20 اگست 2019
تازہ ترین
بلاگ

تحریر:سید شیرازاحمد شاہ

تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار کے ایوانوں میں ابھی قدم رکھا ہی تھا کہ راہداریوں میں عوامی صدائیں زور پکڑ گئیں۔۔ پانچ سال تک تگڑی اپوزیشن کرنے والی پی ٹی آئی کے بڑے بڑے دعووں کو اب عملی جامہ پہنانے کا وقت آن پہنچا تھا۔ غرض یہ کہ پہلی بار حکمرانی کا تاج سر پر سجانے والی تحریک انصاف کو ابھی سیاسی، معاشی اور انتظامی معاملات سمجھنے اور پیر جمانے کے لیے کم از کم چھ ماہ کا وقت درکار تھا لیکن مخالفین کے یاد دہانی کرانے والے تند و تیز بیانات اور خاص کر سوشل میڈیا پر مہنگائی کے طوفان کو قابو میں رکھنے سے لے کر کڑے احتساب تک تمام تر مطالبات زور پکڑ گئے۔ عمران خان وزیراعظم بنے تو واشگاف الفاظ میں کرپشن کے خاتمے کا عزم کرتے ہوئے اسے مختلف مواقع پر دہرایا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت سے شروع ہونے والا احتسابی عمل اب پیپلزپارٹی اور سرکاری افسران سے ہوتا ہوا اپنا دائرہ وسیع کرتا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کو ایک طرف تو سیاسی قیادت کے احتساب کی شکل میں ایک بڑے محاذ پر لفظی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے تو دوسری جانب بیوروکریٹس میں بھی نیب کی کارروائیوں کی بدولت شدید اضطراب اور بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ کرپشن ایک محاذ تو دوسرا بڑا محاذ ملکی معاشی حالت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ معیشت کی زبوں حالی کی بڑی وجہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت کا منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہونا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملک میں موجود وہ بڑی مچھلیاں جنہوں نے کبھی اپنے آپ کو ٹیکس دینے کی عادت نہیں ڈالی وہ بھی حکومت سے شدید خفا ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایف بی آر ہمیشہ کی طرح اب بھی کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند رکھے اور صرف غرباء ہی ٹیکس نیٹ میں موجود رہیں۔ تیسرا اور بڑا محاذ ملک میں موجود وہ گروہ ہیں جو عدم برداشت کے ان رویوں کا مجموعہ ہیں جن کا عملی مظاہرہ کچھ روز قبل ہم نے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی صورت میں ملاحظہ کیا۔۔ یہ محض احتجاج نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی تصویر تھی جس کے ذریعے ہماری سوچ کی عکاسی عالمی منظر نامے پر ہوئی۔ ان حالات میں سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے مائل کرنا عمران خان اور ان کے رفقاء کے لیے ناممکن کو ممکن بنانے کے مترادف ہے۔ چوتھا محاذ پی ٹی آئی کے لیے اپنے اتحادیوں کو راضی رکھنے کا بھی ہے۔ یہ وہ غیر فطری اتحاد ہے جس کا پی ٹی آئی کے ساتھ ماضی میں نظریاتی اختلاف رہا ہے اور اب اسے قائم رکھنے کے لیے بھی تحریک انصاف کو کئی مراحل پر سمجھوتے کرنے پڑے ہیں۔ ان تمام محاذوں کے ہوتے ہوئے وزیراعظم صاحب کو اپنی ہچکولے کھاتی کشتی کو سمندر پار ساحل پر لگانا ہے۔ یہ منزل مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ مشکلات کے اس سمندر کو عبور کرنے کے لیے لگن، محنت، اتحاد اور نیک نیتی جیسے بنیادی عناصر درکار ہیں۔

 

image

دو روز سے ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، بارش کے باعث کئی کچے مکان گرگئے جس میں متعدد ہلاکتیں بھی ہوئیں، اس کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں درخت گرنے سے  حادثات بھی پیش آئے جبکہ  گلی  محلے اور سڑکیں  تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں قدرتی آفات اپنی جگہ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا بارش جس کو ہم رحمت کہتے ہیں سے کوئی فائدہ اٹھا ر ہے ہیں؟کیا ہم اس رحمت کا صیح استعمال کر رہے ہیں یا اس رحمت کا مزہ زائل کررہے ہیں ؟

