایسے افرادکو زیر تجربہ لاکر دوا کی کارکردگی دیکھنا چاہتی ہے۔ جو خراٹے لینے کے عادی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انجکشن لیتے ہی سانس لینے کی نلی میں وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی رکاوٹیں رفتہ رفتہ ختم ہوجاتی ہیں اور انسان سکون سے سو سکتا ہے۔
image

آنکھ کی سوزش، رات کے وقت دیکھنے میں مشکلات،  پانی آنا یا روشنی کی شدت کو برداشت نہ کرپانا، اور بصارت کی کمزوری جیسے مسائل سے بچے اور بڑے ہر کوئی پریشان ہے۔ ان مسائل کے حل کیلئے کچھ ایسی غذائوں کا استعمال بہت مفید ہے جو آنکھ کی صحت کیلئے قدرتی دوا کی حیثیت رکھتی ہیں۔آرگینک ہیلتھ ٹیم کے مطابق کمزور بصارت والوں کے لئے ٹماٹر اور اس جیسی دیگر غذائیں بہت مفید ہیں۔ ایسی تمام غذائیں  جن میں وٹامن اے پایا جاتا ہے بہت موثر ہیں۔  ٹماٹر کے علاوہ کلیجی، سلاد، خوبانی، شکرقندی، شملہ مرچ، مچھلی کا تیل، آم، پالک، شلجم، جئی، دودھ، گاجریں، مکھن، پودینہ، سبز مرچیں، پالک، سرخ مرچیں، مٹر، رائی، خشک خوبانی اور پپیتا وغیرہ شامل ہیں۔
image

کینو کے چھلکے  اپنے اندر کئی پوشیدہ فوائد رکھتے ہیں جن سے جلد کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔سب سے پہلے کینو کے چھلکوں کو 2 سے 3 دن دھوپ میں خشک کرلیں۔پھر جب وہ سخت ہوجائیں تو انہیں پیس کر کسی جار میں محفوظ کر لیں۔ ماہرین کے مطابق کینو کے چھلکوں کو دہی میں ملا کر اسے چہرے پر مساج کرنے اور 15 منٹ تک لگانے سے رنگت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔کینو کے چھلکوں میں انڈے کی سفیدی اور لیموں کے رس کے چند قطرے ملائیں اوراسے چہرے پر لگا کر تقریباً 15 منٹ کے لئے چھوڑ دیں اس کے بعد دھولیں جلد سے تیل غائب ہوجائے گا۔ اس عمل کو ہفتے میں ایک بار ضرور کریں۔دانوں کے خاتمے کے لئے کینو کے چھلکوں میں پانی ملا کر پیسٹ بنا لیں۔ اس کے بعد اس پیست کو اپنے چہرے پر اپلائی کریں اور 15 منٹ تک لگا رہنے دیں پھر پانی سے منہ دھو لیں۔
image

ویسے تو سموسہ اور پیزا دونوں کو ہی مضرِ صحت قرار دیا جاتا ہے لیکن ان دونوں میں سے صحت کے لیے کم نقصان دہ کیا ہے؟  پیزا اپنی  بریڈ کی وجہ سے کاربوہائیڈرٹس پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں پنیر ،گوشت اور دیگر اشیا کی صورت میں فیٹ پایا جاتا ہے، پیزا کو تیل میں تلا نہیں جاتا بلکہ مائیکروویو اون میں بیک کیا جاتا ہے۔ پیزا کے مقابلے میں سمومہ کو بیک نہیں بلکہ تیل میں تلا جاتا ہے جب کہ اس میں آلو اور مرچیں شامل ہوتی ہیں، آلو اس وقت مضرِ صحت کاربوہائیڈریٹس کا مجموعہ بن جاتے ہیں جب انہیں ڈیپ فرائی کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اس میں فیٹ کی مقدار بڑھ جاتی ہے، ڈیپ فرائی ہونے کے بعد سموسہ اپنے اندر تیل یا گھی کو جذب کر لیتا ہے اور پیزا کے مقابلے میں زیادہ فیٹ کا سبب بنتا ہے۔ اگر موازنہ کیا جائے تو 100گرام پیزا میں 276 جب کہ 100 گرام سموسے میں تقریباً 400 کیلوریز پائی جاتی ہیں اگر سموسے کو ڈیپ فرائی کرنے کے بجائے اوون میں بیک کیا جائے تو اسے صحت کے لیے کم نقصان دہ بنایا جاسکتا ہے
image

