27 اکتوبر 2020
تازہ ترین
بلاگ


طیبہ نصراللہ
پاکستانی ڈرامے اپنی حقیقت پسندی کی بنا پر برصغیر میں اہم مقام رکھتے ہیں اور یہ صرف برصغیر میں ہی نہیں، دیگر ممالک میں بھی بہت شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستانی ڈرامے ٹرینڈ سیٹر بن رہے ہیں۔ نفسیات کا ایک لفظ ہے Conditioning یعنی ذہن بنانا، غرض پاکستانی ڈرامے لوگوں کے ذہن بنا بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں۔ میڈیا کی طالب علم ہوتے ہوئے ان ڈراموں کا بغور مشاہدہ کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے انٹرٹینمنٹ چینلز چند لوگوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ یہ لوگ تھوک کے حساب سے ڈرامے بنا رہے ہیں جن کا ایجنڈا صرف اور صرف ایک ہے، عورت کو مظلوم دکھانا یعنی صنف نازک کو نازک ترین دکھایا گیا اور ساتھ ہی ساتھ مظلوم ترین بھی جبکہ مرد یعنی شوہر اس پر یقین نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ بے وفائی کرتا ہے یا پھر شکی دکھایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ بے انتہا محبت کرنے والا بھی۔ میرا ماننا ہے کہ جہاں محبت ہو وہاں شک نہیں اعتماد ہوتا ہے۔
خیر، ہم بات کر رہے تھے کہ عورت کو مظلوم دکھایا جاتا ہے، ساس کا ظلم، سسر کی زبان درازی، نندوں کی بدتمیزی اور شوہر کی بے وفائی۔ میں مانتی ہوں کہ یہ سب چیزیں ہوتی ہیں مگر ہم ہی میڈیا ہیں۔ ہم نے ہی لوگوں کو بتانا ہے کہ ایسے نہیں اور ایسے کرو گے تو امن ہو گا، ایسے کرو گے تو گھر بچ جائے گا اور ایسے کرو گے تو بگاڑ نہیں آئے گا۔ عورت کو مظلوم دکھانا محض ایک مارکیٹنگ ٹول کے علاوہ کچھ نہیں۔ کچھ عرصہ قبل اصغر ندیم سید کا میں نے انٹرویو کیا اور انہوں نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ ہاں مظلوم دکھاتے ہیں کیونکہ اشتہارات لینے ہیں۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ عورت پر ہونے والے ظلم دکھائو مگر پھر اس عورت کو سٹینڈ کرتے بھی دکھائو کہ اس نے اس طرح خود کو مضبوط کیا، اس طرح خود کو زمانے کے سامنے ثابت کیا۔ ہزاروں مثالیں تیزاب گردی کے نتیجہ میں مضبوط ہونے والی خواتین کی ہیں مگر نہیں، ایسا کریں گے تو اشتہارات کیسے آئیں گے؟
اب بات کرتے ہیں کہ ان ڈراموں میں دکھائی جانے والی ثقافت کیسی ہے۔ کوئی ڈرامہ ایسا نہیں جس میں کوٹھی بنگلہ نہ دکھایا گیا ہو، جن سے دیکھنے والوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہوں۔ غرض ایسے ڈرامے بنتے ہیں جن کو دیکھ کر آپ حقیقت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ پاکستان میں قریباً ایک فیصد آبادی ایسی ہو گی جو شاہانہ انداز میں بنگلوں میں رہتی ہے، باقی ننانوے فیصد تو مڈل کلاس، لوئر مڈل یا پھر نچلا طبقہ ہے۔ اتنی بڑی اکثریت کے پاس کیا ٹی وی نہیں ہے؟ ہے، بالکل ٹی وی ہے مگر ڈراموں میں اس طبقے کی نمائندگی بہت کم دکھائی جاتی ہے۔ اس اکثریت کو کوٹھیاں دکھا دکھا کر ان کے بچوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ وہ حسرت سے دیکھتے ہیں کہ وہ یہ سب آسائشیں کیسے حاصل کریں۔ نوے فیصد ڈراموں میں امیر کبیر طبقے کا دکھایا جانا ہمیں لالچی نہیں بنا رہا؟ جب لڑکیاں ٹی وی میں نظر آنے والی ہیروئن کو امیر گھرانے میں پیدا ہوتے اور پارٹی کرتے دیکھتی ہیں تو کیوں نہ دیکھنے والیاں لالچی بنیں اور ان چیزوں کو حاصل کرنے کی حسرت دل میں رکھیں۔ 
پھر آ جائیں ہیروئنز کے کپڑوں پر۔ ارے نہیں، ہیروئن تو ایک طرف، ولن اور نوکروں نے بھی برانڈز کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ ان برانڈز کی تشہیر کرتی یہ اداکارہ نہیں جانتی کہ جو اس کریکٹر کو دیکھ رہا ہے اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گی کہ میں بھی اس طرح کا بن جائوں، ایسے ہی کپڑے پہنوں۔ یہ تشہیر ٹی وی پر ہی نہیں، سوشل میڈیا پر ہر جگہ ہوتی ہے۔ اب غریب کے بچے اتنے مہنگے کپڑے کہاں سے خریدیں؟ 