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کو مستقبل میں شدد پانی کی قلت کا سامناہے اس کے باوجو بھی ہم بارش کے  پانی کا بے دریغ ضیاع کررہے ہیں،اگر اسی  طرح ہوتا رہا تو ہمارا ملک خشک سالی  کا شکار  ہوسکتا ہے ،لیکن کوئی اس اتنے بڑے مسئلے پر کان دھرنے کو تیار نہیں ،اگر سیاستدان  اس مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کرتے  بھی ہیں تو صرف سیاسی کارڈ کے طور پر،آج کل انتخابات کا موسم اپنی شدت پر رہے ہر کوئی  ڈیمز کی سیاست کر رہا ہے کوئی کالا باغ ڈیم کا رونا رو رہا ہے،تو  کوئی بھاشا ڈیم کے راغ الاپ رہا ہے،یہ منصوبے بہت بڑے ہیں  جن کو مکمل ہونے میں لمبا عرصہ درکار ہے،تاہم چھوٹے ڈیمز اور منصوعی جھلیوں سے  اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے  لیکن اس پر کوئی سوچنے کو تیار نہیں  کیوں کہ اس سے عوام کو فائدہ ہوگا اورسیاست نہیں  چمکائی جا سکے گی،چھوٹے ڈیمز اور جھلیوں کی مدد سے ایک تو بارش کی تباکاریوں کے  خدشات کم ہوں گے دوسری طرف ہم  ملین ایکڑ فیٹ یا ہزاروں کیوسک ایکڑ پانی  محفوظ کرسکتے ہیں،یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے  کہ بڑے منصوبوں کے علاوہ چھوٹے  ڈیمز  مصنوعی جھلیوں اور  قلیل مدت کے منصوبوں کی  طرف خصوصی  دھیان دیں،پاکستان میں آبادی  تیزی سے بڑھ رہی پاکستان میں موجودہ پانی کے ذخائر بڑھتی  ہوئی آبادی کیلئے ناکافی ہیں ،افسوس ہے کہ  پچھلی 5دہائیوں  سے  پاکستان میں  پانی ذخیرہ کرنے کے خاطر خواہ  انظامات نہیں کیے گئے

پاکستان میں بارشوں سے ڈیمز میں پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے ، جدید ٹیکنالوجی،‏ ڈیم،‏ بیراج اور آب ‌پاشی کی نہریں ہونے کے باوجود ملک میں بارش کے پانی جمع کرنے کے طریقوں کی ضرورت ہے، تاکہ اس پانی کو سڑکوں پر ضائع ہونے سے بچایا جاسکے،حکومت کے علاوہ عوام کی بھی یہ  ذمہ داری بنتی ہے کہ  بارش کے پانی کو گھروں میں بھی محفوظ کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں ،بارش کا پانی گھروں،‏ کارخانوں اور اسکولوں میں جمع کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے،کئی ممالک میں اس بات کو لازمی قرار دیا جاچکا ہے کہ نئی عمارتوں کی تعمیر کرتے وقت پانی جمع کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی انتظام ضرور ہونا چاہئے۔بارش کا پانی جو شاہراہوں پر بہہ کر ضائع ہوجاتا ہے اسے ہزاروں گیلن کی گنجائش والے ٹینکوں میں جمع کیا جاسکتا ہے۔‏بارش کا پانی سیلاب کی صورت ایک زحمت بن جاتا ہے۔ پاکستان میں بارشوں کا موسم شروع ہوتے ہی رین  ایمرجنسی  نافذ کردی جاتی ہے اس کے باوجود بھی  ملک کے بہت سے  علاقے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ،زرعی زمینوں کو ختم کرکے  نئی نئی بستیاں آباد کی جارہی ہیں ، لیکن ان بستوں   میں بارش کا پانی جمع کرنے کا کوئی طریقہ نہیں رکھا جاتا۔ مہذب ممالک میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا ہے جسے،'رین واٹر ہاروسٹنگ' کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ گھروں اور عمارتوں کی چھت کا پانی بچانے اور اسے استعمال میں لانے کے لیے‏ ڈھلوانی چھتوں کے کناروں پر نالیاں بنائی جاسکتی ہیں ،جہاں سے پانی گزر کر پائپوں میں آجائے اور پھر خاص طور پر تیار کردہ ڈرموں میں پہنچ جائے۔‏ٹینکوں یا ڈرموں میں جمع ہونے والے پانی کو صاف کر کے برتن دھونے اور دیگر صفائی ستھرائی کے کاموں میں استعمال میں لایا جاسکتا ہے اور اس طریقہ کار سے سرکاری پانی کا استعمال بچایا جاسکتا ہے،اس پانی کو باغبانی،‏ غسل ‌خانہ صاف کرنے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،اس پانی کو مزید صاف کرکے سے پینے کے قابل بھی بنایا جاسکتا ہے اور پانی کی بڑھتی ہوئی  ضرروت کو پورا کیا جاسکتا ہے

 

image

رائٹر:سعید رفیق

 یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ بھارت کو پاکستان کا مفاد،کامیابی ،فائدہ یا برتری کسی صورت قبول نہیں،بات پانی کی ہو یا کشمیرکی ،کرکٹ ہو یادہشت گردی کے خلاف جنگ کا میدان،افغانستان میں پاکستانی مفادات سے لیکر اقوام متحدہ میں پیش قدمی تک ہر راہ میں روڑے اٹکانا اورغلیظ پرو پیگنڈ بھارتی پالیسی کا اہم ترین نقطعہ ہے، پاکستان سے بھارت کی ذاتی پرخاش اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ پڑوسی ملک نے اپنے فائدہ کیلئے نہیں صرف پاکستان کے نقصان کے لئے منفی پالیسیوں پر عمل پیرا رہنا اپنا شیوہ بنالیا ہے۔ بھارتی کی غیر صحت مندانہ روش کی تازہ مثال ایرانی بندر گاہ چاہ بہار کو پاکستانی مفادات پر ضرب کاری لگانے کیلئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی ہے، بھارت چاہ بہار کے ذریعہ پاکستان کو بائی پاس کرکے ڈیڈ لاک افغانستان اور پھر اس سے آگے سینٹرل ایشیا تک پہنچنے کے خواب دیکھ رہا ہے، اس مقصد کیلئے 2015 میں ہونے والے ایران افغانستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے کے تحت بندرگاہ کی توسیع،چا ہ بہار حاجی جک کاریڈور اور ریل ٹریک کی تعمیر کا فیصلہ کیا ، تقریبا ً21بلین ڈالر کی متوقع بھارتی سرمایہ کاری کے وعدوں کے ساتھ چاہ بہار کی 2توسیع شدہ برتھوں کا افتتاح گزشتہ دنوں ایرانی صدر نے کیا،برتھوں کی توسیع کیلئے معاہدے کے تحت بھارت کو500ملین ڈالر فراہم کرنے تھے لیکن اب تک 235ملین ڈالر فراہم کئے گئے ہیں، جس میں 150ملین ڈالرکا آسان شرائط پر دیا جانے والا قرضہ بھی شامل ہے جبکہ ابھی ایران بار ڈر پر افغان شہر زرناج تک چاہ بہار حاجی جک کوریڈورکی تعمیر، جنوب مغربی ایران کے پسماندہ علاقے میں انڈسٹریل زون کا قیام،حاجی جک میں کاپر اور اسٹیل کی مائننگ کیلئے بھاری سرمایہ کاری، وسط ایشیائی ملکوں کے ریل کاریڈورسے باہم ملنے کیلئے ٹریک ڈالنے کا کام ابھی باقی ہے۔

 چاہ بہار پورٹ کی دوبرتھوں کو ایران سے مستعا ر لیکر پاکستان کو افغانستان اور سینٹرل ایشیا کی منڈیوں سے بے دخل کرنے کا بھارتی منصوبہ کیا حقیقت میں خطے میں سی پیک اور گوادر پورٹ کے مقابل بھارتی گیم چینجر ثابت ہو گا ؟ یا پاکستان اور چین کی اسٹیٹجک و اقتصادی بالادستی کی جانب پیش قدمی کیلئے چیلنج بنے گا؟کیا واقعی مستقبل میں سی پیک اور گوادر پورٹ کو بھارت کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ ملکر بدخول سے مسائل درپیش ہوں گے ؟ قرین و قیاس کا جائزہ لیا اور ایماندارانہ تجزیہ کا کیا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ چاہ بہار ایرانی مرضی کے خلاف بھارت کا پاکستان کے خلاف تعمیر کیا گیاایک ہوائی قلعہ ہے جسے مودی سرکار خطے میں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کے غیر معمولی اقدام سے تشبیہ دے کر ایک ارب سے زائد بھارتیوں کو بیوقوف بنارہی ہے، بھارت کے خیال میں چاہ بہار بندر گا ہ کے ذریعے افغانستان تک اقتصادی راہداری کے قیام اوررسائی سے پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات پر ضرب کاری لگادی گئی ہے، بھارتی سورما چاہ بہار کو گوادر اور حاجی جک کوریڈور کو سی پیک کا نعم البدل خیال کررہے ہیں ، بھارتی میڈیا چاہ بہار کے ذریعے سینٹر ایشیا اور افغانستان تک بھارتی بالادستی کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایرانی بندر گاہ کی2 ملین میٹرک ٹن ہینڈلنگ کی استعدادکو بتدریج 8ملین ٹن اور پھر 80ملین ٹن تک لے جایا جائیگا،بھارت درحقیقت ایرانی بندر گاہ کو چینی بالا دستی کے ایک چیلنج کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے ، مگر ایسا نہیں ہے، چاہ بہار اور گوادر سسٹر پورٹ تو ضرور مگر دو الگ الگ حقیقتیں بھی ہیں یہ سچ ہے کہ گوادر اور چاہ بہار کا کوئی مقابلہ نہیں ، گوادر پورٹ کی اہمیت اور اسے سے جڑے غیر معمولی فوائد کی حیثیت ایک حقیقت ہے ،بحرہ ہند دنیا کی سب سے بڑی تجارتی گزر گاہ ہے جہا ں سے سالانہ ایک لاکھ بحری تجارتی جہاز گزرتے ہیں وہاں واقع چاہ بہار اور گواد ربندر گاہ دونوں کی جیو پولیٹیکل اور جیو اسٹریٹجک حثیت مسلمہ ہے، دونوں بندر گاہیں دنیامیں تیل کے سب سے بڑے ذخائر آبنائے ہرموذ کے دہانے پر موجود ہیں ، جہاں دنیا کا دوتہائی تیل کاقدرتی ذخیرہ موجود ہے اور17بلین بیرل تیل روزانہ نکالا جارہا ہے ، دونوں بندرگاہوں کی اسٹریٹجک اہمیت بڑی واضح ہے دونوں ایک ایسے بحری تجارتی اور تیل سپلائی کے جنکشن پر موجود ہیں جو دنیا کے تین بڑے اوراہم خطوں سے منسلک ہے ، جن میں جنوبی ایشیا ،وسطی ایشیا،اورمشرق وسطیٰ شامل ہیں ، مذکورہ بحری تجارتی راستے سے سالانہ ایک لاکھ تجارتی جہاز اوردنیا کا 70فیصد تیل گزرتا ہے، بحرہ ہند دنیا کی 65فیصد معدنیات،31فیصد گیس اور تیل کی50فیصد بر آمدات کا گڑھ ہے ، چین اور بھارت اپنے اپنے معاشی مفادات کے تحفظات کیلئے چاہ بہار اور گوادر کی بندر گاہوں کی تعمیر اور آپریشنل کرنے میں متحرک ہیں ، چینی منصوبے میں46ارب ڈالر کی لاگت سے گوادر کو کاشغر سے جوڑنے کیلئے 3000کلومیٹر راہداری کی تعمیر انتہائی اہم ہے ، گوادر سے چین تک رابطے کیلئے روڈ،ریل اور تیل ،گیس پائپ لائن قائم بھی کی جائیں گی گواد رکی موجودہ بندرگاہ جسے صرف سی پیک سے جڑے منصوبے کے سامان اور مشینوں کی ہینڈلنگ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اس وقت بھی ایک مکمل بندر گاہ شمار کی