سرکہ عام طور پر کھانوں میں ذائقہ بڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن  میڈیکل ریسرچ نے اسکو ذیابیطس وکینسر سمیت کئی امراض کے لئے کارگر دوا بھی ثابت کردیا ۔ڈایا بیٹک جنرل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریض اگر روزانہ رات سونے پہلے ایک سے دو چمچ سیب کا سرکہ استعمال کریں تو ان کے خون میں شوگر کی مقدار متوازن ہوجاتی ہے۔اُدھر ہوزونگ ایگری کلچرل یونیورسٹی چین نے بھی سرکہ پر اپنی تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ پھلوں کا سرکہ انتہائی مہلک امراض سے بچانے میں معاون ہوتا ہے ۔تحقیقی مطالعہ کے مطابق سیب کا سرکہ کینسر، انفیکشن، بیکٹریا کے خلاف لڑنے سمیت جسمانی وزن میں کمی اور میٹابولزم میں بہتری لانے کے لیے فائدہ مند ہے۔تحقیق کے مطابق سرکے میں استعمال ہونے والے اجزا کچھ اقسام کے کینسر کے خلیات کو پھیلنے سے روکنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ سرکہ بیکٹریا کش، اینٹی انفیکشن، اینٹی آکسائیڈنٹس اور صحت کے لیے دیگر فائدہ مند خوبیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ سیب کا سرکہ کھانے کے بعد چند قطرے روزانہ استعمال کرنے سے لبلبہ کی کارکردگی پر بہتر اثر ہوتا ہے۔ چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکہ اچھی غذا ہے لیکن یہ خالص اور معیاری ہونا چاہئے۔
image

 روزانہ دانت صاف نہ کرنے والے افراد میں غذا کی نالی کا کینسر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دانتوں کے امراض سے متعلق یہ تحقیق امریکا میں ایک لاکھ 22 ہزار افراد پر کی گئی جسے کینسر ریسرچ نامی جریدے نے شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ روزانہ دانت صاف نہ کرنے کا عمل جہاں دانتوں کے امراض کا سبب بنتا ہے وہیں دانتوں میں موجود بیکٹیریا کے باعث غذا کی نالی کا کینسر لاحق ہونے کے امکانات میں 21 فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ان افراد کے مشاہد ے سے معلوم ہوا ہے کہ دانتوں کے امراض کا غذا کی نالی سے گہرا تعلق ہے، دانتوں میں موجود بیکٹیریا غذا کی نالی پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ بیکٹیریا کینسر کا موجب بن سکتے ہیں۔ دانتوں کے مرض کا باعث بننے والے دو قسم کے بیکٹیریا کی وجہ سے حلق سے معدے تک موجود غذا کی نالی کا کینسر لاحق ہونے کے وسیع خطرات ہیں۔  نیو یارک یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جیونگ آہن کا کہنا ہے کہ غذا کی نالی کا کینسر عام طور پر لاحق ہونے والے کینسر میں آٹھویں نمبر پر ہے جب کہ اس سے ہونے والی ہلاکتیں کینسر سے ہونے والی ہلاکتوں میں چھٹے نمبر پر ہیں کیوں کہ غذا کی نالی کے کینسر کی اس وقت تک تشخیص نہیں ہوتی جب تک وہ اپنے آخری سٹیج پر نہ پہنچ جائے۔ دنیا بھر میں 5 برس میں اس مرض کا شکار ہوکر بچ جانے والے افراد کی تعداد صرف 15 تا 25 فیصد ہے۔ اس مرض کا شکار بقیہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ غذا کی نالی کا کینسر انتہائی جان لیوا مرض ہے جسے فوری تشخیص کرنے اور مرض کو مزید بڑھنے سے روکنے کےلیے فوری علاج کی ضرورت ہے۔
image

عوامی سروے

سوال: فاٹا اصلاحات بل حکومت کو منظورکرلینا چاہیئے؟