میرا ماننا ہے کہ میڈیا خاص طور پر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر وہ دکھایا جائے جو حقیقت کے قریب ہو، محض آئیڈیل چیزیں دکھا کر آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ جو کچھ آپ دکھاتے ہیں لوگ اس کو حقیقت سمجھتے ہیں۔ اب آیئے ایسے ڈراموں کی جانب جن میں عورت کو پیسے کے پیچھے بھاگتے اور بے وفائی کرتے دکھایا جاتا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمیں اپنے ڈراموں کے ذریعے یہ دکھانا چاہیے کہ زندگی نے عورت کو ایسے ایسے مواقع دیے مگر اس نے بے وفائی نہ کی، خود کو مضبوط رکھا تو اللہ نے اسے اپنے شوہر کے ذریعے ہی وہ سب چیزیں مہیا کر دیں جن کی وہ خواہش رکھتی تھی۔ لیکن نہیں۔ ایسا کیوں دکھائیں گے، دیکھے گا کون؟ بھئی، سب دیکھیں گے، دنیا کو پیغام تو اچھا دے کر دیکھو۔
میرے خیال میں اس حوالے سے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہمارے پاس مواد کیا ہے جو ہم لوگوں کے ذہنوں میں ڈال رہے ہیں۔ صحافت میں ایک لفظ آتا ہے Target Audience یعنی وہ لوگ جن کو مسیج پہنچانا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ وہ جو لوگ ہماری پراڈکٹ دیکھتے ہیں وہ کس ذہنی قابلیت کے ہیں، ان کی عمریں کیا ہیں۔ ڈرامے عموماً فیملی چینلز پر چلائے جاتے ہیں جن کو بچے، بڑے، بوڑھے اور خواتین سب دیکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ایسے پیغامات معاشرے کو دیں جو ہمارے بچوں کی تربیت میں معاون ہوں۔ ہمیں ایسے بچے دکھانا ہوں گے جو قابل اور فرمانبردار ہوں، احترام سے بات کریں، تو یا تم نہ کہیں۔ ہمیں ایسے جوان دکھانا ہوں گے جو غریب پیدا تو ہوئے لیکن مرے غریب نہیں، ایسے بوڑھے دکھائیں جن کی اولاد ان کی فرمانبردار ہو۔ ہمیں اپنا معاشرہ تمیز دار بنانا ہو گا۔
روایات جو ہمارے ڈراموں میں دکھائی جاتی ہیں، سب مغربی تہذیب و معاشرت کی عکاسی کرتی ہیں۔ پینٹ شرٹ میں ملبوس لڑکی بیرون ملک سے آتی ہے اور پارٹیاں انجوائے کرتی ہے۔ پینٹ شرٹ کی بات میں نے اس لئے کی کہ ڈرامہ مڈل کلاس کیلئے بنتا ہے اس میں پینٹ شرٹ کہاں سے آ گئی۔ بھئی مڈل کلاس کے مطابق ڈریسنگ دکھائو۔ پھر لڑکے لڑکی کو ایک دوسرے سے گلے ملتے سرعام دکھایا جاتا ہے، جسے دیکھ کر مشرقی روایات کے حامل افراد تو شرما ہی جائیں۔ ہاتھ پکڑتے ہوئے، گھومتے پھرتے دکھایا جاتا ہے۔ بوڑھے تو اپنی زندگی گزار چکے لیکن یہ سب دیکھ کر نوجوان نسل ہی نہیں بچے بھی یہی سیکھیں گے۔ یہ سب دیکھنے کے بعد معذرت کے ساتھ، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا بچہ حلال اور حرام میں تمیز کرے گا تو آپ غلط ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ڈراموں سے عام عوام اجتناب کیوںکر کرے؟ سادہ سی بات ہے ایسے ڈراموں کو دیکھنا بند کریں جو آپ کو غلط روایات کی جانب لے کر جا رہے ہیں۔ اس سے کیا ہو گا؟ اس سے یہ ہو گا کہ ان ڈراموں کی ریٹنگ نہیں آئے گی، جب ریٹنگ نہیں آئے گی تو ڈرامہ بنانے والے خود سوچیں گے کہ ایسی کونسی خامی ہے کہ عوام ڈرامہ دیکھنا چھوڑ گئی۔ مجبوراً اپنے ڈراموں کی مارکیٹنگ کیلئے اس رخ پر سوچیں گے کہ ان کا مواد، ان کے کپڑے، ان کی روایات اور ان کی عکاسی سب ہی غلط ہے لیکن ساری بات یہ ہے کہ عوام کھڑی ہو جائے کہ ہم نے نہیں دیکھنا۔ اسی طرح یہ تھوک کے حساب سے بننے والے ڈرامے رک 
سکتے ہیں۔ ورنہ تیار ہو جائیں ایسے معاشرے کے ہاتھوں اپنی روایات کا قتل ہوتے دیکھنے کیلئے۔
 

image

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