بلاگ

دو روز سے ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، بارش کے باعث کئی کچے مکان گرگئے جس میں متعدد ہلاکتیں بھی ہوئیں، اس کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں درخت گرنے سے  حادثات بھی پیش آئے جبکہ  گلی  محلے اور سڑکیں  تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں قدرتی آفات اپنی جگہ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا بارش جس کو ہم رحمت کہتے ہیں سے کوئی فائدہ اٹھا ر ہے ہیں؟کیا ہم اس رحمت کا صیح استعمال کر رہے ہیں یا اس رحمت کا مزہ زائل کررہے ہیں ؟

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کو مستقبل میں شدد پانی کی قلت کا سامناہے اس کے باوجو بھی ہم بارش کے  پانی کا بے دریغ ضیاع کررہے ہیں،اگر اسی  طرح ہوتا رہا تو ہمارا ملک خشک سالی  کا شکار  ہوسکتا ہے ،لیکن کوئی اس اتنے بڑے مسئلے پر کان دھرنے کو تیار نہیں ،اگر سیاستدان  اس مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کرتے  بھی ہیں تو صرف سیاسی کارڈ کے طور پر،آج کل انتخابات کا موسم اپنی شدت پر رہے ہر کوئی  ڈیمز کی سیاست کر رہا ہے کوئی کالا باغ ڈیم کا رونا رو رہا ہے،تو  کوئی بھاشا ڈیم کے راغ الاپ رہا ہے،یہ منصوبے بہت بڑے ہیں  جن کو مکمل ہونے میں لمبا عرصہ درکار ہے،تاہم چھوٹے ڈیمز اور منصوعی جھلیوں سے  اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے  لیکن اس پر کوئی سوچنے کو تیار نہیں  کیوں کہ اس سے عوام کو فائدہ ہوگا اورسیاست نہیں  چمکائی جا سکے گی،چھوٹے ڈیمز اور جھلیوں کی مدد سے ایک تو بارش کی تباکاریوں کے  خدشات کم ہوں گے دوسری طرف ہم  ملین ایکڑ فیٹ یا ہزاروں کیوسک ایکڑ پانی  محفوظ کرسکتے ہیں،یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے  کہ بڑے منصوبوں کے علاوہ چھوٹے  ڈیمز  مصنوعی جھلیوں اور  قلیل مدت کے منصوبوں کی  طرف خصوصی  دھیان دیں،پاکستان میں آبادی  تیزی سے بڑھ رہی پاکستان میں موجودہ پانی کے ذخائر بڑھتی  ہوئی آبادی کیلئے ناکافی ہیں ،افسوس ہے کہ  پچھلی 5دہائیوں  سے  پاکستان میں  پانی ذخیرہ کرنے کے خاطر خواہ  انظامات نہیں کیے گئے

پاکستان میں بارشوں سے ڈیمز میں پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے ، جدید ٹیکنالوجی،‏ ڈیم،‏ بیراج اور آب ‌پاشی کی نہریں ہونے کے باوجود ملک میں بارش کے پانی جمع کرنے کے طریقوں کی ضرورت ہے، تاکہ اس پانی کو سڑکوں پر ضائع ہونے سے بچایا جاسکے،حکومت کے علاوہ عوام کی بھی یہ  ذمہ داری بنتی ہے کہ  بارش کے پانی کو گھروں میں بھی محفوظ کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں ،بارش کا پانی گھروں،‏ کارخانوں اور اسکولوں میں جمع کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے،کئی ممالک میں اس بات کو لازمی قرار دیا جاچکا ہے کہ نئی عمارتوں کی تعمیر کرتے وقت پانی جمع کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی انتظام ضرور ہونا چاہئے۔بارش کا پانی جو شاہراہوں پر بہہ کر ضائع ہوجاتا ہے اسے ہزاروں گیلن کی گنجائش والے ٹینکوں میں جمع کیا جاسکتا ہے۔‏بارش کا پانی سیلاب کی صورت ایک زحمت بن جاتا ہے۔ پاکستان میں بارشوں کا موسم شروع ہوتے ہی رین  ایمرجنسی  نافذ کردی جاتی ہے اس کے باوجود بھی  ملک کے بہت سے  علاقے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ،زرعی زمینوں کو ختم کرکے  نئی نئی بستیاں آباد کی جارہی ہیں ، لیکن ان بستوں   میں بارش کا پانی جمع کرنے کا کوئی طریقہ نہیں رکھا جاتا۔ مہذب ممالک میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا ہے جسے،'رین واٹر ہاروسٹنگ' کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ گھروں اور عمارتوں کی چھت کا پانی بچانے اور اسے استعمال میں لانے کے لیے‏ ڈھلوانی چھتوں کے کناروں پر نالیاں بنائی جاسکتی ہیں ،جہاں سے پانی گزر کر پائپوں میں آجائے اور پھر خاص طور پر تیار کردہ ڈرموں میں پہنچ جائے۔‏ٹینکوں یا ڈرموں میں جمع ہونے والے پانی کو صاف کر کے برتن دھونے اور دیگر صفائی ستھرائی کے کاموں میں استعمال میں لایا جاسکتا ہے اور اس طریقہ کار سے سرکاری پانی کا استعمال بچایا جاسکتا ہے،اس پانی کو باغبانی،‏ غسل ‌خانہ صاف کرنے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،اس پانی کو مزید صاف کرکے سے پینے کے قابل بھی بنایا جاسکتا ہے اور پانی کی بڑھتی ہوئی  ضرروت کو پورا کیا جاسکتا ہے

 

image

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