جاسکتی ہے،ایک کلومیٹر سے طویل پٹی پر مشتمل 13الگ الگ برتھیں ،ڈیڑھ لاکھ کنٹینرز کی ہینڈلنگ کی گنجائش اور 18میٹرز تک قدرتی گہرائی گوادر کی مسلمہ حیثیت پر مہر بہ ثبت ہیں، گوادر پورٹ کے توسیعی منصوبے میں 2045تک100برتھوں کے قیام کے ذریعہ400ملین ٹن سامان کی ہینڈلنگ کرنا بھی ہدف میں شامل ہے، گوادر پورٹ جہاں چین کو فیض یاب کرے گا وہیں پاکستان بھی سیراب ہو گا، گوادر پورٹ پرتیل ٹرمینل اور پائپ لائن کی تعمیر کے ذریعے سی پیک چین کو درکار تیل اور گیس کی سپلائی کااہم اور مصروف ترین روٹ ہوگا،چینی منصوبہ بندی میں شامل ہے کہ 2025تک خلیجی ممالک سے اپنی بر آمدات کو 135ارب ڈالر سے اوپر لے کر جاناہے ,خلیجی ممالک سے آنے والے 8سالوں میں تیل اور گیس کی خریداری بھی 160ارب ڈالر سالانہ ہو جائیگی ،مستقبل میں چینی تجارت کیلئے خلیجی ممالک سے گوادر پورٹ کے ذریعہ سی پیک کے استعمال سے کم وقت اور کم خرچ میں سامان کی منتقلی آسان ترین روٹ ثابت ہو گا ۔ گوادر اپنی سٹریٹجک پوزیشن کے حوالے سے بھی پاکستان اور چین کے لئے نہایت اہم ہے، گوادر پورٹ کی بنیاد پرسی پیک کے ذریعہ چین کو کاشغر کے راستے ایک محفوظ اور مختصر روٹ مشرق وسطیٰ ،سینٹرل ایشیا اور فریقہ تک بھی دستیاب ہو گیا ہے ،بحرہ جنوبی چین کے پرخطر اورتناؤ سے بھرپور سفر کے دس ہزار کلو میٹرکے مقابلے میں 25سو کلومیٹرکا فاصلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، بحرہ ہند میں چین کی موجودگی فوجی لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے، جہاں موجودگی دنیا کے اہم ترین تجارتی راستے کے جنکشن کی نگرانی کے ساتھ ساتھ بھارتی بحریہ پر نظر رکھنے میں بھی کارگرہو گی ، گوادر پورٹ میں چینی موجودگی جہاں پاکستان کے پانیوں میں کسی بھی غیر ملکی خطرے کوکم کریں گی وہیں چین اپنی شمالی سرحدوں پرمحسوس ہونے والے دباو کو گرم پانیوں میں بھارتی ساحلوں پر منتقل کر سکے گا، بحرہ ہند میں چینی موجودگی امریکا کی بحرہ جنوبی چین میں موجودگی کا بھی جواب ہو گا جبکہ مشرق وسطیٰ کی بحری صورتحال پر بھی نظر رکھی جاسکے گی، دوسری جانب سب سے بڑھ کر پاکستان اور چین کی نظرمیں بلوچستان کے کاپر اور سونے کے غیرمعمولی طور پر 260ارب ڈالر کے ذخائر بھی ہیں ، چاہ بہار کے ذریعہ ایرانی تیل اور گیس کے ذخائر اور تین ٹریلین ٹن کے افغانستان میں موجود معدنیات کے ذخائر پر نظر رکھے ہو ئے ہے۔سی پیک اور گوادر پورٹ چینی صوبے سنکیانگ کے ا نڈسٹریل زون کے لئے بھی ہر لحاظ سے اہم ہے ۔ مواقع اور سہولیات کی فراہمی کے لحاظ سے گوادر پورٹ چاہ بہار سے 10 سال آگے ہے ، دوسری جانب چاہ بہار کی استعدادی صلاحیتوں کا جائزہ لینے سے قبل ایران پاکستان اور ایران چین تعلقات کا مشاہدہ بھی ضروری ہے ، بدلتے موسموں میں بدلتے مزاج کی طرح پاک ایران تعلقات میںآتی جاتی گرم جوشی اور سر د مہری معمول کی بات ہے،مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران اور پاکستان قیام پاکستان کے بعد سے ایک گہرے روابط میں بندھے ہو ئے ہیں جنھیں مذہب اور ثقافت کی ہم آہنگی نے مصائب ومشکلات اور اختلافات کے باوجود مستحکم کیا ہے ، حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں میں آنے والی حالیہ گرم جوشی کا آغاز پاکستان کی جانب سے ایرانی تحفظات کی دوری سے شروع ہوکر،آیت خامنہ ای کے کشمیرکی آزادی کے حق میں بیان دینے تک سے تاحال جاری ہے ، گزشتہ دنوں چاہ بہار بندرگاہ کے افتتاح کے موقع پرایرانی صدر حسن روحانی کے خطے میں مثبت تجارتی مقابلے اورگوادر پورٹ کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار بھارتی امیدوں پر پانی ڈالنے کیلئے کافی ہے،کلبھوشن کی ایران سے کارروائیاں جاری رکھنے کے پاکستانی موقف کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بھارت سے ایرانی احتجاج یہ واضح کررہا ہے کہ تجارتی مفادات کے برعکس ایران چاہ بہار کے ذریعہ پاکستان کے کسی اسٹریٹجک مفاد کو نقصان پہنچانے کی اجازت قطعی نہیں دے گا،آبنائے ہرموز کے دھانے اور دنیا کے مصروف ترین بحری تجارتی روٹ پر آباد ہونے کے باوجود چاہ بہار سے تجارتی اور اسٹریٹجک مفادات کا حصول ہر حال میں محدود ہی رہے گا،سب سے پہلے تو مستقبل قریب میں محدود محل وقوع کی بنا پر چاہ بہار پورٹ کی کارگو ہینڈلنگ استعدادکا10سے 12ملین ٹن کا ہدف کوئی غیر معمولی نہیں ۔لینڈ لاک افغانستان تک رسائی کیلئے بھارت کی راہ میں 950کلومیٹر کی بحری دوری اور تقریباًاتنا ہی ایرانی سرحد کے اندر سفرسستے تجارتی ذرائع نقل و حمل میں یقینی طور پر حائل ہوگا،بھارت کا دعویٰ ہے کہ چاہ بہار پورٹ کے ذریعے افغانستان سے موجودہ 800ملین ڈالر کی تجارت جلد 3ارب ڈالر تک پہہنچ جائے گی،دوسری جانب بھارت کا ہدف سینٹرل ایشیا میں پاکستان اور چین کے تجارتی مفادات کو کم کرنا بھی بھارتی پالیسی کا حصہ ہے،ایسے میں جب کہ ایران کے عالمی سیاست کے حوالے سے مخصوص طرزعمل یعنی غیرریاستی اداروں کی سپورٹ ، بےجامداخلت پسند پالیسیوں کی وجہ سے خود کو جنگ کے خطرا ت سے دوچار کرنیکی پالیسی اورامریکی پابندیوں ،یورپی یونین کی کڑی جکڑ بندیوں کی موجودگی میں ایسا ناممکن دکھائی دیتا ہے ،بھارت کو منصوبے سے جڑی اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ چاہ بہار پورٹ پراسکا ملکیتی حق نہیں صرف مستعار لی گئی دو برتھوں پراختیار ہے ،اس لئے یہا ں اس کی استعداد کار کی صلاحیت بھی یقینی طور پرنہ صرف محدود بلکہ نظر میں رہے گی ، اگر یوں کہا جائے کہ بحرہ ہند میں تازہ چینی موجودگی اور نگرانی کا نظام بھارت کے اسٹریٹجک مفادات کے کیلئے ایک مستقل تھریٹ ہو گا تو غلط نہ ہو گا،چاہ بہار بندرگاہ کی قدرتی صلاحیت گوادر پورٹ کے مقابلے میں محدود ہے ،سب سے پہلے تو بندرگاہ کی قدرتی گہرائی گوادر کے مقابلے میں کم برتھیں چھوٹی ہیں جہاں بڑے جہازوں کا لنگر انداز ہونا مشکل ہے ،ایران کے ذریعے پاکستان کو بائی پاس کرکے افغانستان تک پہنچنے کے راستے میں ایک اہم اسپیڈ بریکر ایران چین تجارتی روابط بھی ہیں جن میں سر فہرست سی پیک میں شمولیت اورایرانی معیشت کے لئے 10رب ڈالر سے زائد کا چینی پیکج بھی اہم ہے ۔ دوسری جانب افغانستان میں بھارتی اجار ہ اداری اور پولیس مین کی حثیت سے تعیناتی کے خواب کی تعبیرکی تلاش بھی کوئی اتنی آسان نہیں ، بھارت اور امریکا کو سب سے ضروری یاد رکھنے والی حقیقت یہی ہے کہ افغان امن کا راستہ صرف پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے افغانستان میں پاکستان کے ساتھ ساتھ چینی مفادات بھی ایک زندہ حقیقت ہیں جنھیں بھارت رام لیلا کی جھوٹی سچی کہانیوں سے جھٹلا نہیں سکتا،پڑوسی ملک میں امن اور معاشی استحکام کیلئے پاکستان چین روس اور افغانستان کی مشترکہ کوششیں یقینی کامیابیوں کی جانب بڑھ رہی ہیں جو افغانستان سے سینٹرل ایشیا تک تجارت کے بند دروازے بھی کھولے گا

image

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